التمش تصدق
انسانی سماج جب سے طبقات میں تقسیم ہوا ہے مخلتف طبقات سے وابسطہ انسانوں کے مختلف مفادات اور خواہشات ہیں۔یہ مفادات اور خواہشات محض مختلف ہی نہیں بلکہ متضاد بھی ہیں۔حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی جہاں ہمیشہ خواہش ہوتی ہے وہ اپنی طبقاتی حاکمیت کو قائم رکھے وہاں محکوم طبقے کے افراد کی خواہش ہوتی ہے وہ طبقاتی غلامی اور استحصال سے آزاری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انسانی سماج کی طبقات میں تقسیم ہونے کے بعد انسانی تاریخ طبقاتی کشمکش کی تاریخ ہے۔غلاموں کی اپنے آقاؤں سے آزاری کی جدوجہد کی تاریخ، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خلاف کسانوں اور مزدوروں کی جدوجہد کی تاریخ ہے۔طبقاتی تضاد اور کشمکش ہمیشہ طبقاتی سماج میں موجود رہتی ہے،کبھی انفرادی تصادم کی صورت میں اور کبھی اجتماعی بغاوتوں سرکشی اور انقلابات کی صورت میں اپنا اظہار کرتی ہے۔
طبقاتی جبر کو قائم رکھنے کے لیے بالادست طبقہ ایسی روایات، اخلاقیات اور نظریات کو فروغ دیتا ہے جن کے ذریعے طبقاتی جبر اور حاکمیت کو جواز فراہم کر سکے لیکن صرف روایات اور نظریات کی بنیاد پر طبقاتی غلامی کو قائم نہیں رکھا جا سکتا ہے اس کے لیے جبر کی مادی قوت درکار ہوتی ہے، جو قوت حکمران طبقے نے ریاست کی صورت میں تخلیق کی ہے۔جب بھی محکوموں نے غلامی اور استحصال سے نجات کے لیے بغاوت کی حکمران طبقے نے ریاست کے ذریعے ان بغاوتوں کو بے دردی سے کچلنے کی کوشش کی ہے۔حکمران طبقے کو اپنی حاکمیت قائم رکھنے کے لیے ہزاروں یا لاکھوں افراد کو قتل کرنا پڑا انہوں نے گریز نہیں کیا ہے۔ہر ریاست حکمران طبقے کے پاس محکوم طبقے کودبانے کے لیے جبر کا آلہ ہے۔غلام دارانہ نظام میں ریاست غلام مالکان کے ہاتھوں میں غلاموں پر جبر کا آلہ تھی اسی طرح جاگیرداری اور سرمایہ داری میں ریاست جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے پاس کسانوں اور مزدوروں کو دبانے کا آلہ ہے۔
شکاگو کے مزدوروں کا قتل عام بھی ایسا ہی واقع ہے جب سرمایہ دار حکمران طبقے کی نمائندہ ریاست نے سرمایہ داروں کے منافعوں کو برقرار رکھنے کے لیے نہتے مزدوروں کے لہو سے ہولی کھیلی تھی۔یکم مئی 1886 کو امریکہ کے شہر شکاگو میں سفید جھنڈے اٹھائے ہوئے مزدروں کے جلوس پر امریکی سرمایہ دارانہ ریاست کے اہلکاروں نے جب گولی چلائی تو ان محنت کشوں کے لہو سے سفید جھنڈے کا رنگ سرخ ہو گیا۔یہ سرخ پرچم آج بھی محنت کشوں کی جدوجہد کا نشان ہے۔ان محنت کشوں کا جرم یہ تھا کہ وہ کام کے اوقات کار آٹھ گھنٹے مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔یکم مئی 1886 کو ہونے والا یہ طبقاتی تصادم کا کوئی پہلا یا آخری واقع نہیں تھا لیکن یہ واقعہ مزدور تحریک کی تاریخ میں ایک حوالے کے طور پر درج ہو گیا۔یہ دن ہر سال عالمی سطح پر مزدروں کی یکجہتی کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔یہ واحد ایسا تہوار جو بلا تفریق رنگ، نسل، مذہب اور ملک کے سرخ پرچم تلے ساری دنیا میں منایا جاتا ہے۔یہ دن بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ کے نعرے کا عملی اظہار ہے۔اس دن ساری دنیا کے کروڑوں محنت کش سڑکوں پر آ کر حکمران طبقات کی طرف سے محنت کشوں کو تقسیم کرنے والے تمام تعصبات کو پیروں تلے روندتے ہیں۔
محنت کشوں نے مشترکہ جدوجہد کے ذریعے 8 گھنٹے یومیہ اوقات کار سمیت بہت سے مطالبات تسلیم کروائے ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام میں محنت کشوں کی تحریکوں کو ختم کرنے کے لیے حکمران جہاں جبر کا استعمال کرتے ہیں وہاں نظام کو بچانے کے لیے وقتی پسپائی بھی اختیار کرتے ہیں اور محنت کشوں کی کچھ مانگوں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔موقع ملتے ہی حکمران طبقہ ان تمام حاصلات کو واپس چھیننے کی کوشش کرتا ہے جو محنت کشوں نے طویل جدوجہد اور قربانیاں کے ذریعے حاصل کی ہوتی ہے۔آج بھی دنیا کے بہت سے ملکوں اور شعبوں میں آٹھ گھنٹے یومیہ اوقات کار کی پابندی نہیں کی جاتی ہے، بالخصوص نجی شعبہ میں 12 سے 14 گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ روزگار کی ضمانت، پنشن کا حق اور اس طرح کے دیگر حقوق جو محنت کشوں نے طویل جدوجہد کے بعد حاصل کیے تھے حکمران طبقہ واپس چھیننے کی کوشش کر رہا ہے۔قومی اداروں کی نجکاری کے ذریعے محنت کشوں کو روزگار سےمحروم کیا جا رہا ہے۔حکومت کی اعلان کردہ کم سے کم اجرت پر نہ صرف نجی شعبے میں عمل نہیں ہو رہا بلکہ حکومتی محکموں میں بھی اس پر عمل درامد نہیں کیا جا رہا۔سرمایہ داری کی نیو لبرل معاشی پالیساں،غربت،مہنگائی، بیروزگاری اور بیماری میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں دوسری طرف دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو رہی ہے۔آج امارت اور غربت کی جو خلیج ہے وہ تاریخ میں کبھی نہیں تھی۔
طبقاتی تفریق میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اسی شدت سے طبقاتی جنگ کے امکانات بھی بڑھ چکے ہیں جو اپنا اظہار مختلف تحریکوں کی صورت میں کر رہے ہیں جس میں مستقبل میں مزید شدت آئے گی۔1886 میں ہونے والے شکاگو کے مزدوروں کے قتل عام کو ایک صدی سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے لیکن نظام نہ بدلنے کی وجہ سے وقت بدلنے کے باوجود محنت کشوں کے حالات نہیں بدلے اور سرمایہ دار حکمران طبقے اور اس کی نمائدہ ریاستوں کا کردار نہیں بدلا۔آج بھی جب محنت کش اپنے حقوق کے لیے نکلتے ہیں تو ریاستی اہلکار وحشی کتوں کی طرح محنت کشوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔رواں ہفتے لاہور میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کے نجکاری کے اخلاف پرامن احتجاجی مارچ پر بدترین تشدد کیا گیا اور خواتین اور مرد محنت کشوں کو گرفتار کیا گیا۔اسی طرح مظفرآباد میں ایم این سی ایچ پروگرام کے تحت کام کرنے والی محنت کش خواتین کے جبری برطرفیوں کے خلاف اور اجرتوں کی ادائیگی کے لیے ہونے والے پرامن احتجاجی دھرنے پر دو دنوں میں دو مرتبہ تشدد کیا گیا اور خواتین محنت کشوں کو گرفتار کیا۔اس نظام کی موجودگی میں محنت کشوں پر جبر کا خاتمہ ناممکن ہے کیوں کہ اس نظام کو قائم رکھنے کے لیے جبر ناگزیر ہے۔محنت کش طبقہ جس طبقاتی یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ یوم مئی کو ساری دنیا میں کرتا ہے اس طبقاتی اتحاد کو مستقل بنیادوں پر قائم کرتے ہوئے عالمی طبقاتی جنگ کی ضرورت ہے۔محنت کشوں کا اپنا اقتدار ہی انہیں صدیوں کے طبقاتی جبر، استحصال اور محرومیوں سے نجات دلا سکتا ہے اور طبقاتی سماج کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا ہے۔
