سٹاک ہولم (جدوجہد رپورٹ)2023 میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی ) کی مارکیٹ ویلیو 189 ارب ڈالر تھی جو 2033 میں بڑھ کر 5 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گی مگر اس بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ اے آئی کے ماحولیات کے لئے خوفناک نتائج بھی بڑھتے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں قائم ڈیٹا سنٹرز کو جتنی انرجی، پانی اور زمین چاہئے اس کے ماحولیات پر خوفناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں بلکہ ان ڈیٹا سنٹرز کا کاربن فٹ پرنٹ بھی بہت زیادہ ہے۔
اسی طرح، اے آئی دنیا بھر میں عدم مساوات کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ آدھے سے زیادہ ڈیٹا سنٹرز امریکہ میں ہیں جس سے ڈیجیٹل عدم مساوات میں مزید اضافہ ہو گا۔
رپورٹ کے مطابق، ان ڈیٹا سنٹرز کو اتنی بجلی درکار ہے جتنی سب صحارا افریقہ میں رہنے والے1.6 ارب افراد ڈھائی سال میں استعمال کرتے ہیں۔اگلے لگ بھگ پانچ سال میں ان ڈیٹا سنٹرز کی بجلی کی کھپت ،عالمی سطح پر بجلی کی کھپت کا 3 فیصد ہو جائے گا۔
ان ڈیٹا سنٹرز کو جتنا پانی درکار ہے( 4.5 ٹریلین لیٹر)، وہ سب صحارا افریقہ کے 600 ملین افراد بھی استعمال نہیں کرتے۔
ان ڈیٹا سنٹرز کے کاربن فٹ پرنٹ سے نپٹنے کے لئے 3.2 ارب درخت دس سال میں چاہئے ہوں گے۔ اتنے درختوں کا مطلب ہے پورے برطانیہ میں موجود درخت۔
ان ڈیٹا سنٹرز کے لئے لندن کے کل رقبے سے چار گنا زیادہ زمین درکار ہو گی۔