روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

احمد الشرح: اسرائیل کے سامنے خرگوش، کردستان میں شیر

احمد الشرح: اسرائیل کے سامنے خرگوش، کردستان میں شیر

جلبیرالاشقر

گذشتہ ہفتوں کے دوران شمالی شام،بالخصوص فرات کے مشرق میں،جو صورت حال سامنے آئی ہے اس کے کردوں پر بھی شدید اثرات مرتب ہوں گے اور شام کی عمومی صور حال پر بھی۔ شمال مشرقی خطے میں قائم خودمختار انتظامیہ اس وقت سنگین صورت حال کا شکار ہے۔ اس کے زیر انتظام خطے کا ایک بڑا علاقہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ جو علاقے اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں ان میں حلب بھی شامل ہے۔ حلب عرب اکثریتی علاقے میں کرد اکثریت والا ایک قصبہ تھا۔اسی طرح، فرات کے مشرق میں عرب اکثریتی علاقے، الرقہ اور دیر الزور بھی ہاتھ سے نکل گئے۔

آزاد کرد انتظامیہ کے اس نقصان کی کلیدی وجہ تو یہ ہے کہ ٹرمپ نے کردوں کے ساتھ وہ اتحاد ختم کر دیا ہے جو واشنگٹن نے دس سال قبل، داعش کے خلاف،کردوں کے ساتھ بنایا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے مقامی نمائندے،ٹام براک نے بدگمان انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ امریکہ کرد اتحاد کی اب ”خاص ضرورت نہیں“ رہی۔ ایک مرتبہ پھر،کرد قومی تحریک نے ایک ایسے اتحادی کے ہاتھوں زخم کھایا ہے جو تاریخی طور پر نا قابل بھروسہ سمجھا جاتا ہے۔1970 کی دہائی کے شروع میں بھی، بارزانی خاندان کی قیادت میں،شمالی عراق کے اندر شاہ ایران پر بھروسہ کرتے ہوئے کردوں نے بعث وادی حکومت کے خلاف جدوجہد شروع کی تھی۔ شاہ نے بعد ازاں،اپنا مقصد حاصل ہونے پر عراق سے سودے بازی کر لی۔شاہ ایران نے کر دتحریک کی پینٹھ میں چھرا گھونپ دیا اور کرد تحریک کی شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ 1990 کی دہائی سے بارزانی خاندان نے کردوں کے ایک اور دشمن، ریاستِ ترکی،کے ساتھ اتحاد بنایا ہوا ہے۔بارزانی خاندان، جس طرح شمالی عراق میں ”پی کے کے“ [ورکرز پارٹی آف کردستان:مترجم] پر ترک حملوں کی صورت میں ”پی کے کے“ کا ساتھ نہیں دیتا،ویسے ہی، شام میں ترکی اور اس کے اتحادیوں کے خلاف،کردوں کی جماعت ڈیموکریٹک یونین پارٹی (پی وائی ڈی) کا ساتھ نہیں دے گا۔

اس کے برعکس بارزانی خاندان،ترکی کی مدد سے شمالی شام میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا نے کی کوشش میں ہے۔

کسی حد تک،موجودہ صورت حال کی ذمہ داری خود پی وائی ڈی پر بھی عائد ہوتی ہے جس نے وعدے تو کچھ کئے مگر عملی طور پر اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔پی وائی ڈی کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ کرداور”پی کے کے“رہنما، عبداللہ اوجلان جو ترک جیل میں قید ہیں، کے انارکسٹ نظریات پر عمل پیرا ہے۔ یہ نظریات اب پی کے کے نے بھی اپنا لئے ہیں۔۔۔البتہٰ عملی طور پر پی وائی ڈی نے،فرات کے مشرق میں واقع اُن عرب اکثریتی علاقوں میں اِن نظریات پر کوئی عمل نہیں کیا جو امریکی مدد سے اس کی عمل داری میں آئے تھے۔

مقامی آبادیوں کو اختیارات منتقل کرنے کی بجائے پی وائی ڈی نے اپنی اتھارٹی اس طرح سے قائم کی کہ عرب آبادی کو لگا ان پر کرد قومیت مسلط کی جا رہی ہے۔ عرب اکثریتی علاقوں میں کرد افواج کی پسپائی کی ایک بڑی وجہ یہ ہی تھی۔عرب قبائل نے مناسب سمجھا کہ وہ دمشق میں قائم ہونے والے نئے رژیم کے تحت متحدہ ریاست شام میں شمولیت اختیار کر لیں،بالخصوص جب واشگٹن بھی کردوں کی بجائے دمشق کے سر پر ہاتھ رکھ رہا ہے۔اگر تو کرد انتظامیہ کے تحت عرب اکثریتی علاقوں میں عربوں کو حقیقی معنوں میں جمہوری سیلف گورنمنٹ کا حق ملا ہوتا تو وہ دمشق کی جانب سے مرکز کا از سرِ نو کنٹرول قائم کرنے کی مزاحمت کرتے۔

اگر شام کی مجموعی صورت حال کر دیکھا جائے تو حالیہ واقعات کا جائزہ لینے والا کوئی بھی مبصر ایک فرق ضرور محسوس کرے گا۔ دمشق کا کرد علاقوں میں رویہ اور ہے جبکہ جولان کے پہاڑی علاقے جہاں اسرائیل کاقبضہ ہے، یا ان کے جنوب میں واقع درُوزآبادی والے علاقے میں اور ہے۔

اس فرق کو دیکھ کر 1976 کا وہ نعرہ یاد آ جاتا ہے جو فلسطین کی قومی تحریک اور لبنان کی قومی تحریک نے شام کے حافظ الاسد بارے لگانا شروع کیا تھا۔ 1976 ء میں امریکہ کی مرضی سے، فلسطین کی قومی تحریک کو کچلنے کے لئے شام نے لبنان پر دھاوا بول دیا تھا۔نعرہ تھا: لبنان میں اسد[عربی میں اسد کا مطلب ہے شیر]،جولان میں خرگوش۔

احمد الشرح کے رژیم کی بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ کردوں کے سامنے تو شیر بنے ہوئے ہیں مگر اسرائیل کی صیہونی ریاست کے ساتھ معاملات کئے جا رہے ہیں،حتیٰ کہ دفاعی معاملات طے پائے ہیں جبکہ پچاس سال سے اسرائیل نے شام کے ایک اہم سٹریٹیجک حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

حیاۃ التحریر الشام کی غیر جمہوری پالیسیوں بارے کچھ بھی کہئے (اس بابت دیکھئے میرا مضمون،بعنوان: سریا: فشنگ اِن ٹربلڈ واٹرز،6مئی 2025)،ایک بات طے ہے۔ بلاشبہ فرات کے مشرق میں جہاں آئل فیلڈ بھی موجود ہیں اور تیل ریاست کے لئے آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے،دمشق اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے مگر وہاں کردوں کے خلاف فوج کشی ایک مہنگا سودا ثابت ہو گی۔جان و مال کا زبردست نقصان ہو گا۔

شام میں حکومت کو زبردست معاشی و سیاسی بحرانوں کا سامنا ہے۔اس موقع پر حیاۃ التحریر الشام کو اس جنگ کی ضرورت نہیں۔ شام کیا خود حیاۃ التحریر الشام کے مفاد میں نہیں کہ وہ اس جنگ میں الجھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ فوج کشی کیوں؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ جنگ ترکی کے مفاد میں لڑی جا رہی ہے۔شمال مشرقی شام میں کردوں کی خود مختاری پر ترکی پشیمان ہے اور اس پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ خود ترکی کو اپنی ریاست میں کرد قوم پرستی کا سامنا ہے۔یہ سوال شام کی ریاست کے لئے اہم نہیں،نہ ہونا چاہئے۔کردوں کے خلاف اس تازہ مہم کا مطلب ہے کہ احمد الشرح کا رژیم امریکہ ترک اتحاد کا اُسی طرح غلام ہے جس طرح اسد رژیم ایران اور روس کا تھا۔اس ساری صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہو رہا ہے جس کی علاقائی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

(بشکریہ:gilbert-achcar.net۔ترجمہ: فاروق سلہریا)

Gilbert Achcar

جلبیر اشقر اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز لندن کے پروفیسر ہیں۔ وہ مذہب کے سیاسی کردار اور بنیاد پرستی پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں