(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف ’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)
25 اکتوبر کو سمولنی میں دنیا کی سب سے جمہوری پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونا تھا۔ شاید یہ دنیا کی سب سے اہم پارلیمنٹ بھی تھی۔
مصالحت پسند دانشوروں کے اثر و روسوخ سے آزاد ہو کر مقامی سوویتوں نے زیادہ تر مزدوروں اور سپاہیوں کو بھیجا تھا۔ اُن کی اکثریت عام لوگوں پر مشتمل تھی، جنہوں نے خود کو عمل میں منوایا تھا اور اپنے علاقوں کا دیرپا اعتماد حاصل کیا تھا۔ محاذ سے آنے والے کم و بیش سب کے سب عام سپاہی تھے، جو فوجی کمیٹیوں اور صدر دفتر کی رکاوٹیں توڑ کر مندوبین کے طور پر آئے تھے۔ اُن کی اکثریت انقلاب کے ساتھ سیاسی زندگی گزارنے لگی تھی۔ اُنہیں آٹھ مہینوں کے تجربے نے ڈھالا تھا۔ وہ بہت تھوڑا جانتے تھے، لیکن بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ کانگریس کی بیرونی صورت ہی اِس کی ترکیب کا پتا دے رہی تھی۔پہلی کانگریس میں نظر آنے والے افسروں کی وردیوں کے امتیازی نشانات اور دانشوروں کی ٹائیاں اور چشمے اب کم و بیش مکمل طور پر غائب ہو گئے تھے۔وردیوں سے چہروں تک، ہر جگہ سرمئی رنگ چھایا ہوا تھا [۱]۔ جنگ کے دوران سب کے کپڑے گھِس گئے تھے۔ شہر کے بہت سے مزدوروں نے سپاہیوں کے کوٹ حاصل کر لئے تھے۔ محاذ کے مورچوں کے مندوبین کی حالت بھی کچھ اتنی اچھی نہیں تھیـ: لمبے عرصے سے شیو نہیں کر پائے تھے، پھٹے پرانے برساتی کوٹوں میں ملبوس تھے، بکھرے ہوئے بالوں پر لمبی اونی ٹوپیاں (Papakhi) چڑھائے ہوئے تھے جن کے سوراخوں میں سے روئی باہر نکل آئی تھی، سخت موسم نے چہروں کا برا حال کر دیا تھا، بھاری ہاتھ چٹخ گئے تھے، انگلیاں تمباکو سے پیلی ہو چکی تھیں، بٹن ٹوٹے ہوئے تھے، پیٹیاں لٹک رہی تھیں، لمبے عرصے سے پالش نہ ہونے والے بوٹوں میں دراڑیں پڑ گئی تھیں اور زنگ لگ گیا تھا۔ عام لوگوں کی قوم نے پہلی بار کسی رنگ روغن کے بغیر اپنی کھری نمائندگی بھیجی تھی، جو اُس کی حقیقی تصویر پیش کرتی تھی۔
سرکشی کے دوران اکٹھی ہونے والی اِس کانگریس کے اعداد و شمار بہت نا مکمل ہیں۔کانگریس کے آغاز پر ووٹ ڈالنے کا حق رکھنے والے مندوبین کی تعداد 650 تھی: 390 کا تعلق بالشویک دھڑے سے تھا، جو سب کے سب پارٹی کے رکن تو نہیں تھے، لیکن عوام کے حقیقی نمائندے تھے۔ عوام کے پاس بالشویک راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ شکوک و شبہات کے ساتھ آنے والے کئی مندوبین پیٹروگراڈ کے تپتے ہوئے ماحول میں تیزی سے پختہ ہو رہے تھے۔
فروری انقلاب کے سیاسی دارالحکومت کو منشویکوں اور سوشل انقلابیوں نے کیسے سارے کا سارا خرچ کر ڈالا تھا! سوویتوں کی جون کانگریس میں کُل 832 مندوبین میں سے مصالحت پسندوں کو 600 ووٹوں کی اکثریت حاصل تھی۔ اب ہر طرح کے مصالحت پسند مل کر بھی کانگریس کے ایک چوتھائی سے کم تھے۔ ایک ملحقہ قومی گروہ سمیت منشویکوں کی کُل تعداد صرف 80 تھی، جن میں سے آدھے ’’بائیں بازو‘‘ کے تھے۔ کُل 159 سوشل انقلابیوں (ایک اور رپورٹ کے مطابق 190) میں سے 3/5 بائیں بازو کے تھے، مزید برآں دایاں بازو کانگریس کے اجلاس کے دوران ہی تیزی سے پگھل رہا تھا۔ کئی فہرستوں کے مطابق کانگریس کے آخر تک مندوبین کی مجموعی تعداد 900 تک پہنچ چکی تھی۔ تاہم ایک طرف اِس شمار میں بہت سے مشاورتی اراکین بھی شامل ہیں اور دوسری طرف ووٹ کا اختیار رکھنے والے بہت سے افراد شامل نہیں ہیں۔ رجسٹریشن وقفے وقفے سے کی گئی تھی؛ دستاویز گم ہو چکی ہیں؛ پارٹی وابستگیوں کی معلومات نامکمل تھیں۔ کانگریس میں بالشویکوں کا غالب مقام بہرحال مسلمہ ہے۔
مندوبین میں کی جانے والی غیر سرکاری اور غیر مصدقہ رائے شماری کے مطابق 505 اقتدار کی سوویتوں کو منتقلی کے حق میں تھے؛ 86 ’’جمہوریت‘‘ کی حکومت چاہتے تھے؛ 55 مخلوط حکومت کے حق میں تھے؛ 21 کیڈٹوں کے بغیر مخلوط حکومت کے حق میں تھے۔ یہ اعداد و شمار اگرچہ اِس شکل میں بھی انتہائی حوصلہ افزا تھے، لیکن مصالحت پسندوں کے اثر و رسوخ کو مبالغہ آرائی سے پیش کر رہے تھے۔ پسماندہ علاقوں اور سب سے کم اہم مقامات کی سوویتیں ہی جمہوریت اور مخلوط حکومت کے حق میں تھیں۔
25 تاریخ کی صبح سے دھڑوں کے داخلی اجلاس سمولنی میں ہو رہے تھے۔ بالشویک دھڑے کے اجلاس میں وہی شریک تھے جو [اُس وقت دارالحکومت پر قبضے کے لئے جاری ] لڑائی کی ذمہ داریوں سے آزاد تھے۔ کانگریس کے آغاز کو موخر کر دیا گیا: بالشویک رہنما پہلے سرما محل کا معاملہ نبٹانا چاہتے تھے۔ لیکن مخالف دھڑوں کو بھی کوئی جلدی نہیں تھی۔ اُنہیں خود ابھی فیصلہ کرنا تھا کہ کرنا کیا ہے، یہ آسان نہیں تھا۔ وقت گزرتا رہا۔ دھڑوں کے اندر ذیلی دھڑے آپس میں لڑتے رہے۔ سوشل انقلابی دھڑے میں کانگریس سے علیحدگی کی قرارداد 60 کے مقابلے میں 92 ووٹوں سے مسترد ہو جانے کے بعد پھوٹ پڑ گئی۔ شام تک دائیں اور بائیں بازو کے سوشل انقلابی مختلف کمروں میں بیٹھنے لگے۔ 8 بجے منشویکوں نے مزید تاخیر کا مطالبہ کیا: اُن کے اندر بہت اختلافات تھے۔ رات ہو گئی۔ اس دوران سرما محل پر قبضے کی کاروائی لمبی ہوتی جا رہی تھی۔ لیکن اب مزید انتظار ناممکن ہو چکا تھا۔ بھڑکے ہوئے بیدار ملک کو کوئی واضح پیغام دینا ضروری تھا۔
انقلاب نے سمٹ کر بیٹھنے کا فن سکھا دیا ہے۔ اشرافیہ کی لڑکیوں کا اسمبلی ہال آج مندوبین، مہمانوں اور پہریداروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے، جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے جگہ بنا رہے ہیں۔ فرش بیٹھ جانے کے خطرے کی تنبیہ کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے، نہ ہی تمباکو نوشی کم کرنے کی استدعائیں کارگر ہیں۔ سب ساتھ ساتھ جڑے بیٹھے ہیں اور دوہری تمباکو نوشی کر رہے تھے۔ جان ریڈ دروازوں کے گرد جمع، شور مچاتے ہجوم میں سے بڑی مشکل سے راستہ بناتا ہے۔ ہال کو گرم رکھنے کا کوئی انتظام نہیں ہے، لیکن فضا بھاری اور گرم ہے۔
داخلی اور خارجی راستوں پر بڑی تعداد میں کھڑے اور تمام کھڑکیوں کی سِلوں پر بیٹھے مندوبین کو اب صدر کی گھنٹی کا بے چینی سے انتظار تھا۔ چبوترے پر آج سریتیلی، شکائدز اور چرنوف میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ صرف دوسرے درجے کے مصالحت پسند رہنما ہی اُن کے اِ س جنازے پر آئے تھے۔ شام 10:40 بجے فوجی ڈاکٹر کی وردی میں ملبوس ایک چھوٹے سے آدمی نے مرکزی مجلس عاملہ کی طرف سے اجلاس کا آغاز کیا۔ اُس کا کہنا تھا کہ کانگریس ایسے ’’غیر معمولی حالات‘‘ میں ہو رہی ہے کہ مرکزی مجلس عاملہ کی ہدایات کے تحت ڈین کوئی سیاسی تقریر نہیں کرے گا۔ سرما محل میں اُس کی پارٹی کے ساتھی ’’بطور وزرا اپنی ذمہ داریوں کی بے لوث ادائیگی کے دوران ‘‘ حملے کی زد میں ہیں ۔ مندوبین کو مرکزی مجلس عاملہ سے خیر خواہی کی کوئی توقع نہیں تھی۔ اُنہوں نے غصے سے چبوترے کی طرف دیکھا: اگر یہ لوگ سیاسی طور پر ابھی تک زندہ ہیں تو اِن کا ہم سے اور ہمارے کام سے کیا تعلق واسطہ ہے؟
بالشویکوں کی طرف سے ماسکو کے ایک مندوب اوانیسوف نے تجویز پیش کی کہ مجلس صدارت کا انتخاب تناسب کی بنیاد پر کیا جائے: 14 بالشویک، 7 سوشل انقلابی، 3 منشویک اور ایک انٹرنیشنلسٹ۔ دائیں بازو نے مجلس صدارت میں شامل ہونے سے فوراً انکار کر دیا۔ مارٹوف کا گروہ خاموش رہا، اُنہوں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ یوں بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں کو سات ووٹ مل گئے۔ ساری کانگریس تیوریاں چڑھا کر اِن ابتدائی تصادموں کو دیکھ رہی تھی۔
اوانیسوف نے مجلس صدارت کے لئے بالشویک امیدواروں کا اعلان کیا: لینن، ٹراٹسکی، زینوویف، کامینیف، رائیکوف، نوگن، سکلیانسکی، کرائلنکو، اینٹونوف، ریازانوف، مورانوف، لیوناچارسکی، کولنٹائی، سٹچکا۔ سوخانوف لکھتا ہے، ’’مجلس صدارت کلیدی بالشویک رہنماؤں اور چھ (درحقیقت سات) بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں پر مشتمل تھی۔‘‘ سرکشی کی مخالفت کرنے کے باوجود زینوویف اور کامینیف کو مجلس صدارت میں معتبر پارٹی شخصیات کے طور پر شامل کیا گیا تھا؛ رائیکوف اور نوگن کو ماسکو سوویت کے نمائندوں کے طور پر ؛ لیوناچارسکی اور کولنٹائی کو اُس وقت کے مشہور ایجی ٹیٹروں کے طور پر؛ ریازانوف کو ٹریڈ یونینوں کے نمائندے کے طور پر؛ مورانوف کو پرانے مزدور بالشویک کے طور پر ، جس نے ریاستی دوما کے اراکین پر مقدمے [۲] کے دوران بھرپور جرات کا مظاہرہ کیا تھا؛ سٹچکا کو لیٹویا کی تنظیم کے سربراہ کے طور پر؛ کرائلنکو اور سکلیانسکی کو فوج کے نمائندوں کے طور پر؛ اینٹونوف کو پیٹروگراڈ کی لڑائی کے رہنما کے طور پر۔ سویڈلوف کے نام کی عدم موجودگی کی وضاحت اِس حقیقت سے ہوتی ہے کہ اُسی نے یہ فہرست مرتب کی تھی اور اُس وقت افراتفری کی کیفیت میں کسی نے اِسے درست نہیں کیا۔ یہ اُس وقت پارٹی کی اعلیٰ اقدار کی علامت ہے کہ سرکشی کے مخالفوں کی ساری قیادت ہی مجلس صدارت میں شامل تھی: زینوویف، کامینیف، نوگن، رائیکوف، لیوناچارسکی، ریازانوف۔ بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں میں صرف سپیریدونووا ہی مشہور تھا، تھوڑا متزلزل لیکن جرات مند انسان، جس نے ٹومبووسک کے کسانوں پر مظالم ڈھانے والے کے قتل کی پاداش میں کئی سال سخت مشقت کی سزا کاٹی تھی۔ بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں کے پاس کوئی دوسرا ’’نام‘‘ نہیں تھا۔ دوسری طرف دائیں بازو والوں کے پاس اب ناموں کے سوا کچھ نہیں بچا تھا۔
کانگریس نے مجلس صدارت کا بھرپور خیر مقدم کیا۔ جس وقت دھڑے جمع ہو رہے تھے اور صلاح مشورہ کر رہے تھے، لینن نے ابھی تک نقلی بال اور بڑے چشمے لگا کر بھیس بدل رکھا تھا اور راہداری میں دو یا تین بالشویکوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اپنے دھڑے کے اجلاس میں جاتے ہوئے ڈین اور سکوبیلیف اچانک رُکے، لینن کو غور سے دیکھا اور اُسے صاف پہچان لیا۔ اِس کا مطلب تھا کہ بہروپ سے باہر آنے کا وقت ہو چکا ہے! لیکن لینن کوسامنے آنے کی کوئی جلدی نہیں تھی۔ وہ تھوڑا جائزہ لے رہا تھا اور پس پردہ رہتے ہوئے باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے رہا تھا۔ 1924ء میں شائع ہونے والی لینن کی یادداشتوں میں ٹراٹسکی لکھتا ہے: ’’سوویتوں کی دوسری کانگریس کا پہلا اجلاس سمولنی میں ہو رہا تھا۔ لینن یہاں نظر نہیں آیا۔ وہ سمولنی کے ایک کمرے میں رہا، جہاں کسی وجہ سے کوئی فرنیچر نہیں تھا۔ بعد میں کسی نے فرش پر کمبل بچھا دئیے اور اُن پر دو تکیے رکھ دئیے۔ ولادیمیر الیچ اور میں نے وہاں کچھ آرام کیا۔ کچھ منٹ بعد مجھے بلایا گیا: ’ڈین بول رہا ہے اور تمہیں اُس کا جواب دینا ہو گا۔‘ جواب دینے کے بعد میں واپس آیا اور پھر سے لینن کے پہلو میں لیٹ لیا، جس کا سونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ بھلا نیند آ سکتی تھی؟ ہر پانچ دس منٹ بعد کوئی نہ کوئی ہال سے بھاگا آتا تھا اور ہمیں خبر دیتا تھا کہ کیا چل رہا ہے۔‘‘
صدر کی نشست پر کامینیف براجمان ہے، احساسات و جذبات سے عاری قسم کا ایک ایسا انسان جس کی فطرت ہی صدارت والی ہے ۔ وہ اعلان کرتا ہے کہ ایجنڈے پر تین سوالات ہیں: حکومت کی تنظیم؛ جنگ اور امن؛ آئین ساز اسمبلی کا انعقاد۔ اجلاس کے شور کو باہر سے ایک غیرمعمولی، ہلکی اور تشویشناک گرج چیر رہی ہے۔ یہ پیٹر اور پال کا قلعہ ہے، جو اپنے توپخانے سے ایجنڈے کی منظوری دے رہا ہے۔ ایک ہائی وولٹیج کرنٹ پوری کانگریس میں دوڑ جاتا ہے، جسے اب اچانک ادراک ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت ہے کیا: ایک خانہ جنگی کا اجتماع!
سرکشی کے ایک مخالف لوزووسکی نے پیٹروگراڈ سوویت سے رپورٹ طلب کی۔ لیکن عسکری انقلابی کمیٹی وقت سے تھوڑا پیچھے چل رہی تھی۔ توپخانے نے جواب دے دیا کہ رپورٹ ابھی تیار نہیں ہے۔ سرکشی زوروں پر تھی۔ بالشویک رہنما مسلسل عسکری انقلابی کمیٹی کے کمروں میں جا کر معلومات حاصل کر رہے تھے یا احکامات دے رہے تھے۔ باہر جاری لڑائی کی گونج چنگاریوں کی طرح ہال میں گھس رہی تھی۔ ووٹ دینے والے ہاتھ سنگینوں کے درمیان میں سے اٹھ رہے تھے۔ تمباکو کے نیلگوں سرمئی دھویں نے خوبصورت سفید ستونوں اور فانوسوں کو ڈھانپ دیا تھا۔
توپخانے کی گولہ باری کے پس منظر میں دونوں کیمپوں کی زبانی لڑائیاں بہت اثر انگیز تھیں۔ مارٹوف نے بات رکھنے کی اجازت طلب کی۔ جس لمحے توازن ڈگمگا رہا ہو تو یہی مارٹوف کا وقت ہوتا ہے۔اُس کی ساری سیاست دائمی تذبذب ہی ہے ۔ مارٹوف کی بھاری مدقوق آواز فوراً توپوں کی دھاتی آواز کے ساتھ مل گئی: ’’ہمیں دونوں اطراف کی فوجی کاروائی کو فوراً روکنا ہو گا… اقتدار کے سوال کا فیصلہ اب سازشی طریقوں سے ہونے لگا ہے۔ تمام انقلابی پارٹیوں کو ایک امر واقعہ کے سامنے رکھ دیا گیا ہے… خانہ جنگی سے ردِ انقلابی دھماکے کا خطرہ ہے۔ ساری جمہوریت کے لئے قابل قبول حکومت تشکیل دے کر ہی یہ بحران حل کیا جا سکتا ہے۔‘‘ کانگریس کے ایک بڑے حصے نے تالیاں بجائیں۔ سوخانوف طنزیہ تبصرہ کرتا ہے: ’’بظاہر لینن اور ٹراٹسکی کی تعلیمات کی روح کو جذب نہ کر پانے والے بہت سے بالشویک ایسے تھے جو یہ راستہ بخوشی اختیار کرتے۔‘‘ بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں اور ’متحدہ انٹرنیشنلسٹوں‘ کے ایک گروہ نے امن مذاکرات کی تجویز کی حمایت کی۔ دائیں بازو اور شاید مارٹوف کے قریبی رفقا کو بھی یقین تھا کہ بالشویک اِس تجویز کو مسترد کر دیں گے۔ وہ غلط تھے۔ بالشویکوں نے چبوترے پر لیوناچارسکی کو بھیجا، جسے امن سے بہت محبت تھی اور جو اُن کے تمام مقررین میں سب سے مخملیں تھا۔ لیوناچارسکی نے کہا، ’’بالشویک دھڑے کو مارٹوف کی تجویز سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘‘ مخالفین حیران رہ گئے۔ سوخانوف تبصرہ کرتا ہے، ’’یوں اپنے لوگوں کی تھوڑی سی بات مان کر لینن اور ٹراٹسکی عین اسی وقت دائیں بازو کے نیچے سے زمین کھینچ رہے تھے۔‘‘ مارٹوف کی تجویز کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ مارٹوف کے گروہ میں باتیں ہو رہی تھیں، ’’اگر منشویک اور سوشل انقلابی اب پیچھے ہٹے تو خود کو دفن کر لیں گے۔‘‘ اس لئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ کانگریس ’’ایک متحدہ جمہوری محاذ کی تشکیل کا درست راستہ اختیار کرے گی۔‘‘ بیکار امید! ایک انقلاب کبھی درمیانی راستے پر نہیں چلتا۔
دائیں بازو نے ابھی ابھی منظور ہونے والی امن مذاکرات کی تجویز کی فوراً خلاف ورزی کر دی۔12ویں فوج کے مندوب، منشویک خاراش، جس کے کندھوں پر کپتان کے ستارے تھے، نے بیان دیا: ’’یہ سیاسی منافق کہہ رہے ہیں کہ اقتدار کے سوال کا فیصلہ کیا جائے۔ جبکہ فیصلہ ہماری پیٹھ پیچھے کیا جا رہا ہے… سرما محل پر جاری حملے یہ ساری مہم جوئی کرنے والی پارٹی کے تابوت میں کیل ٹھونک رہے ہیں… ‘‘ کپتان کی للکار کا جواب کانگریس نے طیش بھری بڑبڑاہٹ سے دیا ۔
لیفٹنٹ کُچن، جو ماسکو کے ریاستی اجلاس میں محاذ کی طرف سے بولا تھا، یہاں بھی فوجی تنظیموں کی عملداری جتانے کی کوشش کرتا ہے: ’’یہ کانگریس بے موقع بلکہ ناجائز ہے۔‘‘ پھٹے برساتی کوٹوں والے، جن کی ساکھ کی اسناد مورچوں کے کیچڑ نے اُس کے پورے جسم پر تحریر کر دی تھیں، چلّا اُٹھے: ’’تم یہاں کس کی نمائندگی کر رہے ہو؟‘‘ کُچن نے بڑی احتیاط سے گیارہ فوجیں گنوائیں۔ لیکن یہاں وہ کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتا تھا۔ عقب کی طرح محاذ پر بھی مصالحت کے جرنیلوں کے پاس کوئی سپاہی نہیں بچے تھے۔ منشویک لیفٹنٹ نے بات جاری رکھی، ’’محاذ کا گروہ اِس مہم جوئی کی کوئی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔‘‘ اِس کا مطلب انقلاب سے مکمل علیحدگی تھا۔ ’’اب کے بعد سے جدوجہد کا میدان علاقوں میں منتقل ہو چکا ہے۔‘‘ اِس کا مطلب سوویتوں کے خلاف ردِ انقلاب سے الحاق تھا۔ اور یوں نتیجہ: ’’محاذ کا گروہ اِس کانگریس سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہے۔‘‘
دائیں بازو کا ایک کے بعد ایک مندوب چبوترے پر آیا۔ یہ لوگ کلیسائی حلقے اور گرجے تو کھو چکے تھے، لیکن گھنٹہ گھروں پر ابھی تک قابض تھے اور آخری بار ٹوٹی ہوئی گھنٹیاں بجا رہے تھے۔ یہ سوشلسٹ اور جمہوریت پسند، جنہوں نے ہر حال اور ہر صورت میں سامراجی بورژوازی سے مصالحت کی تھی، آج باغی عوام کیساتھ مصالحت سے صاف انکاری تھے۔ اُن کے سیاسی حساب کتاب بے نقاب ہو چکے تھے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ بالشویک کچھ ہی دنوں میں منہدم ہو جائیں گے: ہمیں جلد از جلد خود کو اُن سے الگ کر لینا چاہئے، بلکہ اُن کے خاتمے میں مدد دینی چاہئے اور یوں اپنا اور اپنے مستقبل کا تحفظ یقینی بنانا چاہئے۔
دائیں بازو کے منشویک دھڑے کی جانب سے ماسکو سوویت کے سابقہ صدر اور برلن میں مستقبل کے سوویت سفیر خنچک نے ایک اعلامیہ پڑھا:’’بالشویکوں کی فوجی سازش سارے ملک کو خانہ جنگی میں دھکیل دے گی، آئین ساز اسمبلی کو تباہ کر دے گی، ہمارے لئے عسکری تباہی کا خطرہ پیدا کر دے گی اور ردِا نقلاب کی فتح پر منتج ہو گی۔‘‘ نجات کا واحد راستہ: ’’عبوری حکومت سے ایک ایسے اقتدار کی تشکیل کے لئے کھلے مذاکرات جو جمہوریت کی تمام پرتوں کو بنیاد بنائے۔‘‘ کچھ نہ سیکھ سکنے والے یہ لوگ کانگریس کو مشورہ دے رہے تھے کہ سرکشی ختم کر کے واپس کیرنسکی کی طرف لوٹا جائے۔ مندوبین کے ہنگامے، غصے سے بھری چنگھاڑوں اور سیٹیوں میں دائیں بازو کے سوشل انقلابی نمائندے کے الفاظ بمشکل ہی سنائی دے رہے تھے۔ اُس کی پارٹی کے اعلامیے میں اعلان کیا گیا کہ بالشویکوں کے ساتھ ’’معاونت کا کوئی امکان نہیں‘‘ اور مصالحت پسندانہ مرکزی مجلس عاملہ کی طرف سے بلائے جانے کے باوجود یہ ساری کانگریس ہی ناجائز ہے۔
دائیں بازوکے اِس مظاہرے نے کسی کو خوفزدہ تو نہیں کیا، تاہم تشویش اور کوفت ضرور پیدا کر دی۔ مندوبین کی اکثریت اِن متکبر اور شیخی باز رہنماؤں سے تنگ آ چکی تھی، جو پہلے اُنہیں لمبی چوڑی باتیں سناتے تھے اور پھر جبر کرتے تھے۔ کیا ہو سکتا ہے ڈین، خنچک اور اور کُچن جیسے لوگ ابھی تک ہمیں ہدایات اور احکامات دینے کی توقع رکھتے ہیں۔ ایک لیٹویائی سپاہی پیٹرسن غصے سے سرخ چہرے اور نفرت سے سلگتی آنکھوں کے ساتھ خاراش اور کُچن کو دغاباز قرار دیتا ہے۔ ’’انقلاب کے ساتھ بہت بکواس ہو چکی! ہمیں عمل چاہئے! اقتدار ہمارے پاس ہونا چاہئے۔ اِن دغابازوں اور غداروں کو کانگریس سے جانے دو۔ فوج کے سپاہیوں کا اِن سے کوئی تعلق واسطہ نہیں!‘‘ جوش سے تنی ہوئی آواز اِس ساری کانگریس کا بوجھ ہلکا کر دیتی ہے جسے ابھی تک لعن طعن کے سوا کچھ نہیں ملا ہے۔ محاذ کے دوسرے سپاہی بھی پیٹرسن کی حمایت کو آتے ہیں۔ ’’یہ کُچن جیسے لوگ اُن چھوٹے ٹولوں کی رائے بیان کررہے ہیں جو اپریل سے فوجی کمیٹیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ فوج نے بہت عرصہ قبل ہی نئے انتخابات کا مطالبہ کر دیا تھا۔‘‘ ’’مورچوں میں رہنے والے بہت بے چینی سے اقتدار کی سوویتوں کو منتقلی کے منتظر ہیں۔‘‘
لیکن دائیں بازو والے ابھی تک گھنٹیوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔ بَنڈ کا ایک نمائندہ اعلان کرتا ہے کہ ’’پیٹروگراڈ میں جو کچھ ہوا وہ بدبختی ہے‘‘ اور مندوبین کو مدعو کرتا ہے کہ دوما کے اُن اراکین کے ساتھ مل جائیں جنہوں نے حکومت کے ساتھ مرنے کے لئے سرما محل کی طرف غیر مسلح مارچ کا فیصلہ کیا ہے۔ سوخانوف لکھتا ہے، ’’عمومی شور شرابے میں تمسخر اور طنز کی آوازیں بھی سنی جا سکتی تھیں، جن میں سے کچھ گندی اور کچھ زہریلی تھیں۔‘‘ یہ جذباتی مقرر اپنے سامعین کو ٹھیک سے سمجھ نہیں پایا تھا۔ ہال سے نکلنے والوں پر مندوبین، مہمان، سرخ محافظ اور دروازے پر کھڑے سنتری چلّاتے ہیں: ’’بہت ہو گیا!‘‘ ’’بھگوڑے!‘‘’’جاؤ کورنیلوف کے ساتھ مل جاؤ!‘‘ ’’عوام دشمن!‘‘
دائیں بازو والوں کی علیحدگی نے کوئی خلا نہیں چھوڑا۔ عام مندوبین نے مزدوروں اور سپاہیوں کے خلاف افسروں اور جنکروں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ تقریباً 70 مندوبین، جو دائیں بازو کے دھڑے کے نصف سے ذرا زیادہ بنتے تھے، باہر چلے گئے۔ اُن کی جگہ ایسے متذبذب درمیانی گروہوں نے لے لی جنہوں نے کانگریس چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔ کانگریس کے آغاز پر تمام رجحانات کے سوشل انقلابیوں کی مجموعی تعداد 190 سے زیادہ نہیں تھی، لیکن اگلے چند گھنٹوں میں صرف بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں کی تعداد ہی 180 ہو چکی تھی۔ اُن میں وہ تمام لوگ شامل ہو گئے تھے جنہوں نے ابھی تک بالشویکوں میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا تھا، اگرچہ اُن کی حمایت کرنے کو تیار تھے۔
منشویک اور سوشل انقلابی ہر طرح کے حالات میں عبوری حکومت یا کسی طرح کی عبوری پارلیمنٹ میں رہنے کو بالکل تیار تھے۔ بھلا ’پڑھے لکھے سماج‘ سے تعلق توڑا جا سکتا ہے؟ لیکن سوویتیں؟ وہ تو عام لوگ ہیں! سوویتیں وہاں تک ہی ٹھیک ہیں جہاں تک بورژوازی سے مصالحت کے لئے استعمال ہو سکیں، لیکن بھلا ایسی سوویتوں کو برداشت کیا جا سکتا ہے جو اچانک خود کو سارے ملک کا آقا تصور کرنے لگی ہیں؟ سوشل انقلابی زینزینوف نے لکھا، ’’بالشویک اکیلے رہ گئے تھے اور اُس وقت سے وہ وحشی مادی قوت پر انحصار کرنے لگے تھے۔‘‘ اخلاقی اصول تو ڈین اور گوٹز کے ساتھ دروازے سے باہر نکل گیا تھا۔ یہ اخلاقی اصول اب دو لالٹینوں کیساتھ 300 بندوں کے جلوس میں سرما محل کی طرف مارچ کرے گا، راستے میں بالشویکوں کی وحشی مادی قوت سے ٹکرائے گا اور واپس بھاگ جائے گا!
امن مذاکرات کے حق میں کانگریس کی منظور کردہ تجویز ہوا میں معلق ہو گئی۔ اگر دائیں بازو والوں کا فتح یاب پرولتاریہ سے مصالحت کا کوئی ارادہ ہوتا تو وہ یوں کانگریس سے نہ بھاگتے۔ مارٹوف اِس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہو گا۔ پھر بھی وہ مصالحت کے خیال سے چمٹا رہا۔ وہ پھر سے شروع ہو گیا، ’’ہمیں خون خرابا روکنا ہو گا…‘‘ آوازیں بلند ہوئیں کہ ’’یہ سب افواہیں ہیں۔‘‘ اُس نے جواب دیا کہ ’’ہم صرف افواہیں نہیں سن رہے ہیں۔ کھڑکیوں کے پاس آئیں تو ابھی تک گولہ باری کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔‘‘ اِس سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کانگریس خاموش ہو گئی، گولہ باری کی آوازیں کھڑکیوں کے پاس جائے بغیر بھی سنی جا سکتی تھیں ۔
مارٹوف کا اعلامیہ، جو مکمل طور پر بالشویکوں کے خلاف اور اپنے دلائل میں بالکل بے جان تھا، انقلاب کو ’’خالصتاً عسکری سازش کے ذریعے صرف بالشویک پارٹی کی طرف سے برپا کردہ‘‘ قرار دے کر رد کر رہا تھا اور مطالبہ کر رہا تھا کہ تمام سوشلسٹ پارٹیوں سے مفاہمت ہو جانے تک کانگریس اپنی کاروائی معطل کرے۔ ایک انقلاب میں قوتوں کا حاصل جمع نکالنا، اپنے سائے کو پکڑنے کی کوشش سے بھی بڑی حماقت ہوتی ہے۔
اُس لمحے کانگریس میں شہری دوما کا بالشویک دھڑا نمودار ہوا، جسے سرما محل کی دیواروں تلے ناگوار موت مرنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ اُن کی قیادت جوفے کر رہا تھا، جو بعد ازاں برلن میں پہلا سوویت سفیر تعینات ہوا۔ کانگریس ایک بار پھر یکجا ہو گئی اور اپنے دوستوں کا بھرپور استقبال کیا۔
لیکن مارٹوف کو روکنا ضروری ہو چکا تھا۔ یہ ذمہ داری ٹراٹسکی پر عائد ہوئی۔ سوخانوف تسلیم کرتا ہے، ’’دائیں بازو والوں کے نکل جانے کے بعد اب وہ اُتنا ہی مضبوط تھا جتنا مارٹوف کمزور ہو چکا تھا۔‘‘ دونوں مخالفین چبوترے پر ساتھ ساتھ کھڑے تھے اور چاروں طرف سے جذباتی مندوبین میں گھرے ہوئے تھے۔ ٹراٹسکی نے بات شروع کی، ’’جو کچھ ہوا ہے وہ ایک سرکشی ہے، سازش نہیں۔ عوامی سرکشی کو کسی جواز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہم نے پیٹروگراڈ کے مزدوروں اور سپاہیوں کی انقلابی توانائی کو پختہ کیا ہے۔ ہم نے سرِ عام عوام کی منشا کو سرکشی میں ڈھالا ہے، یہ سازش نہیں ہے … ہماری سرکشی کامیاب ہو چکی ہے اور اب تم ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم اپنی فتح سے دستبردار ہو کر مصالحت کر لیں۔ میں پوچھتا ہوں کس سے مصالحت کریں؟ اِن مٹھی بھر قابلِ نفرت لوگوں سے جو ابھی باہر گئے ہیں؟ … اِنہیں بار بار آزمایا جا چکا ہے۔ روس میں آج کوئی اِن کے ساتھ نہیں ہے۔ اِس کانگریس میں جن دسیوں لاکھ مزدوروں کسانوں کی نمائندگی ہو رہی ہے، جن کا سودا یہ لوگ ہمیشہ کی طرح بورژوازی سے کرنا چاہتے ہیں، کیا وہ اِن لوگوں سے مصالحت کر لیں؟ نہیں، کوئی مصالحت نہیں ہو گی۔ وہ تمام لوگ جو باہر چلے گئے ہیں اور وہ تمام لوگ بھی جو ایسی تجاویز دے رہے ہیں، ہم اُن سے کہتے ہیں کہ تم قابلِ نفرت تنہا لوگ ہو، تمہارا دیوالیہ نکل چکا ہے، تمہارا کردار ختم ہو چکا ہے، وہاں جاؤ جہاں آج کے بعد سے تمہیں ہونا چاہئے: تاریخ کے کوڑے دان میں!‘‘
کانگریس کے ووٹ کا انتظار کئے بغیر مارٹوف چلّایا، ’’پھر ہم جا رہے ہیں!‘‘ سوخانوف افسوس کرتا ہے، ’’غصے سے بھرا مارٹوف بناوٹی انداز میں چبوترے سے اُترا اور دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ اور میں ایک ہنگامی اجلاس کے لئے اپنے دھڑے کو جمع کرنے لگا… ‘‘ یہ صرف بناوٹ کا معاملہ نہیں تھا۔ جولائی کی طرح جب کبھی انقلاب پسپا ہوتا تھا تو جمہوری سوشلزم کا علمبردار، مارٹوف، آگے قدم بڑھانے لگتا تھا؛ لیکن اب جبکہ انقلاب ایک چیتے کی جست لگانے کو تیار تھا، مارٹوف پسپا ہو رہا تھا۔ دائیں بازو کی کانگریس سے علیحدگی نے اُسے پارلیمانی چالبازی کے امکان سے محروم کر دیا تھا۔ اِس بے بسی نے اُسے پریشانی اور بے چینی میں مبتلا کر دیا۔ لہٰذا اُس نے سرکشی سے الگ ہونے کے لئے کانگریس سے فوراً کنارہ کشی اختیار کر لی۔ سوخانوف جہاں تک جواب دے سکتا تھا اُس نے دیا۔ منشویک دھڑا تقسیم ہو گیا: 12 کے خلاف 14 ووٹوں سے مارٹوف جیت گیا۔
ٹراٹسکی نے ایک قرارداد پیش کی، جو مصالحت پسندوں کے خلاف فردِ جرم تھی: اُنہوں نے 18 جون کا تباہ کن حملہ کروایا تھا؛ اُنہوں نے ایک ایسی حکومت کی حمایت کی تھی جو عوام کی غدار تھی؛ اُنہوں نے زمین کے سوال پر کسانوں کو دئیے جانے والے دھوکے کو آڑ فراہم کی تھی؛ اُنہوں نے مزدوروں کو غیر مسلح کیا تھا؛ وہ جنگ کی بے مقصد طوالت کے ذمہ دار تھے؛ اُنہوں نے بورژوازی کو ملک کی معاشی تباہی کو گہرا کرنے کی اجازت دی تھی؛ عوام کا اعتماد کھو دینے کے بعد اُنہوں نے سوویت کانگریس بلانے کے خلاف مزاحمت کی تھی؛ اور آخر میں خود کو اقلیت میں پا کر وہ سوویتوں سے ہی الگ ہو گئے تھے۔
یہاں ایک بار پھر ایک اعلامیے کے لئے ایجنڈے کو کچھ دیر کے لئے معطل کر دیا گیا۔ بالشویک مجلس صدارت کے صبر کی واقعی کوئی حد نہیں تھی۔ کسانوں سے اِس ’’بے وقت‘‘ کانگریس کو چھوڑ کر سرما محل میں ’’ہماری منشا کے لئے جانے والوں کے ساتھ مرنے‘‘ کی استدعا کرنے کے لئے کسان سوویت کی مجلس عاملہ کا صدر آیا تھا۔ سرما محل کی تباہی میں مرنے کی یہ استدعائیں اب اکتانے لگی تھیں۔ ابھی ابھی ’آرورا‘ سے آنے والے ایک جہازی نے طنزاً اعلان کیا کہ کوئی تباہی نہیں ہو رہی ہے، کیونکہ وہ جہاز سے صرف خالی گولے چلا رہے ہیں۔ ’’سکون سے اپنا کام جاری رکھو۔‘‘ کانگریس کی روح کو اِس سیاہ داڑھی والے جہازی نے تسکین دے دی، جو سرکشی کے سادہ مگر جابر عزم کی مجسم شکل تھا۔ متذبذب سوچوں اور احساسات والے مارٹوف کا تعلق کسی اور ہی دنیا سے تھا۔ اِسی لئے وہ کانگریس سے الگ ہو گیا تھا۔
ایک اور اعلامیہ، اگرچہ اب کی بار نیم دوستانہ۔ کامکوف اعلان کرتا ہے، ’’دائیں بازو کے سوشل انقلابی باہر چلے گئے ہیں، لیکن ہم بائیں بازو والے یہیں موجود ہیں۔‘‘ تاہم وہ بھی ایک متحدہ انقلابی محاذ کے قیام کو ضروری سمجھتے ہیں اور اعتدال پسند جمہورت سے مصالحت کے خلاف ٹراٹسکی کی سخت قرارداد کی مخالفت کرتے ہیں۔
یہاں بھی بالشویکوں نے رعایت دے دی۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بالشویکوں کو اِس سے پہلے کسی نے ایسے نرم مزاج میں نہیں دیکھا تھا۔ اِس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں تھی: آج وہ مختارِ کُل تھے اور اُنہیں الفاظ کی شکلوں پر اصرار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ لیوناچارسکی ایک بار پھر چبوترے پر آتا ہے، ’’جو فریضہ ہمارے کندھوں پر عائد ہو چکا ہے اُس کی اہمیت سے انکار ناممکن ہے۔‘‘ جمہوریت کے حقیقی انقلابی عناصر کا اتحاد ضروری ہے۔ لیکن کیا ہم بالشویکوں نے دوسرے گروہوں کو دور کرنے کے کوئی اقدامات اٹھائے ہیں؟ کیا ہم نے مارٹوف کی تجویز کو متفقہ طور پر منظور نہیں کیا؟ اِس کا جواب ہمیں الزامات اور دھمکیوں کی شکل میں دیا گیا۔ کیا یہ واضح نہیں ہو گیا کہ کانگریس کو چھوڑ کر جانے والے ’’اب اپنا مصالحت پسندانہ کام بھی ترک کر رہے ہیں اور سرِ عام ردِ انقلابیوں کے کیمپ میں جا رہے ہیں۔‘‘
بالشویکوں نے ٹراٹسکی کی قرارداد پر فوری رائے شماری پر اصرار نہیں کیا۔ وہ سوویت بنیادوں پر مفاہمت کی کوششوں کے راستے میں حائل نہیں ہونا چاہتے تھے۔ عملی سبق کے ذریعے سکھانے کا طریقہ توپخانے کی سنگت میں بھی کامیابی سے استعمال کیا جا سکتا ہے! پہلے مارٹوف کی تجویز کی طرح اب کامکوف کو دی جانے والی رعایت نے بھی اس مصالحتی دردِ زہ کی نامرادی کو ہی عیاں کیا۔ تاہم بائیں بازو کے منشویکوں کے برخلاف بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں نے کانگریس سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی: وہ بغاوت پر اترے دیہاتوں کا دباؤ براہِ راست محسوس کر رہے تھے۔
باہمی چھان بین مکمل ہو چکی ہے۔ابتدائی مورچے سنبھالے جا چکے ہیں۔اب کانگریس کی کاروائی میں ایک ٹھہراؤ آتا ہے۔ کیا بنیادی احکامات (Decrees) جاری کر کے سوویت حکومت تخلیق کی جائے؟ نہیں، یہ ابھی نا ممکن ہے: پرانی حکومت ابھی تک سرما محل کے ایک نیم تاریک کمرے میں بیٹھی ہے، جہاں میز پر پڑے واحد لیمپ کی روشنی کو اخباروں کے ذریعے کھڑکیوں تک پہنچنے سے روکا گیا ہے۔ رات دو بجے مجلس صدارت نے آدھے گھنٹے کے وقفے کا اعلان کیا۔
سرخ سپہ سالار اِس مختصر وقفے کو کامیابی سے بروئے کار لائے۔ کانگریس کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ماحول کو ایک نئی ہوا نے تروتازہ کر دیا۔ کامینیف نے ابھی ابھی اینٹونوف کی طرف سے موصول ہونے والا ٹیلی فونوگرام چبوترے سے پڑھا: عسکری انقلابی کمیٹی کے دستوں نے سرما محل پر قبضہ کر لیا ہے؛ کیرنسکی کے سوا ساری عبوری حکومت کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اگرچہ ہر کوئی منہ زبانی پھیلنے والی اِس خبر سے آگاہ ہو چکا تھا، لیکن یہ باضابطہ اعلان توپ کی سلامی سے بھی زیادہ بھاری تھا۔ انقلابی طبقے کو اقتدار سے جدا کرنے والی خلیج پھلانگ لی گئی ہے۔ جولائی میں کشیسنسکایا کے محل سے نکالے گئے بالشویک آج حکمرانوں کی حیثیت سے سرما محل میں داخل ہو ئے ہیں۔ آج روس میں سوویتوں کے اقتدار کے سوا کوئی دوسرا اقتدار نہیں ہے۔ جذبات کا پیچیدہ الجھاؤ اچانک تالیوں اور نعروں میں پھٹ پڑتا ہے: فتح، امید، لیکن پریشانی بھی۔ تالیوں کی گونج اور نعروں کی گرج بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ کام ہو چکا ہے۔ طاقتوں کے انتہائی موافق توازن میں بھی غیر متوقع کیفیات پوشیدہ ہو سکتی ہیں، لیکن جب دشمن کی قیادت کو قیدی بنا لیا جائے تو فتح مسلمہ ہو جاتی ہے۔
کامینیف بڑے اثر آفرین انداز میں گرفتار ہونے والوں کی فہرست پڑھتا ہے۔ زیادہ مشہور ناموں پر کانگریس مخاصمانہ یا طنزیہ نعرے لگاتی ہے۔ سب سے تلخ ردِ عمل ترشچینکو کے نام پر آتا ہے،جو روس کے خارجہ امور چلاتا رہا تھا ۔ اور کیرنسکی؟ کیرنسکی؟ صبح دس بجے معلوم ہوا تھا کہ وہ کسی خاص کامیابی کے بغیر گاچینا کے گیریزن سے خطاب کرتا پھر رہا تھا۔ ’’وہاں سے وہ کہاں گیا، کچھ خاص پتا نہیں؛ افواہیں ہیں کہ محاذ پر گیا ہے۔‘‘
انقلاب کے ساتھ گھسٹنے والے کچھ اچھا محسوس نہیں کرتے۔ وہ دیکھ سکتے ہیں کہ بالشویکوں کی پیش قدمی اب زیادہ اٹل ہو جائے گی۔ بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں میں سے کوئی سوشلسٹ وزیروں کی گرفتاری پر اعتراض کرتا ہے۔ متحدہ انٹرنیشنلسٹوں کا ایک نمائندہ خبردار کرتا ہے: ’’کہیں ایسا نہ ہو کہ وزیر زراعت میسلوف اُسی کوٹھری میں پہنچ جائے جس میں بادشاہت کے تحت بند تھا۔‘‘ اُس کا جواب ٹراٹسکی دیتا ہے، جسے میسلوف کی حکومت میں اُسی کریسٹی جیل میں قید کیا گیا تھا جس میں زار نکولس نے کیا تھا: ’’سیاسی گرفتاری کوئی انتقامی معاملہ نہیں ہے۔ ایسا کسی حکمت کے تحت کیا جا رہا ہے۔ حکومت پر سب سے پہلے کورنیلوف کے ساتھ اُس کے مسلمہ روابط کا مقدمہ چلنا چاہئے… تاہم سوشلسٹ وزیروں کو صرف نظر بند کیا جائے گا۔‘‘ یہ کہنا زیادہ سادہ اور درست ہوتا کہ پرانی حکومت کی گرفتاری کی وجہ ابھی تک نامکمل جدوجہد کے تقاضے ہیں۔ یہ ماضی کے گناہوں کی سزا کا نہیں بلکہ مخالف کیمپ کا سر سیاسی طور پر کاٹنے کا معاملہ ہے۔
تاہم گرفتاریوں سے متعلق اِس پارلیمانی سوال جواب کی جگہ جلد ہی اِس سے کہیں زیادہ اہم واقعے نے لے لی۔ تیسری سائیکل بٹالین، جسے کیرنسکی نے پیٹروگراڈ کے خلاف بھیجا تھا، انقلابی عوام کے ساتھ مل گئی ہے! یہ انتہائی حوصلہ افزا خبر بالکل ناقابل یقین لگتی تھی، لیکن ایسا ہی ہوا تھا۔ یہ چیدہ فوجی یونٹ، جسے متحرک فوج میں سے سب سے پہلے منتخب کیا گیا تھا، دارالحکومت پہنچنے سے پہلے ہی سرکشی سے وابستہ ہو گیا تھا۔ اگر وزیروں کی گرفتاری پر منائی جانے والی خوشی میں ضبط کا کوئی شائبہ رہ گیا تھا تو اب ساری کانگریس کو ناقابل مزاحمت بے خودی اور سرمستی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
سائیکل بٹالین کے ایک مندوب کے ہمراہ زارسکوئی سیلو کا بالشویک کمیسار چبوترے پر چڑھا۔ وہ دونوں کانگریس کو رپورٹ دینے کے لئے ابھی ابھی پہنچے تھے: ’’زارسکوئی سیلو کا گریزن پیٹروگراڈ کے راستوں کی حفاظت کر رہا ہے۔ ڈیفنسسٹ سوویت سے الگ ہو گئے ہیں۔ سارا کام اب صرف ہمارے ذمے ہے۔‘‘ سائیکل والوں کی آمد کی خبر سن کر زارسکوئی کی سوویت نے مزاحمت کی تیاری کی تھی، لیکن جلد ہی معلوم ہو گیا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں تھی۔ ’’سائیکل والوں میں سوویتوں کی کانگریس کے کوئی دشمن نہیں ہیں۔‘‘ ایک اور بٹالین جلد ہی زارسکوئی پہنچے گی، دوستانہ استقبال کی تیاریاں جاری ہیں۔ کانگریس نے لمبے لمبے گھونٹ بھر کر اِس رپورٹ کو نوش کیا۔
سائیکل والوں کے مندوب کا پرجوش اور طوفانی خیر مقدم کیا گیا۔ اُس نے اطلاع دی کہ ’’دارالحکومت کے دفاع‘‘ کے احکامات کے تحت تیسری بٹالین کو اچانک جنوب مغربی محاذ سے بھیجا گیا تھا۔ سائیکل والے ’’سمجھے بوجھے بغیر‘‘ پیش قدمی کر رہے تھے اور حقیقت کے بارے میں متذبذب مفروضے قائم کر رہے تھے۔ پیریڈولسک کے مقام پر اُن کا سامنا پانچویں سائیکل بٹالین کے ایک دستے سے ہوا جو دارالحکومت کی طرف ہی جا رہا تھا۔ وہاں سٹیشن پر ہی ہونے والے مشترکہ اجلاس میں واضح ہو گیا کہ ’’تمام سائیکل والوں میں کوئی ایک بھی ایسا آدمی نہیں تھا جو اپنے بھائیوں کے خلاف کاروائی کرنے پر راضی ہو۔‘‘ چنانچہ حکومت کی بات نہ ماننے کا مشترکہ فیصلہ کیا گیا۔ ’’میں دوٹوک کہتا ہوں کہ ہم ایسی کسی حکومت کو اقتدار نہیں دیں گے جس کی قیادت میں بورژوازی اور زمیندار بیٹھے ہوں!‘‘ لفظ ’’دوٹوک‘‘، جسے انقلاب نے روز مرہ کی انقلابی زبان میں شامل کر دیا تھا، یہاں بالکل ٹھیک بیٹھ رہا تھا!
بھلاکتنے گھنٹے گزرے تھے جب کانگریس کو اِسی چبوترے سے محاذ سے سزا دلوانے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں؟ اب خود محاذ نے ’’دوٹوک‘‘ بات کر دی تھی۔ پیریڈولسک سے آنے والی آواز فوج کی مستند، صریح اور ناقابل تردید آواز تھی۔ اِس فیصلے کے خلاف کوئی استدعا نہیں ہو سکتی تھی۔ بالشویک اور صرف بالشویک ہی بروقت سمجھے تھے کہ مرجھا چکے اختیارات والے خاراش اور کُچن جیسوں کی نسبت سائیکل بٹالین کا سپاہی محاذ کی کہیں زیادہ بہتر نمائندگی کر تا تھا۔ مندوبین کے مزاج میں حیرت انگیز تبدیلی رونما ہوئی۔ سوخانوف لکھتا ہے، ’’وہ محسوس کرنے لگے کہ معاملات بالکل ہموار اور درست چل رہے ہیں، کہ دائیں بازو والوں نے جن ہولناکیوں کا عندیہ دیا تھا وہ آخر کار اتنی بھی ہولناک نہیں ہوں گی، کہ رہنما باقی ساری چیزوں میں بھی ٹھیک ہی ہوں گے۔‘‘
ناخوش منشویکوں نے اِس لمحے کو اپنی طرف توجہ مبذول کروانے کے لئے منتخب کیا۔ لگتا ہے وہ ابھی تک گئے نہیں تھے۔ وہ اپنے دھڑے میں بحث کر رہے تھے کہ کیا کیا جائے۔ متذبذب گروہوں کو اپنے پیچھے لگانے کی کوشش میں کاپیلنسکی، جسے کانگریس کو [منشویک دھڑے کے] فیصلے سے آگاہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی،نے آخر کار بالشویکوں سے علیحدگی کی انتہائی دوٹوک وجہ باآواز بلند بیان کی: ’’یاد رکھو کہ دستے پیٹروگراڈ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں تباہی کا خطرہ لاحق ہے۔‘‘ جواب میں ہال کے تمام کونوں سے آوازیں بلند ہونے لگیں،’’یہ کیا! تم ابھی تک یہاں پھر رہے ہو؟‘‘ منشویک ایک چھوٹے سے گروہ میں حقارت آمیز الوداعوں کے ہمراہ دروازے کی طرف جانے لگے۔ سوخانوف آہ بھرتا ہے، ’’بالشویکوں کو کھلی چھوٹ دے کر اور انقلاب کا سارا میدان اُن کے حوالے کر کے ہم باہر نکل گئے۔‘‘ ویسے اگر وہ رُک بھی جاتے تو کوئی خاص فرق نہ پڑتا۔ وہ بہرصورت ڈوب چکے تھے۔ واقعات کی بے رحم لہریں اُنہیں بہا لے گئی تھیں۔
عوام کے نام کانگریس کے اعلانِ عام کا وقت ہو چکا تھا، لیکن ابھی تک خصوصی اعلامیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ واقعات ایجنڈے میں سما نہیں پا رہے تھے۔ صبح 5:17 بجے انتہائی تھکا ہوا کرائلنکو ہاتھ میں ایک تار تھامے چبوترے پر چڑھا: 12ویں فوج نے کانگریس کو سلام بھیجا ہے اور اِسے ایک عسکری انقلابی کمیٹی کی تشکیل کے بارے میں آگاہ کرتی ہے جس نے شمالی محاذ کی نگرانی کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ مسلح مدد حاصل کرنے کی حکومتی کوششوں کو سپاہیوں کی مزاحمت نے ناکام بنا دیا ہے۔ شمالی محاذ کے سپہ سالار جنرل چیری میسوف نے کمیٹی کی اطاعت قبول کر لی ہے۔ عبوری حکومت کے کمیسار ووئٹنسکی نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پیٹروگراڈ کے خلاف بھیجے گئے دستوں کے تمام مندوبین یکے بعد دیگرے عسکری انقلابی کمیٹی کے سامنے پیٹروگراڈ گیریزن سے یکجہتی کا اعلان کر رہے ہیں۔جان ریڈ بتاتا ہے، ’’ہال میں افراتفری کا عالم تھا۔ لوگ رو رہے تھے، ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے… ‘‘
آخر کار لیوناچارسکی کو مزدوروں، سپاہیوں اور کسانوں کے نام اعلانِ عام پڑھنے کا موقع مل گیا۔ لیکن یہ صرف اعلان نہیں تھا۔ جو کچھ ہو چکا تھا اور جو کچھ تجویز کیا جا رہا تھا، اس سب کی محض تشریح سے یہ جلدی میں لکھی ہوئی دستاویز ایک نئے ریاستی ڈھانچے کی بنیادیں استوار کر رہی تھی۔ ’’مصالحت پسندانہ مرکزی مجلس عاملہ کی عملداری ختم ہو چکی ہے۔ عبوری حکومت معزول ہو چکی ہے۔ کانگریس اقتدار سنبھال رہی ہے… سوویت حکومت فوری امن کی سفارش کرتی ہے۔ یہ ساری زمین کسانوں کو منتقل کرے گی، فوج کو جمہوری بنائے گی، پیداوار پر کنٹرول قائم کرے گی، فوراً آئین ساز اسمبلی بلائے گی، روس کی تمام قومیتوں کو حق خود ارادیت دے گی… کانگریس فیصلہ کرتی ہے: سوویتیں اب تمام اقتدار کی مالک ہیں۔‘‘ پڑھا جانے والا ہر فقرہ تالیوں اور نعروں کی بوچھاڑ میں بدل رہا تھا۔’’سپاہیو! ہوشیار رہو! ریلوے کے مزدورو! کیرنسکی کی جانب سے پیٹروگراڈ کے خلاف بھیجے جانے والے تمام دستوں کو روک دو!… انقلاب اور جمہوری امن کا مقدر اب تمہارے ہاتھوں میں ہے!‘‘
زمین کی بات پر کسانوں کے کان کھڑے ہو گئے۔ کانگریس کے دستور کے مطابق یہ صرف مزدوروں اور سپاہیوں کی سوویتوں کی نمائندگی کر رہی تھی، لیکن کچھ کسان سوویتوں کے مندوبین بھی موجود تھے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ دستور میں اُنہیں بھی شامل کیا جائے۔ اُنہیں فوراً ووٹ دینے کا اختیار دے دیا گیا۔ پیٹروگراڈ کی کسان سوویت کے نمائندے نے ’’دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں سے‘‘ اعلامیے پر دستخط کئے۔
اعلامیے نے عام مندوبین کا حوصلہ بڑھایا، لیکن کچھ ہمدردوں کو اپنے اَٹل پن سے ڈرا دیا، بلکہ دور کر دیا۔ باقیات اور چھوٹے دھڑے ایک بار پھر چبوترے کے چکر لگانے لگے۔ تیسری بار منشویکوں کا ایک گروہ، جو ظاہر ہے کہ اب کی بار انتہائی بائیں بازو کا تھا، کانگریس سے الگ ہو گیا۔ پولینڈ کی سوشلسٹ پارٹی کا صدر لاپنسکی ’’آخر تک اپنے موقف کا دفاع‘‘ کرنے کے لئے کانگریس میں ہی رہا، تاہم بنیادی طور پر مارٹوف کے اعلامیے کی حمایت کی: ’’بالشویک جو اقتدار سنبھال رہے ہیں اُسے سنبھال نہیں پائیں گے۔‘‘ ’متحدہ یہودی مزدور پارٹی‘ نے ووٹ دینے سے گریز کیا، متحدہ انٹرنیشنلسٹوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ تاہم یہ سارے ’’متحدہ‘‘ مل جل کر کُل کتنے تھے؟ صرف دو اختلافی ووٹ آئے اور 12 مندوبین نے ووٹ نہیں دیا، یوں اعلامیہ کم و بیش متفقہ طور پر منظور ہو گیا! مندوبین میں اب مزید تالیوں اور نعروں کی ہمت بمشکل ہی بچی تھی۔
اجلاس تقریباً چھ بجے ختم ہوتا ہے۔ شہر میں خزاں کی سرمئی اور سرد صبح طلوع ہو رہی ہے۔ بتدریج روشن ہوتی ہوئی سڑکوں پر رات کو کیمپوں میں جلائی جانے والی آگ کے نشانات مٹ رہے ہیں۔ رائفلیں تھامے مزدوروں اور سپاہیوں کے سرمئی چہرے تنے ہوئے اور غیر معمولی ہیں۔ اگر پیٹروگراڈ میں جوتشی ہوتے تو آسمانوں میں حیرت ناک نشانیوں کا مشاہدہ ضرور کرتے!
دارالحکومت ایک نئے اقتدار میں بیدار ہوا۔ رات کی لہر کس ساحل سے ٹکرائی ہے؟ واقعات سے کٹے ہوئے پیٹی بورژوا لوگ، حکام اور دانشور صبح سویرے اخبارات کی طرف بھاگے۔ لیکن جو کچھ ہوا تھا اُسے سمجھنا اِتنا آسان نہیں تھا۔ اخبارات نے سازشیوں کے سرما محل پر قبضے اور وزیروں کی گرفتاری کی اطلاع تو ضرور دی، لیکن محض ایک ثانوی واقعے کے طور پر۔ ’’کیرنسکی صدر دفتر چلا گیا ہے … حکومت کا فیصلہ محاذ کرے گا۔‘‘ سوویت کانگریس کی رپورٹوں میں بھی دائیں بازو کے اعلامیے ہی شائع کئے ہوتے تھے، الگ ہونے والوں کا شمار بتایا گیا تھا اور رہ جانے والوں کو خصی قرار دیا گیا تھا۔ سرما محل پر قبضے سے پہلے لکھے گئے سیاسی اداریوں میں سے شفاف رجائیت پسندی ٹپک رہی تھی۔
تاہم سڑکوں پر پھیلی افواہوں کی اخبارات کے لہجے سے کوئی مطابقت نہیں ہے۔ آپ جو مرضی کہتے رہیں، وزرا آخر کار قلعے میں بند ہو چکے ہیں۔ کیرنسکی کی کمک بھی کہیں نظر نہیں آ رہی ہے۔ حکام اور افسران شدید اضطراب کے عالم میں بات چیت کر رہے ہیں۔ صحافی اور وکلا ایک دوسرے کو ٹیلیفون کر رہے ہیں۔ مدیر اپنی سوچوں کو مجتمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دیوان خانوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں اِن غاصبوں کو ہمہ گیر حقارت کے محاصرے میں لینا ہو گا۔‘‘ دکانداروں کو معلوم نہیں کہ کاروبار کریں یا نہ کریں۔ نئے حکام کاروبار کرنے کے احکامات جاری کرتے ہیں۔ ریستوران کھلتے ہیں؛ ٹرام گاڑیاں چلتی ہیں؛ بینک بدشگونی سے نڈھال ہیں؛ سٹاک ایکسچینج کا گراف کبھی اوپر جا رہا ہے کبھی نیچے آ رہا ہے۔ ظاہر ہے بالشویک زیادہ دیر ٹِک نہیں پائیں گے، لیکن نقصان بہت کر جائیں گے…
رجعتی فرانسیسی صحافی کلاڈ اینٹ نے اُس دن لکھا: ’’فاتحین فتح کا گیت گا رہے ہیں اور بالکل بجا گا رہے ہیں۔ اِن تمام بکواسیوں میں صرف وہی تھے جنہوں نے کچھ کیا… آج وہ فصل کاٹ رہے ہیں۔ شاباش! شاندار کام!‘‘ منشویک صورتحال کا حساب اِس سے بالکل برعکس لگا رہے تھے۔ ڈین کے پرچے نے لکھا، ’’بالشویکوں کی ’فتح‘ کو چوبیس گھنٹے ہو چکے ہیں اور تاریخ ابھی سے اپنا بے رحم انتقام لینے لگی ہے… اُن کے ارد گرد صرف خالی پن ہے، جو انہوں نے خود تخلیق کیا ہے… وہ ہر کسی سے کٹے ہوئے ہیں… ساری دفتری اور تکنیکی مشینری اُن کی بات ماننے سے انکاری ہے… ہر لمحے وہ اپنی فتح سے پاتال میں پھسل رہے ہیں۔‘‘
حکام کے سبوتاژ اور اپنی بے عقلی سے ہمت پکڑ کر لبرل اور مصالحت پسند حلقے یقین کر بیٹھے تھے کہ اُنہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ وہ جولائی کے دنوں کی زبان میں ہی بالشویکوں کے بارے میں باتیں کہہ رہے ہیں اور لکھ رہے تھے۔ ’’جرمنی کے گماشتے‘‘، ’’سرخ محافظوں کی جیبیں جرمن پیسوں سے بھری ہوئی ہیں‘‘، ’’سرکشی کی کمان جرمن افسران کر رہے ہیں۔‘‘ نئی حکومت کو اپنا احساس دلانے کے لئے اِن لوگوں کو ہاتھ دکھانا پڑا۔ زیادہ بے لگام اخبارات کو 26 تاریخ کی رات کو ہی روک دیا گیا۔ کچھ دوسروں کو اگلے دن قبضے میں لے لیا گیا۔ سوشلسٹ پریس کو وقتی طور پر چھوڑ دیا گیا: بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں اور بالشویک پارٹی کے کچھ عناصر کو بھی ایک موقع دینا ضروری تھا کہ وہ سرکاری جمہوریت سے اتحاد کی امید کی بے بنیادی پر خود کو قائل کر سکیں۔
بالشویکوں نے اِسی سبوتاژ اور انتشار میں اپنی فتح کو آگے بڑھایا۔ رات کے دوران منظم کئے جانے والے ایک عبوری فوجی صدر دفتر نے کیرنسکی کے حملے کی صورت میں پیٹروگراڈ کے دفاع کا بیڑا اٹھایا۔ فوج کے ٹیلیفون والوں کو مرکزی ایکسچینج بھیجا گیا، جہاں ایک ہڑتال شروع ہو چکی تھی۔ افواج کو سفارش کی گئی کہ وہ اپنی عسکری انقلابی کمیٹیاں بنائیں۔ فتح کے نتیجے میں آزاد ہونے والے ایجی ٹیٹروں اور منتظمین کے گروہوں کو محاذ اور صوبوں میں بھیجا گیا۔ پارٹی کے مرکزی جریدے نے لکھا: ’’پیٹروگراڈ سوویت نے اپنا کام کر دکھایا ہے۔ اب دوسری سوویتوں کی باری ہے۔‘‘
دن کے دوران ایک خبر آئی جس نے بالخصوص سپاہیوں کو پریشان کر دیا۔ کورنیلوف بھاگ گیا ہے۔ درحقیقت یہ اعلیٰ قیدی، جو بائیکوف میں رہ رہا تھا، اپنے وفادار ٹیکنسکی والوں کی حفاظت میں تھا اور کیرنسکی کے صدر دفتر کے ذریعے تمام واقعات سے آگاہ تھا، 26 تاریخ کو فیصلہ کر چکا تھا کہ واقعات ایک سنجیدہ موڑ لے رہے ہیں اور معمولی سی مزاحمت کے بغیر اپنی جعلی جیل سے بھاگ گیا۔ یوں عوام کی نظروں میں کیرنسکی اور کورنیلوف کے روابط کی ایک بار پھر تصدیق ہو گئی۔ عسکری انقلابی کمیٹی نے سپاہیوں اور انقلابی افسروں کو تار کے ذریعے حکم جاری کیا کہ دونوں سابقہ سپہ سالاروں کو گرفتار کیا جائے اور پیٹروگراڈ بھیجا جائے۔
فروری میں ٹاؤرائڈ محل کی طرح اب سمولنی دارالحکومت اور ریاست کے تمام امور کا مرکز بن گیا۔ تمام حکمران اداروں کی نشست یہیں تھی۔ یہیں سے احکامات جاری کئے جاتے تھے اور لوگ احکامات لینے آتے تھے۔ فوج سے قبضے میں لئے گئے ہتھیار یہیں لائے جاتے تھے۔ شہر کے تمام کونوں سے گرفتار شدہ لوگ لائے جاتے تھے۔انصاف کی تلاش میں متاثرین آنے لگے۔ سمولنی سے بچنے کے لئے بورژوا لوگ اور اُن کے خوفزدہ ٹیکسی ڈرائیور لمبا چکر کاٹتے تھے ۔
آج کے عہد میں شاہی گولے اور عصا [۳] کی نسبت حاکمیت کی کہیں زیادہ مستند نشانی موٹر گاڑی ہے۔ دوہرے اقتدار کے نظام کے تحت موٹر گاڑیوں کو حکومت، مرکزی مجلس عاملہ اور نجی مالکان میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ اب قبضے میں لی جانے والی تمام گاڑیوں کو سرکشی کے کیمپ میں جمع کیا جا رہا تھا۔ سمولنی کا علاقہ کسی دیوہیکل فوجی گیراج جیسا لگتا تھا۔ اُن دنوں بہترین گاڑیاں گھٹیا تیل پر چلائی جاتی تھیں۔ نیم تاریکی میں موٹر سائیکلوں کی دھمکا دینے والی بے چین پھٹ پھٹ مسلسل جاری رہتی تھی۔ بکتر بند گاڑیوں کے سائرن چنگھاڑتے تھے۔ سمولنی ایک فیکٹری، ایک ریلوے سٹیشن اور انقلاب کے بجلی گھر کا منظر پیش کرتا تھا۔
لوگوں کا ایک سیلاب ملحقہ سڑکوں کی پگڈنڈیوں پر بہہ رہا ہے۔ داخلی اور خارجی گیٹوں پر الاؤ جل رہے ہیں۔ اُن کی ٹمٹماتی روشنی میں مسلح مزدور اور سپاہی بہت باریک بینی سے پاسوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔ صحن میں کھڑی بہت سی بکتر بند گاڑیاں اپنے انجنوں کے ارتعاش سے کپکپا رہی ہیں۔ مشینیں ہوں یا انسان، کوئی بھی چیز رُکنا نہیں چاہتی ہے۔ ہر داخلی راستے پر مشین گنیں نصب ہیں، جن کے لئے گولیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ لامحدود، نیم روشن، اداس راہداریوں میں قدموں کی آوازیں اور نعرے گونج رہے ہیں۔ آنے اور جانے والے کشادہ سیڑھیوں پر اوپر نیچے متحرک ہیں۔ زیادہ بے چین اور اہم افراد اِس انسانی لاوے کو چیرتے ہوئے اپنا راستہ بنا رہے ہیں۔ یہ سمولنی کے مزدور، قاصد اور کمیسار ہیں، ایک ہاتھ میں کوئی حکم نامہ بلند کئے ہوئے ہیں، کندھے پر رائفل لٹک رہی ہے یا بغل میں کاغذات دبائے ہوئے ہیں۔
عسکری انقلابی کمیٹی نے ایک منٹ کے لئے بھی کام نہیں چھوڑا۔ اِس کے پاس مسلسل مندوبین، قاصد، رضاکار مخبر، بے لوث دوست اور لُچے قسم کے لوگ بھی آ رہے تھے۔ یہ شہر کے تمام کونوں میں کمیسار بھیج رہی تھی، احکامات اور اسناد پر بے شمار مہریں ثبت کر رہی تھی اور یہ سب کچھ جانچ پڑتال، فوری رابطوں، ٹیلیفون کی گھنٹیوں اور ہتھیاروں کی کھڑکھڑاہٹ کے بیچوں بیچ ہو رہا تھا۔ تھکاوٹ سے خستہ حال لوگ، جو کئی دنوں سے سوئے تھے نہ ٹھیک سے کچھ کھا پی سکے تھے، شیو بڑھی ہوئی تھی، کپڑے گندے ہو چکے تھے، آنکھیں سوجھ چکی تھیں، بیٹھی ہوئی آوازوں میں چلّاتے تھے، ہاتھوں سے عجیب و غریب اشارے کرتے تھے۔ اگر وہ نیم مردہ ہو کر زمین پر نہیں گرے تو شاید صرف اِرد گرد پھیلے انتشار کی وجہ سے، جو اُنہیں جھنجوڑ دیتا تھا اور اپنے بے لگام پروں پر دوبارہ اڑا لے جاتا تھا۔
مہم جو ، ٹھگ، بدمعاش، جو پرانے نظام کی غلاظت کی جھاگ تھے، اِدھر اُدھر سونگھتے تھے اور سمولنی کا پاس حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اُن میں کچھ کامیاب بھی ہو جاتے تھے۔ اُنہیں انتظامیہ کے کچھ راز معلوم تھے: سفارتی خط و کتابت کی کنجی کس کے پاس ہے، خزانے کے بارے میں حکم نامہ کیسے لکھنا ہے، ٹائپ رائٹر یا پٹرول کہاں سے ملے گا، بالخصوص بہترین درباری شرابیں کہاں رکھی گئی ہیں۔ یہ سب فوری طور پر جیل یا گولی کا نشانہ نہیں بنے۔
دنیا کی تخلیق کے بعد سے اِتنے احکامات کبھی جاری نہیں ہوئے ہوں گے… منہ زبانی، پنسل سے، ٹائپ رائٹر سے، تار سے، ایک کے بعد دوسرا حکم، ہزاروں اور دسیوں ہزار احکامات، جو ہمیشہ اختیار رکھنے والوں کی طرف سے جاری نہیں کئے جاتے تھے اور شاذ و نادر ہی اُنہیں جاری کئے جاتے تھے جو اُن پر عمل درآمد کے قابل ہوتے تھے۔ لیکن یہیں ایک معجزہ پوشیدہ تھا ، اِس باؤلے انتشارکی بھی ایک داخلی منطق تھی۔ لوگ ایک دوسرے کو سمجھ رہے تھے۔ سب سے اہم اور ضروری کام ہو رہے تھے۔ پرانی انتظامیہ کی جگہ لیتی نئے انتظامیہ کے تانے بانے بُنے جا رہے تھے۔ انقلاب زور پکڑ رہا تھا۔
اُس دن سمولنی میں بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی کی کاروائی جاری تھی۔ یہ روس کی نئی حکومت کے سوال کا فیصلہ کر رہی تھی۔ کوئی منٹس نہیں لئے گئے، یا پھر اُنہیں محفوظ نہیں رکھا جا سکا۔ کانگریس کے شام کے اجلاس نے وزرا کی کابینہ تشکیل دینا تھی۔ و… ز… ر… ا؟ کیسا بدنام زمانہ لفظ ہے! اِس میں سے افسر شاہانہ کیرئیر اور پارلیمانی جاہ طلبی کی بدبو آتی ہے۔ حکومت کو ’عوامی کمیساروں کی سوویت‘ پکارنے کا فیصلہ کیا گیا: یہ کم از کم نسبتاً تازہ آواز تھی۔ چونکہ ’’ساری جمہوریت‘‘ کے اتحاد کے مذاکرات بے نتیجہ رہے تھے لہٰذا پارٹی اور حکومت کی ترکیب کا سوال سادہ ہو گیا تھا۔ بائیں بازو کے سوشل انقلابی ہٹ دھرمی سے اعتراض کر رہے تھے۔ ابھی ابھی کیرنسکی کی پارٹی سے الگ ہونے کی وجہ سے اُنہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ چاہتے کیا تھے۔ مرکزی کمیٹی نے لینن کی تجویز کو واحد معقول تجویز کے طور پر منظور کر لیا: صرف بالشویکوں پر مشتمل حکومت بنائی جائے۔
مارٹوف نے گرفتار شدہ سوشلسٹ وزیروں کے سفارشی کے طور پر اِس اجلاس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ وہ سوشلسٹ وزیروں کے سامنے گرفتار شدہ بالشویکوں کی سفارش کرتا تھا۔ حالات نے کافی بڑا پلٹا کھایا تھا۔ مارٹوف سے مذاکرات کے لئے بھیجے گئے ایک رکن (غالباً کامینیف) کے ذریعے مرکزی کمیٹی نے اِس بیان کی تصدیق کی کہ سوشلسٹ وزیروں کو نظر بندی میں منتقل کر دیا جائے گا۔
کانگریس کا اجلاس رات نو بجے شروع ہوا۔ ’’آج کا منظر بحیثیت مجموعی کل سے تھوڑا ہی مختلف تھا۔ہجوم اور ہتھیار تھوڑے کم تھے۔ ‘‘ سوخانوف اب مندوب نہیں رہا تھا، تاہم عام سامعین میں وہاں بیٹھا تھا۔ اِس اجلاس نے امن، زمین اور حکومت کے سوالات کا فیصلہ کرنا تھا۔ صرف تین سوالـــ: جنگ کا خاتمہ، کسانوں کو زمین کی منتقلی، سوشلسٹ آمریت کا قیام۔ کامینیف نے دن کے وقت مجلس صدارت کی جانب سے کئے جانے والے کام کی رپورٹ سے شروعات کی: کیرنسکی کی جانب سے محاذ پر متعارف کرائی جانے والی سزائے موت کو منسوخ کیا جاتا ہے؛ ایجی ٹیشن کی مکمل آزادی بحال کی جاتی ہے؛ سیاسی نظریات کی وجہ سے گرفتار کئے جانے والے سپاہیوں اور زمین کمیٹیوں کے اراکین کی فوری رہائی کے احکامات جاری کئے جاتے ہیں؛ عبوری حکومت کے تمام کمیساروں کو سبکدوش کیا جاتا ہے؛ کیرنسکی اور کورنیلوف کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے جاتے ہیں۔ کانگریس نے اِن اقدامات کی منظوری دے دی۔
ایک بار پھر باقیات کی بھی باقیات چبوترے پر آنے لگیں، جنہیں سارے ہال نے بری طرح مسترد کیا۔ ایک گروہ نے اعلان کیا کہ وہ ’’سرکشی کی شکست کے وقت نہیں بلکہ اِس کی فتح کے وقت ‘‘ علیحدہ ہو رہے ہیں۔ کچھ دوسروں نے ڈینگیں ماریں کہ اُنہوں نے نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈونٹس کے کانکنوں کے نمائندے نے زور دیا کہ کالیڈن کو شمالی علاقے کو کوئلے سے کاٹنے سے روکنے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ تاہم انقلاب ایسے اقدامات اٹھانا سیکھے، اِس کے لئے کچھ وقت درکار تھا۔ آخر کار ایجنڈے کے پہلے نکتے پر بحث شروع ہوئی۔
لینن، جسے ابھی تک کانگریس نے نہیں دیکھا تھا، کو جنگ کے خاتمے پر بات کرنے کے لئے مدعو کیا گیا۔ وہ چبوترے پر نمودار ہوا تو فلک شگاف نعروں اور تالیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ محاذ کے مندوبین اِس پراسرار ہستی کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے چلے جا رہے تھے جس سے اُنہیں نفرت کرنا سکھایا گیا اور جسے دیکھے بغیر ہی وہ اُس سے محبت کرنے لگے تھے۔ ’’ریڈنگ سٹینڈ کو پکڑ کر اپنی چھوٹی آنکھیں جھپکاتے ہوئے سارے مجمع پر نظریں دوڑاتا لینن وہاں کھڑا انتظار کر رہا تھا… مسلسل بلند ہوتے نعروں اور تالیوں پر بظاہر کوئی توجہ نہیں دے رہا تھا۔ جب یہ سلسلہ کچھ تھما تو اُس نے بس اتنا ہی کہا: ’اب ہم ایک سوشلسٹ نظام کی تعمیر کی طرف بڑھیں گے۔‘‘‘
کانگریس کے منٹس محفوظ نہیں ہیں۔ پارلیمانی سٹینوگرافر، جنہیں مباحث کو ریکارڈ کرنے کے لئے بلایا گیا تھا، منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کے ساتھ ہی سمولنی چھوڑ گئے تھے۔ یہ سبوتاژ کی مہم کے ابتدائی واقعات میں سے ایک تھا۔ دفتری نوٹس بھی واقعات کے پاتال میں کوئی نام و نشان چھوڑے بغیر گم ہو چکے ہیں۔ توپخانے کی گھن گرج یا سیاسی جدوجہد کی کشمکش کی دُھن پر عجلت میں لکھی ہوئی کچھ جانبدار اخباری رپورٹیں ہی بچی ہیں۔سب سے زیادہ نقصان لینن کی تقریروں کا ہوا ہے۔ لینن کے تیز انداز بیاں اور جملوں کی پیچیدہ ساخت کی وجہ سے موافق حالات میں بھی اُس کی تقریروں کو ریکارڈ کرنا آسان نہیں ہوتا تھا۔ جان ریڈ نے جو ابتدائی بیان لینن سے منسوب کیا ہے وہ کسی اخباری رپورٹ میں نظر نہیں آتا۔ لیکن یہ مقرر کی شخصیت کے عین مطابق ہے۔ جان ریڈ نے یہ اپنی طرف سے نہیں گھڑا ہو گا ۔ سوویتوں کی کانگریس میں لینن نے اپنی تقریر ایسے ہی شروع کی ہو گی۔ سادگی سے، کسی جوشِ خطابت کے بغیر، ٹھوس اعتماد کے ساتھ: ’’اب ہم ایک سوشلسٹ نظام کی تعمیر کی طرف بڑھیں گے۔‘‘
لیکن اِس کے لئے سب سے پہلے جنگ کا خاتمہ ضروری تھا۔سوئٹزر لینڈ میں اپنی جلاوطنی کے دوران لینن نے نعرہ دیا تھا: سامراجی جنگ کو خانہ جنگی میں بدل دو۔ اب ایک فتح مند خانہ جنگی کو امن میں بدلنا ضروری تھا۔ مقرر نے فوراً اُس اعلامیے کا مسودہ پڑھنا شروع کیا جسے منتخب ہونے کے بعد حکومت نے جاری کرنا تھا۔ یہ متن پہلے سے تقسیم نہیں کیا گیا تھا، کیونکہ تکنیکی انتظام ابھی کافی کمزور تھا۔ کانگریس نے اِس دستاویز کا پڑھا جانے والا ایک ایک لفظ جذب کر لیا۔
’’24-25 اکتوبر کے انقلاب کے نتیجے میں قائم ہونے والی مزدوروں اور کسانوں کی حکومت، جس کی بنیاد مزدوروں، سپاہیوں اور کسانوں کے نمائندوں کی سوویتیں ہیں، تمام متحارب اقوام اور اُن کی حکومتوں سے ایک منصفانہ اور جمہوری امن کے قیام کے لئے امن مذاکرات کے فوری آغاز کا مطالبہ کرتی ہے۔‘‘ منصفانہ شرائط میں قبضے اور جنگی ہرجانے شامل نہیں ہیں۔ ’’اِس کے ساتھ حکومت اعلان کرتی ہے کہ یہ امن کی مذکورہ بالا شرائط کو حتمی نہیں سمجھتی ہے، یعنی دوسری شرائط پر غور کرنے کو تیار ہے‘‘، لیکن مذاکرات کے فوری آغاز اور اُن میں کسی قسم کی رازداری نہ رکھنے کا مطالبہ کرتی ہے۔اپنی طرف سے سوویت حکومت ہر طرح کی خفیہ سفارتکاری ختم کرتی ہے اور 25 اکتوبر 1917ء سے پہلے کے تمام معاہدوں کو شائع کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ اِن معاہدوں میں روسی زمینداروں اور سرمایہ داروں کے منافعوں اور مراعات کے دوام اور روسیوں کی جانب سے دوسری اقوام پر جبر کے تمام نکات کو ’’حکومت غیر مشروط اور فوری طور پر منسوخ قرار دیتی ہے۔‘‘ مذاکرات کے آغاز کے لئے فوری جنگ بندی کی سفارش کی جاتی ہے، جو کم از کم تین مہینوں پر محیط ہو۔ روس کے مزدوروں اور کسانوں کی حکومت اپنی تجاویز بیک وقت ’’تمام متحارب ممالک کے عوام اور حکومتوں … بالخصوص تین سب سے ترقی یافتہ ممالک، برطانیہ، فرانس اور جرمنی، کے باشعور مزدوروں‘‘ کو پیش کر رہی ہے اور پورا اعتماد رکھتی ہے کہ وہی ہیں جو ’’محنت کشوں اور استحصال زدہ عوام کو تمام تر محکومی اور استحصال سے نجات دلانے کا فریضہ کامیابی سے ادا کریں گے۔‘‘
لینن نے خود کو اعلامیے کے متن پر مختصر تبصرے تک ہی محدود رکھا۔ ’’ہم حکومتوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے، وگرنہ قیامِ امن کا امکان دور ہو جائے گا… لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمیں عوام سے استدعا نہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ عوام اور حکومتیں ہر جگہ غیر متفق ہیں اور ہمیں جنگ اور امن کے معاملے میں عوامی مداخلت کی اعانت کرنی چاہئے۔‘‘ ’’ہم تمام ممکنہ طریقوں سے قبضوں اور ہرجانوں کے بغیر اپنے امن پروگرام کا دفاع کریں گے‘‘ لیکن ہمیں اپنی شرائط کسی الٹی میٹم کی شکل میں پیش نہیں کرنی چاہئیں، کیونکہ اِس سے حکومتوں کے لئے مذاکرات سے انکار آسان ہو جائے گا۔ ہم دوسری ہر تجویز پر بھی غور کریں گے۔ ’’لیکن غور کا مطلب یہ نہیں ہم اُسے مان لیں گے۔‘‘
مصالحت پسندوں کی طرف سے 14 مارچ کو جاری کئے گئے اعلامیے میں دوسرے ممالک کے مزدوروں سے امن کے لئے بینکاروں کو اکھاڑے پھینکنے کی استدعا کی گئی تھی۔ تاہم اِنہی مصالحت پسندوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے ملک کے بینکاروں کو اکھاڑ پھینکنے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اُن کے ساتھ اتحاد بنا لیا۔ ’’اب ہم نے بینکاروں کی حکومت اکھاڑ پھینکی ہے۔‘‘ لہٰذا ہمیں اختیار حاصل ہے دوسرے ممالک کے عوام سے بھی ایسا ہی کرنے کی استدعا کریں۔ ہمیں فتح کی پوری امید ہے۔ ’’یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم افریقہ کی گہرائیوں میں نہیں بلکہ یورپ میں رہتے ہیں، جہاں ہر خبر تیزی سے پھیلتی ہے۔‘‘ ہمیشہ کی طرح لینن کا خیال تھا کہ قومی انقلاب کو بین الاقوامی انقلاب میں بدل کر ہی فتح کی ضمانت حاصل کی جا سکتی تھی۔ ’’مزدور تحریک غالب آئے گی اور امن اور سوشلزم کا راستہ ہموار کرے گی۔‘‘
بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں نے اعلامیے سے اتفاق کا اظہار کرنے کے لئے اپنے مندوبین بھیجے۔’’اِس کی روح اور معانی ہماری فہم کے قریب اور مطابق ہیں۔‘‘متحدہ انٹرنیشنلسٹ بھی اعلامیے کے حق میں تھے، لیکن صرف اِس شرط پر کہ اِسے ساری جمہوریت کی نمائندہ حکومت جاری کرے۔ پولینڈ کے بائیں بازو کے منشویکوں کی طرف سے بات کرتے ہوئے لاپنسکی نے دستاویز کی ’’صحت مند پرولتاری حقیقت پسندی‘‘ کا خیر مقدم کیا۔ پولینڈ اور لتھویینا کی سوشل ڈیموکریسی کی طرف سے ڈزرزھنسکیاور کاپسوکس اور لیٹویا کی سوشل ڈیموکریسی کی طرف سے سٹچکا نے کسی اعتراض کے بغیر اعلامیے کی حمایت کی۔ واحد اعتراض بالشویک اریمیف کی طرف سے آیا ، جس کا مطالبہ تھا کہ امن کی شرائط کو الٹی میٹم کی شکل میں پیش کیا جائے، ورنہ ’’وہ سمجھیں گے کہ ہم کمزور ہیں اور ڈرے ہوئے ہیں۔‘‘
لینن نے فیصلہ کن بلکہ غضبناک انداز میں اِس تجویز کی مخالفت کی۔ اُس کا کہنا تھا کہ اِس طرح سے ’’ہم اپنے دشمنوں کے لئے ممکن بنائیں گے کہ وہ مکمل سچائی کو عوام سے پوشیدہ رکھیں اور ہماری عدم مصالحت کے پیچھے چھپا دیں۔‘‘ تمہارا کہنا ہے کہ ’’الٹی میٹم نہ دینے سے ہمارا خصی پن ظاہر ہو گا۔ لیکن یہ سیاست کی بورژوا مکاریوں کو ترک کرنے کا وقت ہے۔ ہمیں اپنی خستہ حالی کے بارے میں سچ بولنے سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں …‘‘ مستقبل کے بریسٹ لیٹووسک کے اختلافات کی جھلک ابھی سے اِس واقعے میں نظر آ رہی تھی۔
کامینیف نے اعلان کیا کہ اعلامیے کے حامی مندوبین اپنے کارڈ بلند کریں۔ جان ریڈ لکھتا ہے، ’’ایک مندوب نے مخالفت میں اپنا ہاتھ بلند کرنے کی جسارت کی، لیکن اپنے اِرد گرد غصے کے ابال سے ڈر کر ہاتھ فوراً نیچے کر لیا۔‘‘ تمام متحارب ممالک کی حکومتوں اور عوام کے نام استدعا متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ کام ہو گیا تھا! اور اِس نے تمام شرکا کو اپنی فوری اور قریبی عظمت سے متاثر کیا۔
سوخانوف ، جو ایک ہوشیار اگرچہ متعصب مشاہد تھا، نے کانگریس کے پہلے اجلاس میں ایک سے زیادہ بار کچھ ’’مردہ دلی‘‘ کا مشاہدہ کیا۔ بلاشبہ دوسرے تمام لوگوں کی طرح مندوبین بھی مسلسل اجلاسوں، کانگریسوں، تقریروں، قراردادوں اور وقت گزاری کی ساری واردات سے تنگ آ چکے تھے۔ اُنہیں امید نہیں تھی کہ یہ کانگریس بھی معاملے کو انجام تک پہنچا پائے گی۔ کیا فریضے کا دیوہیکل ہجم اور ناقابل تسخیر مزاحمت اِس بار بھی اُنہیں پسپائی پر مجبور نہیں کر دے گی؟ تاہم سرما محل پر قبضے کی خبر اور بعد ازاں سائیکل والوں کے سرکشی سے مل جانے سے ایک نیا اعتماد پیدا ہوا۔ اِن دونوں حقائق کا تعلق سرکشی کی میکانیات سے تھا۔ یوں اب ہی سرکشی کا تاریخی مطلب عمل میں واضح ہو رہا تھا۔ فتح مند سرکشی نے مزدوروں اور سپاہیوں کی اِس کانگریس کو اقتدار کی لازوال بنیاد فراہم کر دی تھی۔ اب کی بار مندوبین کسی قرارداد یا اعلامیے کے لئے نہیں بلکہ بے انتہا اہمیت کے حامل حکومتی اقدام کے لئے ووٹ دے رہے تھے۔
متحارب اقوام متوجہ ہوں! انقلاب آپ کو امن کی پیشکش کر رہا ہے۔ اِس پر معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام لگے گا۔ لیکن اِسے اِس پر فخر ہے۔ خونریز لوٹ مار کے اتحادوں کو توڑنا عظیم ترین تاریخی فریضہ ہے۔ بالشویکوں نے اِسے ادا کرنے کی جرات کی ہے۔ صرف اُنہوں نے ہی جرات کی ہے۔ بے ساختہ فخر پھوٹ رہا ہے۔ ہر کوئی اپنے پیروں پر کھڑا ہے۔ آنکھیں منور ہیں۔ تمباکو نوشی رُک گئی ہے ۔ لگتا ہے جیسے سانسیں بھی رُک سی گئی ہیں۔ مجلس صدارت، مندوبین، مہمان، سنتری… سب کے سب سرکشی اور یکجہتی کا نغمہ گا رہے ہیں۔ جان ریڈ، جو سرکشی کا چشم دید گواہ، شریک، مورخ اور شاعر ہے، جلد ہی یہ ساری داستان سنائے گا، ’’اچانک ایک اجتماعی تحریک سے ہم بے ساختہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے اور زندگی بخش دینے والا ’انٹرنیشنل‘ ہم آواز ہو کر پڑھنے لگے… سفید بالوں والا ایک بوڑھا سپاہی بچوں کی طرح رو رہا ہے۔ الیگزینڈرا کولنٹائی اپنی آنکھیں تیز تیز جھپک کر آنسو ضبط کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انٹرنیشنل کی فلک شگاف آواز سارے ہال میں گونج رہی ہے، کھڑکیوں اور دروازوں کو چیر کر خاموش آسمان کی طرف بلند ہو رہی ہے…‘‘ کیا یہ ساری کی ساری آسمان میں چلی گئی؟ کیا یہ خزاں کے مورچوں، جنگ کی صلیب پر چڑھے یورپ، اُس کے تباہ حال شہروں اور دیہاتوں، اُس کی ماتم کرتی ماؤں اور بیویوں کے پاس نہیں گئی؟ ’’کیا خاک ہے تیری زندگانی… اُٹھ اے غریب بے نوا!‘‘ محنت کشوں کے عالمی ترانے کے یہ الفاظ تمام حدود سے ماوراہیں۔ وہ سوویت حکومت کے حکم نامے میں رچ بس گئے ہیں، اُن کی گونج میں براہِ راست عمل کی طاقت ہے۔ ہر کوئی خود کو عظیم تر اور اہم تر محسوس کر رہا ہے۔ انقلاب کے سینے میں ساری دنیا کی وسعت سما گئی ہے۔ ’’اب ہوں گے غلام سب آزاد!‘‘ آزادی، پیش قدمی اور جرات کا جذبہ، شادمانی کے وہ احساسات جن سے عام حالات میں محکوم محروم رہتے ہیں… انقلاب نے یہ سب کچھ عطا کر دیا ہے۔ بادشاہت کا خاتمہ کرنے والے دسیوں لاکھ انسانوں کا بے انتہا طاقتور ہاتھ اب جنگ کا گلا گھونٹے گا۔ وائبورگ کے علاقے کا وہ سرخ محافظ، چہرے پر نشان والا وہ بوڑھا سپاہی، وہ بوڑھا انقلابی جس نے کئی سال سخت مشقت کی سزا کاٹی ہے، ’آرورا‘ کا وہ سیاہ داڑھی والا نوجوان جہازی… سب نے اِس ’’آخری اور فیصلہ کن جنگ‘‘کو انجام تک پہنچانے کی قسم کھائی ہے۔ ’’بدلیں یہ ساری دنیا بدلیں، جس میں زور و ظلم و جفا!‘‘ ہم بدلیں گے! دِل سے بولا جانے والا یہ جملہ اپنے اندر مستقبل کی خانہ جنگی کے کئی سال اور پانچ سالہ منصوبوں [۴] کی مشقت اور محرومی سمیٹے ہوئے ہے۔ ’’رہے بندۂ غلام اب آزاد!‘‘ اگر ماضی کی حقیقتیں اکثر گیتوں میں ڈھلتی رہی ہیں تو ایک گیت مستقبل کی حقیقت میں کیوں نہیں ڈھل سکتا؟ مورچوں کے وہ برساتی کوٹ اب غلاموں کا لباس نہیں لگتے ہیں۔ سوراخوں والی اُس پھٹی ہوئی ٹوپی نے دمکتی آنکھوں کے اوپر اب ایک نئی جہت اختیار کر لی ہے۔ ’’سارے جہاں کے محنت کشو، اُٹھو کہ وقت آیا!‘‘ بھلا وہ اِس محرومی ، ذلت، بربادیوں اور خونریزیوں سے نہیں اُٹھیں گے؟
’’لینن کی قیادت میں ساری مجلس صدارت کھڑی تھی اور مسرور چہروں اور دمکتی آنکھوں سے انٹرنیشنل گا رہی تھی۔‘‘ یوں ایک بیگانی فتح کا مشاہدہ بوجھل دل سے کرنے والا شک پرست بیان کرتا ہے۔ سوخانوف تسلیم کرتا ہے، ’’میں نے اِس ترانے میں ہم آواز ہونے کی، ہجوم اور اس کے رہنماؤں کے احساس اور مزاج میں گھل مل جانے کی کتنی کوشش کی! لیکن ناکام رہا۔‘‘ ترانہ ختم ہو گیا، لیکن کانگریس کھڑی رہی، انسانوں کے اِس یکجا ہجوم پر سحر طاری تھا۔ بہت سوں کی نظریں چبوترے پر کھڑے اُس چھوٹے مگر مضبوط ڈیل ڈول والے آدمی پر ٹکی ہوئی تھیں جس کا سر غیر معمولی، رخسار چڑھے ہوئے اور خدوخال سادہ تھے اور اب داڑھی کے بغیر تھوڑے بدل گئے تھے۔ اُس کی چھوٹی اور تھوڑی منگول آنکھیں گویا ہر چیز کے آر پار دیکھ رہی تھیں۔ چار مہینوں تک وہ غائب رہا تھا۔ اُس کے نام نے خود کو ہر زندہ منظر سے کم و بیش الگ کر لیا تھا۔ لیکن نہیں۔ وہ کوئی دیو مالا نہیں تھا۔ وہ اپنے لوگوں میں کھڑا تھا، ہاتھ میں دنیا بھر کے عوام کے نام پیغام کے صفحات تھامے ہوئے تھا۔ حتیٰ کہ جو اُس کے قریب ترین تھے اور پارٹی میں اُس کے مقام سے بخوبی آگاہ تھے، وہ بھی آج پہلی بار مکمل ادراک حاصل کر رہے تھے کہ انقلاب، عوام اور دنیا بھر کے لوگوں کے لئے وہ کتنا اہم تھا۔ وہی تھا جس نے اُنہیں سکھایا تھا، وہی تھا جس نے اُن کی تربیت کی تھی۔ ہال میں پیچھے سے کسی نے بلند آواز میں اپنے رہنما کو سلام پیش کیا۔ سارے ہال کو جیسے اِسی اشارے کا ہی انتظار تھا۔ لینن زندہ باد! برداشت کی گئیں مشکلات، مغلوب کئے گئے شکوک و شبہات، پیش قدمی کا فخر، فتح کی کامرانی، دیوہیکل امیدیں … سب کچھ احسان مندی اور بے خودی کے آتش فشاں میں پھٹ پڑا۔ سوخانوف روکھے انداز سے تبصرہ کرتا ہے: ’’مزاج کی مسلمہ گرمجوشی… اُنہوں نے لینن کو سلام پیش کیا، زندہ باد کے نعرے لگائے، اپنی ٹوپیاں ہوا میں اچھال دیں۔ جنگ میں مرنے والوں کی یاد میں گیت گایا گیا اور پھر سے تالیاں، نعرے اور ہوا میں بلند ہوتی ٹوپیاں… ‘‘
اِن لمحات کے دوران کانگریس جس تجربے سے گزری، اگلے دِن سارا ملک اُسی تجربے سے گزرا۔ اپنی یادداشتوں میں سٹینکیوچ لکھتا ہے، ’’یہ کہنا لازم ہے کہ بالشویکوں کے بے باک انداز اور ہمیں چار سالوں تک ہمسایہ اقوام سے جدا کرنے والی خار دار تاروں کو روند ڈالنے کی اُن کی صلاحیت نے اپنا بے انتہا گہرا نقش ثبت کیا۔‘‘ نواب بڈبرگ بھی اپنی ڈائری میں زیادہ بھدے لیکن اتنے ہی جامع انداز سے لکھتا ہے: ’’کامریڈ لینن کی نئی حکومت نے فوری امن کے فرمان سے شروعات کی ہے… یہ ایک ذہین شخص کا سپاہیوں کو اپنے ساتھ ملانے کا اقدام ہے : میں نے جن رجمنٹوں کے دورے آج کئے ہیں وہاں آنکھوں سے اِس کا مشاہدہ کیا ہے۔ تین ماہ کی فوری جنگ بندی اور پھر امن کے بارے میں لینن کے تار نے ہر جگہ دیوہیکل اثر ڈالا ہے اور طوفانی خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ اب ہم محاذ کو بچانے کا آخری موقع بھی کھو چکے ہیں۔‘‘ جس محاذ کو انہوں نے برباد کیا تھا اُسے ’بچانے‘ سے مراد اِن لوگوں کے لئے اپنے سماجی رتبوں کو بچانے کے سوا کچھ نہیں تھی۔
اگر انقلاب میں مارچ اور اپریل میں ہی خار دار تاروں کو روندنے کا عزم ہوتا تو شاید یہ فوج کو کچھ وقت کے لئے یکجا کر لیتا (بشرطیکہ ساتھ ہی ساتھ فوج کا ہجم نصف یا ایک تہائی کر دیا جاتا) اور یوں اپنی خارجہ پالیسی کے لئے غیر معمولی قوت حاصل کر لیتا۔ لیکن جرات مندانہ اقدام کی گھڑی اکتوبر میں آئی، جب فوج کے ایک حصے کو مختصر عرصے کے لئے بچانا بھی ناممکن ہو چکا تھا۔ نئی حکومت کو نہ صرف زار شاہی کی جنگ بلکہ عبوری حکومت کی شاہ خرچ حماقتوں کے قرضوں کا بوجھ بھی اٹھانا پڑا۔ اِس خوفناک اور دوسری تمام پارٹیوں کے لئے مایوس کن صورتحال میں صرف بالشویزم ہی قومی توانائی کے لازوال ذخیروں کو بروئے کار لا کر ایک کھلے راستے پر ملک کی قیادت کر سکتا تھا۔
لینن ایک بار پھر چبوترے پر کھڑا ہے، اب کی بار زمین کے مسئلے پر حکومتی فرمان کے کاغذات اُس کے سامنے ہیں۔ وہ معزول شدہ حکومت اور مصالحت پسند پارٹیوں پر فرد جرم عائد کرتا ہے، جو زمین کے سوال کو کھینچ کھینچ کر ملک کو ایک کسان بغاوت تک لے گئے ہیں۔ فرمان کا نچوڑ پہلے نکتے کی دو سطور میں موجود ہے: ’’زمیندار کی زمینی جائیداد فوراً اور بغیر کسی تلافی کے ضبط کی جاتی ہے۔ آئین ساز اسمبلی تک زمینداروں، شہزادوں، خانقاہوں اور گرجوں کی تمام جاگیریں اُن کے تمام سامان اور مال و اسباب سمیت علاقے کی زمین کمیٹیوں اور کسان نمائندوں کی سوویتوں کے سپرد کی جاتی ہیں۔ ضبط شدہ جائیداد کو قومی ملکیت کے طور پر مقامی سوویتوں کی نگرانی میں دیا جاتا ہے۔ عام کسانوں اور کاسکوں کی زمین ضبطی سے مستثنیٰ ہے۔‘‘ پورا فرمان تیس سطور سے زیادہ نہیں تھا۔ اِس نے انتہائی پیچیدہ گتھی کو کلہاڑی کی ضرب سے کاٹ دیا۔ 19 اگست کو کسان سوویت کے ’ازوستیا‘ میں اُن 242 ہدایات کا خلاصہ شائع ہوا تھا جو کسانوں نے کسان نمائندوں کی پہلی کانگریس میں اپنی نمائندگی کرنے والوں کو دی تھیں۔ اِس حقیقت کے باوجود کہ یہ ہدایات سوشل انقلابیوں نے مرتب کی تھیں، لینن نے یہ ساری دستاویز اپنے فرمان کے ساتھ نتھی کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا، ’’تاکہ زمین کی عظیم کایا پلٹ میں رہنمائی مل سکے۔‘‘
یہ ہدایات کچھ یوں تھیں: ’’زمین کی نجی ملکیت کا حق ہمیشہ ہمیشہ کے لئے منسوخ کیا جاتا ہے۔‘‘ ’’اپنی محنت سے زمین کو کاشت کرنے کی تمنا رکھنے والے شہریوں کو زمین کے استعمال کا حق دیا جاتا ہے۔‘‘ ’’اجرتی محنت ممنوع ہے۔‘‘ ’’زمین کے استعمال کو مساوی بنیادوں پر استوار کیا جائے، یعنی زمین کو مقامی حالات کے مطابق محنت یا کھپت کے معیار کی بنیاد پر محنت کرنے والوں میں تقسیم کیا جائے۔‘‘
زمینداروں کے ساتھ اتحاد پر مبنی سرمایہ دارانہ حکومت کے تحت یہ سوشل انقلابی ہدایات اگر شعوری جھوٹ نہیں تو بے جان یوٹوپیا ضرور رہیں۔ حتیٰ کہ پرولتاریہ کے اقتدار میں بھی وہ مکمل طور پر قابلِ عمل نہیں بنیں۔ لیکن حکومتی اقتدار کے رویے میں تبدیلی سے اِن ہدایات کا مقدر بنیادی طور پر تبدیل ہو گیا۔ مزدور ریاست نے کسانوں کو وقت دیا، جس میں وہ اپنے متضاد پروگرام کو عمل میں آزما سکیں۔
لینن نے اگست میں لکھا تھا، ’’کسان اپنی چھوٹی اراضیاں اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں اور اُنہیں مساوی بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔ اُنہیں کرنے دو۔ کوئی معقول سوشلسٹ اِس بنیاد پر غریب کسان سے الگ نہیں ہو گا۔ اگر زمینیں ضبط کی جاتی ہیں تو اِس کا مطلب ہے کہ بینکوں کی حاکمیت پر ضرب لگائی جاتی ہے۔ اگر زرعی ساز و سامان ضبط کیا جاتا ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ سرمائے کی حاکمیت پر ضرب لگائی جاتی ہے۔ باقی سب کچھ سیاسی طاقت کی پرولتاریہ کو منتقلی کے ساتھ عملی طور پر واضح ہو جائے گا۔‘‘
بے شمار لوگ اور نہ صرف دشمن بلکہ دوست بھی کسانوں اور اُن کے زرعی پروگرام کی طرف بالشویک پارٹی کے اِس دور اندیش اور کسی حد تک معلمانہ رویے کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ مثلاً روزا لکسمبرگ کا اعتراض تھا کہ زمین کی مساوی تقسیم کا سوشلزم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اِس نکتے پر بالشویک کسی خوش فہمی کا شکار نہیں تھے۔ بلکہ حکومتی فرمان کی ساخت ہی قانون ساز کی دقیق ہوشیاری کی گواہ ہے۔ تاریخی اہمیت کے حامل نئے سماجی اصول کا آغاز بنیادی قانون کے ساتھ نتھی ہدایات کی فہرست کی شکل میں کیا جا رہا ہے۔لینن کی کوشش کی تھی کہ ایک ایسا تاریخی میدان جو ابھی تک انجانا تھا، اُس میں داخل ہوتے وقت پارٹی اور سوویت اقتدار کے ہاتھ کم سے کم بندھے ہوں۔ یہاں ایک بار پھر وہ بے مثال بے باکی اور انتہائی احتیاط کو یکجا کر رہا تھا۔ ابھی یہ معلوم ہونا باقی تھا کہ زمین کی ’’اشتراکی ملکیت میں تبدیلی‘‘ کو خود کسان کیسے سمجھے گا۔ اتنی پیش قدمی کرنے کے بعد مورچوں کو مستحکم کرنا ضروری تھا۔ زمیندار کی زمین کی کسانوں میں تقسیم بذات خود بورژوا ردِ انقلاب کے خلاف ضمانت نہیں تھی، تاہم اِس نے جاگیردارانہ بادشاہت کی بحالی کو بہرحال ناممکن بنا دیا۔
پرولتاری اقتدار کے قیام اور استحکام کے بعد ہی سوشلسٹ تناظروں کی بات ہو سکتی تھی۔ اور کسان کو اُس کے انقلاب کی تکمیل میں مدد دے کر ہی یہ اقتدار مستحکم ہو سکتا تھا۔ اگر زمین کی تقسیم سوشلسٹ حکومت کو سیاسی طور پر مستحکم کرتی ہے تو ایک فوری اقدام کے طور پر یہ بالکل مناسب ہے۔ کسان کو اُسی طرح لینے کی ضرورت تھی جیسا کہ انقلاب کے وقت وہ تھا۔ ایک نیا نظام ہی اُس کی ازسرِ نو تربیت کر سکتا تھا، وہ بھی یکدم نہیں بلکہ نسلوں پر محیط عرصے میں نئی تکنیک اور صنعت کی نئی تنظیم کی مدد سے۔ ہدایات سمیت فرمان کا مطلب تھا کہ پرولتاریہ کی آمریت نہ صرف زرعی محنت کش کے مفادات پر توجہ دینے بلکہ بطور چھوٹے مالک اُس کی خوش فہمیوں کو برداشت کرنے کا فرض بھی قبول کرتی ہے۔ یہ پہلے سے واضح تھا کہ زرعی انقلاب میں کئی مراحل اور موڑ آئیں گے۔ ہدایات کا مجموعہ کسی طور بھی حرف آخر نہیں تھا۔ یہ صرف ایک نقطہ آغاز تھا، جہاں سے کسانوں کے ترقی پسند مطالبات کو حقیقی جامہ پہنانے میں اُن کی مدد کرنے اور غلط اقدامات کے خلاف اُنہیں خبردار کرنے پر مزدور راضی ہوئے تھے۔
لینن نے اپنی تقریر میں کہا، ’’ہمیں عوام کی نچلی پرتوں کی تجاویز کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہئے، چاہے ہم اُن سے متفق نہ بھی ہوں… ہمیں عوام کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھرپور آزادی دینی چاہئے۔ معاملے کا نچوڑ یہ ہے کہ کسانوں کو مکمل اعتماد ہونا چاہئے کہ ملک میں اب زمیندار نہیں رہے ہیں۔ کسانوں کو سارے سوالوں کا فیصلہ خود کرنے دو، اُنہیں اپنی زندگی خود تعمیر کرنے دو۔‘‘ موقع پرستی؟ نہیں، یہ انقلابی حقیقت پسندی تھی۔
تاہم تالیاں ابھی بج ہی رہی تھیں کہ کسانوں کی مجلس عاملہ سے ایک دائیں بازو کا سوشل انقلابی پیانائخ آیا اور زیر حراست سوشلسٹ وزیروں کے موضوع پر شدید احتجاج کیا۔ آپے سے باہر ہو کر میز پر مکے مارتے ہوئے یہ مقرر چلّایا، ’’پچھلے دنوں سے کچھ ایسا کام ہو رہا ہے جو کسی انقلاب میں نہیں ہوا۔ ہمارے ساتھی، مجلس عاملہ کے اراکین میسلوف اور سالازکن جیل میں بند ہیں۔ ہم اُن کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں!‘‘ فوجی کوٹ میں ملبوس ایک اور قاصد نے دھمکی دی، ’’اگر اُن کا بال بھی بیکا ہوا تو… ‘‘ کانگریس کو وہ دونوں کسی اور ہی سیارے کی مخلوق لگ رہے تھے۔
سرکشی کے وقت ڈوینسک میں 800 آدمی جیل میں تھے، جن پر ’بالشویزم‘ کا الزام تھا، منسک میں چھ ہزار اور کیف میں 535۔ ملک کے بیشتر حصوں میں قید کسان کمیٹیوں کے اراکین کی تعداد بے شمار تھی۔ مجلس صدارت سے شروع ہو کر اِسی کانگریس کے مندوبین کی ایک بڑی تعداد جولائی کے بعد سے کیرنسکی کی جیلوں سے گزری تھی۔ لہٰذا کوئی حیرانی کی بات نہیں تھی کہ عبوری حکومت کے دوستوں کے پیٹنے سے کانگریس میں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ اُن کی بد بختی کو مکمل کرنے کے لئے بھیڑ کی کھال والے بڑے کوٹ میں ملبوس لمبے لمبے بالوں والا ایک نامعلوم مندوب، جو ٹویر کے علاقے کا کوئی کسان تھا، اپنی جگہ پر کھڑا ہوا اور چاروں طرف جھک کر سلام کرنے کے بعد اپنے انتخاب کنندگان کی طرف سے کانگریس سے استدعا کی کہ ساری کسان مجلس عاملہ کو ہی گرفتار کر لیا جائے۔ ’’یہ کسانوں کے نمائندے نہیں بلکہ کیڈٹ ہیں… اِنہیں جیل میں ہونا چاہئے۔‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے۔ ایک طرف تجربہ کار سیاستدان، وزیروں کا پسندیدہ، بالشویکوں سے نفرت کرنے والا پیانائخ تھا۔ دوسری طرف ٹویر کا وہ گمنام کسان ، جو اپنے منتخب کنندگان کی طرف سے لینن کے لئے پرتپاک سلام لایا تھا۔ دو مختلف سماجی پرتیں، دو انقلاب: پیانائخ فروری کا نمائندہ تھا، ٹویر کا وہ کسان اکتوبر کے لئے لڑ رہا تھا۔ کانگریس نے اِس کسان کی بھرپور پذیرائی کی۔ کسان مجلس عاملہ کے نمائندے گالیاں بکتے ہوئے باہر نکل گئے۔
جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے یہودیوں یا کسی دوسرے گروہ کے خلاف بلووں کو مقامی سوویتوں کی عزت کا مسئلہ قرار دینے والی ایک قرارداد کی بغیر بحث متفقہ منظوری کے بعد زمین کے قانون کے مسودے پر رائے شماری ہوئی۔ مخالفت میں صرف ایک ووٹ آیا، آٹھ مندوبین نے ووٹ نہیں دیا۔ کانگریس نے جوش و جذبے کے ایک نئے دھماکے کیساتھ اُس زرعی غلامی کے خاتمے کے فرمان کی منظوری دی جو پرانی روسی ثقافت کی بنیاد تھی۔ اب کے بعد سے زرعی انقلاب قانونی ہو چکا تھااور ساتھ ہی پرولتاریہ کے انقلاب نے دیوہیکل بنیاد حاصل کر لی تھی۔
آخری مسئلہ ابھی باقی ہے: حکومت کی تشکیل۔ کامینیف بالشویک مرکزی کمیٹی کی مرتب کردہ تجویز پڑھتا ہے۔ ریاستی زندگی کے مختلف شعبوں کا انتظام کمیشنوں کے حوالے کیا جاتا ہے، جو ’’محنت کش مرد و خواتین، جہازیوں، سپاہیوں، کسانوں اور دفتری ملازمین کی قریبی معاونت‘‘ سے سوویتوں کی کانگریس کے اعلان کردہ پروگرام پر عمل درآمد کریں گے۔ حکومتی اقتدار اِن کمیشنوں کے سربراہان کے ایک ادارے کے ہاتھوں میں مرکوز ہو گا، جسے ’عوامی کمیساروں کی سوویت‘ کہا جائے گا۔ سوویتوں کی کانگریس اور اُس کی مرکزی مجلس عاملہ کو حکومت کی سرگرمیوں پر مکمل اختیار حاصل ہو گا۔
عوامی کمیساروں کی پہلی کونسل میں بالشویک پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے کئی اراکین کو نامزد کیا گیا: سربراہِ حکومت کے طور پر لینن، جس کے پاس کوئی قلمدان نہیں ہو گا؛ داخلہ امور کے عوامی کمیسار کے طور پر رائیکوف؛ محکمہ زراعت کے سربراہ کے طور پر ملیوٹن؛صنعت و تجارت کے سربراہ کے طور پر نوگن؛ محکمہ خارجہ امور کے سربراہ کے طور پر ٹراٹسکی؛ محکمہ انصاف کے سربراہ کے طور پر لوموف؛ قومیتوں کے امور کے کمیشن کا صدر سٹالن؛ فوجی اور بحری امور کی ذمہ داری اینٹونوف، کرائلنکو اور ڈائبنکو پر مشتمل کمیٹی کو دی گئی؛ شلیاپنیکوف کو محنت کے محکمے کا سربراہ ہونا تھا؛ محکمہ تعلیم کا سربراہ لیوناچارسکی؛ محکمہ خوراک کی بھاری ذمہ داری تھیوڈورووچ کو دی جاتی ہے؛ ڈاک اور ٹیلی گراف کا شعبہ مزدور گلیبوف کے سپرد کیا جاتا ہے؛ ذرائع نقل و حمل کے عوامی کمیسار کی نشست ابھی خالی ہے، جس کا فیصلہ ریلوے مزدوروں کی تنظیموں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
چار مزدوروں اور گیارہ دانشوروں پر مشتمل تمام پندرہ امیدواروں کے پیچھے قید و بند، جلا وطنی اور ترکِ وطن کے کئی سال ہیں۔ اِن میں پانچ تو جمہوری حکومت کے تحت بھی جیل میں رہے ہیں۔ مستقبل کا وزیر اعظم ابھی ایک دن قبل ہی روپوشی سے باہر آیا ہے۔ عوامی کمیساروں کی کونسل میں کامینیف اور زینوویف شامل نہیں تھے۔ پہلے کو نئی مرکزی مجلس عاملہ کے صدر کے طور پر جبکہ دوسرے کو سوویتوں کے سرکاری جریدے کے مدیر کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ جان ریڈ لکھتا ہے، ’’جوں جوں کامینیف کمیساروں کی فہرست پڑھ رہا تھا، ہر نام کے بعد تالیاں اور نعرے پھٹ پڑتے تھے، بالخصوص لینن اور ٹراٹسکی کے نام کے بعد …‘‘ سوخانوف اُن دونوں کے علاوہ لیوناچارسکی کا نام بھی شامل کرتا ہے۔
متحدہ انٹرنیشنلسٹوں کے ایک نمائندے نے مجوزہ حکومتی ترکیب کے خلاف طویل تقریر کی۔ یہ آویلوف تھا، جو کبھی ایک بالشویک ہوتا تھا اور اب گورکی کے پرچے کا لکھاری تھا۔ اُس نے بڑی دیانتداری سے داخلی اور خارجی میدان میں انقلاب کے سامنے کھڑی مشکلات گنوائیں۔ ’’ہمیں واضح طور پر ادراک کرنا ہو گا کہ نئی حکومت کے سامنے امن اور روٹی کے تمام پرانے سوالات کھڑے ہیں۔اگر یہ اِن مسائل کو حل نہیں کرتی تو اِس کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔‘‘ ملک میں اناج کی شدید قلت ہے؛ یہ امیر کسانوں کے پاس ہے؛ اناج کے بدلے میں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے؛ صنعت روبہ زوال ہے؛ ایندھن اور خام مال کی کمی ہے۔ زبردستی اناج لینا مشکل، طویل اور خطرناک کام ہے۔ اِس لئے ایک ایسی حکومت کی تشکیل ضروری ہے جسے نہ صرف غریبوں بلکہ امیر کسانوں کی ہمدردی بھی حاصل ہو۔ اِس مقصد کے لئے ایک مخلوط حکومت ضروری ہے۔ ’’امن کا قیام اِس سے بھی مشکل ہو گا۔‘‘ اتحادی ممالک کی حکومتیں اِس کانگریس کی جانب سے پیش کی جانے والی فوری جنگ بندی کی تجویز کا کوئی جواب نہیں دیں گی۔ اتحادی ممالک کے سفیر پہلے ہی یہاں سے جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ نئی حکومت تنہا ہو جائے گی، اِس کی امن تجاویز ہوا میں معلق ہو جائیں گی۔ متحارب ممالک کے عوام ابھی انقلاب سے بہت دور ہیں۔ دو طرح کے ممکنات ہیں: جرمن فوجوں کے ہاتھوں انقلاب کی بربادی یا ایک علیحدہ امن۔ دونوں صورتوں میں روس کے لئے امن شرائط بدترین ہوں گی۔ مشکلات کا مقابلہ صرف ’’عوام کی اکثریت‘‘ کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ جمہوریت میں پھوٹ ایک بدبختی ہے: بایاں نصف حصہ سمولنی میں ایک خالصتاً بالشویک حکومت بنانا چاہتا ہے، دایاں نصف حصہ شہری دوما میں عوامی حفاظت کی کمیٹی منظم کر رہا ہے۔انقلاب کو بچانے کے لئے دونوں گروہوں میں سے حکومت کی تشکیل ضروری ہے۔
بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں کے ایک نمائندے کاریلن نے بھی اِس سے ملتے جلے خیالات کا اظہار کیا۔کانگریس سے چلی جانے والی پارٹیوں کے بغیر منظورہ شدہ پروگرام پر عملدرآمد ناممکن ہے۔ یہ درست ہے کہ ’’اُن کے چلے جانے کی ذمہ داری بالشویکوں پر عائد نہیں ہوتی۔‘‘ لیکن کانگریس کے پروگرام کو ساری جمہوریت کو متحد کرنا چاہئے۔ ’’ہم بالشویکوں کو تنہا نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بالشویکوں کے مقدر سے ہی انقلاب کا مقدر وابستہ ہے۔ اُن کی تباہی انقلاب کی تباہی ہو گی۔ اگر بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں نے حکومت میں شمولیت کی دعوت رد کی ہے تو ایسا اچھی نیت سے ہی کیا ہے۔ وہ بالشویکوں اور کانگریس چھوڑنے والی پارٹیوں کے درمیان ثالثی کے لئے اپنے ہاتھ کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔ موجودہ حالات میں بائیں بازو کے سوشل انقلابی ایسی ثالثی کو ہی اپنا اصولی فریضہ سمجھتے ہیں… بائیں بازو کے سوشل انقلابی فوری مسائل کے حل کے لئے نئی حکومت کے کام کی حمایت کریں گے۔ ‘‘ لیکن عین اسی وقت انہوں نے مجوزہ حکومت کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں یہ نوجوان پارٹی جس قدر تذبذب کا شکار ہو سکتی تھی، ہو چکی تھی۔
سوخانوف، جو آویلوف سے پوری ہمدردی رکھتا تھا اور کارلین کو بھی پس پردہ متاثر کر چکا تھا، لکھتاہے،’’صرف بالشویکوں پر مبنی حکومت کا دفاع کرنے کے لئے ٹراٹسکی اُٹھا۔ اُس کے دلائل بہت واضح، تیز دھار اور بڑی حد تک بالکل درست تھے۔ لیکن اُس نے اپنے مخالفین کی دلیل کے مرکزی نکتے کو سمجھنے سے انکار کر دیا۔‘‘ دلیل کا یہ مرکزی نکتہ دراصل ایک درمیانی راستہ تھا۔ مارچ میں اُنہوں نے یہ راستہ بورژوازی اور مصالحت پسندانہ سوویتوں کے درمیان نکالنے کی کوشش کی تھی۔ اب سوخانوف مصالحت پسندانہ جمہوریت اور پرولتاریہ کی آمریت کے درمیان راستہ نکالنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ لیکن انقلابات درمیانی راستوں پر آگے نہیں بڑھتے۔
ٹراٹسکی نے کہا، ’’ہمیں ایک سے زیادہ بار بائیں بازو کی ممکنہ تنہائی سے ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کچھ دن پہلے جب سرکشی کا سوال پہلی بار سرِ عام اٹھایا گیا تو کہا جا رہا تھا کہ ہم تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اور اگر آپ اُس وقت طاقتوں کی گروہ بندی کا جائزہ سیاسی پریس کی نظر سے لیں تو ہم واقعی ناگزیر تباہی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ نہ صرف ردِ انقلابی جتھے بلکہ ہر طرح کے ڈیفنسسٹ بھی ہمارے خلاف کھڑے تھے۔ صرف بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں نے ہی ہمارے ساتھ عسکری انقلابی کمیٹی میں جرات مندانہ کام کیا۔ باقیوں کا طرز عمل محتاط غیر جانبداری والا تھا۔ پھر بھی اِن غیر موافق حالات میں، جب لگ رہا تھا کہ سب نے ہمیں چھوڑ دیا ہے، سرکشی فتح یاب ہوئی… اگر حقیقی طاقتیں واقعی ہمارے خلاف تھیں تو ہم کم و بیش کسی خون خرابے کے بغیر کیسے جیت گئے؟ نہیں ، تنہا ہم نہیں بلکہ حکومت اور نام نہاد جمہوریت پسند ہیں۔ اپنے تذبذب، اپنی مصالحت سے اُنہوں نے خود کو مستند جمہوریت کی صفوں سے باہر کر لیا ہے۔ ایک پارٹی کے طور پر ہماری عظیم ترین فوقیت اِس حقیقت میں مضمر ہے کہ ہم نے مزدوروں اور غریب ترین کسانوں کی یکجہتی قائم کرتے ہوئے طبقاتی قوتوں سے اتحاد بنایا ہے… سیاسی گروہ بندیاں ختم ہو جاتی ہیں لیکن طبقات کے بنیادی مفادات باقی رہتے ہیں۔ وہی پارٹی فتح یاب ہوتی ہے جو طبقے کے بنیادی مطالبات کو محسوس اور پورا کرنے کے قابل ہوتی ہے… ہمیں اپنی فوج پر فخر ہے ، جو محنت کش طبقے کے ساتھ کسانوں کے اتحاد پر مشتمل ہے۔ یہ اتحاد کڑے امتحانوں سے گزرا ہے۔ پیٹروگراڈ کا گیریزن اور پرولتاریہ اُس عظیم جدوجہد میں کندھے سے کندھا ملا کر چلے ہیں جو تمام اقوام کے انقلابات کی تاریخ میں ایک کلاسیکی مثال ہے… آویلوف نے ہمیں درپیش وسیع مشکلات کی بات کی ہے اور اِن مشکلات کو ہٹانے کے لئے اتحادی حکومت بنانے کی تجویز دی ہے۔ ہم پوچھتے ہیں گروہوں کا اتحاد، طبقات کا اتحاد یا پھر صرف اخباروں کا اتحاد؟… ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ جمہوریت میں پھوٹ ایک غلط فہمی ہے۔ جب کیرنسکی ہمارے خلاف یلغاری دستے بھیج رہا ہو، جب مرکزی مجلس عاملہ کی رضامندی سے ہمیں ہماری جدوجہد کے انتہائی نازک لمحات میں ٹیلیفون سے محروم کیا جا رہا ہو، جب ہم پر ایک کے بعد دوسرا حملہ کیا جا رہا ہو تو کیا اِس سب کو غلط فہمی کہا جا سکتا ہے؟ آویلوف کہہ رہا ہے کہ روٹی کی قلت ہے اور ہمیں ڈیفنسسٹوں سے اتحاد کرنا ہو گا۔ ہم پوچھتے ہیں اِس اتحاد سے روٹی کی مقدار بڑھ جائے گی؟ روٹی کا مسئلہ، عملی پروگرام کا مسئلہ ہے۔ معاشی انہدام کے خلاف جدوجہد اوپر کی سیاسی گروہ بندیوں کی نہیں بلکہ نیچے سے ایک واضح نظام کی متقاضی ہے… آویلوف کسانوں سے اتحاد کی بات کر رہا ہے۔ لیکن کون سے کسان؟ آج یہاں ہم سب کے سامنے ٹویر کے ایک کسان نے ایوکسنٹیف کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ہمیں اِس کسان اور کسان کمیٹیوں کے اراکین سے جیلیں بھر دینے والے اُس ایوکسنٹیف میں سے کسی ایک کا چناؤ کرنا ہو گا۔ ہم محنت کش طبقے کے غریب کسانوں کیساتھ اتحاد کے حق میں ہیں اور کسانوں کے کولاک عناصر کے ساتھ اتحاد کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ہم ایوکسنٹیف کے خلاف غریب کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم آخر تک بلا تفریق اُن کے ساتھ ہیں۔ اب بھی مخلوط حکومت کی پرچھائی کا پیچھا کرنے والے خود کو حقیقت سے کاٹ رہے ہیں۔ بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں نے جس دن ہماری پارٹی کی مخالفت کی وہ عوام کی حمایت سے محروم ہو جائیں گے۔ ہر وہ گروہ جو پرولتاریہ کی پارٹی، جس کے ساتھ غریب کسان متحد ہیں، کی مخالفت کرتا ہے، خود کو انقلاب سے کاٹ لیتا ہے… ہم نے سرکشی کا پرچم سرِ عام بلند کیا ہے۔ اِس سرکشی کا سیاسی کلیہ تھا: سوویتوں کی کانگریس کے ذریعے سارے اقتدار کی سوویتوں کو منتقلی۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کانگریس سے پہلے ہی سرکشی کر دی۔ ہم نے انتظار کرنے کا سوچا تھا لیکن کیرنسکی انتظار نہیں کر رہا تھا۔ ردِ انقلابی سو نہیں رہے تھے۔ ہم نے بطور پارٹی اپنا فریضہ سمجھا کہ سوویتوں کی کانگریس کے اقتدار پر قبضے کو حقیقی طور پر ممکن بنائیں۔ کانگریس کو اگر جنکروں نے گھیرا ہوتا تو یہ اقتدار پر قبضہ کر سکتی تھی؟ اِس فریضے کی ادائیگی کے لئے ایک پارٹی کی ضرورت تھی، جو ردِ انقلاب کے ہاتھوں سے اقتدار چھینے اور آپ سے کہے: ’یہ رہا اقتدار اور آپ کو اِسے قبول کرنا ہو گا!‘ (طوفانی اور طویل تالیاں اور نعرے) … اِس حقیقت کے باوجود کہ ہر طرح کے ڈیفنسسٹ ہمارے خلاف مزاحمت میں ہر حد تک گئے، ہم نے اُنہیں باہر نہیں پھینکا۔ ہم نے ساری کانگریس کو اقتدار پیش کیا۔ اِس سب کے بعد بھی چبوترے سے ہماری عدم مصالحت کی باتیں کرنے والے کس بری طرح سے حقائق کو مسخ کر رہے ہیں۔ جب بارود کے دھویں سے گھری پارٹی اُن کے پاس جاکر کہتی ہے کہ ’آؤ، مل کر اقتدار حاصل کریں!‘ تو وہ شہری دوما بھاگ جاتے ہیں اور وہاں کھلے ردِ انقلابیوں سے مل جاتے ہیں! وہ انقلاب کے غدار ہیں جن کے ساتھ ہم کبھی اتحاد نہیں کریں گے… آویلوف کہتا ہے کہ امن کی جدوجہد کے لئے مصالحت پسندوں کیساتھ اتحاد بنانا ہو گا۔ عین اسی وقت وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اتحادی ممالک امن قائم نہیں کرنا چاہتے۔ آویلوف خود کہتا ہے کہ اتحادی ممالک کے سامراجی، جعلی مندوب سکوبیلیف پر ہنستے تھے۔ لیکن کوئی بات نہیں، اگر اِنہی جعلی جمہوریت پسندوں سے اتحاد کر لیا جائے تو قیام امن یقینی ہے! … امن کی جدوجہد کے دو راستے ہیں۔ ایک راستہ انقلاب کی تمام تر اخلاقی اور مادی قوت سے اتحادی اور دشمن حکومتوں کی مخالفت ہے۔ دوسرا راستہ سکوبیلیف سے اتحاد ہے، جس کا مطلب ترشچینکو سے اتحاد اور اتحادی ممالک کی سامراجیت کی مکمل اطاعت ہے۔ امن پر اپنے اعلامیے میں ہم نے بیک وقت حکومتوں اور عوام کو مخاطب کیا ہے۔ یہ ایک بالکل رسمی تشاکل ہے۔ ظاہر ہے کہ اپنی استدعاؤں سے سامراجی حکومتوں پر اثر انداز ہونے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے، اگرچہ جب تک وہ قائم ہیں ہم اُنہیں نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ہماری ساری امیدیں اِس امکان سے وابستہ ہیں کہ ہمارا انقلاب یورپ کے انقلاب کو تحریک دے گا۔ اگر یورپ کے باغی عوام نے سامراجیت کو نہ کچلا تو ہم کچلے جائیں گے، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ یا تو روس کا انقلاب مغرب میں جدوجہد کا طوفان برپا کرے گا، یا پھر سارے ممالک کے سرمایہ دار ہمارے انقلاب کو کچل دیں گے… ‘‘
نشستوں سے آواز آئی، ’’ایک تیسرا راستہ بھی ہے!‘‘ ٹراٹسکی نے جواب دیا، ’’تیسرا راستہ مرکزی مجلس عاملہ کا راستہ ہے، یعنی ایک طرف یورپی مزدوروں کے پاس مندوبین بھیجے جائیں اور دوسری طرف کشکن اور کونووالوف جیسوں کے ساتھ اتحاد بنایا جائے۔ یہ جھوٹ اور منافقت کا راستہ ہے، جس پر ہم کبھی نہیں جائیں گے… ہم یہ بالکل بھی نہیں کہہ رہے ہیں کہ یورپی مزدوروں کی سرکشی کے دن ہی امن معاہدے پر دستخط ہوں گے۔ عین ممکن ہے کہ محکوموں کی ممکنہ سرکشی سے خوفزدہ ہو کر بورژوازی امن قائم کرنے میں جلدی کرے۔ تاریخیں متعین نہیں ہیں۔ ٹھوس صورتوں کی پیش بینی نہیں کی جا سکتی۔ تاہم جدوجہد کے طریقہ کار کا تعین اہم بھی ہے اور ضروری بھی۔ ایک ایسا طریقہ کار جو بیرونی اور اندرونی سیاست میں نظریاتی طور پر یکساں ہو۔ یہاں اور ہر جگہ محکوموں کا اتحاد، یہی ہمارا راستہ ہے۔‘‘
جان ریڈ بتایا ہے، ’’کانگریس کے مندوبین نے انسانیت کی نجات کے سلگتے ہوئے احساس کے سا تھ بے انتہا تالیوں اور نعروں سے ٹراٹسکی کا خیرمقدم کیا۔‘‘ بالشویک پارٹی کی طرف سے ایک باضابطہ تقریر میں سوویت جمہوریہ کے مقدر کو بین الاقوامی انقلاب کے ارتقا پر منحصر قرار دینے کے خلاف احتجاج کرنے کا خیال اُس وقت کسی بالشویک کو نہیں آ سکتا تھا! [۵]
اِس کانگریس کا ڈرامائی قانون تھا کہ ہر اہم ایکٹ کو ایک مختصر وقفہ مکمل یا منقطع کرتا تھا، جس دوران دوسرے کیمپ کی کوئی شخصیت اچانک سٹیج پر نمودار ہوتی تھی، احتجاج کرتی تھی، دھمکی یا الٹی میٹم دیتی تھی۔ اب کی بار ریلوے مزدوروں کی یونین کی عاملہ کمیٹی وکزھل کے ایک نمائندے نے فوراً اور ابھی کے ابھی اظہار خیال کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ اِس مقرر، جس کے چہرے پر جان ریڈ کو بے رحم مخاصمت نظر آئی، نے شروعات ہی الزامات سے کی: اُس کی تنظیم،جو ’’ روس کی مضبوط ترین تنظیم‘‘ہے، کو کانگریس میں مدعو نہیں کیا گیا ہے۔ ہر طرف سے آوازیں بلند ہوئیں، ’’بھائی یہ مرکزی مجلس عاملہ تھی جس نے تمہیں مدعو نہیں کیا ہے۔‘‘ لیکن اُس نے بات جاری رکھی، ’’سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ وکزھل نے سوویتوں کی کانگریس کی حمایت کا پرانا فیصلہ منسوخ کر دیا ہے۔‘‘ مقرر نے جلدی جلدی ایک الٹی میٹم پڑھا، جو پہلے ہی تار کے ذریعے پورے ملک میں تقسیم کیا جا چکا تھا: وکزھل ایک پارٹی کے اقتدار پر قبضے کی مذمت کرتی ہے؛ حکومت کو ’’ساری انقلابی جمہوریت‘‘ کے سامنے جوابدہ ہونا چاہئے؛ جمہوری حکومت کے قیام تک صرف وکزھل ہی ریلوے کا انتظام چلائے گی۔ مقرر نے مزید کہا کہ ردِ انقلابی دستوں کو پیٹروگراڈ نہیں آنے دیا جائے گا؛ لیکن بالعموم فوجی دستوں کی نقل و حرکت صرف پرانی مرکزی مجلس عاملہ کی ہدایت کے تابع ہو گی؛ اور ریلوے مزدوروں کے خلاف جبری اقدامات کی صورت میں وکزھل پیٹروگراڈ کا دانا پانی بند کر دے گی۔
اِس حملے نے کانگریس کو چوکنا کر دیا۔ ریلوے یونین کے سربراہ عوام کے نمائندوں سے ایسے بات کر رہے تھے جیسے ایک حکومت دوسری سے کرتی ہے۔ مزدور، سپاہی اور کسان ریاست کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں اور وکزھل اُنہیں ہی احکامات دینا چاہتی ہے! یہ دوہرے اقتدار کے اکھاڑ پھینکے گئے نظام کو قلیل زرِ نقد میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ یوں اپنی تعداد کی بجائے ملکی معیشت اور ثقافت میں ریلوے کی غیر معمولی اہمیت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے وکزھل کے اِن جمہوریت پسندوں نے سماجی جدوجہد کے بنیادی امور میں رسمی جمہوریت کے معیار کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کر دیا۔بے شک انقلاب بہت کچھ سکھاتا ہے۔
بہرحال مصالحت پسندوں نے اِس حملے کے وقت کا چناؤ کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ مجلس صدارت والے گہری سوچ اور پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔ خوش قسمتی سے وکزھل ریلوے مزدوروں کی غیر مشروط آقا نہیں تھی۔ مقامی علاقوں میں ریلوے مزدور سوویتوں کے بھی رکن تھے۔ حتیٰ کہ کانگریس میں بھی وکزھل کے الٹی میٹم کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاشقند سے آئے ایک مندوب نے کہا، ’’ہمارے علاقے کے سارے ریلوے مزدوروں نے اقتدار کی سوویتوں کو منتقلی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔‘‘ ریلوے مزدوروں کے ایک اور مندوب نے وکزھل کو ’’سیاسی لاش‘‘ قرار دیا۔ تاہم یہ بلاشبہ ایک مبالغہ آرائی تھی۔ ریلوے کلرکوں کی نسبتاً وسیع بالائی پرتوں پر انحصار کرتے ہوئے وکزھل نے دوسری بالائی مصالحت پسند تنظیموں کی نسبت کچھ زیادہ قوت ابھی تک برقرار رکھی ہوئی تھی۔ لیکن تھی یہ بھی فوجی کمیٹیوں اور مرکزی مجلس عاملہ جیسی ہی۔ اِس کا ستارہ تیزی سے روبہ زوال تھا۔ مزدور ہر جگہ خود کو دفتری ملازمین سے الگ کر رہے تھے؛ نچلے کلرک خود کو اوپر والوں کے مدمقابل لا رہے تھے۔ وکزھل کا گستاخ الٹی میٹم بلاشبہ اِن عوامل کو تیز تر کرے گا۔ نہیں، اکتوبر انقلاب کی ٹرین کو یہ سٹیشن ماسٹر نہیں روک سکتے!
کامینیف نے رعب سے اعلان کیا، ’’اِس کانگریس کے قانونی اختیارات پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ کانگریس کے کورم کا تعین ہم نے نہیں بلکہ پرانی مرکزی مجلس عاملہ نے کیا تھا… یہ کانگریس مزدوروں اور سپاہیوں کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔‘‘ یوں ایجنڈے کی طرف با آسانی واپسی ہو گئی۔
عوامی کمیساروں کی کونسل کی منظوری وسیع اکثریت نے دی۔ سوخانوف کے انتہائی فراخدلانہ اندازے کے مطابق بھی آویلوف کی قرارداد کو 150 ووٹ ملے، جو زیادہ تر بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں کے تھے۔ اِس کے بعد کانگریس نے نئی مرکزی مجلس عاملہ کی رکنیت کی متفقہ منظوری دی: کُل 101 اراکین میں سے 62 بالشویک، 29 بائیں بازو کے سوشل انقلابی۔اِس نئی مرکزی مجلس عاملہ نے مستقبل میں خود کو کسان سوویتوں اور نومنتخب شدہ فوجی تنظیموں کے نمائندوں سے مکمل کرنا تھا۔ کانگریس چھوڑ جانے والے دھڑوں کو نسبتی نمائندگی کی بنیادوں پر اپنے مندوبین مرکزی مجلس عاملہ میں بھیجنے کا حق دیا گیا۔
کانگریس کا ایجنڈا مکمل ہو چکا تھا! سوویت حکومت قائم ہو چکی تھی۔ اِس کے پاس ایک پروگرام تھا۔ کام کی شروعات ہو سکتی تھی۔ کام کی کوئی کمی بھی نہیں تھی۔ صبح 5:15 بجے کامینیف نے سوویت اقتدار کی دستور ساز کانگریس کا اختتام کیا۔ سٹیشنوں کو چلو! محاذ پر چلو! فیکٹریوں اور بیرکوں کو چلو! کانوں اور دور دراز دیہاتوں کو چلو! کانگریس کے احکامات کی شکل میں پرولتاری انقلاب کا خمیر مندوبین کے ساتھ ملک کے تمام کونوں میں پھیل جائے گا۔
صبح کے وقت بالشویک پارٹی کے مرکزی جریدے نے پھر سے اپنا پرانا نام ’پراودا‘ اپناتے ہوئے لکھا: ’’وہ چاہتے تھے کہ ہم اکیلے اقتدار سنبھال لیں، تاکہ ہمیں اکیلے ہی ملک کو درپیش خوفناک مصائب سے نبرد آزما ہونا پڑے… چلو ایسا ہی سہی! ملک کی پکار اور یورپی پرولتاریہ کی دوستانہ امداد پر انحصار کرتے ہوئے ہم اکیلے ہی اقتدار سنبھالتے ہیں۔ لیکن اقتدار سنبھال کر ہم انقلاب کے دشمنوں اور اِسے سبو تاژ کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نبٹیں گے۔ اُنہوں نے کورنیلوف کی آمریت کا خواب دیکھا تھا… ہم اُنہیں پرولتاریہ کی آمریت دیں گے… ‘‘
*****
[۱] سپاہیوں کی وردی کا رنگ سرمئی مائل تھا۔ چہروں کے سرمئی رنگ سے مراد بڑھی ہوئی داڑھی کے سفید بال ہیں۔
[۲] انقلابی سرگرمیوں اور جنگ کی مخالفت کی پاداش میں ریاستی دوما کے بالشویک اراکین کو نومبر 1914ء میں دوما سے نکال دیا گیا تھا، گرفتار کر لیا گیا اور اُن پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔
[۳]شاہی گولا اور عصا (Orb & Sceptre)۔’’Orb‘‘ ایک کرۂ ارضی کا نمونہ ہوتا ہے جس پر صلیب جڑی ہوتی ہے۔ ’’Sceptre‘‘ ایک شاہی عصا یا چھڑی ہوتی ہے۔ بادشاہوں یا ملکاؤں کے ہاتھوں میں یہ چیزیں حاکمیت کی علامت تصور ہوتی ہیں۔
[۴] 1928ء میں شروع ہونے والے سوویت منصوبہ بند معیشت کے پانچ سالہ منصوبے، جنہیں کروڑوں محنت کشوں نے انتہائی اذیت ناک حالات میں مکمل کیا اور سوویت یونین کو چند دہائیوں میں ایک عالمی طاقت بنایا۔
[۵] سٹالنزم کے ’’ایک ملک میں سوشلزم‘‘ کے نظرئیے کا حوالہ اور اُس پر طنز۔