روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

پال شیفر کو سٹالن نے مروایا یا فرانکو نے؟

پال شیفر کو سٹالن  نے مروایا یا فرانکو  نے؟

جدوجہد رپورٹ

پال شیفر (1894-1938) جرمن کمیونسٹ پارٹی (کے پی ڈی)کا رکن تھا۔ جرمن شہر ارفرٹ (Erfurt) میں جن لوگوں نے شروع میں ہی پارٹی رکنیت حاصل کی،ان میں ایک پال شیفر بھی تھا۔ جوتے بنانے کی ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ بلدیاتی سیاست میں متحرک رہا۔ 1920 میں جب رائٹ ونگ حلقوں نے بغاوت کی کوشش کی تو اس بغاوت کے خلاف ہونے والی مزاحمت میں پال شیفر پیش پیش رہا۔

جب اسے شو فیکٹری سے نکال دیا گیا تو وہ Internationalen Arbeiterhilfe (ورکرز انٹرنیشنل ریلیف) میں فل ٹائمر کے طور پر کام کرنے لگا[ورکرز انٹرنیشنل ریلیف کا مقصد سویت یونین کے لوگوں کی مدد کرنا تھا]۔ اس حیثیت میں اس نے وِلی منزنبرگ(Willi Munsenberg )کے ہمراہ کام کیا۔ وِلی منزنبرگ کمیونسٹ یوتھ انٹرنیشنل کے مرکزی رہنما، پبلشر اور جرمن اشتراکی تحریک کا ایک اہم نام تھے۔

جب نازی بر سر اقتدار آ گئے تو پال شیفر کو جلا وطنی اختیار کرنی پڑی۔ پہلے فرانس گیا۔وہاں سے سویت روس چلا گیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد، مشرقی جرمنی میں کیمونسٹ بر سر اقتدار آئے تو اسے ایک ہیرو کا درجہ دیا گیا۔ ایک ایسا کمیونسٹ ہیرو جس نے انقلابِ سپین کے دوران فاشزم کے خلاف لڑتے ہوئے جان قربان کی۔ یاد رہے، انقلابِ سپین میں ہسپانوی انقلابیوں کی فرانکو آمریت کے خلاف مسلح جدوجہد کی مدد کے لئے دنیا بھر سے انقلابی سپین پہنچے تھے۔

مشرقی جرمنی میں ایک شو فیکٹری پال شیفر کے نام سے منسوب کی گئی۔ ایک فوجی یونٹ اس کے نام سے منسوب کیا گیا۔ اس کے گھر کے پر تختی لگائی گئی کہ پال شیفر نے ”فاشزم کے خلاف جدجہد کرتے اپنی جان دیدی“۔

مشرقی جرمنی میں کیمونسٹ حکومت کے خاتمے کے بعد جو دستاویزات سامنے آئیں ان سے پتہ چلا کہ پال شیفر کبھی بھی سپین نہ جا سکا تھا۔ پتہ یہ چلا کہ سویت روس میں اسے غداری کے الزام میں،بوٹووو کے مقام پر،ہلاک کر دیا گیا تھا اور اسے ایک مشترکہ قبر میں دفنا دیا گیا تھا۔

مشرقی جرمنی کی قیادت میں شامل پارٹی کے اہم قائدین مثلا ولہیلم پیک اور والٹر البرخت کو حقیقت معلوم تھی۔ در اصل کے پی ڈی کے جن ارکان کو سویت روس میں پھانسیاں دی گئیں، ان کو پہلے پارٹی رکنیت سے محروم کیا جاتاتھا۔رکنیت سے محرومی کی اس دستاویز پر پارٹی قیادت دستخط کرتی تھی۔

ہوا یوں تھا کہ پال شیفر کے ایک دوست نے،اس غرض سے کہ ارفرٹ میں موجود پال شیفر کی بیوہ کو پنشن مل سکے، یہ بات مشہور کی کہ وہ سپین میں فاشسٹوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوا ہے۔ مشرقی جرمنی کی قیادت کے لئے بھی یہ افسانہ ٹھیک تھا۔ یہ تسلیم کرنا کہ پال شیفر جیسا کامریڈ سٹالنزم کا شکار ہوا، باعثِ شرمندگی تھا۔

1989 میں پال شیفر کی بعد از موت بحالی ہوئی۔ اس کے مکان پر پرانی تختی تو اب بھی موجود ہے لیکن ایک نئی تختی بھی لگائی گئی کہ اسے دراصل سویت خفیہ پولیس نے ہلاک کیا تھا۔ ہرمن ویبر (Herman Weber)نے ان جرمن کیمونسٹوں پر ایک کتاب لکھی ہے جو سویت یونین میں ہلاک ہوئے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اتنے جرمن کمیونسٹ ہٹلر کے ہاتھوں ہلاک نہیں ہوئے تھے جتنے سٹالن نے مروائے۔

(ایلکس ڈی یونگ کی فیس بک وال سے ماخوذ۔ ایلکس انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ویجوکیشن [ایمسٹرڈیم] کے شریک ڈائریکٹر ہیں)۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں