روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

عوام حملے کی زد میں

عوام حملے کی زد میں

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

ایک انقلاب کے واقعات کی فوری وجہ متصادم طبقات کی نفسیاتی کیفیت میں آنے والی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ سماج کے مادی رشتے محض اُن راستوں اور حدود کا تعین کرتے ہیں جن میں یہ عوامل رونما ہوتے ہیں۔ اجتماعی شعور میں تبدیلیوں کا کردار فطری طور پر نیم پوشیدہ ہوتا ہے۔ شدت کی مخصوص نہج پر پہنچنے کے بعد ہی نئے مزاج اور نظریات ایسی عوامی سرگرمیوں کی شکل میں سطح پر نمودار ہوتے ہیں جو ایک نیا مگر بہت غیرمستحکم سماجی توازن قائم کرتی ہیں۔ انقلاب کا ارتقا ہر نئے مرحلے پر اقتدار کے مسئلے کو عیاں کرتا ہے، لیکن فوراً ہی اِسے اُس وقت تک چھپا دیتا ہے جب تک کہ دوبارہ عیاں نہیں کر دیتا۔ ردِ انقلاب کی حرکیات بھی بالکل یہی ہوتی ہیں، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ فلم مخالف سمت میں چل رہی ہوتی ہے۔
جو کچھ بھی حکومت یا سوویت کے بالائی حلقوں میں چل رہا ہوتا ہے وہ کسی طور بھی واقعات کی روش پر بے اثر نہیں ہوتا۔ لیکن عوام کے دماغ میں جاری گہرے سالماتی عمل (Molecular Process) کا سراغ لگائے بغیر ایک سیاسی پارٹی کی حقیقی اہمیت کو سمجھنا یا رہنماؤں کی چالبازیوں میں سے راستہ تلاش کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ جولائی میں مزدوروں اور سپاہیوں کو شکست تو ہوئی تھی، لیکن اکتوبر میں ایک ناقابل شکست یلغار کے ساتھ اُنہوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اِن چار مہینوں کے دوران اُن کے دماغوں میں کیا ہوا تھا؟ اُنہوں نے اوپر سے لگائی جانے والی ضربوں کی بوچھاڑ کو کیسے برداشت کیا؟ یہاں قاری ضروری سمجھے گا کہ جولائی کی شکست کی طرف لوٹا جائے۔ اکثر اوقات ضروری ہوتا ہے کہ لمبی چھلانگ لگانے کے لئے کچھ قدم پیچھے ہٹا جائے۔ اور اب ہمارے سامنے اکتوبر کی چھلانگ ہے!
سرکاری سوویت تاریخوں میں یہ رائے ایک تسلیم شدہ حقیقت بن کر ایک طرح کی ربر سٹیمپ میں تبدیل ہو چکی ہے کہ پارٹی پر جبر اور بہتان تراشی پر مبنی جولائی کے حملے کا مزدور تنظیموں پر کم و بیش کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ یہ بالکل غلط ہے۔ پارٹی کی صفوں اور مزدوروں اور سپاہیوں کی تنزلی بلاشبہ چند ہفتوں سے زیادہ جاری نہیں رہی۔ بحالی اتنی تیزی سے اور اس سے بھی زیادہ اہم کہ اتنے شوروغل سے شروع ہوئی کہ اس نے تنرلی اور جبر کے دنوں کی یادوں کو نصف سے زیادہ مٹا دیا۔ فتوحات ہمیشہ اپنے سے پہلے کی شکستوں پر نئی روشنی ڈالتی ہیں۔ لیکن جوں جوں پارٹی [۱] کی مقامی تنظیموں کے منٹس شائع ہونے لگے، انقلاب کی جولائی کی تنزلی کی تصویر زیادہ سے زیادہ واضح ہوتی چلی گئی۔ یہ ایک ایسی چیز تھی جو اُن دنوں بہت تکلیف دہ انداز میں محسوس کی گئی تھی کیونکہ اِس سے پہلے کا ابھار اتنا ہی مسلسل تھا۔
طاقتوں کے مخصوص توازن سے جنم لینے والی ہر شکست اِس توازن کو شکست کھانے والوں کے لئے ناموافق طور پر مزید تبدیل کر دیتی ہے، کیونکہ فاتحین کو خوداعتمادی ملتی ہے اور شکست کھانے والے اعتماد کھو دیتے ہیں۔ مزید برآں طاقتوں کے معروضی توازن میں اپنی طاقتوں کا حساب کتاب ایک انتہائی اہم عنصر ہوتا ہے۔ پیٹروگراڈ کے مزدوروں اور سپاہیوں کو ایک براہ راست شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اُن کی آگے بڑھنے کی امنگ کا ٹکراؤ ایک طرف اپنے ہی مقاصد کے تذبذ ب اور تضاد اور دوسری طرف صوبوں اور محاذ کی پسماندگی سے ہو گیا تھا۔ اسی لئے دارالحکومت میں شکست کے مضمرات کا اظہار سب سے پہلے اور سب سے واضح انداز میں ہوا۔ تاہم سرکاری لٹریچر میں ملنے والا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ صوبوں میں جولائی کی شکست غیر محسوس انداز سے ہی گزر گئی۔ یہ نہ صرف نظری اعتبار سے بعید از قیاس ہے بلکہ دستاویزات اور حقائق بھی اِسے جھٹلاتے ہیں۔ جب کبھی عظیم سوالات ابھرتے تھے تو سارا ملک غیر ارادی طور پر ہمیشہ پیٹروگراڈ کی طرف دیکھتا تھا۔ اِس لئے پیٹروگراڈ میں مزدوروں اور سپاہیوں کی شکست کے صوبوں کی بالخصوص ہراول پرتوں پر بھاری اثرات ناگزیر تھے۔ مختلف حصوں میں خوف، مایوسی اور بے حسی کا بہاؤ مختلف تھا، لیکن وہ ہر جگہ محسوس کئے گئے۔
انقلاب کے کم ہو جانے والے دباؤ کا اظہار سب سے پہلے دشمن کے سامنے عوام کی مزاحمت کی غیرمعمولی کمزوری میں ہوتا ہے۔ جس وقت پیٹروگراڈ میں لائے جانے والے دستے سپاہیوں اور مزدوروں کو غیرمسلح کر کے سرکاری تعزیری کاروائیاں کر رہے تھے، اُن کی سرپرستی میں سرگرم نیم رضاکار گینگ مزدور تنظیموں پر حملے کر رہے تھے۔ بالشویکوں کے چھاپہ خانے اور بالشویک جریدے ’پراودا‘ کے ادارتی کمروں پر چھاپے کے بعد دھاتکاری کے مزدوروں کی یونین کے صدر دفتر پر چھاپہ مارا گیا۔ اگلا حملہ علاقائی سوویتوں پر ہوا۔ حتیٰ کہ مصالحت پسندوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ 10 جولائی کو وزیر داخلہ سریتیلی کی قیادت میں چلنے والے منشویک پارٹی کے ایک ادارے پر حملہ کیا گیا۔ [محاذ سے پیٹروگراڈ] آنے والے سپاہیوں کے موضوع پر یہ لکھنے کے لئے ڈین کو خاصی ڈھٹائی کی ضرورت تھی: ’’انقلاب کی تباہی کی بجائے ہم اِس کی نئی فتح دیکھ رہے ہیں۔‘‘ یہ فتح اِس نہج تک پہنچ گئی کہ منشویک پروشٹسکی کے الفاظ میں سڑک پر راہگیر اگر مزدوروں جیسے نظر آتے تھے یا اُن پر بالشویزم کا شک ہوتا تھا تو وہ کسی بھی وقت بری طرح پیٹے جانے کے خطرے سے دوچار رہتے تھے۔ کیا ساری صورتحال میں گہری تبدیلی کی اِس سے بھی واضح کوئی علامت ہو سکتی ہے؟
بالشویکوں کی پیٹروگراڈ کمیٹی اور بعد ازاں چیکا [۲] کا مشہور رکن لاٹسس اپنی ڈائری میں لکھتا ہے: ’’9 جولائی۔ ہمارے سارے چھاپہ خانے تباہ کر دئیے گئے ہیں۔ کوئی ہمارے پرچے اور لیف لیٹ چھاپنے کی جرات نہیں کرتا۔ ہم خفیہ چھاپہ خانہ قائم کرنے پر مجبور ہیں۔ وائبورگ کا علاقہ سب کے لئے ایک پناہ گاہ بن چکا ہے۔ نہ صرف پیٹروگراڈ کمیٹی بلکہ مرکزی کمیٹی کے مفرور اراکین بھی یہاں آ گئے ہیں۔ ریناؤڈ فیکٹری کے چوکیدار کے کمرے میں کمیٹی کی لینن سے ملاقات ہوئی۔ عام ہڑتال کا سوال اٹھایا گیا۔ کمیٹی تقسیم ہو گئی۔ میں ہڑتال بلانے کے حق میں تھا۔ لینن نے صورتحال کی وضاحت کے بعد تجویز پیش کی کہ ہم اس [ہڑتال کے خیال] کو ترک کر دیں… 12 جولائی۔ ردِ انقلاب جیت چکا ہے۔ سوویتوں کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔ بے لگام جنکروں نے منشویکوں پر بھی حملے شروع کر دئیے ہیں۔ پارٹی کے کئی حصوں میں اعتماد کی کمی ہے۔ اراکین کی آمد رک چکی ہے… لیکن ہماری صفوں سے ابھی کوئی پرواز نہیں ہوئی ہے۔‘‘ مزدور سسکو لکھتا ہے کہ جولائی کے دنوں کے بعد ’’پیٹرزبرگ کی فیکٹریوں میں مضبوط سوشل انقلابی اثر و رسوخ تھا۔‘‘ بالشویکوں کی تنہائی نے مصالحت پسندوں کا وزن اور اعتماد خود بخود بڑھا دیا۔ 16 جولائی کو واسیلیوسکی اُوستروف سے ایک مندوب نے ایک بالشویک شہری اجلاس کو مطلع کیا کہ چند ایک فیکٹریوں کے سوا اُس کے علاقے میں مزاج ’’بالعموم‘‘ پرجوش تھا۔ ’’بالٹک کی فیکٹریوں میں سوشل انقلابی اور منشویک ہماری جگہ لے رہے ہیں۔‘‘ یہاں چیزیں بہت آگے جا چکی تھیں: فیکٹری کمیٹی نے حکم دیا کہ مرنے والے کاسکوں کے جنازے میں بالشویک بھی شرکت کریں، اُنہیں ایسا کرنا پڑا… تاہم پارٹی رکنیت میں باضابطہ گراوٹ بہت معمولی تھی۔ سارے علاقے میں کل چار ہزار اراکین میں سے کھلے عام علیحدگی اختیار کرنے والے سو سے زیادہ نہیں تھے۔ لیکن اُن ابتدائی دنوں میں اِس سے کہیں زیادہ تعداد خاموشی سے ایک طرف کھڑی تھی۔ بعد ازاں ایک مزدور منی چیف یاد کرتا ہے، ’’جولائی کے دنوں نے ہم پر واضح کیا کہ ہماری صفوں میں بھی ایسے لوگ تھے جنہوں نے اپنی جان جانے کے خوف سے پارٹی کارڈ ’چبا ڈالے‘ اور پارٹی سے کسی بھی قسم کے رابطے سے انکاری ہو گئے۔لیکن ایسے لوگ بہت زیادہ نہیں تھے۔‘‘ شلیاپنیکوف لکھتا ہے، ’’جولائی کے واقعات اور اُن کے ساتھ ہماری تنظیم کے خلاف تشدد اور بہتان تراشی کی ساری مہم نے ہمارے اثرورسوخ کی اُس بڑھوتری کو منقطع کر دیا جو جولائی کے آغاز تک بے انتہا وسعت تک پہنچ چکی تھی… یہی پارٹی اب نیم کالعدم بن گئی اور ایسی دفاعی جدوجہد کرنی پڑ گئی جس کا انحصار زیادہ تر ٹریڈ یونینوں اور کارخانہ اور فیکٹری کمیٹیوں پر تھا۔‘‘
بالشویکوں پر جرمنی کے لئے کام کرنے کے الزام کا پیٹروگراڈ کے مزدوروں، کم از کم اُن کی ایک بڑی تعداد پر اثر انداز ہونا ناگزیر تھا۔ جو پہلے سے لڑکھڑا رہے تھے وہ الگ ہو گئے۔ جو شامل ہونے کے قریب تھے وہ لڑکھڑا گئے۔ حتیٰ کہ پہلے سے شامل لوگوں کی معقول تعداد چھوڑ گئی۔ بالشویکوں کے ساتھ ساتھ جولائی کے مظاہروں میں اہم کردار سوشل انقلابیوں اور منشویکوں سے وابستہ مزدوروں نے ادا کیا تھا۔ ضرب لگنے کے بعد وہ سب سے پہلے چھلانگ لگا کر اپنی پارٹیوں کے پرچم تلے واپس چلے گئے۔ اُنہیں اب محسوس ہو رہا تھا کہ اپنے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کر کے اُنہوں نے واقعی غلطی کی تھی۔ کسی پارٹی سے غیر وابستہ مزدوروں کی وسیع پرتیں اور پارٹی کے ہمدرد بھی سرکاری بہتان تراشی کے زیر اثر پیچھے ہٹ گئے۔
اس بدلے ہوئے سیاسی ماحول میں جابرانہ حملوں نے دوہرا اثر پیدا کیا۔ پارٹی کے ایک پرانے اور متحرک کارکن اور پیٹروگراڈ کمیٹی کے رکن اولگا راوچ نے بعد ازاں ایک رپورٹ میں بتایا: ’’جولائی کے دنوں نے تنظیم میں ایسی ٹوٹ پھوٹ پیدا کی کہ پہلے تین ہفتوں تک تو کسی قسم کی سرگرمی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔‘‘ یہاں راوچ کی مراد پارٹی کی عوامی سرگرمیوں سے ہے۔ لمبے وقت تک پارٹی پرچے کی اشاعت کا انتظام ناممکن تھا؛ کوئی بھی چھاپہ خانہ بالشویکوں کے لئے کام کرنے پر راضی نہیں ہوتا تھا۔ اِس معاملے میں صرف مالکان ہی مزاحمت نہیں کرتے تھے۔ ایک چھاپہ خانے میں تو بالشویک پرچوں کی اشاعت کی صورت میں مزدوروں نے بھی کام روکنے کی دھمکی دے دی، چنانچہ مالک نے پہلے سے طے شدہ معاہدہ پھاڑ دیا۔ کچھ عرصے کے لئے پیٹروگراڈ میں کرونسٹٹ کا پرچہ بھیجا جاتا رہا۔
اُن ہفتوں میں کھلے میدان میں انتہائی بایاں بازو ایک ’’منشویک انٹرنیشنلسٹ‘‘ نامی گروہ تھا۔ مزدور بڑے اشتیاق سے [اِس گروہ کے رہنما] مارٹوف کی تقاریر سنتے تھے،جس کی لڑاکا جبلت ایک ایسے عرصے میں جاگ اٹھی جب انقلاب کے لئے نئے راستوں کے تعین کی بجائے اِس کی فتوحات کی باقیات کا دفاع ضروری تھا۔ مارٹوف کی ہمت درحقیقت قنوطیت کی ہمت تھی۔ اُس نے مجلس عاملہ کے ایک اجلاس میں کہا: ’’یوں محسوس ہوتا ہے کہ انقلاب کے آگے فل سٹاپ لگا دیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے کہ انقلابِ روس میں کسانوں اور مزدوروں کی آواز کی گنجائش نہیں ہے توپھر آؤ اپنی رخصتی کو با عزت بنائیں۔ آؤ اِس للکار کو خاموش دستبرداری سے نہیں بلکہ دیانتدارانہ لڑائی کے ساتھ قبول کریں۔‘‘مارٹوف نے دیانتدارانہ لڑائی کے ساتھ رخصتی کی یہ تجویز ڈین اور سریتیلی جیسے اپنی پارٹی کے اُن ساتھیوں کے سامنے پیش کی جو مزدوروں اور سپاہیوں پر جرنیلوں اور کاسکوں کی فتح کو انتشار پر انقلاب کی فتح گردانتے تھے۔ اُن دنوں بالشویکوں پر بہتان تراشی اور کاسکوں کے سامنے مصالحت پسندوں کے لیٹ جانے کے پس منظر میں مارٹوف کے اِس طرز عمل نے اُسے مزدوروں کی نظروں میں بلند کر دیا۔
جولائی کے بحران نے پیٹروگراڈ گیریزن پر بالخصوص تباہ کن ضرب گائی۔سپاہی سیاسی طور پر مزدوروں سے بہت پیچھے تھے۔ مزدوروں کے بالشویکوں کی طرف چلے جانے کے بعد بھی سوویت کا سپاہیوں والا حصہ مصالحت پسندی کا گڑھ رہا۔اِس کی نفی اِس حقیقت سے بالکل بھی نہیں ہوتی کہ سپاہیوں نے اپنی بندوقیں نکالنے میں حیران کن آمادگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ مظاہروں میں وہ مزدوروں کی نسبت کہیں زیادہ جارحانہ کردار ادا کرتے تھے، لیکن ردِ انقلاب کے حملوں کے تحت بہت جلد پسپا ہو جاتے تھے۔ پیٹروگراڈ میں بالشویک مخالفت کی لہر بہت تیزی سے پھیلی۔ سابقہ سپاہی مٹریوچ کہتا ہے، ’’[جولائی کی] شکست کے بعد میں اپنی رجمنٹ میں نہیں گیا، کیونکہ شاید ہلچل ختم ہونے سے پہلے ہی مار دیا جاتا۔‘‘ یہ اُنہی انقلابی رجمنٹوں میں ہو رہا تھا جنہوں نے جولائی کے دنوں میں اگلی صفوں میں مارچ کیا تھا، اسی لئے اُنہیں اتنی غضبناک ضربیں لگی تھیں اور پارٹی کا اثرورسوخ کم ترین سطح تک گر گیا۔ یہ اتنا نیچے گر گیا تھا کہ تین مہینوں بعد بھی تنظیم کی بحالی ناممکن تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ یونٹ ایک انتہائی بھاری جھٹکے سے اخلاقی طور پر ٹوٹ پھوٹ گئے تھے۔ بالشویکوں کی فوجی تنظیم بہت زیادہ سکڑ جانے پر مجبور تھی۔ سابقہ سپاہی منی چیف لکھتا ہے، ’’جولائی کی شکست کے بعد نہ صرف ہماری پارٹی کے بالائی حلقوں میں بلکہ کچھ علاقائی کمیٹیوں میں بھی کامریڈوں کا رویہ فوجی تنظیم کی طرف زیادہ دوستانہ نہیں تھا۔‘‘ کرونسٹٹ میں پارٹی تقریباً 250 اراکین سے محروم ہوگئی۔ اِس بالشویک قلعے کے گیریزن کا مزاج بہت زیادہ گر گیا۔ ہلسنگفورس میں بھی رجعت پھیل گئی۔ ایوکسنٹیف، بوناکوف اور وکیل سوکوولوف وہاں بالشویک جہازوں سے توبہ کروانے گئے۔ اُنہیں کچھ نتائج بھی حاصل ہوئے۔ رہنما بالشویکوں کی گرفتاری، سرکاری بہتان تراشی اور دھمکیوں کے ذریعے وہ بالشویک جنگی جہاز ’پیٹروپاولووسک‘ سے بھی وفاداری کا اعلامیہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم ’’اُکسانے والوں‘‘ کو حوالے کرنے کا اُن کا مطالبہ تمام جہازوں نے مسترد کر دیا۔
ماسکو میں بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں تھی۔ پیاٹنسکی یاد کرتا ہے، ’’بورژوا پریس کے حملوں نے پارٹی کی ماسکو کمیٹی کے کچھ اراکین میں بھی دہشت پیدا کر دی۔‘‘ جولائی کے دنوں کے بعد عددی طور پر تنظیم کمزور ہوئی۔ ماسکو کا مزدور راٹخن لکھتا ہے، ’’میں ایک جان لیوا حد تک کٹھن لمحہ کبھی نہیں بھولوں گا۔ (زاموسوریٹسکی علاقے کی سوویت کا) مکمل اجلاس جمع ہو رہا تھا… میں نے دیکھا وہاں ہمارے بالشویک کامریڈ تھوڑے سے تھے…سٹیکلوف، جو سرگرم کامریڈوں میں شامل تھا، میرے قریب آیا اور بڑی مشکل سے لفظ ادا کرتے ہوئے پوچھا: ’کیا یہ درست ہے کہ لینن اور زینوویف کو ایک بند ٹرین میں لایا گیا تھا؟ کیا یہ درست ہے کہ وہ جرمن پیسے پر کام کر رہے ہیں… ؟‘ میں نے یہ سوالات سنے تو میرا دِل درد سے بیٹھ گیا۔ ایک اور کامریڈ میرے پاس آیا: ’لینن کہاں ہے؟ کہتے ہیں کہ وہ فرار ہو گیا ہے؟ … اب کیا ہوگا؟‘ یہ سلسلہ جاری رہا۔‘‘ یہ منظر کشی ہمیں درست طور پر اُس وقت کے ہراول مزدوروں کے تجربے سے متعارف کرواتی ہے۔ ماسکو کا توپچی ڈیویڈوسکی لکھتا ہے، ’’ الیگزنسکی کی بہتان تراش دستاویزات منظر عام پر آنے سے بریگیڈ میں خوفناک تذبذب پھیل گیا۔ حتیٰ کہ ہماری بیٹری بھی، جو سب سے زیادہ بالشویک تھی، اِس بزدلانہ جھوٹ کی ضرب کے تحت لڑکھڑا گئی… یوں لگتا تھا گویا ہم سارا اعتماد کھو چکے تھے۔‘‘
اُس وقت مرکزی کمیٹی کا ایک رکن اور ماسکو کے وسیع علاقے کے کام کا رہنما و۔ یاکولیوا لکھتا ہے، ’’جولائی کے دنوں کے بعدمختلف علاقوں سے آنے والی تمام اطلاعات ہم آواز ہو کر نہ صرف عوام کے مزاج میں گہری تنزلی بلکہ ہماری پارٹی کی واضح مخالفت کا پتا دیتی تھیں۔ بہت سی جگہوں پر تو ہمارے مقررین کو مار پڑی۔ رکنیت تیزی سے گرنے لگی اور بالخصوص جنوبی صوبوں میں کئی پارٹی تنظیموں کا وجود بالکل ہی مٹ گیا۔‘‘ اگست کے وسط تک کوئی بہتری نہیں آئی تھی۔ پارٹی کے اثرورسوخ کو برقرار رکھنے کے لئے عوام میں کام جاری تھا، لیکن تنظیم میں کوئی بڑھوتری نظر نہیں آ رہی تھی۔ ریازان اور ٹامبوف کے صوبوں میں نئے رابطے استوار ہوئے نہ ہی کوئی بالشویک مرکزے ابھرے۔ یہ بالعموم سوشل انقلابیوں اور منشویکوں کے حلقہ اثر تھے۔
ایورینوف، جو پرولتاری علاقے کائنشما میں کام سنبھالتا تھا، یاد کرتا ہے کہ جولائی کے واقعات کے بعد کیسی مشکل صورتحال ابھری جب تمام سماجی تنظیموں کے ایک بڑے اجلاس میں بالشویکوں کو سوویتوں سے نکالنے کا سوال اٹھایا گیا۔ کچھ صورتوں میں پارٹی سے اراکین کا اخراج اِس نہج تک پہنچ گیا کہ نئے اراکین کے اندراج کے بعد ہی تنظیم نے ایک باقاعدہ زندگی جینے کا دوبارہ آغاز کیا۔ تولا میں پہلے سے ہی مزدوروں کے سنجیدہ چناؤ کی وجہ سے تنظیم کو اراکین کا نقصان نہیں اٹھانا پڑا، لیکن عوام سے اِس کی یکجہتی کمزور پڑ گئی۔ نزھنی نووگوروڈ میں کرنل ورخووسکی اور منشویک خنچک کی قیادت میں تعزیری مہم کے بعد گہری تنزلی آئی: شہری دوما کے انتخابات میں پارٹی کے صرف چار نمائندے تھے۔ کالوگا میں بالشویک دھڑا سوویتوں سے نکالے جانے کے خطرے سے دوچار تھا۔ ماسکو کے علاقے میں کچھ جگہوں پر بالشویکوں کو نہ صرف سوویتوں بلکہ ٹریڈ یونینوں سے بھی نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا۔
ساراٹوف میں بالشویکوں نے مصالحت پسندوں سے تعلقات بہت پرامن رکھے تھے اور جون کے آخر میں شہری دوما کے لئے ایک مشترکہ امیدوار بھی کھڑا کرنے کا سوچ رہے تھے۔یہاں سپاہیوں کو بالشویکوں کے خلاف اِس حد تک بھڑکایا گیا کہ جولائی کے طوفان کے بعد وہ اجلاسوں میں گھس جاتے تھے، لوگوں کے ہاتھوں سے چھین کر بالشویک پرچے پھاڑ دیتے تھے اور اُن کے ایجی ٹیٹروں کو پیٹتے تھے۔ لیبیڈیف لکھتا ہے، ’’انتخابی جلسوں میں بولنا مشکل ہو گیا۔ وہ اکثر ہم پر چلّاتے تھے: ’جرمن جاسوس، تخرب کار!‘‘‘ ساراٹوف کے بالشویکوں میں کمزور دل والے زیادہ تھے: ’’بہت سوں نے اپنی رکنیت منسوخ کر دی، باقی روپوش ہو گئے۔‘‘
لمبے عرصے سے بلیک ہنڈرڈ مرکز کے طور پر مشہور کیف میں بالشویکوں پر الزام تراشی نے بالخصوص بے لگام کردار اختیار کر لیا، جس کی زد میں جلد ہی منشویک اور سوشل انقلابی تک بھی آ گئے۔ انقلابی تحریک کی تنزلی یہاں خاص طور پر محسوس کی گئی۔ مقامی دوما کے انتخابات میں بالشویکوں کو صرف 6 فیصد ووٹ ملے۔ شہری اجلاس میں مقررین نے شکایت کی کہ بے حسی اور عدم تحرک ہر جگہ محسوس کیا جا سکتا تھا۔ پارٹی پرچے کو روزانہ کی بجائے ہفتہ وار اشاعت پر مجبور ہونا پڑا۔
زیادہ انقلابی رجمنٹوں کی تحلیل اور منتقلی نے نہ صرف گیریزنوں کا سیاسی معیار گھٹا دیا بلکہ اُن مقامی مزدوروں پر بھی مضر اثرات مرتب کئے جو پشت پر دوستانہ دستے موجود ہونے پر خود کو زیادہ مضبوط محسوس کرتے تھے۔ یوں ٹویر سے 57ویں رجمنٹ کو ہٹائے جانے سے مزدوروں اور سپاہیوں، دونوں کی سیاسی صورتحال تبدیل ہو گئی۔ حتیٰ کہ ٹریڈ یونینوں میں بھی بالشویکوں کا اثرورسوخ برائے نام رہ گیا۔ تفلیس میں یہ کیفیت زیادہ واضح تھی، جہاں منشویکوں نے افسروں کے ساتھ مل کر بالشویک یونٹوں کو بالکل بے رنگ رجمنٹوں سے تبدیل کر دیا۔
کئی جگہوں پر گیریزن کی ترکیب، مقامی مزدوروں کے معیار اور کچھ دوسری حادثاتی وجوہات کی وجہ سے سیاسی رجعت نے متضاد شکل اختیار کر لی۔ مثلاً جولائی میں یاروسلاول میں مزدوروں کی سوویت سے بالشویک کم و بیش باہر ہو چکے تھے، لیکن سپاہیوں کے نمائندگان کی سوویت میں اُنہوں نے اپنا حاوی اثرورسوخ برقرار رکھا۔ مزید برآں کچھ مخصوص جگہوں پر جولائی کے واقعات کوئی اثر ڈالے بغیر اور پارٹی کی بڑھوتری کو روکے بغیر گزر گئے۔ جہاں تک ہم اندازہ لگا سکتے ہیں، ایسا اُن صورتوں میں ہوا جب نئی پسماندہ پرتیں عمومی پسپائی کے وقت انقلابی میدان میں داخل ہو رہی تھیں۔ یوں جولائی میں کچھ ٹیکسٹائل کے علاقوں میں خواتین مزدوروں کی تنظیم میں معقول شمولیت دیکھی گئی۔ لیکن ایسی صورتوں نے تنزلی کی عمومی حقیقت کو تبدیل نہیں کیا۔
ایک جزوی شکست جیسی اِس رجعت کی مسلمہ شدت ایک طرح سے مزدوروں اور سپاہیوں کی طرف سے ادا کیا جانے والا ایک جرمانہ تھا۔ بالشویکوں کی طرف اُن کے اُس ہموار، تیز اور مسلسل بہاؤ کا جرمانہ جو پچھلے کئی مہینوں سے جاری تھا۔ عوام کے مزاج میں اِس گہری تبدیلی نے پارٹی کے کیڈروں میں ایک خودکار اور مزید برآں ایک یقینی چناؤ پیدا کر دیا۔ جو اُن دنوں نہیں لڑکھڑائے اُن پر آنے والے دنوں میں قطعی بھروسہ کیا جا سکتا تھا۔ اُنہوں نے کارخانوں، فیکٹریوں اور علاقوں میں ایک مرکزہ تشکیل دیا۔ اکتوبر انقلاب کے وقت تعیناتیاں اور فرائض کی تقسیم کرتے وقت منتظمین کئی مرتبہ اپنے اِرد گرد دیکھ کر یاد کرتے تھے کہ جولائی کے دنوں میں کس کا طرز عمل کیسا تھا۔
محاذ پر، جہاں تمام رشتے زیادہ عیاں تھے، جولائی کی رجعت بالخصوص غضبناک تھی۔ افسروں نے اِن واقعات کا استعمال ’’آزاد مادرِ وطن کے فرض کی ادائیگی‘‘ کے خصوصی یونٹوں کی تخلیق کے لئے کیا۔ ہر رجمنٹ اپنی یلغاری کمپنیاں تشکیل دیتی تھی۔ ڈینیکن بتاتا ہے، ’’میں اکثر یہ یلغاری کمپنیاں دیکھتا تھا اور وہ ہمیشہ کشیدہ اور تاریک ہوتی تھیں۔ اُن کی طرف باقی رجمنٹ کا رویہ لاتعلقی بلکہ مخالفت کا ہوتا تھا۔‘‘ سپاہی درست طور پر اِن ’’فرض کی ادائیگی کے ڈویژنوں‘‘ کو پریٹری گارڈ [۳] کے مرکزے کے طور پر دیکھتے تھے۔
سوشل انقلابی ڈیگٹیاریف ، جو بعد ازاں بالشویکوں میں شامل ہو گیا، بتاتا ہے، ’’رجعت تیزی سے پھیلی۔‘‘ وہ رومانیہ کے پسماندہ محاذ کی بات کر رہا ہے: ’’کئی سپاہیوں کو بھگوڑا قرار دے کر گرفتار کر لیا تھا۔ افسران سر اٹھانے لگے اور فوجی کمیٹیوں کو نظر انداز کرنے لگے۔ کئی جگہوں پر افسروں نے سیلوٹ بحال کرنے کی کوشش کی۔‘‘ کمیساروں نے فوج میں تطہیر شروع کر دی۔ سٹینکیوچ لکھتا ہے، ’’کم و بیش ہر ڈویژن کا اپنا بالشویک ہوتا تھا جو ڈویژن کے سربراہ سے بھی زیادہ مقبول ہوتا تھا… ہم نے ایک ایک کر کے اِن نامور لوگوں کو ہٹانا شروع کر دیا۔‘‘ اطاعت قبول نہ کرنے والے یونٹوں کو سارے محاذ پر ایک ساتھ غیرمسلح کر دیا گیا۔ اِس کاروائی میں کمانڈر اور کمیساروں کا انحصار کاسکوں اور اُن خصوصی یلغاری کمپنیوں پر ہوتا تھا جن سے سپاہی شدید نفرت کرتے تھے۔
سقوطِ ریگا کے دن فوجی تنظیموں کے نمائندگان کے ساتھ شمالی محاذ کے کمیساروں کے اجلاس میں جبر کے شدید اقدامات کے منظم اطلاق کو ضروری قرار دیا گیا۔کچھ سپاہیوں کو جرمنوں کے ساتھ میل جول کے جرم میں گولی مار دی گئی۔ انقلابِ فرانس کی مبہم یادوں سے خود کو گرماتے ہوئے کئی کمیساروں نے آہنی ہاتھ دکھانے کی کوشش کی۔ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ انقلاب فرانس کے جیکوبن کمیسار نچلی صفوں پر انحصار کرتے تھے؛ وہ اشرافیہ اور بورژوازی کو نہیں چھوڑتے تھے؛ عوامی بے رحمی نے ہی اُنہیں فوج میں سخت ڈسپلن متعارف کروانے کا حوصلہ دیا تھا۔ لیکن کیرنسکی کے اِن کمیساروں کو نیچے سے کوئی عوامی حمایت حاصل نہیں تھی، اُن کے سروں کے اوپر کوئی اخلاقی ہالہ نہیں تھا۔ سپاہیوں کی نظر میں وہ بورژوازی کے ایجنٹ اور اتحادی ممالک کے مویشی ہانکنے والے تھے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ وہ وقتی طور پر تو فوج کو ڈرا سکتے تھے، جو اُنہوں نے کسی حد تک کیا بھی، لیکن فوج کو دوبارہ بحال کرنے میں وہ بے بس تھے۔
پیٹروگراڈ میں مجلس عاملہ کے بیورو کو اگست کے آغاز میں بتایا گیا کہ فوج کے مزاج میں ایک موافق تبدیلی پیدا ہو چکی ہے اور تربیتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ لیکن دوسری طرف بڑھتا ہوا جبر و استبداد اور مطلق العنانیت کے بڑھتے ہوئے اقدامات واضح تھے۔ افسروں کا سوال بالخصوص تشویشناک بنتا جا رہا تھا۔ ’’وہ بالکل تنہا تھے اور اپنی ہی ڈھیلی ڈھالی تنظیم تشکیل دے رکھی تھی۔‘‘ دوسرے بیانات اِس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ محاذ پر بظاہر ایک بہتر ڈسپلن قائم کیا جا رہا تھا، سپاہیوں نے چھوٹی اور حادثاتی چیزوں پر سرکشی کرنا چھوڑ دیا تھا، لیکن مجموعی طور پر صورتحال پر اُن کا عدم اطمینان اُتنی ہی شدت اختیار کر چکا تھا۔ ماسکو کے ریاستی اجلاس میں منشویک کُچن کی محتاط اور سفارتی تقریر میں اعتماد کے پیغام تلے ایک تشویشناک تنبیہ سنی جا سکتی تھی۔ اُس نے کہا تھا، ’’ایک مسلمہ سکون ہے، لیکن اِس کے علاوہ بھی کچھ ہے۔ مایوسی جیسا ایک احساس ہے اور ہم اِس احساس سے انتہائی ڈرے ہوئے ہیں… ‘‘ بالشویکوں کی عارضی شکست سب سے پہلے سپاہیوں کی نئی امنگوں اور اُن کے بہتر مستقبل پر یقین کی شکست تھی۔ عوام زیادہ محتاط ہو گئے تھے، اُنہوں نے کچھ نظم و ضبط اپنا لیا تھا۔ لیکن حکمرانوں اور سپاہیوں کے درمیان خلیج اتنی ہی گہری ہو گئی تھی۔ کل یہ کسے نگلے گی؟
جولائی کی رجعت نے فروری اور اکتوبر انقلابات کے درمیان ایک طرح کی فیصلہ کن دیوار قائم کر دی۔ مزدور،عقب کے گیریزن، محاذ اور کسی حد تک کسان بھی گویا پیٹ پر ضرب کھا کر پیچھے جا گرے۔ یہ ضرب درحقیقت جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی تھی، لیکن اِس وجہ سے کچھ کم حقیقی نہیں تھی۔ [فروری کی سرکشی کے بعد] پہلے چار مہینوں کے دوران تمام عوامل ایک سمت میں گامزن تھے، بائیں طرف۔ بالشویزم بڑھا، مضبوط ہوا اور بے باک ہو گیا۔ لیکن اب تحریک ایک پتھر کی دیوار سے جا ٹکرائی تھی۔ درحقیقت یہ واضح ہو چکا تھا کہ فروری انقلاب کے راستے پر مزید آگے بڑھنا ناممکن تھا۔ بہت سوں نے تو یہ بھی سوچا کہ سارا انقلاب ہی خود کو خرچ کر چکا تھا۔ درحقیقت یہ فروری انقلاب تھا جو خود کو آخر تک خرچ کر چکا تھا۔ عوامی شعور میں اِس داخلی بحران نے بہتان تراشی اور جبر کے اقدامات کے ساتھ مل کر تذبذب، پسپائی اور کچھ صورتوں میں خوف و دہشت کو جنم دیا۔ دشمن بے باک ہو گیا۔ خود عوام میں تمام پسماندہ اور مشکوک عناصر سطح پر آ گئے ۔ انقلاب کے سیلاب میں پیچھے ہٹتی ہوئی لہروں نے ایک بیش بہا قوت حاصل کر لی۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ سماجی ماقوا حرکیات (Hydrodynamics) کے قوانین پر عمل پیرا تھیں۔ ایسی لہر کے سامنے آکر اُسے روکا نہیں جا سکتا، ضروری ہوتا ہے کہ اُسے راستہ دیا جائے اور خود کو ڈوبنے سے بچایا جائے۔ جب تک رجعت کی لہر اپنی قوت نہ کھو دے تب تک صبر اور حوصلے سے برداشت کیا جائے اور اِس دوران ایک نئی پیش قدمی کی تیاری کی جائے۔
کچھ ایسی رجمنٹوں کا مشاہدہ کر کے جو 3 جولائی کو بالشویک پرچموں تلے مارچ کر رہی تھیں اور ایک ہفتے بعد جرمن بادشاہت کے ایجنٹوں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کر رہی تھیں، پڑھے لکھے شک پرست شاید اپنی مکمل فتح پر پھولے نہ سماتے ہوں گے: یہ ہیں تمہارے عوام، یہ ہے اُن کا استقلال اور فہم! لیکن یہ ایک گھٹیا شک پرستی ہے۔ اگر عوام نے حادثاتی حالات و واقعات کے زیر اثر واقعی اپنے احساسات اور خیالات تبدیل کئے ہوتے تو عظیم انقلابات کے ارتقا میں پائی جانے والی با قاعدگی اور مماثلت کے دیو ہیکل قوانین کو بیان نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دسیوں لاکھ عوام جتنی گہرائی میں انقلاب کی گرفت میں آتے ہیں، انقلاب کا ارتقا اتنا ہی باقاعدہ ہوتا ہے اور اِس کے آگے کے مراحل کی پیش بینی اتنے ہی اعتماد سے کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ کرتے ہوئے بس اتنا خیال رکھنا چاہئے کہ عوام کا سیاسی ارتقا ایک سیدھی لکیر میں نہیں بلکہ ایک پیچیدہ خمدار خط کیساتھ آگے بڑھتا ہے۔ لیکن کیا ہر مادی عمل کی بنیادی حرکت اِسی طرح نہیں ہوتی ہے؟ مزدوروں، سپاہیوں اور کسانوں کو معروضی حالات پورے زور سے بالشویکوں کی طرف دھکیل رہے تھے، لیکن عوام اپنے ہی ماضی، اپنے کل تک کے عقائد اور جزوی طور پر اپنے آج کے عقائد کے خلاف جدوجہد کی کیفیت میں اِس راستے پر قدم رکھ رہے تھے۔ ایک مشکل موڑ پر اور ناکامی و مایوسی کے وقتوں میں ایسے پرانے تعصبات جو ابھی تک جل کر راکھ نہیں ہوئے ہوتے، دوبارہ بھڑک اٹھتے ہیں اور دشمن فطری طور پر اپنی نجات کے سہارے کے طور پر انہیں پکڑ لیتا ہے۔ بالشویکوں کے خیالات کی جدت، اُن کی بے باکی، پرانے اور نئے حکام سے اُن کی نفرت، غرضیکہ اُن کے بارے ہر غیرواضح، غیرروایتی اور پیچیدہ چیز کو اب اچانک ایک سادہ سی تشریح مل گئی، جو اپنی نامعقولیت میں معقول تھی: وہ جرمن جاسوس ہیں! بالشویکوں پر الزام تراشی کرتے ہوئے دشمن دراصل عوام کے غلام ماضی اور اُن میں تاریکی، بربریت اور توہم پرستی کی باقیات کی بنیاد پر داؤ کھیل رہا تھا۔ یہ کوئی کچا داؤ نہیں تھا۔ یہ دیوہیکل حب الوطن جھوٹ سارے جون اور جولائی کے دوران بنیادی اہمیت کا حامل سیاسی عنصر رہا۔ کیڈٹ پریس کے ساتھ اِس بہتان تراشی کی چھوٹی چھوٹی لہریں سارے ملک میں پھیل گئیں اور صوبوں اور سرحدوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر دور دراز کے جنگلی علاقوں تک میں سرایت کر گئیں۔ ایک مہذب معاشرے میں بہتان تراشی کے اضافی وزن کے سوال کو ابھی تک اپنے ماہر سماجیات کا انتظار ہے۔
تاہم مزدوروں اور سپاہیوں میں مضطرب اور تند ہونے کے باوجود رجعت نہ تو گہری اور نہ ہی دور رس تھی۔ پیٹروگراڈ کی زیادہ ہراول فیکٹریاں حملوں سے اگلے ہی دنوں میں بحال ہونے لگیں۔ اُنہوں نے گرفتاریوں اور بہتان تراشیوں کے خلاف احتجاج کیا اور مجلس عاملہ کے دروازے کھٹکھٹانے لگیں؛ اُنہوں نے اپنے ابلاغ کے راستے بحال کر لئے۔ دھاوا بول کر غیرمسلح کر دی جانے والی سیسٹروریٹسک اسلحہ ساز فیکٹری میں باگ ڈور جلد ہی ایک بار پھر مزدوروں کے ہاتھوں میں تھی: 20 جولائی کو ایک بڑے اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی کہ مزدوروں کو مظاہرے کے دنوں کی ادائیگیاں کی جائیں اور یہ ساری اجرت محاذ پر لٹریچر کی فراہمی پر خرچ کی جائے۔اولگا ریوچ کے بیان کے مطابق 20 اور 30 جولائی کے درمیان پیٹروگراڈ میں بالشویکوں کی کھلی ایجی ٹیشن کا کام دوبارہ شروع ہو گیا۔ ایسے جلسوں میں جو 200 یا 300 سے زیادہ افراد پر مشتمل نہیں ہوتے تھے، تین افراد شہر کے مختلف حصوں میں نمودار ہونے لگے: سلٹسکی، جسے بعد ازاں سفید فوج والوں نے کرائمیا میں قتل کر دیا، وولوڈارسکی، جسے سوشل انقلابیوں نے پیٹروگراڈ میں قتل کر دیا، یفڈوکیموف، پیٹروگراڈ کا دھاتکاری کا ایک مزدور، جو انقلاب کے باصلاحیت مقررین میں سے ایک تھا۔ اگست میں پارٹی کے تربیتی کام نے وسعت اختیار کر لی۔ راشکولنیکوف کے مطابق ٹراٹسکی کو جب 23 جولائی کو گرفتار کیا گیا تو اُس نے جیل میں موجود ساتھیوں کے سامنے شہر کا منظر کچھ یوں پیش کیا: ’’بالشویکوں کے خلاف منشویک اور سوشل انقلابی اپنی پاگل پن پر مبنی الزام تراشی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارے کامریڈوں کی گرفتاریاں جاری ہیں، لیکن پارٹی حلقوں میں کوئی مایوسی نہیں ہے۔ اِس کے برعکس ہر کوئی مستقبل کی طرف امید سے دیکھ رہا ہے اور اندازہ لگا رہا ہے کہ پارٹی کی مقبولیت کویہ جبر مضبوط ہی بنائے گا… مزدور علاقوں میں جوش و جذبے میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی۔‘‘ اِس کے بعد جلد ہی پیٹرہاف کے علاقے میں 27 پلانٹوں کے ایک اجلاس نے غیرذمہ دار حکومت اور اُس کی ردِ انقلابی حکمت عملی کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی۔ پرولتاری علاقے تیزی سے دوبارہ زندہ ہو رہے تھے۔
جب سرما محل یا ٹاؤرائڈ محل میں اوپر والے نئے اتحاد تشکیل دے رہے تھے، اُنہیں توڑ رہے تھے اور پھر دوبارہ سے جوڑ رہے تھے، بالکل انہی دنوں، بلکہ 21 اور 22 جولائی کے انہی گھنٹوں میں پیٹروگراڈ میں ایک دیوہیکل واقعہ رونما ہو رہا تھا، ایک ایسا واقعہ جسے سرکاری سطح پر شاید ہی محسوس کیا گیا ہو، لیکن جو ایک دوسرے اور زیادہ ٹھوس اتحاد کا اظہار کر رہا تھا: پیٹروگراڈ کے مزدوروں کا متحرک فوج کے سپاہیوں سے اتحاد۔ محاذ پر انقلاب کا گلا گھونٹنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے رجمنٹوں کے مندوبین دارالحکومت میں آرہے تھے۔ کئی دنوں تک مجلس عاملہ کے دروازوں پر یہ مندوبین دستک دیتے رہے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مجلس نے اُنہیں اندر نہیں آنے دیا۔ اُنہیں دھتکار دیا۔ اِسی دوران نئے مندوبین بھی آ رہے تھے اور یہی روش اختیار کر رہے تھے۔ یہ سارے دھتکارے ہوئے سپاہی برآمدوں اور استقبالی کمروں میں ایک دوسرے سے ٹکراتے تھے، شکایت کرتے تھے، مجلس کو گالیاں دیتے تھے اور کوئی مشترکہ راستہ ڈھونڈتے تھے۔ اِس معاملے میں بالشویک اُن کی مدد کرتے تھے۔ مندوبین دارالحکومت کے مزدوروں، سپاہیوں اور جہازیوں سے ملنے کا فیصلہ کرتے تھے۔ وہ اُنہیں گرمجوشی سے ملتے تھے، اُنہیں رہنے کی جگہ اور خوراک فراہم کرتے تھے۔ محاذ کی 29 رجمنٹوں ، پیٹروگراڈ کی 90 فیکٹریوں، کرونسٹٹ کے جہازیوں اور مضافاتی گیریزنوں کے نمائندے ایک اجلاس میں موجود تھے، جو اوپر سے کسی نے نہیں بلایا تھا بلکہ نیچے سے اچانک پھوٹ پڑا تھا۔ مورچوں کے مندوبین اِس اجلاس کی نگاہوں کا مرکز تھے، جن میں کئی نوجوان افسر بھی شامل تھے۔ پیٹروگراڈ کے مزدوروں نے محاذ سے آنے والوں کا ایک ایک لفظ اشتیاق سے سنا۔ محاذ والوں نے بتایا کہ کیسے حملے اور اس کے مضمرات نے انقلاب کو نگل لیا تھا۔ اُن سرمئی سپاہیوں ، جو کسی طور بھی ایجی ٹیٹر نہیں تھے، نے بے تکلف انداز میں محاذ کی روز مرہ زندگی کی منظر کشی کی۔ تفصیلات پریشان کُن تھیں۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ کیسے ہر چیز گھسٹ کر پرانی، نفرت انگیز اور قبل از انقلابی حاکمیت کی طرف جا رہی تھی۔ گزرے ہوئے کل کی امنگوں اور آج کی حقیقت کے درمیان تضاد نے وہاں موجود ہر کسی کو جھنجھوڑ دیا اور اُن سب کا مزاج یکساں کر دیا۔ اگرچہ محاذ والوں میں سوشل انقلابی غالب تھے، لیکن ایک سخت بالشویک قرارداد تقریباً متفقہ طور پر منظور کی گئی: صرف دس آدمیوں نے ووٹ نہیں ڈالا۔ یہ قرارداد ایک مردہ تحریر نہیں رہے گی۔ منتشر ہونے والے مندوبین سچ بتائیں گے کہ کیسے مصالحت پسند رہنماؤں نے انہیں دھتکارا تھا اور کیسے مزدوروں نے اُن کا خیرمقدم کیا تھا۔ مورچے اپنے مندوبین پر یقین کریں گے۔ یہ آدمی اُنہیں دھوکہ نہیں دیں گے۔
خود پیٹروگراڈ گیریزن میں مہینے کے آخر سے ایک اچانک تبدیلی کا آغاز واضح تھا، بالخصوص اُن اجلاسوں کے بعد جن میں محاذ کے مندوبین نے شرکت کی تھی۔ ظاہر ہے کہ زیادہ متاثرہ رجمنٹیں اپنی بے حسی سے اتنی جلدی بحال نہیں ہو سکتی تھیں۔ لیکن دوسری طرف اُن یونٹوں میں جنہوں نے حب الوطن رویہ سب سے طویل عرصے تک برقرار رکھا اور انقلاب کے چاروں مہینوں میں ڈسپلن کی اطاعت کی تھی، پارٹی کا اثرورسوخ نمایاں طور پر بڑھ رہا تھا۔ بالشویکوں کی فوجی تنظیم، جسے انتقامی کاروائیوں سے خصوصی نقصان ہوا تھا، اپنے قدموں پر کھڑی ہونے لگی۔ جیسا کہ شکست کے بعد ہمیشہ ہوتا ہے، فوج میں کام کے رہنماؤں کی طرف پارٹی حلقوں میں حوصلہ شکن انداز سے دیکھا گیا تھا اور حقیقی اور خیالی غلطیاں اُن پر تھونپ دی گئیں۔ مرکزی کمیٹی نے سویڈلوف اور ڈزرزھنسکی کے ذریعے براہ راست کنٹرول قائم کر کے فوجی تنظیم کو اپنے قریب کر لیا اور کام کچھ سست رو لیکن زیادہ قابل بھروسہ انداز سے دوبارہ شروع ہو گیا ۔
جولائی کے آخر تک پیٹروگراڈ کی فیکٹریوں میں بالشویکوں کا مقام بحال ہو چکا تھا۔ مزدور دوبارہ اُنہی پرچموں تلے متحد تھے، لیکن اب وہ مختلف مزدور تھے اور زیادہ بالغ، یعنی زیادہ محتاط لیکن ساتھ ہی ساتھ زیادہ پرعزم بھی تھے۔ وولوڈارسکی نے 27 جولائی کو بالشویکوں کی ایک کانگریس کو مطلع کیا، ’’فیکٹریوں میں ہمارا اثرورسوخ دیوہیکل اور لامحدود ہے۔تنظیم نے نیچے سے نمو پائی ہے اور اِس لئے ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ٹوٹ کر بکھرے گی نہیں۔ ‘‘ اُس وقت ’نوجوانوں کی یونین‘(The Union of Youth) کے 50 ہزار اراکین تھے اور یہ مسلسل بالشویکوں کے زیادہ سے زیادہ زیر اثر آ رہی تھی۔ 7 اگست کو سوویت کے مزدور حصے نے سزائے موت کے خاتمے کے مطالبے میں قرارداد منظور کی۔ ماسکو کے ریاستی اجلاس کے خلاف احتجاج کے طور پر پیوٹیلوف فیکٹری کے مزدوروں نے ایک دن کی اجرت مزدوروں کی پریس کے لئے مختص کر دی۔ فیکٹری اور کارخانہ کمیٹیوں کے ایک اجلاس میں ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی، جس میں ماسکو اجلاس کو ’’ردِ انقلابی قوتوں کو منظم کرنے کی ایک کوشش‘‘ قرار دیا گیا۔
کرونسٹٹ اپنے زخموں کو مندمل کر رہا تھا۔ 20 جولائی کو یاکورنی چوک پر ایک جلسے نے مطالبہ کیا کہ اقتدار سوویتوں کو منتقل کیا جائے، فوجی پولیس اور پولیس کے ساتھ ساتھ کاسکوں کو بھی محاذ پر بھیجا جائے، سزائے موت کا خاتمہ کیا جائے، کرونسٹٹ کے مندوبین کو زارسکوئی سیلو جانے دیا جائے تاکہ یقینی بنایا جائے کہ نکولس دوم کا پہرہ مناسب ہے، موت کی بٹالینوں کو ختم کیا جائے، بورژوا اخبارات کو ضبط کیا جائے، وغیرہ۔ تقریبا اُسی وقت نئے ایڈمرل ٹائرکوف نے قلعے کی کمان سنبھالنے پر سرخ پرچموں کو سرنگوں کرنے اور بحریہ کے نشان والے پرچم بلند کرنے کا حکم دیا ۔ کرونسٹٹ والوں نے اِس کے خلاف احتجاج کیا ۔ 3-5 جولائی کے واقعات کی تفتیش کے لئے آنے والے حکومتی کمیشن کو کرونسٹٹ سے بے نتیجہ لوٹنا پڑا: اُسے ’سی سی‘ کی آوازوں، احتجاجوں، حتیٰ کہ دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
سارے بحری بیڑے میں ایک تبدیلی رونما ہو رہی تھی۔ فن لینڈ کا ایک بالشویک رہنما زالزھکی لکھتا ہے، ’’جولائی کے آخر اور اگست کے آغاز میں یہ واضح طور پر محسوس کیا جا رہا تھا کہ بیرونی رجعت نہ صرف ہلسنگفورس کی انقلابی قوت کو نہیں توڑ پائی تھی بلکہ اِس کے برعکس یہاں بائیں طرف گہرا جھکاؤ اور بالشویکوں کے لئے ہمدردی میں وسیع اضافہ دیکھا جا سکتا تھا۔‘‘ جہازی بڑی حد تک جولائی کی تحریک کے محرک تھے اور پارٹی سے بالا اور اِس کی مرضی کے برخلاف سرگرم تھے، کیونکہ اُس وقت وہ پارٹی پر اعتدال پسندی اور تقریباً مصالحت پسندی کا شک کررہے تھے۔تاہم مسلح مظاہرے کے تجربے نے اُن پر واضح کیا کہ اقتدار کا سوال اِتنی آسانی سے حل نہیں ہوتا ہے۔ اب نیم انارکسٹ رویوں کی جگہ پارٹی پر اعتماد نے لے لی تھی۔ اِس موضوع پر جولائی کے آخر میں ہلسنگفورس کے ایک مندوب کی رپورٹ بڑی دلچسپ ہے: ’’چھوٹے جہازوں پر سوشل انقلابیوں کا اثرورسوخ برقرار ہے، لیکن بڑے جنگی جہازوں کے جہازی یا تو بالشویک ہیں یا پھر بالشویکوں کے ہمدرد… یوں ہمارے پاس دیوہیکل لڑاکا قوت موجود ہے… 3-5 جولائی کے واقعات نے جہازیوں کو بہت کچھ سکھایا ہے اور اُن پر واضح کیا ہے کہ مقصد کے حصول کے لئے محض ذہنی کیفیت ہی کافی نہیں ہوتی۔‘‘
ماسکو اگرچہ پیٹروگراڈ سے پیچھے چل رہا تھا، لیکن اُسی راستے پر گامزن تھا۔ توپچی ڈیویڈووسکی بتاتا ہے، ’’دھواں چھٹنے لگا تھا۔ سپاہی عوام سنبھلنے لگے تھے اور ہم نے ایک بار پھر جارحانہ انداز اپنا لیا۔ جس جھوٹ نے عوام کی بائیں جانب حرکت کو وقتی طور پر روکا تھا اُس نے بعد ازاں اُن کی ہماری جانب جوک در جوک آمد کو تقویت ہی بخشی۔‘‘ ضربوں کے تحت فیکٹری اور بیرک کی دوستی زیادہ قریبی ہوگئی۔مچلسن فیکٹری اور ہمسایہ رجمنٹ کے درمیان بتدریج استوار ہونے والے قریبی تعلق کے بارے میں ماسکو کا ایک مزدور سٹریلکوف بتاتا ہے۔ فیکٹری اور رجمنٹ، دونوں کے روز مرہ کے عملی سوالات کا فیصلہ اکثر مزدوروں اور سپاہیوں کی کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاسوں میں ہوتا تھا۔ سپاہیوں کے لئے شام کی ثقافتی اور تربیتی محافل کا انعقاد مزدور کرتے تھے، اُن کے لئے بالشویک پرچے لاتے تھے اور اُنہیں ہر طرح کی مدد دیتے تھے۔ سٹریلکوف کہتا ہے، ’’اگر کسی سپاہی کو سزا دی جاتی تو وہ شکایت لے کر فوراً ہمارے پاس آتے تھے۔ سڑک پر جلسوں کے دوران اگر کہیں مچلسن کے کسی مزدور کی تضحیک کی جاتی تھی تو اِس بارے میں کسی ایک سپاہی کو معلوم پڑنا ہی کافی ہوتا تھا اور اُس کی حفاظت کے لئے سپاہیوں کے گروہوں کے گروہ آ جاتے تھے۔ اُن دنوں بہت بار تضحیک کی جاتی تھی؛ جرمن پیسے، غداری اور خبیث مصالحت پسندانہ جھوٹ بول کر ہمیں طعنے دئیے جاتے تھے۔‘‘
جولائی کے آخر میں ماسکو کی فیکٹری اور کارخانہ کمیٹیوں کا اجلاس ایک معتدل پیغام سے شروع ہوا، لیکن اپنی کاروائی کے ایک ہفتے کے دوران انتہائی بائیں جانب چلا گیا اور آخر میں ایک قرارداد منظور کی، جو بہت واضح طور پر بالشویزم کے رنگ میں رنگی تھی۔ انہی دنوں میں ماسکو کے ایک مندوب پوڈبیلسکی نے ایک پارٹی اجلاس کو بتایا: ’’دس میں سے چھ علاقائی سوویتیں ہمارے ہاتھ میں ہیں… موجودہ منظم بہتان تراشی کے حملوں میں بالشویزم کی ٹھوس حمایت کرنے والے مزدور عوام ہی ہمیں بچا رہے ہیں۔‘‘ اگست کے آغاز میں ہی ماسکو کی فیکٹریوں کے انتخابات میں منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کی جگہ بالشویک منتخب ہونے لگے تھے۔ ماسکو کے ریاستی اجلاس کے وقت عام ہڑتال نے پارٹی کے اثرورسوخ میں اضافے کو بالکل واضح کر دیا تھا۔ ماسکو کے ’ازوستیا‘ نے لکھا: ’’یہ سمجھنے کا وقت آگیا ہے کہ بالشویک کوئی غیر ذمہ دار گروہ نہیں بلکہ منظم انقلابی جمہوریت کا ایک حصہ ہیں اور وسیع تر عوام اُن کے پیچھے کھڑے ہیں۔‘‘
پرولتاریہ کی حالت میں جولائی کی کمزوری نے صنعتکاروں کو ہمت دی تھی۔ بینکوں سمیت 13 سب سے اہم کاروباری تنظیموں کے ایک اجلاس میں’صنعت کے دفاع کی کمیٹی‘ تشکیل دی گئی تھی، جس نے تالہ بندیوں اور انقلاب کے خلاف ساری سیاسی جارحیت کی قیادت سنبھال لی۔ مزدوروں نے مزاحمت کی۔ بڑی ہڑتالوں اور دوسرے تصادموں کی ایک لہر پورے ملک میں پھیل گئی۔ پرولتاریہ کی زیادہ تجربہ کار صفوں نے محتاط طرزِ عمل اپنایا، لیکن نئی اور تازہ پرتیں زیادہ بے باکی سے لڑائی میں گئیں۔ دھاتکاری کے مزدور انتظار اور تیاری کر رہے تھے، لیکن ٹیکسٹائل، ربڑ اور کاغذکی صنعتوں کے مزدور تیزی سے میدان میں داخل ہو رہے تھے۔ محنت کش آبادی کی سب سے پسماندہ اور اطاعت گزار پرتیں اب ابھر رہی تھیں۔ چوکیداروں اور جمعداروں کی پرتشدد ہڑتال نے کیف کو ہلا کر رکھ دیا۔گھر گھر جا کر ہڑتالیوں نے بتیاں بجھا دیں، لفٹوں میں سے چابیاں نکال لیں اور سڑکوں کے دروازے کھول دئیے، وغیرہ وغیرہ۔ کسی بھی وجہ سے ابھرنے والے ہر تصادم نے صنعت کی ساری متعلقہ شاخ میں پھیل جانے اور اصولوں کی جدوجہد بن جانے کے رجحان کا مظاہرہ کیا۔ اگست میں پورے ملک کے محنت کشوں کی حمایت سے ماسکو کے چمڑے کے مزدوروں نے آدمی رکھنے اور نکالنے کا حق فیکٹری کمیٹیوں کو دینے کے لئے ایک طویل اور سرکش لڑائی کا آغاز کیا۔ اکثر اوقات بالخصوص صوبوں میں ہڑتالیں بہت ڈرامائی تھیں اور ہڑتالیوں کے ہاتھوں منیجروں اور انتظامیہ کی گرفتاریوں کی نہج تک پہنچ جاتی تھیں۔ حکومت نے مزدوروں کو خود پر قابو رکھنے کی تلقین کی، سرمایہ داروں سے اتحاد قائم کیا، کاسکوں کو دریائے ڈان کے طاس پر بھیج دیا اور روٹی اور فوجی رسد کی قیمتیں دوگنا کر دیں۔حکومت کی اِس حکمت عملی نے مزدوروں کے طیش کو انتہاؤں پر پہنچا دیا، لیکن سرمایہ داروں کو مطمئن نہیں کیا۔ بھاری صنعت کا ایک سرمایہ دار آورباخ شکایت کرتا ہے، ’’ حکومت والے خود اپنے ہی صوبائی کارندوں کا اعتبار نہیں کرتے تھے… وہ مزدوروں کے نمائندگان کو پیٹروگراڈ بلاتے تھے اور ماربل محل میں اُنہیں ڈانٹ پلاتے تھے اور اُنہیں صنعتکاروں اور انجینئروں کے ساتھ مصالحت پر مائل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔‘‘ لیکن اِس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہوا: ’’اُس وقت تک محنت کش عوام زیادہ پرعزم رہنماؤں اور جذباتی خطاب میں زیادہ کٹر لوگوں کے زیر اثر آنے لگے تھے۔‘‘
فیکٹریوں میں دوہری طاقت کے خلاف صنعتکاروں کا سب سے کلیدی ہتھیار معاشی شکست خوردگی بن گئی۔ اگست کے پہلے نصف حصے میں فیکٹری اور کارخانہ کمیٹیوں کے ایک اجلاس میں صنعتکاروں کی جانب سے پیداوار روکنے اور انتشار پھیلانے کے لئے اپنائی گئی سبوتاژ کی پالیسی کو کھل کر بے نقاب کیا گیا۔ مالیاتی سازش کے علاوہ خام مال چھپانے اور اوزاروں اور مرمت کے کارخانے بند کرنے کا عمل بھی جاری تھا۔ سرمایہ داروں کی اِس تخریب کاری کو جان ریڈ نے خوب بے نقاب کیا ہے، جس کی پہنچ بطور امریکی نامہ نگار بہت سے حلقوں تک تھی اور روسی بورژوا سیاستدانوں کے بے تکلف اعترافات کو سنتا تھا۔ ’’کیڈٹ پارٹی کی پیٹروگراڈ شاخ کے سیکرٹری نے مجھے بتایا ملک کی معاشی زندگی کی تباہی درحقیقت انقلاب کو رسوا کرنے کی مہم کا حصہ تھی۔ ایک اتحادی سفارتکار، جس کا نام نہ لینے کا میں نے وعدہ کیا، اپنے علم سے اِس کی تصدیق کرتا ہے۔ میں خارکوف کے نزدیک ایسی بہت سی کوئلے کی کانوں کے بارے میں جانتا ہوں جنہیں مالکان نے آگ لگا دی یا پانی چھوڑ دیا، ماسکو میں ایسی ٹیکسٹائل فیکٹریاں جن کے انجینئروں نے جاتے وقت مشینری کو خراب کر دیا، ایسے ریلوے حکام جو انجنوں کو ناکارہ بناتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔‘‘ تلخ معاشی حقیقت ایسی ہی تھی۔ یہ مصالحت پسندانہ خوش فہمیوں یا مخلوط حکومت کی سیاسیات سے نہیں بلکہ کورنیلوف کی سرکشی کی تیاری سے مطابقت رکھتی تھی۔
محاذ پر بھی عقب والی شرارت سے مقدس اتحاد آگے بڑھ رہا تھا۔ سٹینکیوچ شکایت کرتا ہے کہ انفرادی بالشویکوں کی گرفتاری سے مسئلہ حل نہیں ہوا۔’’جرائم کاری ہر طرف پھیلی ہوئی تھی، اِ س کی حدود کا واضح تعین نہیں تھا کیونکہ سارے عوام اس سے متاثرہ تھے۔‘‘ اگر سپاہی صبر کر رہے تھے تو صرف اِس لئے کہ انہوں نے کسی حد تک اپنی نفرت کو قابو کرنا سیکھ لیا تھا؛ جب بند ٹوٹے تو اُن کے احساسات کا اظہار اتنی ہی وضاحت سے ہوا۔ ڈبنسکی رجمنٹ کی ایک کمپنی کو جب نئے کمپنی کمانڈر کو تسلیم نہ کرنے پر منتشر ہونے کا حکم دیا گیا تو کئی دوسری کمپنیوں سمیت ساری رجمنٹ میں بغاوت پھیل گئی۔ جب رجمنٹ کمانڈر نے ہتھیاروں کے زور پر نظم و نسق بحال کرنے کی کوشش کی تو اُسے رائفلوں کے دستوں سے قتل کر دیا گیا۔ یہ 31 جولائی کو ہوا۔ اگر یہ سلسلہ دوسری رجمنٹوں تک نہیں پھیلا تو بھی افسروں نے اندر ہی اندر محسوس ضرور کیا کہ ایسا کسی بھی وقت ہو سکتا تھا۔
اگست کے وسط میں جنرل شیرباچیف نے صدر دفتر کو مطلع کیا: ’’موت کی بٹالینوں کے سوا ساری پیادہ فوج کا مزاج بہت غیر مستحکم ہے۔ چند ہی دنوں کے عرصے میں کچھ پیادہ یونٹوں کا رویہ بالکل اُلٹ جائے گا۔‘‘ کئی کمیسار سمجھنے لگے تھے کہ جولائی کے طریقوں سے کچھ بھی حل نہیں ہوگا۔ 22 اگست کو کمیسار یمانڈٹ نے اطلاع دی: ’’مغربی محاذ پر کورٹ مارشل کے عمل کی وجہ سے افسروں اور سپاہیوں میں خوفناک پھوٹ پڑ رہی ہے اور اِن عدالتوں کا تصور ہی رسوا ہو رہا ہے… ‘‘ کورنیلوف کا ’نجات کا پروگرام‘ صدر دفتر کی بغاوت سے بھی پہلے کافی حد تک آزمایا جا چکا تھا اور اِسی بند گلی میں لے گیا تھا۔
ملکیتی طبقات کو سب سے زیادہ خوف کاسکوں کے ٹوٹ کر بکھر جانے کا تھا۔ فروری میں پیٹروگراڈ میں کاسک رجمنٹوں نے بغیر کسی مزاحمت کے بادشاہت کو اُس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔ اُن کے اپنے علاقے نوووچرکاسک میں حکام نے انقلاب کے بارے میں تار چھپانے کی کوشش کی تھی اور الیگزینڈر دوم کی یاد میں یکم مارچ کی تقریب روایتی انداز میں ہی منعقد کی تھی۔ لیکن لمبے عرصے میں کاسک کسی زار کے بغیر بھی چلنے کو تیار تھے اور اپنے ماضی میں سے کچھ جمہوری روایات تک بھی ڈھونڈ نکالی تھیں۔ لیکن اِس سے آگے نہیں جانا چاہتے تھے۔ شروع میں کاسکوں نے پیٹروگراڈ سوویت میں اپنے نمائندے نہیں بھیجے تھے تاکہ مزدوروں اور سپاہیوں کی سطح پر نہ آ جائیں؛ اُنہوں نے کاسک افواج کی ایک سوویت تشکیل دی تھی، جس نے بارہ کاسک لشکروں کو اُن کے عقبی کمانڈروں کی شکل میں یکجا کر دیا۔ بورژوازی نے مزدوروں اور کسانوں کے خلاف اپنے منصوبوں کی بنیاد کاسکوں کو بنانے کی کامیاب کوشش کی۔
کاسکوں کے سیاسی کردار کا تعین ریاست میں اُن کے خصوصی مقام سے ہوتا تھا۔ کاسک ایک لمبے عرصے سے نچلے درجے کی مراعت یافتہ پرت تھے۔ کاسک کو ئی ٹیکس ادا نہیں کرتے تھے اور کسانوں سے کہیں زیادہ مختص کردہ زمین سے استفادہ حاصل کرتے تھے۔ڈان، کوبان اور ٹویر کے تین ہمسایہ علاقوں میں کاسکوں کی تیس لاکھ کی آبادی دو کروڑ تیس لاکھ ڈسیاٹن اراضی کی مالک تھی، جبکہ اِنہی علاقوں میں چار کروڑ تیس لاکھ کسان صرف ساٹھ لاکھ ڈسیاٹن کے مالک تھے۔ یوں کاسکوں کے پاس کسانوں سے اوسطاً پانچ گناہ زیادہ فی کس ملکیت تھی۔ تاہم کاسکوں کے اندر بھی زمین کی تقسیم بہت غیر مساوی تھی۔ اُن کے اپنے زمیندار اور کولاک تھے، جو شمالی علاقوں سے بھی زیادہ طاقتور تھے۔ اُن کے اپنے غریب بھی تھے۔ ریاست کے کہنے پر ہر کاسک کو اپنے گھوڑے اور سازوسامان کے ساتھ خود کو [جنگی خدمات کے لئے] پیش کرنا پڑتا تھا۔ امیر کاسک تو ٹیکس چھوٹ کے ذریعے یہ خرچہ باآسانی پورا کر لیتے تھے؛ لیکن نچلی صفیں اِس لازمی نوکری کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھیں۔ بنیادی مواد کافی حد تک کاسکوں کی اِس متضاد کیفیت کی وضاحت کرتا ہے۔ کاسکو ں کی نچلی پرتوں کے کسانوں کے ساتھ جبکہ بالائی پرتوں کے زمینداروں کے ساتھ قریبی روابط تھے۔ لیکن عین اسی وقت بالائی اور نچلی پرتوں کو اُن کی خصوصی کیفیت اور اُن کے مراعت یافتہ مقام کے شعور نے یکجا کر رکھا تھااور نہ صرف مزدور بلکہ کسان کی طرف بھی حقارت سے دیکھنے کی عادی تھے۔ اِسی چیز نے درمیانی کاسک کو بغاوتوں کو کچلنے کے لئے اتنا کارآمد بنایا تھا [۴]۔
جنگ کے سالوں میں، جب نوجوان نسل محاذ پر تھی، قدیم روایات کے حامل اور اپنے افسران سے وابستہ بوڑھے لوگ بااختیار بن گئے۔ کاسک جمہوریت کی بحالی کے نام پر کاسک زمینداروں نے انقلاب کے ابتدائی مہینوں کے دوران نام نہاد ’انتخابی مجالس‘ بلائیں، جنہوں نے سردار منتخب کئے۔ کاسک علاقوں میں سرکاری کمیساروں اور غیر کاسک آبادی کی سوویتوں کے پاس کوئی طاقت نہیں تھی، کیونکہ کاسک زیادہ طاقتور، زیادہ امیر اور بہتر طور پر مسلح تھے ۔ سوشل انقلابیوں نے کسان اور کاسک نمائندوں کی مشترکہ سوویتیں تشکیل دینے کی کوشش کی، لیکن کاسک راضی نہیں ہوئے کیونکہ اُنہیں یہ جائز خوف لاحق تھا کہ ایک زرعی انقلاب اُن کی زمین کا ایک حصہ بھی لے جائے گا۔ وزیر زراعت کی حیثیت سے چرنوف کا یہ جملہ لایعنی نہیں تھا: ’’کاسکوں کے لئے ضروری ہو گا کہ اپنی زمینوں میں تھوڑی سی گنجائش پیدا کریں۔‘‘ اِس سے بھی زیادہ اہم یہ حقیقت تھی کہ مقامی کسان اور پیادہ سپاہی خود بھی کاسکوں پر ایسے جملے زیادہ سے زیادہ کسنے لگے تھے: ’’ہم تمہاری زمین لے لیں گے، تم نے کافی عیاشی کر لی ہے۔‘‘ اسی سے جولائی کے مظاہرے کی طرف کاسک رجمنٹوں کے طرز عمل کی وضاحت ہوتی ہے۔
محاذ پر صورتحال درحقیقت مختلف تھی۔ 1917ء کے موسم گرما میں متحرک کاسک فوج میں کل 162 رجمنٹیں اور 171 الگ سکواڈرن تھے۔ محاذ پر اپنے دیہاتی روابط سے کٹے ہوئے کاسک ساری فوج کے ساتھ جنگ کے تجربات میں شریک تھے اور اگرچہ تاخیر سے سہی لیکن ساری پیادہ فوج والے ارتقا سے ہی گزرے، یعنی فتح پر یقین کھو بیٹھے، پاگل کر دینے والے تذبذب سے تلخ ہو گئے، کمان کے خلاف شکایت کرنے لگے ، امن اور گھر واپس لوٹنے کی خواہش کرنے لگے۔یوں محاذ پر اور عقب میں 65 میں سے 45 رجمنٹوں کو نظم و نسق قائم رکھنے کی ڈیوٹی سے رفتہ رفتہ ہٹا لیا گیا! کاسکوں کو ایک بار پھر فوجی پولیس والوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ سپاہی، مزدور اور کسان اُن کے خلاف بڑبڑاتے تھے اور اُنہیں 1905ء میں اُن کے جلادوں والے کام کی یاد دلاتے تھے۔ بہت سے کاسک، جو اپنے فروری کے طرز عمل پر فخر محسوس کرنے لگے تھے، دِل میں خلش محسوس کرنے لگے۔ کاسک اپنے کَوڑے پر لعنت بھیجنے لگا اور اپنے سازوسامان میں کَوڑا شامل کرنے سے اب اکثر انکار کر دیتا تھا۔ تاہم ڈان اور کیوبان کاسکوں میں بہت زیادہ بھگوڑے نہیں تھے؛ اُنہیں دیہات میں اپنے بزرگوں کا ڈر تھا۔ بالعموم پیادہ فوج کی نسبت کاسک یونٹ کافی لمبے عرصے تک افسروں کے قابو میں رہے۔
ڈان اور کیوبان کے علاقوں سے محاذ پر خبر آئی کہ کاسک سرداروں نے بزرگوں کے ساتھ مل کر محاذ کے کاسکوں سے پوچھے بغیر ہی اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔ اِس نے خوابیدہ سماجی تضادات کو بیدار کر دیا: محاذ والوں نے کہا، ’’ہم جب واپس جائیں گے تو اِن سے نبٹیں گے۔‘‘ ڈان میں ردِ انقلاب کے رہنماؤں میں شامل کاسک جرنیل کراسنوف نے تفصیل سے وضاحت کی ہے کہ محاذ پر کاسک یونٹ کیسے رفتہ رفتہ بکھرتے گئے: ’’اجلاس شروع ہو گئے اور انتہائی سرکش قراردادیں منظور ہونے لگیں… کاسکوں نے اپنے گھوڑوں کو باقاعدگی سے صاف کرنا اور کھلانا چھوڑ دیا۔ کسی قسم کے سنجیدہ پیشہ وارانہ کام کا کوئی خیال نہیں تھا۔ کاسکوں نے قرمزی پٹیوں سے خود کو آراستہ کر لیا، خود کو سرخ فیتوں سے سجا لیا اور اپنے افسروں کی کسی طور عزت نہیں کرتے تھے۔‘‘ تاہم اِس کیفیت تک پہنچنے سے پہلے کاسک لمبے عرصے تک ہچکچایا تھا، اپنا سر کھجاتے ہوئے سوچتا رہا تھا کہ کس طرف مڑے۔ اس لئے نازک مرحلے پر یہ اندازہ لگانا آسان نہیں تھا کہ اِس یا اُس کاسک یونٹ کا طرز عمل کیا ہوگا۔
8 اگست کو ڈان میں کاسکوں کی انتخابی مجلس نے آئین ساز اسمبلی کے انتخابات کے لئے کیڈیوں کے ساتھ الحاق کر لیا۔ یہ خبر فوراً ہی فوج میں پہنچ گئی۔ کاسک افسر یانوف لکھتا ہے، ’’کاسکوں میں اِس الحاق کی سخت مخالفت کی گئی۔ فوج میں کیڈٹ پارٹی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔‘‘ سپاہی کاسکوں کو چھیڑتے تھے، ’’تمہارے بوڑھے لوگوں نے تمہیں کیڈٹوں کو بیچ دیا ہے۔‘‘ کاسک آگے سے جواب دیتے تھے، ’’ہم اُن سے نبٹ لیں گے!‘‘ جنوب مغربی محاذ پر کاسکوں نے ایک خصوصی قرارداد منظور کی جس میں کیڈٹوں کو ’’محنت کش لوگوں کے بدترین دشمن اور اُنہیں غلام بنانے والے‘‘ قرار دیا گیا اور کیڈٹوں کے ساتھ معاہدے کی جرات کرنے والے تمام لوگوں کو انتخابی مجلس سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔
کورنیلوف، جو خود ایک کاسک تھا، کاسکوں کی مدد پر بھرپور انحصار کرتا تھا اور اپنے کُو کے لئے مقرر کردہ ڈویژن کو کاسک یونٹوں سے بھرا تھا۔ لیکن کاسکوں نے اِس ’’ کسان کے بیٹے‘‘ کے لئے تگ و دو نہیں کی۔ یہ دیہاتی لوگ اپنے علاقے میں اپنی زمین کا دفاع کرنے کے لئے خوب تیار تھے، لیکن کسی دوسرے کی لڑائی میں ٹانگ اڑانے کا اُن کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ تیسری گھڑ سوار کور بھی اپنے سے وابستہ کی گئی امیدوں کا جواز پیش کرنے سے قاصر رہی۔ کاسک جرمنوں سے میل جول کے مخالف تھے، تاہم پیٹروگراڈ کے محاذ پر وہ مزدوروں اور سپاہیوں کے ساتھ جوش و خروش سے ملے۔ یہی میل جول اور بھائی چارہ تھا جس نے کورنیلوف کے منصوبے کو کسی خونریزی کے بغیر ہی پاش پاش کر دیا۔ یوں پرانے روس کا آخری سہارا بھی کمزور ہو کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔
اسی دوران روس کی سرحد سے بہت دور فرانسیسی حدود میں ایک تجربہ گاہ کی سطح پر روسی افواج کے ’’احیا‘‘ کا ایک تجربہ کیا جا رہا تھا، جو بالشویکوں کی پہنچ سے دور ہونے کی وجہ سے بڑا معقول معلوم ہوتا تھا ۔ موسم گرما اور خزاں کے دوران روسی پریس میں کچھ مراسلے نمودار ہوئے تھے، لیکن واقعات کے بھنور میں کسی نے اُن پر توجہ نہیں دی تھی۔ اِن میں فرانس میں موجود روسی دستوں میں مسلح بغاوتوں کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ جنوری 1917ء میں ہی، یعنی انقلاب سے بھی پہلے، افسر لیسووسکی کے الفاظ میں فرانس میں دو روسی بریگیڈوں کے سپاہیوں کو ’’پورا یقین تھا کہ اُنہیں اسلحے کے عوض فرانس کو بیچ دیا گیا تھا۔‘‘ یہ سپاہی غلطی پر نہیں تھے۔ اپنے اتحادی ممالک کے آقاؤں سے اُنہیں ’’ذرہ برابر ہمدردی‘‘ نہیں تھی اور اپنے افسروں پر ذرہ برابر اعتماد نہیں تھا۔اِن برآمد کردہ بریگیڈوں کو انقلاب کی خبر ایسی کیفیت میں ملی جب وہ سیاسی طور پر پہلے سے تیار تھیں، تاہم اِس نے اُنہیں بے خبری میں آن لیا۔ انقلاب کی وضاحت کی توقع اُن افسروں سے تو نہیں کی جا سکتی تھی جو جتنے اونچے عہدے پر تھے اتنے ہی نقصان میں تھے، لیکن تارکین وطن میں شامل حب الوطن جمہوریت پسند کیمپوں میں نمودار ہوئے۔ لیسووسکی لکھتا ہے، ’’ایک سے زیادہ بار دیکھا گیا کہ محافظ رجمنٹوں کے کچھ سفارتکار اور افسران بڑی مروت سے سابقہ تارکین وطن کو کرسیاں پیش کرتے تھے۔‘‘ رجمنٹوں میں انتخابی ادارے تشکیل دئیے گئے اور جلد ہی کمیٹی کی قیات میں ایک لیٹویائی سپاہی آ گیا۔ یہاں بھی اُن کے ’’بیرونی عناصر‘‘ تھے۔ مزدوروں، کلرکوں اور جہازیوں پر مشتمل پہلی رجمنٹ، جو ماسکو میں تشکیل دی گئی تھی، نے ایک سال قبل فرانسیسی سرزمین پر قدم رکھا تھا اور موسم سرما کے دوران شیمپین کے کھیتوں پر خوب لڑی تھی۔ لیکن ’’بددلی کی بیماری سب سے پہلی اِسی رجمنٹ پر حملہ آور ہوئی۔‘‘ دوسری رجمنٹ، جس کی صفوں میں زیادہ تر کسان شامل تھے، زیادہ عرصے تک پرسکون رہی۔ دوسری بریگیڈ، جو تقریباً ساری کی ساری سائبیریائی کسانوں پرمبنی تھی، بالکل قابل اعتماد معلوم ہوتی تھی۔ فروری انقلاب کے بعد پہلی بریگیڈ نے جلد ہی ڈسپلن توڑ دیا۔ یہ فرانس کے لئے لڑنا اور مرنا نہیں چاہتی تھی۔ یہ نئے روس میں زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ اِس بریگیڈ کو عقب میں واپس بلا کر فرانس کے وسط میں لا کورٹائن (La Courtine) کے ایک کیمپ میں منتقل کر دیا گیا۔ لیسووسکی بتاتا ہے، ’’کافی بورژوا دیہاتوں کے درمیان یہ دس ہزار باغی روسی سپاہی، جو مسلح تھے، جن پر کوئی افسران نہیں تھے اور جو کسی کی بات ماننے سے انکاری تھے، اِس وسیع و عریض کیمپ میں بالکل انوکھی اور خصوصی قسم کی زندگی گزار رہے تھے۔‘‘ یہاں کورنیلوف کے پاس اپنے گرمجوش ہمدردوں کی معاونت سے فوج کی بحالی کے اپنے طریقے استعمال کرنے کا خصوصی موقع تھا۔ چنانچہ سپہ سالار نے تار کے ذریعے حکم دیا کہ سپاہیوں کو ’’قابو‘‘ کیا جائے اور سالونیکا بھیجا جائے۔ لیکن اِن باغیوں نے بات نہیں مانی۔ یکم ستمبر کو بھاری توپخانہ لایا گیا اور کورنیلوف کے دھمکی آمیز تار کی نقول کیمپ میں بھیجی گئیں۔ لیکن واقعات کی روش میں یہاں ایک نئی پیچیدگی گھس گئی۔ فرانسیسی اخباروں میں خبر نمودار ہوئی کہ خود کورنیلوف کو ہی ایک غدار اور ردِ انقلابی قرار دیا جا چکا تھا۔ باغی سپاہیوں نے پکا ارادہ کیا کہ سالونیکا میں مرنا بیکار تھا، وہ بھی ایک غدار جرنیل کے حکم پر۔ اسلحے کے عوض بیچ دئیے گئے اِن مزدوروں اور کسانوں نے اپنے لئے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ اُنہوں نے باہر کے کسی بھی بندے سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد سے کسی ایک سپاہی نے بھی کیمپ نہیں چھوڑا۔
پہلی بریگیڈ کے خلاف دوسری کو متحرک کیا گیا۔ توپخانے نے قریبی پہاڑی ڈھلوانوں پر جگہ سنبھال لی اور پیادہ فوج نے انجینئرنگ سائنس کے اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے لاکورٹائن کی طرف خندقیں کھودیں۔ مضافات میں نشانچیوں نے جگہیں سنبھال لیں تاکہ یقینی بنایا جائے کہ دو روسی بریگیڈوں کے محاذِ جنگ میں کوئی فرانسیسی داخل نہ ہو۔ یوں فرانسیسی حکام نے اپنی حدود میں ایک روسی خانہ جنگی کا سٹیج سجا لیا۔ یہ صرف ایک مشق تھی۔ بعد ازاں فرانسیسی حکمران طبقات نے خود روس کی سرزمین پر بھی ایک خانہ جنگی منظم کی۔
’’کیمپ پر روایتی بمباری شروع ہوئی۔‘‘ کئی سو سپاہی کیمپ سے باہر آئے اور ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اُنہیں پکڑ لیا گیا اور بمباری دوبارہ شروع کر دی گئی۔ یہ سلسلہ چار دنوں اور چار راتوں تک جاری رہا۔ کیمپ والوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ 6 ستمبر تک دو سو ایسے لوگ باقی تھے جنہوں نے خود کو زندہ، دشمن کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اُن کا سربراہ ایک یوکرائنی باشندہ گلوبا تھا، ایک کٹر، ایک دیوانہ: روس میں ہوتا تو اُسے ’بالشویک‘ کہا جاتا۔ توپخانے، مشین گنوں اور رائفلوں کے گولے اور گولیوں کی آڑ میں ہلہ بول دیا گیا۔ آخر کار باغیوں کو زیر کر لیا گیا۔ مرنے والوں کی تعداد کا کچھ پتا نہیں۔ نظم و نسق بہرحال بحال کر دیا گیا۔ لیکن چند ہی ہفتوں میں پہلی بریگیڈ پر بمباری کرنے والی دوسری بریگیڈ کو بھی یہی بیماری لاحق ہو گئی۔
روسی سپاہی اِس خوفناک وبا کو اپنے سفری تھیلوں، اپنے کوٹوں کی تہوں، اپنے دلوں کی خفیہ جگہوں میں سمندر پار لے گئے تھے۔ لاکورٹائن کی یہ ڈرامائی داستان اہم ہے؛ یہ ایک طرح سے شعوری طور پر مرتب کردہ خیالی تجربہ تھا، جس کا مقصد روسی فوج کے اُن داخلی عوامل کو آزمانا تھا جن کی بنیادیں ملک کی ماضی کی تمام تاریخ نے رکھی تھی۔

*****

[۱] مصنف جہاں بھی صرف پارٹی کا لفظ استعمال کرتا ہے تو اِس سے مراد بالشویک پارٹی ہی ہوتی ہے۔
[۲] اکتوبر انقلاب کے بعد نومولود مزدور ریاست کی خفیہ ایجنسی، جو 20 دسمبر 1917ء کو لینن کے حکم پر قائم کی گئی۔ اِس کا بنیادی مقصد ردِ انقلابی مزاحمت کو کچلنا تھا۔
[۳] پہلی جلد کے باب 11 کا حاشیہ نمبر ۳ دیکھئے۔
[۴] یاد رہے کی زارشاہی کے جبر کا سب سے آزمودہ اوزار کاسک رہے تھے۔ انقلاب کے بعد بھی بورژوازی نے اُنہیں انقلاب کے خلاف استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں