روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

70 سے زائد خاندان تقسیم: جموں کشمیر تو چاہیے، لیکن کشمیری نہیں!

70 سے زائد خاندان تقسیم: جموں کشمیر تو چاہیے، لیکن کشمیری نہیں!

حارث قدیر

بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر سے تقریباً60ایسی خواتین کو بچوں سمیت بذریعہ واہگہ بارڈر پاکستان بھیج دیا گیا ہے، جو سابق کشمیری عسکریت پسندوں کی بیویاں تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 11ایسی خواتین کو بھی واپس بھیج دیا گیا ہے، جو تقریباً45سال سے بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں شادی کر کے آباد تھیں۔

’گریٹر کشمیر‘ کے مطابق پاکستان بھیجی جانے والی 60خواتین اپنے خاندانوں کے ساتھ سری نگر، بارہمولہ، کپواڑہ، بڈگام اور شوپیاں جیسے اضلاع میں رہائش پذیر تھیں۔ انہیں بسوں کے ذریعے پنجاب لے جایا گیا اور وہاں سے پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ملک بدر کیے جانے والوں میں زیادہ تر وہ خواتین اور ان کے بچے شامل ہیں،جن کے شوہر سابق عسکریت پسند تھے اور 2010 میں سابق عسکریت پسندوں کے لیے بنائی گئی بحالی پالیسی کے تحت واپس وادی آئے تھے۔ان میں سے 36 افراد سری نگر، 9 بارہمولہ اور 9 کپواڑہ، 4 بڈگام، اور 2 شوپیاں میں مقیم تھے۔بھارتی حکومت نے جن وعدوں کے تحت ان افراد کو واپس بلایا تھا ان میں سے کسی وعدے پر بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ کئی خاندان پہلے ہی بھارتی حکومت اور انتظامیہ کے رویوں اور سفری دستاویزات نہ دینے کی وجہ سے تقسیم ہو چکے ہیں۔ اب مزید خاندانوں کو بھی تقسیم کر دیا گیا ہے۔

ادھر 45سال سے رہائش پذیر 11 خواتین مینڈھر اور پونچھ کے علاقوں میں رہائش پذیر تھیں، جو سیز فائر لائن(لائن آف کنٹرول)کے پونچھ سیکٹر کے قریب ترین علاقے ہیں۔ 90کی دہائی میں عسکری تحریک شروع ہونے سے قبل سیز فائر لائن کے قریبی علاقوں میں بسنے والے جموں کشمیر کے شہریوں کا آپس میں میل جول کسی حد تک آسان تھا، یہی وجہ تھی کہ ان باشندوں نے آپس میں محدود پیمانے پر ہی لیکن کچھ رشتے داریاں دوبارہ بحال کی تھیں۔ یہ خواتین رشتوں کی بحالی کی اسی کوشش میں آج45سال بعد اپنے خاندانوں سے جدا ہو رہی ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت میں قیام پذیر پاکستانی شہریوں کو بھی ملک بدر کیا گیا ہے، تاہم اس عمل میں غیر مسلم شہریوں کو استثناء دیا گیا ہے۔ چند ماہ قبل بھارتی نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے ایک اہلکار سے شادی کر کے بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر منتقل ہونے والی ایک پاکستانی خاتون کو ملک بدر کرنے کے حکم پر عملدرآمد جموں کشمیر ہائی کورٹ کے حکم کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع میرپور سے 27سال قبل بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر منتقل ہونے والے ایک خاندان کو بھی بھارتی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ملک بدر کرنے کا عمل روک دیا گیا ہے۔

’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق ملک بدری کا شکار ہونے والی خواتین میں ایک ایسی خاتون بھی شامل ہیں، جو ایک عسکریت پسند حملے میں مارے جانے والے پولیس اہلکار کی والدہ ہیں۔ شمیم اختر کے بیٹے سپیشل پولیس آفیسر احمد شیخ کی تین سال قبل مئی2022میں ایک عسکری حملے میں ہلاکت ہوئی تھی۔ شمیم اختر اور ان کے شوہر کو بھارتی صدر کے ہاتھوں اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔

بارہمولہ شہر میں ایک چوک کو بھی مدثر کے نا م سے منسوب کیا گیا تھا۔ تاہم ان کی ماں کو اب ایک اور عسکری حملے کے رد عمل میں ملک بدر کیا جا رہا ہے۔

سیز فائر لائن کے دونوں اطراف بسنے والے کشمیریوں کے حوالے سے پالیسی الگ ہے، جبکہ پاکستانی شہریوں کے حوالے سے مختلف پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے70سے زائد پاکستانی خواتین کو بھارتی وزارت خارجہ کی خصوصی اجازت کے بعد بھارت داخل ہونے دیا گیا ہے۔ یہ پاکستانی خواتین بھارتی شہریوں کی بیویاں تھیں اور اپنے رشتہ داروں سے ملنے پاکستان آئی گئی تھی، لیکن واپسی پر انہیں پاکستانی حکام نے بھارت جانے سے روک دیا تھا۔ تاہم بات چیت کے بعد ایک استثنائی اقدام کے تحت انہیں بھارت جانے کی اجازت دے دی گئی۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں