روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

پرولتاریہ اور کسان

پرولتاریہ اور کسان

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

روسی پرولتاریہ نے اپنے پہلے سیاسی قدم ایک مطلق العنان ریاست کے تخلیق کردہ سیاسی حالات میں اٹھانے سیکھے۔ قانونی طور پر ہڑتالوں پر پابندی، زیر زمین حلقے، غیر قانونی اعلانات، سڑکوں پر مظاہرے، پولیس اور فوجی دستوں سے تصادم… یہ وہ تربیت گاہ تھی جسے تیزی سے پھیلتی ہوئی سرمایہ داری کے آگے آہستگی سے ہتھیار ڈالتی مطلق العنانیت کے امتزاج نے تخلیق کیا تھا۔ دیوہیکل صنعتی اداروں میں مزدوروں کے ارتکاز، حکومتی جبر کے شدید کردار اور سب سے بڑھ کے نوجوان اور تازہ پرولتاریہ کے اضطراب سے جنم لینے والی سیاسی ہڑتالیں، جو مغربی یورپ میں بہت کم ملتی تھیں، روس میں جدوجہد کا بنیادی طریقہ کار بن گئیں۔ حالیہ صدی کے آغاز سے ہڑتالوں کے اعداد و شمار روس کی سیاسی تاریخ کا سب سے متاثر کن اعشاریہ ہیں۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ اپنے متن پر اعداد و شمار کا بوجھ نہ ڈالیں، لیکن ہم 1903ء سے 1917ء تک کی ہڑتالوں کا جدول شائع کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف فیکٹری معائنوں سے گزرنے والے صنعتی اداروں کے ہیں۔ریلوے، کانکنی کی صنعتیں، عام میکانکی اور چھوٹے ادارے اورزراعت کئی وجوہات کی بنا پر اِس شمار میں شامل نہیں ہیں۔ لیکن اِس کے باوجود ہڑتالوں کے گراف میں تبدیلی کچھ غیر واضح نہیں ہے۔

ہمارے سامنے ایک ایسی قوم کے سیاسی درجہ حرارت کا سب سے انوکھا گراف ہے جس کی کوکھ میں ایک عظیم انقلاب پک رہا تھا۔کم پرولتاریہ پر مشتمل ایک پسماندہ ملک میں، جہاں فیکٹری معائنے سے گزرنے والے تمام اداروں میں 1905ء میں 15 لاکھ اور 1917ء میں بیس لاکھ مزدور تھے، ہڑتالوں کی تحریک نے ایسی جہتیں اختیار کیں جو اِس سے پہلے دنیا میں کہیں نہیں دیکھی گئی تھیں۔ پیٹی بورژوا جمہوریت کی کمزوری اور کسانوں کی منتشر تحریک کے اندھے پن کے حالات میں مزدوروں کی ہڑتال وہ قلعہ شکن ہتھوڑا بن گئی جس سے ایک بیدار ہوتی ہوئی قوم مطلق العنانیت کی دیواروں پر ضربیں لگا رہی تھی۔ 1905ء کی سیاسی ہڑتالوں میں حصہ لینے والے مزدوروں کی تعداد 18,43,000 تھی (یہاں مختلف ہڑتالوں میں حصہ لینے والے مزدوروں کا شمار ظاہر ہے دو بار کیا گیا ہے) اگر ہمیں روس کے سیاسی کیلنڈر کے بارے کچھ بھی معلوم نہ ہو تو صرف یہی ایک اعشاریہ جدول میں سے انقلاب کے سال کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

سیاسی ہڑتالوں میں حصہ لینے والے مزدوروں کی تعداد (ہزاروں میں)

روس جاپان جنگ کے پہلے سال 1904ء میں فیکٹری معائنوں سے پتا چلتا ہے کہ کل 25000 مزدوروں نے ہڑتال کی۔ 1905ء میں سیاسی اور معاشی ہڑتالوں میں مزدوروں کی کل تعداد 28,63,000 تھی، یعنی پچھلے سال سے 115 گنا زیادہ۔یہ غیر معمولی حقیقت بذات خود گواہ ہے کہ واقعات کی روش کے زور سے ایسی اَن دیکھی انقلابی سرگرمیوں پر اترنے والے پرولتاریہ کو ہر قیمت پر اپنی گہرائی سے ایک تنظیم تخلیق کرنا تھی، جو اس کی جدوجہد اور عظیم فرائض کی وسعت سے مطابقت رکھتی ہو۔ یہ تنظیم سووتیں تھیں، جنہیں پہلے انقلاب نے قائم کیا تھا اور عام ہڑتال اوراقتدار پر قبضے کی جدوجہد کا اوزار بنایا تھا۔

دسمبر 1905ء کی شورش میں شکست کھانے کے بعد اگلے دو سال تک پرولتاریہ نے پہلے سے جیتی ہوئی حاصلات کے دفاع کی دلیرانہ کوششیں کی۔ جیسا کہ ہڑتالوں کے اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ یہ سال بھی انقلاب کا ہی تسلسل تھے، لیکن یہ اس کے زوال کے سال تھے۔ ہڑتالوں کے اعداد و شمار کے آئنے میں اس کے بعد کے چار سال (1908-11ء) ایک فتح یاب ردِ انقلاب کے سال تھے۔ اِن حالات میں ایک صنعتی بحران نے اُس پرولتاریہ کو مزید تھکا دیاجس کا خون پہلے ہی نچڑ چکا تھا۔ گراوٹ کی گہرائی ابھار کی اونچائی جتنی ہی ہے۔اِس قومی عروج و زوال کو اِن سادہ اعداد و شمار میں دیکھا جا سکتا ہے۔

1910ء سے شروع ہونے والے صنعتی عروج نے مزدوروں کو اُن کے پیروں پر کھڑا کیا اور اُن کی توانائی کو نئی تحریک دی۔ 1912-14ء کے اعداد و شمار تقریبا 1905-07ء والے ہی ہیں، لیکن الٹی ترتریب میں: اوپر سے نیچے نہیں بلکہ نیچے سے اوپر۔ نئی اور بلند تر تاریخی بنیادوں پر اب کثیر اور پہلے سے زیادہ تجربہ کار مزدور کھڑے تھے اور یوں ایک نیا انقلابی دھارا شروع ہوا۔ 1914ء کا پہلاحصہ سیاسی ہڑتالوں کی تعداد کے لحاظ سے پہلے انقلاب جیسا ہی تھا۔ لیکن جنگ چھڑ نے سے اس سارے عمل میں رخنہ پڑ گیا۔ جنگ کے پہلے سال محنت کش طبقے کے سیاسی جمود پر مبنی تھے، لیکن 1915ء کے موسم بہار میں ہی یہ بے حسی ختم ہونے لگی۔ سیاسی ہڑتالوں کا نیاسلسلہ شروع ہوا، جو فروری 1917ء میں سپاہیوں اور مزدوروں کی سرکشی پر منتج ہوا۔

بڑے پیمانے کی جدوجہد کے تیز اتار چڑھاؤ نے چند ہی سالوں میں روسی پرولتاریہ کو یکسر تبدیل کر دیا تھا۔ وہ فیکٹریاں جو پولیس کے کسی ایک من مانے اقدام پر متفقہ طور پر ہڑتال کر دیتی تھیں، اب [1905ء کے انقلاب کی پسپائی کے بعد] مکمل طور پر اپنا انقلابی رنگ کھو چکی تھیں اور حکام کے انتہائی وحشیانہ جرائم کو بھی کسی مزاحمت کے بغیر قبول کر لیتی تھیں۔بڑی شکستیں لمبے عرصوں کے لئے لوگوں کو بے ہمت بنا دیتی ہیں۔ شعوری انقلابی عناصر عوام پر اپنا اثر و رسوخ کھو دیتے ہیں۔ تعصبات اور توہمات، جو مکمل طور پر مٹے نہیں ہوتے، دوبارہ ابھر آتے ہیں۔ اِن وقتوں میں دیہاتوں سے آنے والے تارکین نے مزدوروں کی صفوں کو رقیق کر دیا تھا۔ انقلاب پر یقین کھو دینے والے طنزیہ انداز سے اپنے سر جھٹکتے تھے۔ 1907-11ء کے سال ایسے ہی تھے۔لیکن عوام میں جاری نامیاتی عوامل شکست کے نفسیاتی زخموں کو مندمل کر رہے تھے۔ واقعات کا نیا موڑ یا سطح کے نیچے ایک معاشی اضطراب ایک نئے سیاسی عمل کا آغاز کرتا ہے۔ انقلابی عناصر کو دوبارہ سامعین مل جاتے ہیں۔ جدوجہد ایک بلند پیمانے پر دوبارہ شروع ہوتی ہے۔

روسی محنت کش طبقے میں پائے جانے والے دو کلیدی رجحانات کو سمجھنے کے لئے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ منشویزم (Menshevism) نے حتمی شکل رجعت اور زوال کے سالوں میں اختیار کی۔ اس کا انحصار مزدوروں کی ایک قلیل پرت پر تھا جو انقلاب سے ناطہ توڑ چکی تھی۔ جبکہ بالشویزم (Bolshevism)، جو رجعت کے عرصے میں بری طرح ٹوٹ پھوٹ گیا تھا، جنگ سے پہلے کے سالوں میں نئی انقلابی لہر پر تیزی سے ابھرنے لگا۔ ”سب سے توانا اور نڈر عنصر، جو جدوجہد، مزاحمت اور مسلسل تنظیم کے لئے ہمیشہ تیار رہتا ہے، وہ عنصر ہے جو لینن کے گرد مجتمع لوگوں اور تنظیموں پر مشتمل ہے۔“اِن الفاظ میں محکمہ پولیس نے جنگ سے پہلے کے سالوں میں بالشویکوں کے کام کا اندازہ لگایا۔

جولائی 1914ء میں جب سفارتکار اُس صلیب میں آخری کیل ٹھونک رہے تھے جس پر یورپ کو چڑھایا جانا تھا، پیٹروگراڈ آگ پر رکھے کسی برتن کی طرح تپ رہا تھا۔ جمہوریہ فرانس کے صدر پونکارے کو سڑک پر جاری لڑائی کی آخری بازگشت اور حب الوطنی کے مظاہرے کی پہلی سرسراہٹ میں الیگزینڈر سوم (Alexander III) کی قبر پر پھول چڑھانے پڑے تھے۔

اگر جنگ نہ چھڑتی تو کیا 1912-14ء کی عوامی شورش زارشاہی کے براہ راست خاتمے پر منتج ہو سکتی تھی؟ اِس سوال کا یقینی جواب دینا بڑا مشکل ہے۔ یہ عمل آخر کارانقلاب تک ہی جاتا، لیکن اِن حالات میں انقلاب کو کن مراحل سے گزرنا پڑنا تھا؟ کیا اِسے ایک اور شکست نہیں ہو جانی تھی؟ کسانوں کو ابھارنے اور فوج کو جیتنے کے لئے مزدوروں کو کتنا وقت درکار تھا؟ اِن تمام سمتوں میں صرف اندازے لگائے جا سکتے ہیں۔ جنگ نے بہرحال پہلے پہل اِس عمل کو پیچھے دھکیل دیا، لیکن اگلے مرحلے میں اِسے زیادہ شدت سے تیز تر کردیا اور اس کی زبردست فتح کو یقینی بنایا۔

طبل کی پہلی آواز پر انقلابی تحریک دم توڑ گئی۔ مزدوروں کی زیادہ فعال پرتوں کو فوج میں بھرتی کر لیا گیا۔ انقلابی عناصر کو فیکٹریوں سے نکال کر محاذ پر پھینک دیا گیا۔ ہڑتال کرنے پر سخت سزائیں عائد کی گئیں۔ محنت کشوں کی پریس کا صفایا کر دیا گیا۔ٹریڈ یونینوں کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ ورکشاپیں لاکھوں خواتین، نوجوانوں اور کسانوں سے بھر گئیں۔ جنگ اور اِس کے ساتھ انٹرنیشنل [۱] کی بربادی نے مزدوروں کو بڑی بیگانگی میں مبتلا کیا اور فیکٹری انتظامیہ، جس نے اپنا سر اٹھانا شروع کر دیا تھا، کے لئے ممکن بنا دیا کہ وہ حب الوطنی کے نام پر مزدوروں کے ایک بڑے حصے کو اپنے ساتھ کر لے اور زیادہ بااعتماد اور پرعزم مزدوروں کوبے عمل ہو کر انتظار کرنے پر مجبور کر دے۔انقلابی نظریات کو بڑی مشکل سے چھوٹے اور خاموش حلقوں میں زندہ رکھا گیا۔ فیکٹریوں میں کوئی اِس خوف سے خود کو ”بالشویک“ کہنے کی جرات نہیں کرتا تھا کہ نہ صرف گرفتار ہو جائے گا بلکہ پسماندہ مزدور اسے ماریں گے۔

دوما کا بالشویک دھڑا، جو تعداد میں قلیل تھا، جنگ کے آغاز پر مناسب طور سے اپنا فریضہ ادا نہیں کر پایا۔ منشویک اراکین کے ساتھ مل کر اِس نے ایک قرارداد پیش کی جس میں ”کہیں سے بھی ہونے والے تمام حملوں کے خلاف لوگوں کی تہذیبی بہبود کا تحفظ“ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ دباؤ میں آ کر اختیار کئے گئے اِس موقف کو دوما نے خوب سراہا۔ روس میں پارٹی کی کسی ایک بھی تنظیم یا گروہ نے کھل کر لینن کا ڈیفیٹسٹ [۲] موقف نہیں اپنایا۔ تاہم نرودنکوں [۳] اور منشویکوں [۴]کے مقابلے میں بالشویکوں میں حب الوطنوں کی تعداد نہ ہونے کی برابر تھی۔ بالشویکوں نے 1914ء میں جنگ کے خلاف اشاعتی اور زبانی ایجی ٹیشن شروع کر دی۔ دوما کے بالشویک اراکین نے جلد ہی اپنا توازن بحال کیا اور انقلابی کام دوبارہ شروع کر دیا، جس کے بارے میں جاسوسی کے انتہائی جدید نظام کی بدولت حکام بخوبی آگاہ تھے۔ یہی بتانا کافی ہو گا کہ جنگ کے آغاز میں پارٹی کی پیٹرزبرگ کمیٹی کے سات میں سے تین ارکان خفیہ پولیس کے لئے کام کرتے تھے۔ یوں زار شاہی انقلاب کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی رہی۔ نومبر میں بالشویک اراکین دوما کو گرفتار کر لیا گیا۔ پورے ملک میں پارٹی کی بیخ کنی شروع ہو گئی۔فروری 1915ء میں دوما کے بالشویک دھڑے پر عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔بالشویک اراکین نے بڑی احتیاط سے کام لیا۔دھڑے کا نظریہ دان کامینیف تھا،جو لینن کے ڈیفیٹسٹ موقف سے الگ رہا؛ یہی کچھ پیٹرووسکی نے کیا، جو آج کل یوکرائن میں سنٹرل کمیٹی کا سربراہ ہے۔ محکمہ پولیس نے اطمینان کا اظہار کیا کہ دوما کے بالشویک اراکین کو ملنے والی سخت سزاؤں سے محنت کشوں میں کوئی احتجاجی تحریک بیدار نہیں ہوئی۔

یوں محسوس ہوتا تھا گویا جنگ نے ایک نیا محنت کش طبقہ پیدا کر دیا تھا۔ یہ بڑی حد تک ایک حقیقت بھی تھی: پیٹروگراڈ میں 40 فیصد مزدور نئے تھے۔ انقلاب کا تواتر یکدم ٹوٹ گیا تھا۔ دوما کے بالشویک دھڑے سمیت جنگ سے پہلے جو کچھ تھا، اچانک معزول ہو کر پس منظر میں چلا گیا اور تغافل میں کہیں گم ہو گیا۔ لیکن اِس خاموشی، حب الوطنی اور کسی حد تک شاہ پرستی کے نیچے بھی عوام میں نئی بغاوت مسلسل مجتمع ہو رہی تھی۔ 

اگست 1915ء میں زار کے وزرا ایک دوسرے کو بتا رہے تھے کہ مزدور ”ہر طرف جرمنوں کی طرف سے کی جانے والی غداری، دھوکہ دہی اور سبوتاژ کو پکڑ رہے ہیں اور محاذ پر ناکامیوں کے قصورواروں کو ڈھونڈنے کے لئے بڑے پرجوش ہیں۔“یہ درست ہے کہ اس وقت بیدار ہونے والی بڑے پیمانے کی تنقید، جو جزوی طور پر پُر خلوص اور جزوی طور پر دفاعی آڑ کے لئے تھی، اکثر ”مادر وطن کے دفاع“ کا نقطہ نظر اپنا لیتی تھی۔ لیکن یہ خیال صرف نقطہ آغاز تھا۔ مزدوروں کی بے چینی گہری سے گہری ہوتی چلی جا رہی تھی، آقاؤں، بلیک ہنڈرڈ سے وابستہ مزدوروں اور انتظامیہ کے ملازمین کو خاموش کروا رہی تھی، جس سے مزدور بالشویکوں کو اپنا سر اٹھانے کا موقع مل رہا تھا۔

تنقید سے عوام عمل کی طرف بڑھ گئے۔اُن کے غیض و غضب نے سب سے پہلے خوراک کے مسئلے پر ہونے والے دنگوں میں اپنا اظہار کیا، جو بعض اوقات مقامی سطح پر شورش کی نہج تک پہنچ جاتے تھے۔ فیکٹریوں میں فوجی خدمات انجام دینے والے مزدوروں کی نسبت خواتین، بوڑھے اور لڑکے بازاروں اور چوراہوں میں خود کو زیادہ نڈر اور آزاد محسوس کرتے تھے۔مئی میں ماسکو میں تحریک نے جرمنوں کے خلاف بلوے کی شکل اختیار کر لی، اگرچہ اس کے شرکا علاقے کے لفنگے تھے، جنہیں پولیس کی نگرانی میں مسلح کیا گیا تھا۔ بہرحال ایسے کسی بلوے کے ماسکو میں ممکنات نے ثابت کر دیا کہ پسماندہ پرتوں پر اپنے نعرے اور ڈسپلن مسلط کرنے کے لئے مزدور ابھی پوری طرح بیدار نہیں تھے۔ خوراک کے خلفشار نے پورے ملک میں پھیل کر جنگ کا سحر توڑ دیا اور ہڑتالوں کی راہ ہموار کی۔

فیکٹریوں میں خام قوتِ محنت کے بہاؤ اور جنگ کے منافعوں کی ہوس نے ہر جگہ محنت کے حالات بدتر کر دئیے اور استحصال کے انتہائی ننگے طریقوں کو بڑھاوا دیا۔ ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافے نے اجرتوں کو گرا دیا۔ اس کا بڑے پیمانے پر ناگزیر اظہار معاشی ہڑتالوں میں ہوا، جو جتنی تاخیر سے ہو رہی تھیں اتنی ہی طوفانی تھیں۔ ہڑتالوں کے ساتھ جلسے، سیاسی قراردادوں کی منظوریاں اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہو رہی تھیں، جن میں اکثر گولیاں چلتی تھیں اور لوگ مرتے تھے۔
کلیدی جدوجہد ٹیکسٹال کے مرکزی علاقے میں ابھری۔ 5 جون کو پولیس نے کوستروما میں پارچہ بافوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی: 4 افراد مارے گئے، 9 زخمی ہوئے۔10 اگست کو فوجی دستوں نے ایوانووو-وزنیسنسک کے مزدوروں پر گولی چلا دی: 16مارے گئے، 30زخمی ہوئے۔ ٹیکسٹال کے مزدوروں کی اِس تحریک میں مقامی بٹالین کے کچھ سپاہی بھی شامل تھے۔ ایوانووو – وزنیسنسک میں چلنے والی گولی کے ردِ عمل میں ملک کے کئی حصوں میں احتجاجی ہڑتالیں ہوئیں۔ اس کے ساتھ معاشی جدوجہد بھی جاری تھی۔ ٹیکسٹال کے مزدور اکثر ہراول صفوں میں ہوتے تھے۔

اگر دباؤ کی طاقت اور نعروں کی صراحت دیکھی جائے تو1914ء کے پہلے نصف حصے کے مقابلے میں یہ تحریک پیچھے کی جانب بڑا قدم تھا۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے کیونکہ نئے لوگ بڑی تعداد میں جدوجہد میں داخل ہو رہے تھے اور مزدوروں کی رہنما پرت مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ چکی تھی۔ بہرحال جنگ کی اِن پہلی ہڑتالوں میں بھی آنے والی عظیم لڑائیوں کی بازگشت سنی جاسکتی تھی۔ وزیر انصاف خووستوف نے 16 اگست کو کہا: ”اگر اِس وقت مزدوروں کے کوئی مسلح مظاہرے نہیں ہو رہے تو صرف اس وجہ سے کہ اُن کے پاس اب تک کوئی تنظیم نہیں ہے۔“ گوریمائیکن نے زیادہ جامع انداز میں کہا: ”مزدور رہنماؤں کا مسئلہ یہ ہے کہ اُن کے پاس کوئی تنظیم نہیں ہے، کیونکہ دوما کے پانچ اراکین کی گرفتاری سے یہ ٹوٹ گئی تھی۔“وزیر داخلہ نے کہا: ”ہمیں دوما کے اراکین (بالشویکوں) کو چھوڑنا نہیں چاہئے، وہ سب سے خطرناک شکل میں تحریک کے مرکز کو منظم کر رہے ہیں۔“اِن لوگوں نے کم از کم اپنے حقیقی دشمن کو پہچاننے میں کوئی غلطی نہیں کی۔

جب انتہائی خوف اور لبرل رعایات دینے پر آمادگی کی کیفیت میں بھی حکومت مزدوروں کے انقلاب کے سر، یعنی بالشویکوں پر پہلے ہی کی طرح ضرب لگانا ضروری سمجھ رہی تھی، بڑی بورژوازی منشویکوں کیساتھ اشتراک قائم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ہڑتالوں کی تحریک کی وسعت سے خوفزدہ ہو کر لبرل صنعتکاروں نے مزدوروں کے منتخب کردہ نمائندے ’فوجی صنعتی کمیٹیوں‘ کی قیادت میں شامل کرا کے اُن پر حب الوطنی کا ڈسپلن لاگو کرنے کی کوشش کی۔ وزیر داخلہ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ گچکوف کے تخلیق کردہ اِس منصوبے کی مخالفت کرنا بڑا مشکل تھا۔ ”یہ سارا بندوبست حب الوطنی کے جھنڈے تلے اور دفاعی مفادات کے تحت کیا جا رہا ہے۔“ ہم یہاں بتاتے چلیں کہ پولیس بھی سوشل حب الوطنوں [۵] کو گرفتار کرنے سے ہچکچاتی تھی اور اُنہیں ہڑتالوں اور انقلابی ”زیادتیوں“کے خلاف اپنا ساتھی سمجھتی تھی۔ درحقیقت حب الوطن سوشلزم کی طاقت پر اُن کا انتہائی پختہ اعتماد ہی تھا جس کی بنیاد پر خفیہ پولیس نے وثوق سے کہا کہ جب تک جنگ جاری ہے کوئی سرکشی نہیں ہو گی۔

فوجی صنعتی کمیٹیوں کے انتخابات میں ڈیفنسسٹ [۶] اقلیت میں رہے، جن کی قیادت دھاتکاری کا ایک پرجوش مزدور گووزڈیف کر رہا تھا، جس کا تذکرہ ہم بعد میں انقلاب کی مخلوط حکومت کے وزیر محنت کی حیثیت سے کریں گے۔ تاہم جو بالشویکوں کی قیادت میں کمیٹیوں کا بائیکاٹ کرنا چاہتے تھے اُن کے خلاف ڈیفنسسٹوں کو نہ صرف لبرل بورژوازی بلکہ افسر شاہی کی حمایت بھی حاصل تھی۔ منشویکوں کا موقف کمیٹی کے صنعتکاروں کے سامنے اُن کے ایک نمائندے کی تقریر سے واضح ہوتا ہے: ”آپ کو مطالبہ کرنا چاہئے کہ پہلے سے موجود افسر شاہی منظر عام سے ہٹ جائے اور موجودہ سماجی ڈھانچے میں اپنا وارث آپ کو بنادے۔“ یہ نوخیز سیاسی دوستی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی تھی۔ انقلاب کے بعد اسے اپنا پکا ہوا پھل دینا تھا۔

جنگ نے زیر زمین تحریک کو خوفناک حد تک بنجر کر دیا۔ دوما کے دھڑے کی گرفتاری کے بعد بالشویکوں کے پاس مرکزیت پر مبنی کوئی پارٹی تنظیم نہیں تھی۔ علاقائی کمیٹیوں کا وجود بڑا ضمنی سا تھا اور اُن کا مزدور علاقوں سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ صرف بکھرے ہوئے گروہ، حلقے اور افراد ہی سرگرم تھے۔ تاہم دوبارہ بحال ہوتی ہوئی ہڑتالی تحریک نے اُنہیں فیکٹریوں میں کچھ حوصلہ اور ہمت دی۔ وہ رفتہ رفتہ ایک دوسرے سے رابطے میں آنے لگے اور علاقائی تعلقات استوار کرنے شروع کئے۔ زیرزمین کام دوبارہ شروع ہو گیا۔ محکمہ پولیس کے ایک خط کے مطابق: ”جنگ کے آغاز سے ہی لینن اسٹ، جن کے ساتھ زیر زمین سوشل ڈیموکریٹ تنظیموں کی وسیع اکثریت ہے، اپنے بڑے مراکز (مثلاً پیٹروگراڈ، ماسکو، خارکوف، کیف، تولا، کوستروما، صوبہ ولادیمیر، سمارا) میں بڑی تعداد میں انقلابی استدعائیں جاری کر رہے ہیں کہ جنگ کو روکا جائے، حکومت کو گرایا جائے اور ایک جمہوریہ قائم کی جائے۔ اور اس کام کا نتیجہ واضح طور پر مزدوروں کی ہڑتالوں اور بدنظمی کی شکل میں برآمد ہوا ہے۔“

محنت کشوں کے سرما محل کی جانب مارچ [۷] کی روایتی سالگرہ، جو پچھلے سال خاموشی سے گزر گئی تھی، 9 جنوری 1916ء کو ایک وسیع پیمانے کی ہڑتال کی شکل میں منائی گئی۔اس سال ہڑتالوں کی تحریک دو گنا ہو گئی۔ ہر بڑی اور لمبی ہڑتال میں پولیس کے ساتھ تصادم ہوئے۔ فوجی دستوں کے ساتھ مزدور بڑے دوستانہ انداز میں ملتے تھے اور خفیہ پولیس نے ایک سے زیادہ بار اس تشویشناک حقیقت کا مشاہدہ کیا۔

جنگی صنعتوں نے تیزی سے پھیلتے ہوئے ارد گرد کے تمام وسائل کو ہڑپ کر کے اپنی ہی بنیادوں کو کمزور کیا۔ امن کے حالات کی پیداواری شاخیں مرنے لگیں۔ ہر طرح کی منصوبہ بندیوں کے باجود صنعت کو ’ریگولیٹ‘ نہیں کیا جا سکا۔طاقتور فوجی صنعتی کمیٹیوں کی مخالفت کے سامنے افسر شاہی بے بس تھی، لیکن اُس نے یہ ذمہ داری بورژوازی کے حوالے کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ کوئلے کی کانیں، دکانیں اور پولینڈ کی فیکٹریاں جلدی ہی بند ہونے لگیں۔ جنگ کے پہلے سال ملک کی صنعتی قوت کا پانچواں حصہ منقطع ہو گیا۔ 50 فیصد تک پیداوار جنگ اور فوج کی ضروریات پوری کرنے پر صرف ہو رہی تھی، جس میں ملک کی 75 فیصد ٹیکسٹائل کی پیداوار بھی شامل تھی۔ حد سے زیادہ بوجھ سے لدی ٹرانسپورٹ فیکٹریوں کو ضروری ایندھن اور خام مال مہیا کرنے کے لئے ناکافی ثابت ہو رہی تھی۔ جنگ نہ صرف ساری قومی آمدن ہڑپ کر گئی بلکہ ملک کے بنیادی سرمائے کو بھی چاٹنے لگی۔

مزدوروں کو کچھ دینے پر صنعتکاروں کی آمادگی کم سے کم ہونے لگی اور حکومت حسب معمول ہر ہڑتال کا جواب شدید جبر سے دے رہی تھی۔ اِس سب نے مزدوروں کے شعور کو بالخصوص سے بالعموم اور معیشت سے سیاست کی طرف دھکیل دیا: ”ہم سب کو اکٹھے ہڑتال کرنا ہوگی۔“ یوں عام ہڑتال کا خیال ابھرا۔ عوام کی ریڈیکلائزیشن کے عمل کا سب سے واضح اظہار ہڑتالوں کے اعداد و شمار میں ہوتا ہے۔ 1915ء میں معاشی ہڑتالوں کی نسبت سیاسی ہڑتالوں میں ڈھائی گنا کم مزدوروں نے حصہ لیا اور 1916ء میں دو گنا کم مزدوروں نے۔ لیکن 1917ء کے پہلے چند مہینوں میں سیاسی ہڑتالوں میں حصہ لینے والوں کی تعداد معاشی ہڑتالوں کی نسبت چھ گنا زیادہ تھی۔ پیٹروگراڈ کا کردار ایک ہندسے میں نظر آتا ہے: جنگ کے سالوں میں ہونے والی 72 فیصد ہڑتالیں یہاں ہوئیں!

اس جدوجہد کی آگ میں کئی پرانے عقائد جل گئے۔ خفیہ پولیس نے ”بڑے افسوس“ سے رپورٹ دی کہ ”بادشاہ سلامت کی شان میں گستاخی کے ہر اقدام پر“اگر وہ قانون کے مطابق کاروائیاں کرنے لگیں تو ”دفعہ 103کے تحت قائم ہونے والے مقدمات کی تعداد پہلے کبھی نہ دیکھی گئی سطح تک پہنچ جائے گی۔“تاہم عوام کا شعور اُن کی عملی جدوجہد سے کافی پیچھے تھا۔جنگ کے ناقابل برداشت دباؤاور قومی تباہی کی وجہ سے جدوجہد کا عمل اِس قدر شدت پکڑ رہا تھا کہ انقلاب کے وقت تک بھی مزدوروں کی وسیع پرتیں خود کو دیہات سے لائے گئے یا شہر کے پیٹی بورژواخاندانوں سے مستعار لئے گئے خیالات اور تعصبات سے آزاد نہیں کروا سکیں۔ اِسی حقیقت نے فروری انقلاب کے پہلے مرحلے پر اپنا نقش ثبت کیا۔

1916ء کے آخر تک قیمتوں میں دن دوگنا رات چوگنا اضافہ ہو رہا ہے۔ افراط زر اور ٹرانسپورٹ کی قلت کے ساتھ اشیا کی قلت بھی شامل ہو گئی ہے۔ آبادی کی طلب اِس وقت تک آدھی رہ چکی ہے۔ مزدوروں کی تحریک کا گراف تیزی سے اوپر جاتا ہے۔ اکتوبر میں تمام طرح کی بے چینی کو یکجا کرتے ہوئے جدوجہد اپنے فیصلہ کن لمحے میں داخل ہو رہی ہے۔ پیٹروگراڈ فروری کی جست کی تیاری پکڑ رہا ہے۔ فیکٹریوں میں جلسوں کی لہر دوڑ جاتی ہے۔موضوعات: خوراک کی رسد، ضروریات زندگی کی بلند قیمتیں، جنگ، حکومت۔ بالشویکوں کے لیف لیٹ تقسیم ہو رہے ہیں؛ سیاسی ہڑتالیں شروع ہورہی ہے؛ فیکٹری گیٹوں پر خود رو مظاہرے ہورہے ہیں؛ کئی فیکٹریوں کے مزدوروں اور سپاہیوں کے درمیان یکجہتی کے واقعات دیکھے جاتے ہیں؛ بالٹک کے بحری بیڑے کے انقلابی جہازیوں پر مقدمے کے خلاف طوفانی احتجاجی ہڑتال ہو جاتی ہے۔ وزیر اعظم سٹرومرکی توجہ فرانسیسی سفیر اِس طرف دلاتا ہے کہ کچھ سپاہیوں نے پولیس پر گولی چلائی ہے۔ سٹرومر سفیر کوخاموش کرتا ہے: ”انتہائی بے رحمی سے نبٹا جائے گا۔“نومبر میں فوجی ڈیوٹی پر معمور مزدوروں کے بڑے گروہوں کو پیٹروگراڈ کی فیکٹریوں سے نکال کر محاذ پر بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ سال طوفانی گھن گرج کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔

اس صورتحال کا 1905ء کیساتھ موازنہ کرتے ہوئے محکمہ پولیس کا سربراہ ویزیلیف بڑے پریشان کن نتیجے پر پہنچا: ”مزاحمت کا مزاج بہت آگے بڑھ چکا ہے، اِتنا آگے کہ اس سے مماثل کوئی چیز مذکورہ بالا خلفشار کے وقت بھی نہیں دیکھی گئی۔“ ویزیلیف کو گیریزن سے کوئی امید نہیں تھی؛ حتیٰ کہ پولیس افسران بھی مکمل طور پر قابل اعتماد نہیں تھے۔ خفیہ محکمے نے عام ہڑتال کے نعرے کے دوبارہ ابھر آنے کی اطلاع دی۔ محاذ سے واپس آنے والے سپاہیوں اور افسروں نے صورتحال کے بارے کہا: ”کس چیز کا انتظار ہے؟ تم لوگ اِن لچے بدمعاشوں کو سبق کیوں نہیں سکھاتے ہو؟اگر ہم یہاں ہوتے تو سوچنے میں زیادہ وقت ضائع نہ کرتے۔“شلیاپنیکوف، جو بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی کا رکن تھا اور خود دھاتکاری کا مزدور رہ چکا تھا، بتاتا ہے کہ اُن دنوں مزدور کس حد تک تناؤ کا شکار تھے: ”بعض اوقات صرف ایک سیٹی یا کسی طرح کا شور ہی کافی ہوتا تھا اور مزدور اِسے اشارہ سمجھتے ہوئے فیکٹری بند کر دیتے تھے۔“یہ تفصیل ایک سیاسی علامت اور ایک نفسیاتی حقیقت، دونوں لحاظ سے غیر معمولی ہے: سڑکوں پر آنے سے پہلے شریانوں میں انقلاب دوڑ رہا تھا۔

صوبے بھی اِنہی مراحل سے گزر رہے تھے، لیکن ذرا سست روی سے۔ تحریک اور لڑنے کے حوصلے کی وسعت میں اضافے نے مرکز ثقل کو ٹیکسٹائل سے دھاتکاری کے مزدوروں، معاشی سے سیاسی ہڑتالوں اور صوبوں سے پیٹروگراڈ میں منتقل کر دیا۔ 1917ء کے پہلے دو مہینوں میں 5,75,000 مزدوروں نے سیاسی ہڑتالوں میں حصہ لیا،جن کا بہت بڑا حصہ دارالحکومت پیٹروگراڈ میں تھا۔ 9 جنوری کو پولیس کی طرف سے مارے جانے والے تازہ چھاپوں کے باوجود مزدوروں نے ]1905ء کے انقلاب کے آغاز کی] خونریز سالگرہ پر ہڑتال کی۔ مزاج شدید تناؤ بھرا تھا۔ دھاتکاری کے مزدور قیادت کر رہے تھے۔ مزدور یہ محسوس کر رہے تھے کہ اب کوئی پسپائی ممکن نہیں تھی۔ ہر فیکٹری میں ایک متحرک مرکزہ زیادہ تر بالشویکوں کے گرد تشکیل پا رہا تھا۔ فروری کے پہلے دو ہفتوں کے دوران ہڑتالیں اور جلسے مسلسل جاری رہے۔ 8 تاریخ کو پیوٹیلوف فیکٹری میں پولیس کا استقبال ”دھات کی میل (Slag) اور پرانے لوہے“ نے کیا۔ 14 تاریخ کو پیٹروگراڈ میں 90 ہزار مزدور ہڑتال پر تھے۔ماسکو میں بھی کئی پلانٹوں پر کام بند ہو گیا۔ 16 تاریخ کو پیٹروگراڈ میں حکام نے راشن کارڈ متعارف کروانے کا فیصلہ کیا۔ اس انوکھے اقدام نے اعصاب کو جھنجوڑ دیا۔19 تاریخ کو خوراک کی دکانوں پر جمع ہونے والے لوگوں کی بڑی تعداد، بالخصوص خواتین، روٹی کا مطالبہ کر رہی تھی۔ ایک دن بعد شہر کے کئی حصوں میں بیکریوں پر لوٹ مار شروع ہو گئی۔ یہ چند دنوں بعد بھڑکنے والے انقلاب کی چنگاریاں تھیں۔

٭٭٭٭

روسی پرولتاریہ کو انقلابی بے باکی صرف اپنے اندر سے ہی نہیں ملی۔ ملک میں اس کی اقلیتی حیثیت سے ہی پتا چلتا ہے کہ یہ اپنی جدوجہد کو اتنی وسعت نہیں دے سکتا تھا کہ عوام کی دوسری پرتوں سے دیوہیکل حمایت نہ ملنے کی صورت میں بھی اقتدار حاصل کر لیتا۔ اس حمایت کی ضمانت اسے زرعی مسئلے (Agrarian Problem) نے دی۔

1861ء میں کسانوں کی تاخیرزدہ نیم آزادی کے وقت زراعت تقریباً دو سو سال پہلے کی سطح پر ہی کھڑی تھی۔ اجتماعی زمین کی پرانی شکلوں کا اصلاحات کے دوران بچ جانے اور اس کے ساتھ کاشتکاری کے فرسودہ طریقوں نے دیہاتوں میں زائد آبادی سے پیدا ہونے والے بحران کو شدید کر دیا تھا، جو بیک وقت’تہرے نظام‘ کا بحران تھا۔ کسانوں نے خود کو شکنجے میں زیادہ جکڑا ہوا محسوس کیا، کیونکہ یہ عمل 17ویں نہیں بلکہ 18ویں صدی میں، یعنی ایسی جدید معیشت میں رونما ہو رہا تھا جو لکڑی کے ہل سے وہ کام لینا چاہتی تھی جو صرف ٹریکٹر ہی دے سکتا تھا۔ یہاں پھر ہم تاریخی عمل کے مختلف مراحل کی یکجائی دیکھتے ہیں جس کے نتیجے میں تضادات شدید تر ہو گئے۔ زراعت کے ماہرین اور معیشت دان کہہ رہے تھے کہ پرانے رقبے پر اگر معقول طریقے سے کاشتکاری کی جائے تو وہ بڑی حد تک کافی ہوگا، اِس کا مطلب ہے کہ وہ کسانوں کو تجویز دے رہے تھے کہ وہ زمینداروں، قرقی والوں یا زار کو چھیڑے بغیر تکنیک اور کاشتکاری کی بلند سطح کی طرف چھلانگ لگائیں۔ لیکن کوئی بھی معاشی نظام، خصوصاً زرعی نظام، جو سب سے سست رو ہوتا ہے، اس وقت تک معدوم نہیں ہوتا جب تک اپنے تمام تر ممکنات کو استعمال نہ کر لے۔ خود کو زیادہ کفایت شعار کاشتکاری کی طرف بڑھنے پر مجبور پانے سے پہلے کسانوں کو اپنے تین کھیتوں [۸]کو وسیع کرنے کی آخری کوشش کرنا تھی۔ یہ صرف اُن زمینوں کے ذریعے ہی ممکن تھا جو کسانوں کی نہیں تھیں۔منڈی اور پیسے کے کَوڑے تلے زمینی رقبے کی اِس دم گھونٹ دینے والی تنگی نے روسی کسانوں کو ناگزیر طور پر مجبور کیا کہ وہ زمیندار سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑائیں۔

پہلے انقلاب کے وقت یورپی روس کی حدود میں قابل کاشت زمین کے مجموعی رقبے کا تخمینہ 28 کروڑ ڈسیاٹن [۹] تھا۔ اجتماعی طور پر الاٹ کردہ زمینیں (Communal Lands) تقریباً 14 کروڑ ڈسیاٹن تھیں۔ بادشاہ کی زمین 50 لاکھ ڈسیاٹن سے زیادہ۔کلیسا اور دیگر مذہبی اداروں کی زمینیں تقریباً 25 لاکھ ڈسیاٹن۔ نجی زمینوں میں 7 کروڑ ڈسیاٹن 30000 بڑے زمینداروں کی ملکیت تھے، جن میں ہر ایک کے پاس فی کس500 ڈسیاٹن سے زیادہ زمین تھی۔ یہی وہ 7کروڑ ڈسیاٹن زمین تھی جو ایک کروڑ کسان خاندانوں کو مل سکتی تھی۔ زمین کے یہ اعداد و شمار ایک کسان جنگ کا مکمل نسخہ تھے۔

زمینداروں سے پہلے انقلاب کے دوران نہیں نبٹا گیا تھا۔ سارے کسان نہیں اُٹھے تھے۔ دیہاتوں میں تحریک شہروں کے ساتھ بیک وقت نہیں چلی۔ کسانوں پر مشتمل فوج لڑکھڑا گئی اور آخر کار اتنی قوتیں مہیا کیں کہ مزدوروں کو کچلا جا سکے۔ جیسے ہی سیمینووسکی رجمنٹ نے ماسکو میں سرکشی کو کچلا، بادشاہت نے [اپنا کام نکل جانے پر] بڑی جاگیروں کی تقسیم اور اپنے مطلق العنان اختیارات کو کم کرنے کے سارے خیال ترک کر دئیے۔

تاہم 1905ء کا یہ شکست خوردہ انقلاب بھی دیہات میں اپنے اثرات چھوڑ گیا۔حکومت نے زمینوں کے پرانے واجبات ختم کر دئیے اور سائبیریا کی نوآبادکاری کا عمل آگے بڑھانا شروع کیا۔ [کسانوں کی بغاوت سے ] خوفزدہ زمیندار نہ صرف کرائے میں خاصی چھوٹ دینے لگے، بلکہ اپنی جاگیروں کی بڑے پیمانے پر فروخت بھی شروع کر دی۔ انقلاب کے ثمرات مالدار کسانوں کو ہی ملے، جو زمینداروں کی زمین کرائے پر لینے یا خریدنے کے قابل تھے۔

تاہم کسانوں میں سے ابھرنے والے سرمایہ دار کاشتکاروں کے لئے سب سے زیادہ مواقع 9 نومبر 1906ء کے قانون نے کھولے، جو فاتح رد انقلاب کا کلیدی اقدام تھا۔ کمیون [۰۱] کے کسانوں کی ایک چھوٹی سی اقلیت کو اکثریت کی مرضی کے برخلاف یہ حق دے کر کہ وہ اجتماعی زمین میں ایک ٹکڑا الگ کر کے اسے اپنی آزادانہ ملکیت میں لے سکتے ہیں، 9 نومبر کے اِس قانون نے کمیون پر سرمایہ داری کا دھماکہ خیز گولہ گرایا۔ وزرا کی کونسل کے صدر سٹولیپن نے کسانوں کی طرف اِس حکومتی پالیسی کا نچوڑ بیان کرتے ہوئے اِسے ”طاقتوروں پر انحصار“ قرار دیا۔ اِس کا مطلب تھا: کسانوں کے بالائی حلقوں کو شہ دی جائے کہ وہ اجتماعی زمین کو قابو میں کریں اور پھر اِن نئے سرمایہ دار کاشتکاروں کو سرکار کا ستون بنایا جائے۔تاہم یہ کہنا آسان تھا اور کرنا مشکل۔کسان مسئلے کی جگہ کولاک [۱۱] مسئلہ کھڑا کرنے کی کوشش سے رد انقلاب اپنی گردن توڑنے کا سامان خود کر رہا تھا۔

یکم جنوری 1916ء تک 25 لاکھ مالکان کی ملکیت میں 1کروڑ 70 لاکھ ڈسیاٹن زمین تھی۔ مزید 20 لاکھ مطالبہ کر رہے تھے کہ اُنہیں 1 کروڑ 40 لاکھ ڈسیاٹن الاٹ کئے جائیں۔ یہ اِس اقدام کی بڑی کامیابی معلوم ہوتی تھی۔ لیکن مزارعوں کی اکثریت پر زندگی تنگ ہو رہی تھی اور وہ قدرتی چناؤ کا خام مال بن رہے تھے۔ اس دوران، جب زیادہ پسماندہ زمیندار اپنی جاگیریں اور چھوٹے کسان اپنے زمین کے ٹکڑے بیچ رہے تھے، انہیں خریدنے کی سکت رکھنے والوں میں سے ایک نئی کسان پیٹی بورژوازی ابھری۔ یوں زراعت ایک سرمایہ دارانہ ابھار کے مرحلے میں داخل ہوئی۔ روس کی زرعی پیداوار کی برآمد 1908ء میں ایک ارب روبل سے 1912ء میں ڈیڑھ ارب روبل ہو گئی۔ اس کا مطلب تھا کہ کسانوں کے بڑے حصے پرولتاریہ میں تبدیل ہو چکے تھے اور دیہاتوں میں بالادست حلقے منڈی میں زیادہ سے زیادہ اناج بھیج رہے تھے۔

کسانوں کے لازمی اجتماعی رشتوں کی جگہ لینے کے لئے بڑی تیزی سے ایک رضاکارانہ تعاون پیدا ہوا، جو چند سالوں میں کسان عوام کے اندر گہرائی تک سرایت کر گیااور فوراً لبرل اور جمہوری خیالات کا موضوع بن گیا۔ تاہم اِن باہمی تعاون کے اداروں (Co-operatives) میں اصل طاقت صرف امیر کسانوں کے پاس ہی تھی، جن کے مفادات کا تحفظ آخری تجزئیے میں یہ ادارے کرتے تھے۔ نرودنکوں کے دانشور، جن کا بنیادی محور ہی کسانوں کا باہمی تعاون تھا، آخر کار عوام کے لئے اپنی محبت کو بورژوا پٹری پر استوار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔اس طرح کم از کم جزوی طور پر سوشل انقلابیوں کی ”سرمایہ دار مخالف“ پارٹی کے کیڈٹوں کے ساتھ الحاق کا راستہ استوار ہوا۔

رد انقلاب کی زرعی پالیسی کی بظاہر مخالفت کرتے ہوئے لبرلزم کسان کمیونوں کی سرمایہ دارانہ تباہی کو بڑی امید سے دیکھ رہا تھا۔لبرل شہزادے ٹروبٹسکوئے نے لکھا، ”ملک میں اپنی مکمل شکل میں بہت طاقتور پیٹی بورژوازی ابھر رہی ہے، جو اپنی روح اور ساخت میں متحدہ اشرافیہ اور سوشلسٹ خوابوں سے بیگانہ ہے۔“

لیکن اس شاندار تمغے کا دوسرا رخ بھی تھا۔ کمیونوں کی تباہی سے نہ صرف ”بہت طاقتورپیٹی بورژوازی“ ابھر رہی تھی بلکہ اس کی متضاد قوت بھی۔ زمینوں کے چھوٹے ٹکڑوں، جن پر گزارا کرنا مشکل تھا، کو بیچنے والے کسانوں کی تعدا د جنگ کے آغاز پر 10 لاکھ تک پہنچ چکی تھی، جس کا مطلب تھا کہ کم از کم 50 لاکھ لوگ پرولتاری آبادی میں شامل ہوچکے تھے۔ دسیوں لاکھ کنگال کسانوں کا دھماکہ خیز مواد اس کے علاوہ تھا، جن کے پاس اپنے تباہ حال قطعات سے چمٹے رہنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ نتیجتاً وہ تمام تضادات کسانوں میں مسلسل پنپتے رہے جو بہت پہلے سے روس میں بورژوا سماج کے ارتقا کے راستے میں رکاوٹ تھے۔ نئی دیہی بورژوازی، جس نے پرانے اور زیادہ طاقتور مالکان کا سہارا بننا تھا، عام کسانوں کی اتنی ہی دشمن اور مخالف نکلی جتنے کہ پرانے مالکان بحیثیت مجموعی عوام کے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ پرانے ڈھانچے کو سہارا دیتی اِس کسان بورژوازی کو اپنے کسی ڈھانچے کی ضرورت تھی، جس کے ذریعے وہ اپنے لئے حاصل کئے گئے رتبے کو برقرار رکھ سکے۔ اِن حالات میں یہ حیران کن نہیں تھا کہ زرعی مسئلہ تمام ریاستی دوماؤں میں سلگتا رہا۔ ہر کوئی محسوس کرتا تھا کہ بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ کسان رکن پیٹریچنکو نے ایک بار دوما سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ”آپ جتنی مرضی لمبی بحث کر لیں، نیا سیارہ نہیں تخلیق کر سکتے، اس کا مطلب ہے کہ آپ کو ہمیں زمین دینی ہی پڑے گی۔“ یہ کسان نہ تو بالشویک تھا اور نہ ہی سوشل انقلابی۔ بلکہ وہ دائیں بازو کا نمائندہ اور ایک شاہ پرست تھا۔

ہڑتالوں کی تحریک کی طرح زرعی تحریک بھی 1907ء کے آخر تک ماند پڑ گئی، 1908ء میں جزوی طور پر بحال ہوئی اور اس کے بعد کے سالوں میں مضبوط ہوتی گئی۔ جدوجہد کافی حد تک کسان کمیون کے اندر منتقل ہو گئی: وہی ہوا جس کی کوشش رد انقلاب نے سیاسی طور پر کی تھی۔ کمیون کی زمین کی تقسیم کے دوران کسانوں کے درمیان اکثر مسلح تصادم ہوتے تھے۔ لیکن زمیندار کے خلاف جدوجہد بھی ختم نہیں ہوئی۔ کسان اب پہلے سے زیادہ تواتر سے زمینداروں کی جاگیروں، فصلوں اور گھاس کو آگ لگاتے تھے اور اُن گزرگاہوں پر قبضہ کر لیتے تھے جو کہ کمیون کے کسانوں کی مرضی کے برخلاف بند کر دی جاتی تھیں۔

جنگ کے وقت کسانوں کی یہی کیفیت تھی۔ حکومت دیہاتوں سے ایک کروڑ مزدور اور بیس لاکھ گھوڑے نکال لے گئی۔ کسانوں کے غریب خاندان اور بھی غریب ہو گئے۔ ایسے کسانوں کی تعداد بڑھ گئی جو اپنے کھیت کاشت نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن جنگ کے دوسرے سال درمیانے درجے کے کسانوں کی حالت بھی خراب ہونے لگی۔ کسانوں میں جنگ کی مخالفت رفتہ رفتہ بڑھنے لگی۔ اکتوبر 1916ء میں پیٹروگراڈ کی فوجی پولیس کی انتظامیہ نے انشورنس ایجنٹوں، اساتذہ اور تاجروں وغیرہ کے بیانات کی بنیاد پر اطلاع دی کہ دیہاتوں میں لوگ جنگ کی کامیابی پر یقین کھو بیٹھے ہیں۔ ”سب لوگ انتظار کر رہے ہیں اور بے صبری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ لعنتی جنگ آخر کب ختم ہو گی؟“ یہی نہیں بلکہ: ”سیاسی سوالات ہر جگہ زیر بحث ہیں اور زمینداروں اور تاجروں کے خلاف قراردادیں جاری ہو رہی ہیں۔کئی تنظیموں کے مرکزے تشکیل پا رہے ہیں…تاہم انہیں متحد کرنے والا کوئی مرکز ابھی نہیں ہے۔ لیکن یہ خیال کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ کسان باہمی تعاون کے اداروں کے ذریعے متحد ہوں گے، جو ہر روز پورے روس میں بڑھ رہے ہیں۔“یہاں کچھ مبالغہ آرائی ہے۔ کچھ معاملات میں فوجی پولیس تھوڑی آگے چلی گئی ہے، لیکن بنیادی باتیں درست ہیں۔

ملکیتی طبقات دیکھ رہے تھے کہ دیہات انہیں مہنگا پڑے گا۔ لیکن وہ اِن تشویش ناک خیالات کو جھٹک دیتے تھے اور کسی طرح اس مسئلے سے جان چھڑانے کی امید کرتے تھے۔ اس بارے میں پرتجسس فرانسیسی سفیر پیلیولوگ نے جنگ کے دوران سابق وزیر زراعت کریووشن، سابق وزیر اعظم ککٹسیف، بڑے زمیندار نواب بوبورنسکی، ریاستی دوما کے صدر روڈزیانکو، بڑے صنعتکار پیوٹیلوف اور دوسرے اہم لوگوں سے بات چیت کی۔ اس گفتگو کے نتیجے میں اس کے سامنے یہ حقیقت آشکار کی گئی: جارحانہ زمینی اصلاحات کرنے کے لئے 3 لاکھ سروے کرنے والوں کی فوج کم از کم 15 سال کے لئے درکار ہے؛ لیکن اس دوران بے زمین کسانوں کی تعداد 3 کروڑ تک ہو جائے گی اور یوں پہلے سے کیا گیا یہ سارا حساب کتاب غلط ہو جائے گا۔ یوں ان زمینداروں، حکام اور بینکاروں کی نظر میں زمینی اصلاحات کرنا ہی ناممکن تھا۔ یہ بتانے کی شاید ضرورت نہیں کہ اِس پیچیدہ حساب کتاب کی قانونی پیچیدگیاں کسان کے لئے بھی بالکل بیگانی تھیں۔ اُس کے خیال میں کرنے کا پہلا کام یہ تھا کہ زمیندار کو نکالا جائے، باقی بعد میں دیکھا جائے گا۔

اگر جنگ کے دوران دیہات نسبتاً پرامن رہے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ یہاں کی فعال قوتیں محاذ پر تھیں۔ تاہم سپاہی کم از کم جب کبھی موت کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہوتے تھے، زمین کے مطالبے کو بھولتے نہیں تھے۔مورچوں میں مستقبل کے بارے میں روس کے کسانوں کے خیالات بارود کی بو سے بھرے ہوئے تھے۔ تاہم بندوق چلانا سیکھ لینے کے بعد بھی کسان اپنے زورِ بازو سے زرعی جمہوری انقلاب، یعنی اُن کا اپنا انقلاب، برپا نہیں کر سکتے تھے۔ اُنہیں قیادت درکار تھی۔ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کسان کی قیادت مزدور کو کرنا تھی۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو انقلابِ روس اور اِس سے پہلے کے تمام انقلابوں میں تھا۔

برطانیہ میں زرعی غلامی درحقیقت 14ویں صدی کے آخر میں ختم ہو گئی تھی، یعنی روس میں نمودار ہونے سے دو صدیاں اور ختم ہونے سے ساڑھے چار صدیاں پہلے۔ کسانوں کی زمینی جائیداد کی ضبطی کا عمل برطانیہ میں ایک تجدید اور دو انقلابات میں سے گزرتے ہوئے 19ویں صدی تک جاری رہا۔ سرمایہ دارانہ ارتقا، جو باہر سے مسلط نہیں ہوا تھا، کے پاس کافی وقت تھا کہ وہ آزاد کسانوں کو پرولتاریہ کے سیاسی میدان میں آنے سے بھی بہت پہلے ختم کر سکے۔

فرانس میں شاہی مطلق العنانیت، اشرافیہ اور کلیسا کے شہزادوں کے خلاف جدوجہد نے بورژوازی کو کئی پرتوں اور کئی قسطوں میں مجبور کیا کہ وہ اٹھارہویں صدی کے آغاز میں جارحانہ زرعی انقلاب برپا کرے۔ اس کے بعد لمبے عرصے تک آزاد کسان بورژوا نظام کا سہارا رہے اور 1871ء میں انہوں نے پیرس کمیون کو کچلنے میں بورژوازی کی مدد کی۔

جرمنی میں زرعی مسئلے کے انقلابی حل میں بورژوازی نااہل ثابت ہوئی اور 1848ء میں زمینداروں کے ساتھ مل کر کسانوں سے غداری کی، اُسی طرح جیسے تین صدیاں پہلے لُوتھر نے کسان جنگوں میں شہزادوں کے ساتھ مل کر کسانوں کو دھوکہ دیا تھا۔ علاوہ ازیں انیسویں صدی کے وسط میں جرمن پرولتاریہ کسانوں کی قیادت حاصل کرنے کے لئے کافی کمزور تھا۔ نتیجتاً نامکمل بورژوا انقلاب سے برآمد ہونے والے جرمنی کے سرمایہ دارانہ ارتقا کو کافی وقت ملا کہ وہ زراعت کو اپنے مفادات کے تابع کر سکے۔

روس میں 1861ء میں کی جانے والی کسان اصلاحات ایک افسر شاہانہ اور اشرافیہ پر مبنی بادشاہت کی جانب سے بورژوا سماج کے تقاضوں کے دباؤ کے تحت کی گئی تھیں، لیکن ایسے حالات میں جب بورژوازی سیاسی طور پر نحیف تھی۔ کسانوں کی اس نجات کا کردار یہ تھا کہ ملک کی بزور طاقت سرمایہ دارانہ تبدیلی نے ناگزیر طور پر زرعی مسئلے کو انقلاب کا مسئلہ بنا دیا۔ روسی بورژوازی نے صرف روسی طرز کے سوا فرانس، ڈنمارک، امریکہ غرضیکہ کسی بھی دوسری طرز کے زرعی ارتقا کا خواب دیکھا تھا۔ تاہم اُنہوں نے اچھے دنوں میں بھی فرانس کی تاریخ یا امریکہ کے سماجی ڈھانچے کو سمجھنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی۔اپنے انقلابی ماضی کے باوجود جمہوری دانشور فیصلہ کن لمحات میں انقلابی دیہات کی بجائے لبرل بورژوازی اور زمیندار کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ ان حالات میں صرف محنت کش طبقہ ہی کسان انقلاب کی قیادت کر سکتا تھا۔

پسماندہ ممالک کا ’مشترک ارتقا‘ ہی پسماندہ عناصر کے انتہائی جدید عوامل کے ساتھ منفرد آمیزے کے طور پر ہمارے سامنے اپنی حتمی شکل میں ابھرتا ہے اور انقلابِ روس کی بنیادی گتھی کو سلجھاتا ہے۔ قدیم روس کی وحشیانہ تاریخ سے ورثے میں ملنے والے زرعی مسئلے کو اگر بورژوازی حل کر دیتی یا حل کر سکتی ہوتی تو روس کا پرولتاریہ شاید 1917ء میں برسر اقتدار نہ آتا۔ سوویت ریاست کی تشکیل کے لئے دومختلف تاریخی انواع کے عوامل کے جڑنے اور ایک دوسرے میں سرایت کرجانے کی ضرورت تھی: کسان جنگ، جو بورژوا ارتقا کے ابھار کی علامت ہے، اور پرولتاریہ کی سرکشی، جو بورژوا ارتقاکی گراوٹ کی علامت ہے۔ یہی 1917ء کا نچوڑ ہے۔

****

[۱]یہاں انٹرنیشنل سے مراد دوسری انٹرنیشنل ہے، جس کی اصلاح پسند قیادت نے محنت کشوں کو جنگ کے خلاف متحرک کرنے کی بجائے اپنے اپنے ملک کی بورژوازی کی حمایت کر دی تھی۔
[۲] انقلابی ڈیفیٹزم (Revolutionary Defeatism) جنگ سے متعلق لینن کی پوزیشن تھی، جس کے مطابق پرولتاریہ کو سرمایہ دارانہ جنگ میں اپنے حکمرانوں کی فتح سے کوئی فائدہ اور غرض نہیں تھی اور ہر ملک کا پرولتاریہ قومی جنگ کو سامراجی حکمرانوں کے خلاف طبقاتی جنگ میں تبدیل کرتے ہوئے انقلاب برپاکر دے۔
[۳] نرودنک (Narodniks) وہ غیر مارکسی رجحان تھا جس کے مطابق روس کی تجدید ’عوام (نرود) سے رجوع کرنے‘ کے ذریعے ممکن تھی۔ یہ بنیادی طور پر ایک طرح کا بائیں بازو کا پاپولسٹ رجحان تھا۔اسی رجحان سے بعد میں ’سوشل انقلابی پارٹی‘ (Social Revolutionary Party) برآمد ہوئی، جو بنیادی طور پر کسانوں کی پاپولسٹ پارٹی تھی اور جس کابایاں بازو 1917ء کے انقلاب کے فیصلہ کن لمحات میں بالشویکوں سے آ ملا۔
[۴]منشویک (Menshevik) روسی مارکسزم کا اصلاح پسند حصہ اور ’اعتدال پسند‘ رجحان تھے۔ روسی سوشل ڈیموکریٹ لیبر پارٹی (RSDLP)میں 1903ء میں لینن اور مارٹوف کے درمیان جنم لینے والے اختلافات سے بالترتیب بالشویک اور منشویک دھڑے معرض وجود میں آئے۔ منشویکوں کا خیال تھا کہ روس میں برپا ہونے والے انقلاب کا کردار پرولتاری نہیں بلکہ بورژوا ہو گا۔
[۵] سوشل حب الوطنی سے مراد سوشل ڈیموکریسی یا سوشلزم میں حب الوطنی اور قومی تنگ نظری کا رجحان ہے۔
[۶] ڈیفنسزم (Defencism) کی پوزیشن لینن کی ڈیفیٹسٹ پوزیشن کے برعکس تھی، یعنی جنگ میں محنت کشوں کو چاہئے کہ وہ اپنے ملک کا دفاع کریں۔
[۷] یہاں سرما محل کی طرف مارچ سے مراد 1905ء کے انقلاب کا آغاز ہے۔ یہ انقلاب سرما محل کی طرف جانے والے محنت کشوں کے جلوس پر 9 جنوری (پرانا روسی کیلنڈر) کو پولیس کی فائرنگ اور قتل عام کے نتیجے میں پھٹ پڑا تھا۔ اس دن کو ’خونی اتوار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
[۸]تین کھیتوں (Three Fields)سے مراد روس میں رائج کاشتکاری کا ایک قدیم طریقہ کار تھا، جس میں زمین مختلف موسموں کے لحاظ سے تقسیم کی جاتی تھی اور ایک موسم میں ایک مخصوص حصے پر کاشت کی جاتی تھی تاکہ زمین کی زرخیزی برقرار رہے اور زیادہ پیداوار لی جا سکے۔ کسانوں کی کوشش تھی کہ زیادہ پیداوار کے لئے جدید طریقے اپنانے کی بجائے زمین کے رقبے میں اضافہ کریں۔
[۹]ایک ڈسیاٹن میں 2.702 ایکڑ ہوتے ہیں۔
[۰۱]یہاں ’کمیون‘ سے مراد اس وقت کے روس میں کسانوں کی پنچائتیں ہیں، جن میں زمین اجتماعی ملکیت میں ہوتی تھی اور بوقت ضرورت کمیون کے مختلف افراد کو مخصوص عرصے کے لئے الاٹ کر دی جاتی تھی۔ کمیون میں کوئی بھی فرد زمین کے کسی ٹکڑے کا مستقل مالک نہیں تھا۔
[۱۱] کولاک(Kulak) کی اصطلاح روسی زبان میں امیراور درمیانے درجے کے کسانوں کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں