ترجمہ: حارث قدیر
(نوٹ: یہ مضمون ’کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ۔لینن اسٹ) لبریشن‘ کی ویب سائٹ پر انگریزی زبان میں شائع کیا گیا ہے، جسے ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ مکمل حوالوں کے ساتھ انگریزی زبان میں یہ مضمون پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں)
غداری،فریب اور سازش جیسے الفاظ یا الزامات ہمیشہ سے برطانوی سامراجی حکمرانوں اور ان کے جانشینوں یعنی جدید بھارتی حکمران طبقات کے لیے بھارتی کمیونسٹوں کے خلاف سب سے اہم ہتھیاررہے ہیں۔ اس طرح سازش کے مقدمات مسلسل طبقاتی جدوجہد کی قابل ذکر اقساط کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ 20 کی دہائی کے اوائل سے لے کر 30 کی دہائی کے وسط تک سامراجی حکمرانوں نے ہندوستان میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف ایک درجن سے زیادہ سازش کے مقدمات بنائے، جن میں پشاور، کانپور اور میرٹھ کے واقعات سب سے اہم تھے۔
پشاور سازش مقدمات (1921-27)
پارٹی کی تشکیل سے متعلق اپنے پہلے حصے میں ہم نے بتایا ہے کہ ایم این رائے اور بیرون ملک دیگر ہندوستانی کمیونسٹوں کے ذریعہ 1920 میں مہاجروں کے ساتھ تاشقند میں سی پی آئی بنانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ 1920 کے آس پاس 200 مہاجرین میں سے جو روس پار کر گئے، تقریباً 40 سے 50 نے تاشقند کے سیاسی اور فوجی اسکول اور بعد میں ماسکو میں مشرق کے محنت کشوں کے لیے کمیونسٹ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ ان کے دفتر خارجہ سے برطانوی انٹیلی جنس کو یہ اطلاع ملی کہ تاشقند میں سی پی آئی کی طرف سے تربیت یافتہ اہلکاروں کی کھیپ ہندوستان بھیجی جا رہی ہے۔ پہلی کھیپ 3 جون 1921 کو پشاور پہنچی۔ برطانوی پولیس نے انہیں بالشویک ایجنٹ کے طور پر گرفتار کر کے سازش کے مقدمات کا آغاز کیا۔ 1921 سے 1927 تک ان ابتدائی کمیونسٹوں اور قومی انقلابیوں کے خلاف 5سازش کے مقدمات چلائے گئے۔ پشاور کے دور دراز قصبے کو ان شرمناک مقدموں کی سماعت کی جگہ کے طور پر منتخب کیا گیا تھا، تاکہ روسی یا بالشویک ’غیر مستحکم کرنے کی پالیسیوں‘ کے بارے میں خبریں گھڑنا آسان ہو اور ملزمان کو جیوری سسٹم کا فائدہ بھی نہ ملے۔
تعزیرات ہند کی دفعہ121-Aکے تحت پہلا مقدمہ 25 ستمبر 1921 کو اصل ملزم محمد اکبر اور محمد اکبر کے تبتی نوکر بہادر کی گرفتاری کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ محمد اکبر کے والد حفیظ اللہ خان کو بھی پہلے کمیونسٹ سازش کیس میں شریک ملزم بنایا گیا۔ جے ایچ آر فریزر (آئی سی ایس) کی سیشن عدالت میں یہ مذاق نما مقدمہ چلایاگیا اور 31 مئی 1922 کو فیصلہ سنایاگیا، جس میں محمد اکبر کو 3 سال کی قید بامشقت (آر آئی) اور بہادر کو ایک سال کی سزا سنائی گئی۔ برطانوی ایجنٹ کے طور پر کام کرنے والے حفیظ اللہ خان کو بری کر کے رہا کر دیا گیا۔ ملزم کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے کسی دستاویزی ثبوت یا نمائش کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔ ’بادشاہ اعظم کو اقتدار سے بے دخل کرنے‘ کی سازش کی موجودگی ثابت کرنے کے لیے بس یہ دعویٰ کرنا کافی سمجھا گیا کہ ملزم اس (پارٹی) کا رکن تھااور یہ دعویٰ اسے آئی پی سی (انڈین پینل کوڈ) کی سیکشن121-Aکے تحت سنانے کے لیے بھی کافی تھا۔
دوسرا سازش کیس پہلے کیس کے تسلسل کے سوا کچھ نہیں تھا۔ محمد اکبر کو جیل سے خطوط سمگل کرنے اور جیل کے نظم و ضبط کو توڑنے کے جرم میں دوبارہ سزا سنائی گئی۔ دو دیگر شریک ملزمان میں بلوچستان کے محمد حسن اور پشاور کے غلام محبوب شامل تھے، جن پرمذکورہ خط کی نقل کی غیر قانونی کاپیاں رکھنے کا الزام عائد کیا گیا۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے یہ جعلسازی کی گئی کہ محمد اکبر ’اسی مقصد کے لیے ثمرکند میں اپنے انقلابی ساتھیوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے‘۔ 27 اپریل 1923 کو فیصلہ سنایا گیا، جس کے تحت محمد اکبر کے لیے 7 سال اور دیگر دو شریک ملزمان کے لیے 6 سال کی سزا، اوران میں سے ہر ایک کو تین ماہ قید تنہائی کی سزا سنائی گئی۔
تیسرا پشاور سازش کیس، جسے ماسکو تاشقند سازش کیس کہا جاتا ہے، 4 اپریل 1923 کو جے ایچ آر فریزر کی سیشن کورٹ میں 4 اپریل 1923 کو(’دی کراؤن بنام اکبر شاہ اور 7 دیگر‘ کے عنوان سے آئی پی سی کی سیکشن 121-A کے تحت) شروع ہوا۔ اپنے فیصلے کا خلاصہ کرتے ہوئے فریزر نے کہا کہ ملزمان کو ”اس لیے سزا نہیں سنائی جا رہی ہے کہ انہوں نے خالص کمیونزم کو اپنایا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ بالشویکوں اور ایم این رائے کے اختیار کردہ کمیونزم کے سفیر ہیں“۔ آٹھ مجرموں میں سے اکبر شاہ اور گوہر رحمان (افضل) کو دو سال کی سزا دی گئی۔ فیروز الدین، عبدالمجید، حبیب احمد، سلطان محمد اور رفیق احمد کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔سرکاری گواہ بن جانے والے آر آئی فدا اور برطانوی جاسوس عبدالقادر کو بری کر کے رہا کر دیا گیا۔
چوتھاپشاور سازش کیس ”کراؤن بنام محمد شفیق“ تھا۔ محمد شفیق نے 10 دسمبر 1923 کو برطانوی پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ فیصلہ 4 اپریل 1924 کو سنایا گیااور تین سال کی سخت سزا سنائی گئی۔محمد شفیق کو مجرم ٹھہرانے کے لیے مزید کسی ’ثبوت‘ کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ ’سازش‘ کا ’فعال رکن‘ تھا جو پہلے ہی ’ثابت‘ ہو چکی تھی۔ سیشن جج جی کونر نے اپنے فیصلے کا خلاصہ کچھ یوں کیاکہ”ملزم کے ساتھ اس وقت دوسرے ہندوستانیوں کے برعکس مؤخر الذکر انقلابی پارٹی کا ایک سرگرم ایجنٹ تھا اور ملک چھوڑنے والے اپنے ساتھیوں کے برعکس ملزم نے پیچھے رہنے کا انتخاب کیا اور اپنا انقلابی کام جاری رکھا۔۔۔۔ اپنے ہتھیار ڈالنے سے پہلے اس نے بالشویک ایجنٹ کے طور پر ہندوستان کا دورہ کیا۔۔۔۔۔ اسے ایم این رائے کی طرف سے ایک مشن پر ہندوستان بھیجا گیا تھا۔“ اس لیے اسے ’سزا دی جانی چاہیے‘۔
پانچواں پشاور سازش کیس 1927 میں فضل الٰہی قربان کے خلاف اسی مقصد کے لیے ماسکو اور تاشقند میں تربیت حاصل کرنے کے الزام میں شروع ہوا۔ انہیں 5 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی،جسے بعد میں اعلیٰ عدالت میں اپیل پر کم کر کے تین سال قید بامشقت کر دیا گیا۔
بالشوازم کے پھیلاؤ کے بارے میں خوف کی نفسیات اور کمیونسٹ نظریے کے خلاف طبقاتی نفرت پشاور کے من گھڑت سازش مقدمات کی بنیادی وجوہات تھیں۔
بدقسمتی سے سازش کے مقدمات کا سلسلہ قوم پرستوں کی طرف سے کوئی ردعمل پیدا کرنے میں ناکام رہا۔ صرف ایم این رائے نے برطانوی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے ایک مضمون ”مینوفیکچرنگ ایویڈینس“لکھا، جوکومنٹرن(کمیونسٹ انٹرنیشنل)جریدے انٹرنیشنل پریس کورسپانڈنس(Inprecor)میں شائع ہوا۔
کانپور کمیونسٹ (بالشویک) سازش کیس
بھارت میں کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پشاور سازش کیس ناکام ہوئے۔ کلکتہ، بمبئی، مدراس اور دوسرے شہروں جیسے کانپور اور لاہور میں کمیونسٹ سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو گئیں۔ ان شہر کے علاقوں میں کمیونسٹ گروپ محنت کشوں کو منظم کرنے اور انہیں کمیونسٹ نظریے اور سیاست سے روشناس کرانے میں شامل تھے۔ خاص طور پر پہلی تحریک عدم تعاون سے دستبرداری کے بعد کانگریس کے ریڈیکل حلقے بتدریج کمیونسٹ نظریے کی طرف راغب ہوئے۔ صورت حال کو محسوس کرتے ہوئے ہندوستان کے گورنر جنرل نے 28 فروری 1923 کو لندن میں سیکرٹری داخلہ کو ایک پیغام بھیجا کہ اگر عوامی تحریک دوبارہ شروع ہوئی تو، عدم تعاون کرنے والوں اور سابق دہشت گردوں کا ایک حصہ کمیونسٹوں کے ساتھ مل کر ایک نئی کارروائی شروع کرے گا۔ لہٰذا ابھرتی ہوئی کمیونسٹ تنظیم کو تباہ کرنے کے لیے ایک نیا سازش کیس تیار کیا جانا تھا۔
اس کا آغاز 8 مئی کو شوکت عثمانی اور 19 مئی 1923 کو مظفر احمد کی گرفتاریوں سے ہوا۔ غلام حسین بھی اسی وقت گرفتار ہوئے۔ انہیں اسٹیٹ پریزنرز ایکٹ 1818 کے ضابطہ 3کے تحت گرفتار کیا گیا اور فوری طور پر بالترتیب پشاور، لاہور اور ڈھاکہ کی جیلوں میں بھیج دیا گیا۔ مظفر نے کلکتہ، بمبئی اور مدراس کے ہندوستانی کمیونسٹ منتظمین کے ساتھ کامنٹرن اور ایم این رائے کے رابطہ کارنالینی گپتا کے ساتھ اپنے روابط کے بارے میں پولیس کو بیان دیا، لیکن اس معلومات میں انہوں نے کوئی نئی چیز شامل نہیں کی جو حکومت کو ایم این رائے اور ہندوستانی کمیونسٹوں کے درمیان خط و کتابت کے بارے میں پہلے سے معلوم تھی۔ نالینی گپتا کو 20 دسمبر 1923 کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے دسمبر 1923 کے آخر میں اور جنوری 1924 کے شروع میں سلسلہ وار بیان دیئے۔ ان معلومات نے برطانوی حکومت کو صرف پہلے سے موصول ہونے والی معلومات کی تصدیق کرنے میں مدد کی تھی جو اس کیس میں مناسب استعمال کی جانی تھیں۔ تمام دستیاب مواد کو دیکھنے کے بعد مجسٹریل انکوائری کے لیے 13 افراد کی فہرست تیار کی گئی، لیکن بعد میں اسے کم کر کے 8 افراد تک محدود کر دیا گیا۔ ان 8 ملزمان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 121-Aکے تحت شکایت 3 مارچ 1924 کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سامنے کی گئی تھی۔ ڈانگے کو تین دن پہلے گرفتار کیا گیا تھا اور سنگاراویلو چیٹیار کے خلاف 6 مارچ کو وارنٹ جاری کیا گیا تھا،اور اسی دن مدراس سے گرفتار کیا گیا تھا۔ چنانچہ عثمانی، مظفر احمد، غلام حسین، نالینی گپتا، ڈانگے اور سنگاراویلو کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔
تاہم غلام حسین نے اعترافی بیان دیا اور رحم کی اپیل کی اور محمد شفیق کے خلاف پشاور کیس میں بطور وکیل مدد کرنا چاہی۔ انہیں کبھی بھی سیشن جج کے سامنے ٹرائل کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔ ایم این رائے اس وقت جرمنی میں تھے اور آر ایل شرما پانڈیچری میں تھے اس لیے انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا۔ ان کے نام سیشن ٹرائل میں شامل نہیں تھے۔ سنگاراویلو نے صحت کی بنیاد پر ضمانت کی اپیل کی، اور انہیں سیشن کورٹ میں بھی پیش نہیں کیا گیا۔
اس طرح بالآخر 22اپریل1924کو’کراؤن بنام بالشویک‘ کے عنوان سے آئی پی سی کی سیکشن 121-A کے تحت عثمانی، مظفر احمد، ایس اے ڈانگے اور نالینی گپتا کے خلاف یہ مقدمہ ایچ ای ہولمے کی بدنام زمانہ سیشن عدالت میں چلایا گیا (جنہوں نے چوری چورا کیس میں 172 کسانوں کو سزائے موت سنائی تھی)۔ ملزمان کی طرف سے مقدمے کو کسی بھی میٹروپولیٹن شہر میں منتقل کرنے کی اپیل کو مسترد کر دیا گیا۔ چار ہفتوں کی جعلی سماعت کے بعد سیشن عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا اور چاروں ملزمان کو 4 سال کی سزاسنا دی گئی۔
پشاور کے مقدمات کے برعکس اس بار ایک ”انڈین کمیونسٹ ڈیفنس کمیٹی“تشکیل دی گئی، جس نے فنڈز جمع کرنے کا انتظام کیا اور وکلاء کو کھڑا کیا۔ لندن میں بھی ایک دفاعی کمیٹی بنائی گئی،جس کے سیکرٹری چارلس ایشلیگ تھے۔ فرانس کی کمیونسٹ پارٹی نے بھی ملزمان کے دفاع کے لیے 500 فرانک عطیہ کیے۔ قید کی سزا میں کمی کے لیے اعلیٰ عدالت سے اپیل مسترد کر دی گئی جس پر مقامی اخبارات میں خوب تنقید کی گئی۔ جیسا کہ کانپور سے شائع ہونے والے ’ورتمان‘ نے کہاکہ ”سازش کا الزام بالکل بے بنیاد معلوم ہوتا ہے۔“ ’آج (بینا راس)‘نے رپورٹ کیاکہ ”سیشن جج کا فیصلہ انصاف کے اسقاط کی ایک مثال کے سوا کچھ نہیں۔“اعتدال پسند قوم پرست رہنما پنڈت مدن موہن مالویہ نے بھی کمی کی اپیل کو مسترد کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے پر تنقید کی۔ کانپور کے مل مزدوروں کی طرف سے ہڑتال کی بھی اطلاع ملی جس میں مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس کی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ ایم این رائے نے ایک کھلا خط لکھا جس میں ’برطانیہ کی لیبر گورنمنٹ‘ پر الزام لگایا، لیکن مجموعی طور پر کانپور کیس بھی انصاف کی اس جعل سازی کے خلاف عوامی احتجاج کو جنم دینے میں ناکام رہا۔
کانپور کیس میں اصل ملزم 13 افراد کی فہرست
(1) ایم این رائے، (2) مظفر احمد، (3) شوکت عثمانی، (4) غلام حسین، (5) ایس اے ڈانگے، (6) سنگاراویلو، (7) آر ایل شرما، (8) نالینی گپتا، (9) شام الدین حسن، (10) ایم آر ایس ویلائندھون، (11) ڈاکٹر منی لعل،(12)سمپورناناندا،(13)ستیابھگتا۔
سیشن کورٹ میں ٹرائل ہونے والے 8 افراد کی فہرست
(1) ایم این رائے، (2) مظفر احمد، (3) ایس اے ڈانگے، (4) نالینی گپتا، (5) غلام حسین، (6) سنگاراویلو، (7) شوکت عثمانی، (8) آر ایل شرما۔
اعترافات اور دھوکہ دہی
کانپور سازش کیس سے متعلق ایک شرمناک واقعہ اس کیس میں ملزم کمیونسٹوں کی طرف سے دھوکہ دہی اور اعتراف جرم کرناتھا۔ پولیس کی حراست میں ایس اے ڈانگے اورنالینی گپتا نے مبینہ طور پر برطانوی حکام کو متعدد خطوط/بیانات لکھے (کچھ اکیلے اکیلے اور کچھ مشترکہ طور پر)۔ نالینی گپتا دراصل پولیس ایجنٹ بنے تھے، اس پر عام طور پر اتفاق کیا جاتا ہے، لیکن ڈانگے کا کردار اب بھی متنازعہ ہے۔ بدنام زمانہ ”ڈانگے خطوط“ سب سے پہلے 7 مارچ 1964 کو اینٹی کمیونسٹ پیپر ’کرنٹ‘کے ذریعے اچھالے گئے تھے اور یہ فوراً ہی پارٹی کے دو دھڑوں کے درمیان کیچڑ اچھالنے کا موقع بن گئے تھے جو چند ہی مہینوں میں سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) بن گئے تھے۔ دونوں طرف سے بڑے ناموں نے خطوط کا جائزہ لینے کے لیے نئی دہلی میں حکومت ہند کے نیشنل آرکائیوز کا دورہ کیا۔ ڈانگے کی سربراہی میں کام کرنے والے سابقہ دھڑے نے دعویٰ کیا کہ یہ خطوط اینگلو امریکن سامراجیوں یا چینی کمیونسٹ پارٹی کے کہنے پر ”تقسیم کرنے والوں“ نے جعلی طریقے سے بنائے اور آرکائیوز میں لگائے تھے۔ ان کی بنیادی منطق یہ تھی کہ آرکائیوز میں داخل کیے گئے خطوط پر شریپت (انگریزی لفظ ’ٹی‘ کو نشان زد کر کے) امرت ڈانگے کے طور پر دستخط کیے گئے تھے جبکہ ڈانگے کی طرف سے استعمال کردہ درست ہجے ہمیشہ سریپد (’ڈی‘ کو نشان زد کر کے) امرت ڈانگے تھے۔ اصل جوابی دلیل یہ تھی کہ جعل ساز ہجے وغیرہ کے حوالے سے دوہرا خیال رکھتا ہے اور مزید یہ کہ اگر واقعی یہ جعلسازی کا معاملہ نہیں تھا تو 1947 کے بعد برطانوی حکومت یا بھارتی حکومت نے کمیونسٹ تحریک اور اس کے رہنما کی توہین کے لیے ان جعلی خطوط کا استعمال کیوں نہیں کیا؟
1964 کے ان گرم دنوں میں جب ڈانگے مخالف دھڑے کے تجربہ کار رہنما اور ڈانگے کے ہم عصروں میں سے ایک کے طور پر مظفر احمدڈانگے کی ”غداریوں“ پر بیانات جاری کر رہے تھے، لیکن انہوں نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیانات پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ یہ دوسروں کے ذریعہ سامنے لایا گیا اور بعد میں مظفراحمد نے اپنی کتاب ”مائی سیلف اینڈ دی سی پی آئی (1969)‘میں لکھا کہ انہوں نے پولیس کو صرف وہی معلومات فراہم کیں جو دوسرے ذرائع سے پولیس کو پہلے سے معلوم تھیں۔ ان کے مطابق انہوں نے یہ بیان 23 مئی 1923 کو، یعنی اپنی گرفتاری کے چار دن بعد،دیا تھا۔ ایسا تب کیا تھا جب کمیونسٹوں، بشمول ان کے اور ایم این رائے کے درمیان حقیقی خطوط کا ایک گچھا پولیس نے انہیں دکھایا اور وہ جانتے تھے کہ بہت کچھ سامنے آ چکا ہے۔ یہ ورژن قدرتی طور پر تنازعات سے باہر نہیں ہے لیکن چونکہ 1964 کی تقسیم کے بعد یہ انکشاف اچھی طرح سے ہوا تھا، اس لیے ”ڈانگے خطوط“کے مقابلے میں اس پر بہت کم شور و غوغا تھا۔
ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ہینڈ رائٹنگ کے ماہرین اور ان تمام چیزوں کی مدد سے تنازعات پر حتمی فیصلہ دے سکیں۔ ہمارے ملک میں کمیونسٹ تحریک کی سیاسی تاریخ کے بارے میں شاید یہ اتنا ضروری بھی نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نالینی گپتا نے پارٹی کے ساتھ دھوکہ کیا، جبکہ مظفر احمد نے اعترافی بیانات دیے اور ڈانگے نے کم از کم رحم کی بھیک ضرور مانگی۔ چاہے پولیس جاسوس کے طور پر خدمات انجام دینے کی ان کی مبینہ پیشکش کو جعلسازی کے معاملے کے طور پر لیا جائے۔تاہم یہ داغ یقینی طور پر تجربہ کار کمیونسٹ لیڈروں کے طور پر ان کے تاحیات کام کی پوری تاریخ کو نہیں مٹاسکتے، اور نہ ہی ان کی دیگر بعد کے سالوں میں کی گئی غلطیاں اور کوتاہیاں، یہاں تک کہ ڈانگے کے انتہائی سیاسی انحراف بھی ایسا کر سکتے ہیں۔
یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ کسی نے بھی کوئی ثبوت یا اشارے پیش نہیں کیے، جن سے یہ ظاہر ہو کے ڈانگے نے کبھی پولیس ایجنٹ کے طور پر کام کیا۔
قانونی یا غیر قانونی پارٹی؟
اس سوال پر ایک اہم بحث1924-25کے دوران ہوئی۔ اس نکتے کا اظہار ایم این رائے کے ایک مضمون کے عنوان میں کیا گیا تھاکہ ”کیا کمیونسٹ پارٹی کو ایک خفیہ سوسائٹی ہونا چاہیے؟“ یہ ’سوشلسٹ‘ میں 24 ستمبر 1924 کو شائع ہونے والے جانکی پرساد باگیرہٹہ کے ”ایم این رائے کے نام کھلے خط“ کا جواب تھا۔ اس کھلے خط میں راجستھان کے اجمیر سے اے آئی سی سی کے رکن باگیرہٹا نے تجویز پیش کی کہ ایک کمیونسٹ پارٹی کو کھلے عام منظم کیا جائے، جو ہندی اور اردو اخبارات شائع کرے اور ”کمیونسٹ پارٹی“ کو مقبول بنانے کے لیے لیفٹ لٹ شائع کرے اور ”کانگریس کے اندر ایک مضبوط پارٹی قائم کی جائے۔۔۔۔۔۔تاکہ تنظیم پر قبضہ قائم کیا جا سکے۔“ انہوں نے اصرار کیا کہ کمیونسٹ پارٹی کو”تھرڈ انٹرنیشنل کی مدد“ لینی چاہیے۔ یہ جانکی پرساد بعد میں پولیس ایجنٹ نکلا لیکن اس کا خط ہمارے لیے یہاں تک دلچسپی کا باعث ہے کہ اس نے سوشلسٹ اور ایم این رائے کو ان اہم سوالات پر اپنے اپنے خیالات واضح کرنے پر اکسایا۔ ڈانگے کی گرفتاری کے بعد کے این جوگلیکر کی ادارت میں سوشلسٹ کا ردعمل پہلے سوال پر بزدلانہ اور دوسرے سوال پر الجھا ہوا تھا۔
’کسی بھی خفیہ اور غیر قانونی تنظیم‘ کے خلاف دو ٹوک اور یکطرفہ طور پر اظہار خیال کرتے ہوئے (یعنی معروضی حالات کے تقاضوں یا حکومت کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کا حوالہ دیے بغیر)اداریے ’ریفلیکشنز‘ میں لکھا گیا کہ:
”تمام مدد صرف ہماری شرائط پر ہی قبول کی جا سکتی ہے۔۔۔۔۔ ان شرائط پر اگر حکومت خود بھی کوئی پیشکش لے کر آئے تو ہم اسے قبول کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔جہاں تک تھرڈ انٹرنیشنل کا تعلق ہے۔۔۔۔۔ مدد کے لیے اس کی طرف دیکھنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ ہم اس کے بارے میں مستند طور پر کچھ نہیں جانتے ہیں اور اس لیے اس کے بارے میں خاص ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔“
حکام کو خوش کرنے کے لیے ان الفاظ کو بعض اوقات ’حکمت عملی‘ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن درحقیقت یہ سرکاری نگرانی اور جبر سے بچنے کے لیے اصولوں کو چھوڑنے کی طرف رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہی سیاسی رجحان تھا جو کمیونسٹ تحریک کے ابتدائی اور بعد کے ادوار میں لاک اپ اور جیلوں میں ذاتی دھوکہ دہی کے بہت سے معاملات میں ظاہر ہوا۔ بہرحال ’سوشلسٹ‘ کے ردعمل کے مقابلے میں ایم این رائے کا ردعمل کہیں زیادہ مستقل اور سبق آموز تھا۔ لہٰذا ہم اوپر بیان کردہ مضمون سے اقتباسات کوپیش کرتے ہیں۔ ”کھلے یا خفیہ“ کام کے سوال پر وہ عام کمیونسٹ گائیڈ لائن کو صحیح طور پر بیان کرتے ہیں: (i) جب مجبور ہو تو زیر زمین کام کرو، (ii) قانونی حیثیت کی جنگ جاری رکھو، (iii) لیکن کسی بھی قیمت پر قانونیت پسندی کا شکار نہ ہوں۔ قانونیت پسندی کے خلاف اپنے حملے میں ایم این رائے نے سنگاراویلو کو ایک غلط نکتہ نظر پر تنقید کا نشانہ بنایا۔مؤخر الذکر کے LKPH نے ”خود کو کمیونسٹ نہیں کہا“ (جیسا کہ رائے نے غلط طور پر سمجھا)؛ مشترکہ رضامندی سے اسے کانگریس کے اندر کام کرنے والی ایک کھلی عوامی پارٹی قرار دیا گیا تھا اور اس نے کسی ”قانونی وجود کے لیے غیر معمولی جوش“ کی وجہ سے نہیں بلکہ دیگر کمزوریوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر پیش رفت درج کی تھی۔ اس مضمون میں (”کیا کمیونسٹ پارٹی کو ایک خفیہ سوسائٹی ہونا چاہیے؟“) رائے تیسری انٹرنیشنل کے ساتھ تعلقات کے سوال پر کچھ نہیں لکھتے، غالباًاس لیے کہ ان کے لیے یہ انتخاب ایک واضح اثبات ہے۔ تاہم یہ سوال پارٹی کے نام (دراصل قوم پرست یا بین الاقوامیت پرست نقطہ نظر)پر بحث کی شکل میں جلد ہی سامنے آئے گا۔