روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

آسٹریلیا:اسرائیلی صدر کے دورے کے خلاف احتجاج، پولیس کا پیپر اسپرے کا استعمال، متعدد گرفتار

آسٹریلیا:اسرائیلی صدر کے دورے کے خلاف احتجاج، پولیس کا پیپر اسپرے کا استعمال، متعدد گرفتار

لاہور(جدوجہد رپورٹ)آسٹریلوی پولیس نے پیر کے روز سڈنی کے وسطی حصے میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے دورہئ آسٹریلیا کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیپر اسپرے کا استعمال کیا، جس کے دوران کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

احتجاجی ریلی اس وقت کشیدہ ہوئی جب پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کو مارچ کرنے سے روک دیا۔ ہجوم میں ”ہم نسل کشی کے خلاف ہیں“ اور ”ہرزوگ کو گرفتار کرو“ جیسے نعروں والے پلے کارڈ نظر آئے۔

’بی بی سی‘ کے مطابق اس سے قبل اسحاق ہرزوگ نے سڈنی کے بونڈائی بیچ پر دسمبر میں یہودی تہوار کے دوران ہونے والی فائرنگ کے مقام پر پھول اور یروشلم سے لائے گئے دو پتھر رکھے۔ اس حملے میں 15 افراد، جن میں ایک 10 سالہ بچی بھی شامل تھی، ہلاک ہوئے تھے۔

فلسطین ایکشن گروپ کی جانب سے یہ مظاہرہ اس وقت منظم کیا گیا جب نیو ساؤتھ ویلز حکومت نے حالیہ ہفتوں میں ”میجر ایونٹ پاورز“ کے تحت ایسی قانونی پابندیاں متعارف کرائی ہیں جن کے ذریعے پولیس کو شہری علاقوں کو بند کرنے، لوگوں کی جامہ تلاشی لینے اور عدم تعمیل پر 5ہزار500 آسٹریلوی ڈالر تک جرمانہ عائد کرنے کا اختیار مل گیا ہے۔

پابندیوں کے باوجود منتظمین نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا، اور تقریباً 5ہزار افراد کی شرکت متوقع تھی۔ سڈنی اور میلبورن دونوں شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
پرامن جلسہ ختم ہونے کے بعد لوگوں نے”ہمیں مارچ کرنے دو“ کے نعرے لگائے، تاہم پولیس نے راستہ بند رکھا۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر پولیس نے مظاہرین پر پیپر اسپرے کا استعمال کیا اور مزید نفری طلب کر لی۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانی نے ہرزوگ کو دورے کی دعوت دی تھی، ان کے مطابق یہ دورہ بونڈائی حملے کے بعد سماجی ہم آہنگی کو فروغ دے گا۔

تاہم ہرزوگ کے دورے پر سخت تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ یہودی کونسل آف آسٹریلیا اور آسٹریلین نیشنل ائمہ کونسل سمیت کئی گروہوں نے کہا کہ ایسے شخص کو مدعو کرنا غلط ہے جس پر غزہ میں نسل کشی کو ہوا دینے کے الزامات ہیں۔

پچھلے سال اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسحاق ہرزوگ ان اسرائیلی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے فلسطینیوں کے خلاف ”نسل کشی پر اکسانے“والے بیانات دیے۔

یہودی کونسل آف آسٹریلیا کی جانب سے شائع ہونے والے ایک کھلے خط پر 600 آسٹریلوی یہودیوں کے دستخط تھے، جن میں کہا گیا کہ ”ہرزوگ ہماری نمائندگی نہیں کرتے، اور ہم انہیں خوش آمدید نہیں کہتے۔“

اقوام متحدہ کمیشن کے رکن اور آسٹریلوی انسانی حقوق کے ماہر کرس سڈوٹی نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ سربراہان ریاست کو عام طور پر ملنے والا استثنا نسل کشی جیسے سنگین جرائم پر لاگو نہیں ہونا چاہیے، اس لیے ہرزوگ کو آسٹریلیا میں گرفتار کیا جانا چاہیے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں