1853۔ ایک جاسوس کارل مارکس کے گھر آیا۔
”وہ لندن کے سب سے برے علاقے میں رہتا ہے۔ پورے گھر میں موجود فرنیچر کا ایک پیس بھی صحیح حالت میں نہیں۔ کرسیاں میز ٹوٹے پھوٹے ہیں۔ ہر طرف بدنظمی دکھائی دیتی ہے۔ ہر کرسی کی چوتھی ٹانگ غائب ہے۔ کرسیوں پر بیٹھنا خطرے سے خالی نہیں، وہ کسی جپسی کی طرح رہتا ہے۔“
”لیکن مارکس یا اس کی بیوی کو ان باتوں پر شرمندگی نہیں ہوتی۔ آپ کا انتہائی دوستانہ انداز میں استقبال کیا جاتا ہے۔ پائپ، تمباکو یا گھر میں خاطرتواضع کی کوئی بھی چیز موجود ہو، سلیقے سے پیش کی جاتی ہے۔ گھر میں سہولتوں کی کمی کا ازالہ دانش مندی سے بھرپور، دوستانہ گفتگوسے کیا جاتا ہے۔“
(مارسیلو متو کی ایکس وال سے۔ ترجمہ: فاروق سلہریا)