انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ
کیپٹن ابراہیم تراورے کے غیر متوقع طور پر ابھر کر اقتدار میں آ جانے سے نہ صرف افریقہ بلکہ پورے عالمی جنوب میں جوش، امید اور بحث و مباحثے نے جنم لیا ہے۔ بغاوت کی علامت بن چکی ان کی شخصیت، جسے دیواروں پر لگی تصویروں، ٹک ٹاک ویڈیوز اور جلاوطن افریقی عوام کے جلسوں میں سراہا جا رہا ہے، ایک ایسے بین الافریقی، سامراج دشمن جذبے کی یاد تازہ کرتی ہے جو تھامس سنکارا کے دور سے وابستہ ہے۔ تاہم ان سے وہ باتیں بھی منسوب کی جا رہی ہیں جو نہ انہوں نے کہی ہیں اور نہ کی ہیں۔ اس سلسلے میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بھی بڑے پیمانے پر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ جو انہیں ایک نظریاتی و عملی عظمت کے پیکر کے طور پر پیش کرتا ہے اور بڑی حد تک مبالغہ آمیزی پر مبنی ہے۔ اس کے باوجود افریقہ، جنوب ایشیا اور لاطینی امریکہ وغیرہ (جہاں خوفناک نوآبادیاتی ماضی کے زخم آج بھی تازہ ہیں) میں جبری قبضوں، معاشی بربادی اور ریاستی زوال کے شکار کروڑوں لوگ تراورے کو انقلابی امید کی کرن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
تجرئیے و تناظر کے مارکسی طریقے میں ظاہر کو جوہر اور بنتر (Form) کو داخلی مواد یا مافیہ (Content) کے مقابلے میں دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ تراورے کے ابھار کے پیچھے ایک انقلابی سماجی عمل کارفرما ہے اور ان کے دورِ اقتدار میں بعض نسبتاً جرات مندانہ اقدامات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ لیکن ہمیں خبردار رہنا ہو گا کہ ایک انقلابی پارٹی کی شکل میں مارکسی قیادت کی عدم موجودگی، مزدور طبقے کی منظم طاقت اور جمہوری اداروں کے فقدان اور سیاسی زندگی میں بڑھتی ہوئی عسکری مداخلت جیسے عناصر اس انقلابی عمل کی آمرانہ زوال پذیری کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ برکینا فاسو میں رونما ہونے والی پیش رفتیں ہمیں عالمی جنوب میں دوسری عالمی جنگ کے بعد ابھرنے والی انقلابی شورشوں کی کامیابیوں اور خوبیوں کیساتھ ساتھ روایتی کمزوریوں اور خامیوں کی بھی یاد دلاتی ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد کی دہائیوں کے ان عوامل میں بھی ایسی ہی حکومتوں کا ابھار اور پھر ناگزیر زوال یا انحطاط دیکھنے کو ملتا ہے۔
تاہم سوویت یونین اور مشرقی یورپ میں سٹالنزم کے انہدام، چین میں سٹالنزم کے مزید بگاڑ کے نتیجے میں ایک سٹالنسٹ ریاستی سرمایہ دارانہ نظام میں بدل جانے اور عالمی سطح پر سرمایہ داری کے بے نظیر بحران کیساتھ ایسی ریاستوں یا حکومتوں کی بقا کی گنجائش انتہائی محدود ہو چکی ہے۔ چنانچہ اس طرز کی حکومتوں کی تاریخی عمر یا معیاد میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ تراورے کا مشرق میں ابھرتی ہوئی سامراجی طاقتوں (روس اور چین) کی جانب جھکاؤ اور ایک ایسے ’طاقتور رہنما‘ کے طور پر ابھرنا جو کسی مؤثر احتساب یا جمہوری کنٹرول سے آزاد ہو‘ اس عوامی بغاوت کو زوال یا پسپائی کے مزید خطرات سے دوچار کر دیتا ہے۔
یہ قرارداد تراورے کے اقتدار کا ابتدائی تجزیہ پیش کرنے کی کوشش ہے۔ جس کا مقصد مغربی سامراجی حملوں‘ بالخصوص افریکوم (AFRICOM) جیسے اداروں کے کردار کو بے نقاب کرنا اور یہ موقف اجاگر کرنا ہے کہ استحصال سے دوچار طبقات کے اتحاد کیساتھ پرولتاریہ کی قیادت میں برپا ہونے والا سوشلسٹ انقلاب ہی برکینا فاسو، افریقہ اور پوری دنیا کو سامراجی سرمایہ دارانہ جبر سے نجات دلا سکتا ہے۔
تراورے حکومت کے حقیقی ثمرات
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تراورے کی قیادت میں قائم فوجی عبوری حکومت نے برکینافاسو کے عوام کو کچھ ٹھوس فوائد پہنچائے ہیں۔ محض ایک سال کے عرصے میں اس حکومت نے درج ذیل اہم اقدامات کیے ہیں:
* قومی وسائل کی جزوی بازیابی: ملک کے اندر سونے کی ریفائنری کے قیام اور کان کنی کے معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید کے ذریعے ریاست نے قدرتی وسائل پر اپنا کنٹرول بڑھایا ہے۔ جو دولت پہلے مکمل طور پر بین الاقوامی کارپوریشنوں کی جانب سے لوٹی جا رہی تھی‘ اب اس کا کچھ حصہ قومی ترقی کی طرف موڑا جا رہا ہے۔
* زرعی بحالی: ریاست نے کسانوں کو مفت کھاد، جدید آلات اور بہتر بیج فراہم کیے ہیں۔ جس سے غذائی تحفظ میں بہتری آئی ہے اور مقامی سطح پر کپاس، مکئی اور ٹماٹر کی پراسیسنگ میں اضافہ ہوا ہے۔
* سماجی انفراسٹرکچر کی تعمیر کا آغاز: ایک ہزار سے زائد بے گھر خاندانوں کو بہت سستی رہائش دے کر دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔ نئے سکول اور کلینک تعمیر کیے جا رہے ہیں اور دیہی علاقوں میں بجلی و پانی کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ جس کا مقصد کئی دہائیوں کی ریاستی غفلت کا ازالہ کرنا ہے۔
* جدید نوآبادیاتی نظام کو چیلنج: فرانسیسی فوج کے انخلا، (مغربی طاقتوں سے) سکیورٹی معاہدوں کے خاتمے اور ’’فرانس کو گرنا ہو گا!‘‘ جیسے عوامی نعروں نے ایک ابھرتے ہوئے سامراج مخالف شعور کا اظہار کیا ہے۔
یہ کوئی معمولی کامیابیاں نہیں ہیں۔ عوام کے براہِ راست جمہوری کنٹرول میں نہ ہونے کے باوجود یہ اقدامات عام لوگوں کو درپیش مسائل کے حل کی کوشش کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ بھی ایسے حالات میں جہاں قومی تباہی، آئی ایم ایف کی رکاوٹیں، ماحولیاتی بحران اور مسلح بغاوتیں ایک ساتھ موجود ہیں۔
کپتان کا بت (Cult)
تراورے کی مقبولیت کی وجوہات قابل فہم ہیں۔ لیکن اب یہ صورت حال مسائل بھی پیدا کر رہی ہے۔ ان کی شخصیت، جسے چے گویرا اور سنکارا کے ساتھ فوٹو شاپ شدہ تصاویر میں دکھایا جا رہا ہے، اب محض مزاحمت کی علامت نہیں رہی۔ بلکہ تیزی سے شخصیت پرستی کے ایسے رجحان میں ڈھلتی جا رہی ہے جو سیاسی تنظیم کی جگہ لینے لگا ہے۔
مارکس وادی سمجھتے ہیں کہ محنت کش عوام کی نجات کسی ایک فرد یا سماجی پرت پر نہیں ٹکی ہو سکتی۔ چاہے وہ کتنے ہی انقلابی یا خلوص نیت رکھنے والے ہوں۔ جب کوئی شخصیت نجات دہندہ کے طور پر ابھرتی ہے اور کسی طبقے کے تنظیمی یا سیاسی خلا کو بھرنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ ’بوناپارٹزم‘ (Bonapartism) کی علامت ہوتی ہے۔ جس کی نوعیت کا تعین اس کی طبقاتی بنیاد اور ان طبقاتی مفادات سے ہوتا ہے جن کی نگہبانی یہ بوناپارٹزم کرتا ہے۔ لیکن بائیں بازو کے بوناپارٹسٹ رجحانات میں بھی مختلف طبقات کے درمیان توازن قائم کرنے، محنت کش طبقے کی آزادانہ سرگرمی اور پہل قدمی کو دبانے اور ’’اوپر‘‘ سے حکمرانی کرنے کا رجحان موجود ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ سب کچھ وہ عوام کے نام پر کر رہے ہوتے ہیں۔
مزید یہ کہ مزدوروں اور کسانوں کو خود پر کیے جانے والے ان ’’احسانات‘‘ کی بھی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ جو اقتدار میں موجود بیوروکریسی کی مراعات اور بعض اوقات کھلی کرپشن اور لوٹ مار کی صورت میں ہوتی ہے۔ مارکسی وادیوں کا کام تحریکوں کو اندھا دھند سراہنا یا ان کی رو میں بہہ جانا نہیں ہوتا ہے۔ ہم ان تحریکوں کے نتیجے میں حاصل کردہ حاصلات کو بچانے کی جدوجہد کرتے ہیں، خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، رجعتی پہلوؤں پر تنقید کرتے ہیں اور داخلی تضادات کو اجاگر کر کے انقلابی دھار کو تیز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس حوالے سے جب تک مزدوروں، کسانوں اور سپاہیوں کے اقتدار کے جمہوری ادارے یا تنظیمیں موجود نہیں ہوں گی‘ تراورے کی حکومت اوپر سے مسلط کردہ اور عسکری طرز پر ہی استوار رہے گی۔ (برکینا فاسو میں) اختلافِ رائے کو دبانے، صحافیوں کو گرفتار کرنے اور مظاہرین کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ پہلے سے جاری ہے۔ یہ سب ایک سنگین خطرے کی علامتیں ہیں۔
اس سلسلے میں ماضی قریب میں وینزویلا کا تجربہ بہت سبق آموز ہے۔ ہوگو شاویز نے سامراج کی مخالفت، تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لینے اور سماجی فلاحی پروگراموں کے باعث دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی تھی۔ لیکن ان کی حکومت نے نہ تو سرمایہ داری کا خاتمہ کیا‘ نہ ہی منظم محنت کش طبقے کے جمہوری کنٹرول کو یقینی بنایا۔ وقت کے ساتھ‘ بالخصوص شاویز کی وفات کے بعد اقتدار مزید مرکوز ہوتا گیا۔ اختلاف کو دبایا گیا، مزدور یونینوں کو کمزور کیا گیا اور روسی و چینی سرمائے سے اتحاد قائم کیے گئے۔ آج وینزویلا کی حکومت بولیوارین انقلاب کے ابتدائی خوابوں اور امیدوں کی پرچھائی بن کے رہ گئی ہے۔
برکینا فاسو کو بھی اسی قسم کے خطرات لاحق ہیں۔ بلکہ اس صورت میں یہ خطرات زیادہ سنگین اور شدید ہیں۔ کیونکہ تراورے کے اقتدار کا ماخد ہی فوج ہے۔
مشرقی سامراج کوئی متبادل نہیں
تراورے کی ’’سامراج دشمن‘‘ خارجہ پالیسی اب ایک خطرناک راستے پر گامزن ہے۔ فرانس کے انخلا کے بعد برکینا فاسو اسلحے کے لیے روس اور انفراسٹرکچر و سرمایہ کاری کے لیے چین سے رجوع کر رہا ہے۔ یہی رجحان خطہ ساحل کی دیگر ریاستوں میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔
مارکس وادی اس خام خیالی کو رد کرتے ہیں کہ ماسکو یا بیجنگ سے اتحاد کا مطلب آزادی اور نجات ہے۔ یہ کوئی ترقی پسند متبادل قوتیں نہیں ہیں بلکہ (مغربی سامراج سے) مسابقت میں سرگرم سامراجی طاقتیں ہیں۔ روس کے واگنر گروپ نے مالی اور وسط افریقی جمہوریہ میں نہایت وحشیانہ مظالم کا ارتکاب کیا ہے اور منافع خوری کے لیے وہاں کی معدنیات کو لوٹ رہا ہے۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ مبہم اور مخفی شرائط، استحصالی قرضوں، ماحولیاتی تباہی اور مزدوروں پر جبر کے حوالے سے پہلے ہی بدنام ہے۔
ایک انقلابی مزدور ریاست کو مخصوص حالات میں دو سامراجی طاقتوں یا گروہوں کے آپسی تصادم کو تذویراتی طور پر اپنے مفاد میں استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن ایسی مصالحت بالکل عارضی اور خالصتاً تذویراتی ہونی چاہئے۔ کسی ایک سامراجی بلاک کو ’’کمتر برائی‘‘ یا ’’نسبتاً ترقی پسند‘‘ قرار دے کر نظریاتی جواز بخشنا یا اپنانا سیاسی اور اخلاقی غداری کے مترادف ہوتا ہے۔
ایسی نازک صورتحال سے محنت کش طبقے کے جمہوری کنٹرول اور مارکسی قیادت میں موجود انقلابی ریاست ہی مناسب طریقے سے نبرد آزما ہو سکتی ہے۔ برکینا فاسو میں چونکہ ایسی بنیادیں موجود نہیں ہیں اس لیے ایسی مصالحتیں، کاروباری تعلقات اور سرمایہ کاری کے معاہدے سارے انقلابی عمل کو بدعنوان کر کے بگاڑنے، اندر سے کھوکھلا اور گمراہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
آقا بدل لینے یا اپنی مرضی کے آقا چن لینے کا مطلب آزادی نہیں ہوتا۔ یہ طبقاتی جدوجہد، عوامی تحرک اور ایک بین الاقوامی انقلابی پارٹی کی تعمیر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جس کا مقصد اقتدار کو کسانوں اور سپاہیوں کو اپنے ساتھ اتحاد میں جوڑنے والے پرولتاریہ کے حوالے کرنا ہو۔
افریکوم کی منافقت
حال ہی میں افریقہ میں امریکی کمانڈ (AFRICOM) کے سربراہ جنرل مائیکل لینگلے نے تراورے کی حکومت پر ’’جمہوری انحطاط‘‘ کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ برکینا فاسو ’’اپنے عوام کو مایوس اور نامراد کر رہا ہے۔‘‘
یہ گھناؤنے، غلیظ اور جھوٹ پر مبنی سامراجی پروپیگنڈے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
افریکوم اس وقت کہاں تھا جب افریقہ بھر میں جمہوریت کا گلا قرضوں، فرانسیسی فوجی اڈوں اور کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے گھونٹا جا رہا تھا؟ مصر، سعودی عرب، پاکستان، روانڈا اور دنیا بھر میں آمریتوں کی معاونت اور حمایت کرنے والے امریکہ کو برکینا فاسو سے کیا مسئلہ ہے؟ محض یہ کہ برکینا فاسو اپنے سابقہ نوآبادیاتی آقاؤں کے سامنے کھڑا ہوا ہے؟
افریکوم کو جمہوریت کی نہیں بلکہ مغربی افریقہ کے وسائل پر سامراجی کنٹرول اور اس کی جغرافیائی اہمیت کی فکر ہے۔ واشنگٹن کو تراورے سے مسئلہ اس لیے نہیں کہ وہ آمر ہے۔ بلکہ اس لیے ہے کہ وہ (کم از کم اب تک) امریکی احکامات پر نہیں چل رہا ہے۔
افریکوم کو بے نقاب کیا جانا چاہیے: یہ ادارہ سرمایہ دارانہ لوٹ مار، ڈرون حملوں اور نئے نوآبادیاتی نظام کا اوزار ہے۔ تراورے پر اس کی تنقید کوئی اصولی مؤقف نہیں بلکہ سراسر موقع پرستی ہے۔
اقتدار کے بغیر امید خطرناک ہے!
تراورے عوام میں مقبول ہیں۔ ان کے ابھار نے عالمی جنوب میں موجود اس حقیقی تڑپ کا اظہار کیا ہے جو مغرب کو چیلنج کرنے والے اور بنیادی ضروریات و انصاف فراہم کرنے والے قائدین کے لیے عوام میں موجود ہے۔
برکینا فاسو میں یہ تڑپ اور امید حقیقی ذلتوں اور ٹھوس حاصلات پر مبنی ہے۔
وینزویلا میں انقلاب بالآخر اوپر سے مسلط کردہ کنٹرول اور سرمائے سے سمجھوتوں کی وجہ سے ناکام ہو گیا۔ کچھ دہائیاں قبل ایتھوپیا میں ہم نے مینگسٹو کی بوناپارٹسٹ حکومت کے بحران اور بالآخر زوال کو دیکھا۔ جس کے بعد میلے زیناوی کے وعدے بھی جلد ہی نیو لبرلزم اور جبر میں زائل ہو گئے۔ اسی قسم کی پیش رفتیں یمن، انگولا اور موزمبیق میں بھی نظر آتی ہیں۔ جہاں انقلابی امنگوں کے نشانِ راہ کھو دینے کے پیچھے نہ صرف بیرونی سامراجی مداخلتیں بلکہ گہرے داخلی تضادات اور ساختی کمزوریاں بھی کارفرما تھیں۔
برکینا فاسو میں بھی انقلابی عمل کو انہی یا اسی نوعیت کے داخلی اسباب کی بنا پر زوال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آگے بڑھنے کا انقلابی سوشلسٹ راستہ
مارکس وادی فوجی حکومتوں کی مخالفت صرف ان کی سیاسی شکل یا طریقہ کار کی وجہ سے نہیں کرتے۔ نہ ہی وہ صرف بظاہر ترقی پسند نظر آنے کی وجہ سے ان کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔ ہم عوام کے حاصل کردہ ثمرات کا دفاع کرتے ہیں، رجعتی عناصر کی مذمت کرتے ہیں اور انقلابی پارٹی کے ذریعے محنت کش طبقے کے اقتدار پر قبضے کی جدوجہد کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں ہم درج ذیل نعرے اور مطالبات پیش کرتے ہیں:
* سامراجیوں کو برکینا فاسو سے نکالو! مغربی سامراجی مداخلت، پابندیاں اور سازشیں نامنظور۔
* ایک انقلابی دستور ساز اسمبلی کا انعقاد کیا جائے جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہو اور برکینافاسو کے عوام کی انقلابی خواہشات پر مبنی نیا آئین مرتب کرے۔
* مزدوروں، کسانوں اور طلبہ کو مسلح کر کے ایک عوامی ملیشیا تشکیل دی جائے جو سامراجی حملوں کے خلاف انقلاب کا دفاع کرے۔
* انقلابی زرعی اصلاحات کے ذریعے مقامی جاگیرداروں اور سامراجی کمپنیوں کی زمینیں کسانوں میں تقسیم کی جائیں۔ اشتراکی زراعت اور سبز انقلاب کے لیے ریاستی منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے۔
* فوج میں طبقاتی مراعات اور کمیشن سسٹم کا خاتمہ کیا جائے۔ افسران اور سپاہیوں کو یکساں تنخواہیں دی جائیں۔ افسران کا انتخاب سپاہیوں کی کمیٹیوں کے ذریعے ہو۔
* فرانسیسی افواج کے اخراج جیسے سامراج دشمن اقدامات کی حمایت اور معاونت کی جائے۔ معدنیات کی کانوں کو سامراج سے بازیاب کروایا جائے اور معیشت کے کلیدی شعبوں کو (چاہے وہ سامراجی کمپنیوں کے قبضے میں ہوں یا مقامی سرمایہ دار طبقے کے) قومی تحویل میں لیا جائے۔ تمام سامراجی قرضے غیر مشروط طور پر منسوخ / ضبط کیے جائیں۔
* محنت کش طبقے کی آزاد تنظیم کاری کو فروغ دیا جائے۔ جس میں یونینیں، کسان تنظیمیں، طلبہ اور نوجوانوں کی تحریکیں شامل ہوں۔
* مزدوروں اور کسانوں کی کونسلیں (سوویتیں) تشکیل دی جائیں۔ جو نیچے سے اوپر تک جمہوری طریقے سے منتخب ہوں، معیشت کی منصوبہ بندی کریں اور ایک نئی انقلابی ریاست کی بنیاد رکھیں۔
* خواتین کے خلاف تمام رجعتی و جابرانہ قوانین کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ ہر قسم کے جنسی تعصب کو مٹایا جائے۔ محنت کش خواتین کو مساوی حقوق، تنخواہ اور نمائندگی دی جائے۔ چھ ماہ کی مکمل تنخواہ کے ساتھ زچگی کی چھٹیاں دی جائیں اور زچہ و بچہ کو ریاست کی جانب صحت کی مکمل سہولیات فراہم کی جائیں۔ گھریلو اور صنعتی مزدوری کی مصنوعی تقسیم کو ختم کیا جائے اور گھریلو کاموں کو اجتماعی بنایا جائے تاکہ تمام اصناف ہر شعبے میں مساوی شرکت کر سکیں۔
* تمام سامراجی بلاکوں، چاہے وہ مشرقی ہوں یا مغربی، سے تعلق توڑا جائے۔ نیٹو اور برکس (BRICS)دونوں کو رد کیا جائے۔ واگنر گروپ کو بھی نکالا جائے۔
* تمام بین الاقوامی معاہدوں کو شفاف بنایا جائے۔ تجارت، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کے معاہدوں کو عوامی جانچ پڑتال کے تابع کیا جائے۔ تمام خفیہ معاہدے منظر عام پر لائے جائیں اور اگر وہ محنت کش عوام کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہوں تو انہیں منسوخ کیا جائے۔ انفراسٹرکچر کی تعمیر، صنعت کاری یا ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق کسی بھی معاہدے یا انتظام کو مکمل طور پر شفاف ہونا چاہیے۔ جس میں تمام شقوں کو کھلی جانچ پڑتال، بحث اور جمہوری کنٹرول کے لیے شائع کیا جائے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری اور تجارت کو استحصالی کردار سے پاک کر کے عوامی بہبود کے ذرائع میں تبدیل کیا جائے اور وہ مزدوروں، کسانوں اور مقامی کمیونٹیوں کی جمہوری نگرانی اور منظوری کے تابع ہو۔
* ساحل کے علاقے اور پورے خطے میں ایک سوشلسٹ فیڈریشن قائم کی جائے جو سامراج، سرمایہ داری اور ماحولیاتی بحران کے خلاف یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد پر مبنی ہو۔
* بین الاقوامیت پر مبنی خارجہ پالیسی اپنائی جائے جس کی بنیاد قوم پرستی یا تعصب نہیں بلکہ طبقاتی یکجہتی ہو۔ برکینا فاسو کی جدوجہد کو عالمی سوشلسٹ تحریک سے جوڑا جائے۔
وردی کی نہیں‘ انقلابی عوام کی حمایت
تراورے کا ابھار بذات خود کوئی انقلاب نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک غیر معمولی تبدیلی ضرور ہے۔ یہ عوامی غصے اور انقلابی خواہشات کا اظہار ہے۔ نوآبادیاتی نظام گل سڑ چکا ہے اور بکھر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہو گا؟
ہم جانتے ہیں کہ عوام تراورے کے گرد کیوں جمع ہو رہے ہیں۔ ایک نیا، آزاد اور باوقار افریقہ ہمارا بھی خواب ہے۔ لیکن محنت کش طبقے کے اقتدار، جمہوری و آزادانہ تنظیم کاری اور انقلابی قیادت کے بغیر ریڈیکل ترین فوجی حکومتیں بھی آخر کار طوق بن جاتی ہیں۔
مسئلے کا حل اور نجات کی راہ فوجی حکومتوں یا بوناپارٹسٹ خوش فہمیوں میں نہیں بلکہ برکینا فاسو، افریقہ اور دنیا بھر کے سوشلسٹ انقلاب میں پنہاں ہے۔
13 جون 2025ء