روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

’اسرائیل کے حملے جاری ہیں مگر ایرانی رژیم چھپا رہا ہے تا کہ کمزور نظر نہ آئے‘

’اسرائیل کے حملے جاری ہیں مگر ایرانی رژیم چھپا رہا ہے تا کہ کمزور نظر نہ آئے‘

فاروق سلہریا

نسرین پرواز کے مطابق، ’’افغانوں کو ایران میں سب سے نچلا سماجی درجہ حاصل ہے۔ رژیم ان پر یہ الزام لگا رہی ہے کہ وہ ’موساد کے ساتھ مل کر ایران میں دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں‘۔تاہم جن اعلیٰ رژیم افسران کو اسرائیل نے قتل کیا، ان کے علاقے افغانوں کی دسترس سے باہر تھے۔افغان مزدوروں کو ایرانی مزدوروں سے کم اجرت دی جاتی ہے۔ ایران اور خاص طور پر تہران میں حالیہ برسوں میں جو نئی عمارتیں بنی ہیں، وہ زیادہ تر افغان مزدوروں کے ہاتھوں بنی ہیں۔ اس کے باوجود کچھ لوگ رژیم کے پروپیگنڈے کا شکار ہو کر افغانوں کو اپنی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور ان کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں‘‘۔

نسرین پروازایرانی نژاد برطانوی شہری ہیں۔ 1979 میں جب اسلامی رژیم نے اقتدار سنبھالا تو اس رژیم نے عورت دشمن قوانین نافذ کیے۔ اُس وقت کی نوجوان نسل کے بہت سے لوگوں کی طرح وہ بھی ایک شہری حقوق کے کارکن کے طور پر متحرک ہوئیں اور رژیم کے خلاف جدوجہد شروع کی۔ تین سال بعد 1982 میں انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا اور 8 سال تک قید کے دوران ان پر تشدد کیا گیا۔

رہائی کے بعد انہوں نے ایران میں دوبارہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ تین سال بعد انہیں ایران سے فرار ہونا پڑا اور وہ1993 میں ایک پناہ گزین کے طور پر برطانیہ آ گئیں۔ برطانیہ میں بھی انہوں نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور ایران سمیت برطانیہ جیسے دیگر ممالک میں جاری مظالم کے خلاف آواز بلند کرتی رہیں۔

ان کے بقول انہوں نے ’فریڈم فرام ٹارچر‘کی رائٹنگ ورکشاپ کے ذریعے اپنی زندگی کے تجربات کو تحریر کرنے اور افسانہ نگاری کا فن سیکھا۔ان کی تصنیف’One Woman’s Struggle in Iran, A Prison Memoir‘کو2019کے انٹرنیشنل بک ایوارڈز میں ’ویمنز ایشوز‘کی کیٹیگری میں ایوارڈ ملا۔ ’The Secret Letters from X to A‘ کے عنوان سے انکا ناول 2018میں وکٹرینا پریس سے شائع ہوا۔

ان کی جیل کی یادداشت کو ہسپانوی اور جرمن زبانوں میں ترجمہ کر کے شائع کیا جا چکا ہے،اور 2025 میں یہ کتاب ترکش اور کردش زبانوں میں شائع ہو رہی ہے۔ اس کاترکش ترجمہ محمود یاملک کر رہے ہیں جو خود گزشتہ 31 سال سے عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ نسرین پرواز کا ناول بھی رواں سال ترکش زبان میں شائع ہوگا۔ ان کے ناول ’Coffee‘ کو 2023میں دی باتھ ناول ایوارڈ کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا تھا۔ ان کی نظموں اور افسانوں کے مختلف مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی تحریریں گارڈین، مارننگ سٹار، ایل بی سی جیسے معروف جریدوں میں شائع ہوچکی ہیں۔

انہوں نے فارسی سے انگریزی میں کئی نظمیں ترجمہ کی ہیں، جو مختلف مجموعوں میں شائع ہوئی ہیں۔ فارسی میں 1988کے ایرانی قیدیوں کے قتل عام پر مبنی ایک ناول بھی لکھا ہے، جس کی وہ خود چشم دید گواہ ہیں۔ان کی پینٹنگز کو بھی کئی گیلریوں میں نمائش کے لیے منتخب کیا جا چکا ہے۔گزشتہ دنوں ’جدوجہد‘ نے ان کا ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

صدر ٹرمپ نے 23 جولائی کو کہا کہ امریکہ ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ واشنگٹن ایسا کرے گا؟

نسرین پرواز:یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ ایرانی رژیم سے کیا چاہتے ہیں اور کیا رژیم ان کی بات مانے گی یا نہیں۔ اگر رژیم قیادت سے دستبرداری یا اصلاحات لانے سے انکار کرتی ہے،تو امریکہ ایک بار پھر حملہ کر سکتا ہے۔ جنوری 1979 میں امریکہ نے شاہ کو ملک چھوڑنے کا کہا اور فروری میں خمینی کو ایران میں داخل کروایا۔ اس وقت بھی مغربی حکومتوں نے گواڈیلوپ میں ایک خفیہ اجلاس کیا جس میں کسی صحافی کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی، اور دنیا کو نہیں بتایا گیا کہ ایران کے بارے میں کیا فیصلے ہو چکے ہیں۔ آج بھی صورتحال وہی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ مغربی حکومتوں کے منصوبے کیا ہیں۔ 50سال بعد وہ اپنے خفیہ کاغذات جاری کریں گے اور تب ہمیں پتہ چلے گا کہ انہوں نے 2025 میں ایران کے لیے کیا طے کیا تھا اور غیر قانونی بمباری کیوں کی تھی۔

اسرائیل اور امریکہ پچھلے 46 سال سے ایرانی رژیم کے مرگ بر اسرائیل،مرگ بر امریکہ‘ کے نعروں سے ناواقف نہیں ہیں، اور یہ نعرے آج پہلی بار ان کے کانوں تک نہیں پہنچے۔ مغرب کو اس وقت ایرانی عوام کی ممکنہ بغاوت کا اتنا ہی ڈر ہے جتنا کہ خود ایرانی رژیم کوہے ۔ اگر ایران میں کوئی عوامی انقلابی تبدیلی آتی ہے تو اس سے پورے خطے میں عوام کو حوصلہ ملے گا کہ وہ مغربی حمایت یافتہ حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

اسرائیلی اورامریکی بمباری صرف رژیم کو کمزور کرنے کے لیے نہیں بلکہ عوام کے انقلابی جذبے کو کچلنے کے لیے بھی کی جاتی ہے۔ یہ عمل رژیم کے اہلکاروں کے قتل کے ذریعے کیا جاتا ہے تاکہ عوام کے پاس نئے نظام کے خلاف اٹھنے کی کوئی تحریک نہ بچے۔ یہی طریقہ انہوں نے شام میں بھی اختیار کیا۔ بشار الاسد کو ہٹانے کا کہا اور اس کی جگہ ایک ایسا شخص لایا گیا جو امریکہ کی ’موسٹ وانٹڈ‘ لسٹ میں شامل تھا۔

ایران کے اندر اور باہر اگرچہ سب نہیں لیکن بائیں بازو کے بہت سے لوگ حکومت کی مخالفت کے باوجود’رژیم چینج‘کے خلاف رہے۔ یہی بطور جدوجہد ہماری بھی پوزیشن تھی ۔اب جب کہ واشنگٹن اور تل ابیب تبدیلی لانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ آپ اس صورتحال کا کس طرح تجزیہ کرتی ہیں؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے منصوبے کی ناکامی اچھی بات ہے؟

نسرین پرواز: خوش قسمتی سے بہت سے ترقی پسندوں نے رژیم چینج کی مخالفت کی ،کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے۔ ایران دو بار ایسی تبدیلیوں سے گزر چکا ہے۔ پہلی بار 1953 میں، جب برطانیہ اور امریکہ نے مصدق کو ہٹا کر شاہ کو واپس لایا، اور دوسری بار 1979 میں۔ ایسے رژیم چینج ہمیشہ مغرب اور ان کی مقامی اشرافیہ کو فائدہ دیتے ہیں، عوام کے لیے صرف تباہی اور بدحالی لاتے ہیں۔

مغرب کی جانب سے بادشاہت کی واپسی کو ایک متبادل کے طور پر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے تاکہ اگر رژیم چینج کرنا ہو تو کوئی آپشن موجود ہو۔ شاہ کا بیٹا ان بموں کی تعریف کر رہا ہے جو ایران پر گر رہے ہیں اور بے گناہ شہری مارے جا رہے ہیں۔ وہ بھی ایرانی عوام کی بھلائی میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا، بالکل اسی طرح جیسے اسلامی رژیم، اسرائیلی حکومت اور ٹرمپ کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔

امریکہ اور اسرائیل کے منصوبے ابھی ختم نہیں ہوئے۔ اس وقت ایران میں ایک انتہائی سست رفتار مگر سفاک بغاوت جاری ہے۔ یہ درحقیقت رژیم ہے۔ اسرائیل نے اپنے حملے روکے نہیں ہیں، بلکہ وہ اب بھی ایرانی رژیم کے اہلکاروں کو قتل کر رہا ہے۔ وہ ڈرونز استعمال کر کے اُن فلیٹس، گھروں اور گاڑیوں کو دھماکے سے اُڑا دیتے ہیں جہاں رژیم کے افراد موجود ہوں۔ ان ’مجرموں‘کے ساتھ ساتھ ان کے اردگرد رہنے والے بے گناہ شہری بھی مارے جا رہے ہیں۔ ہر روز لوگ آگ اور تباہی دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ اسرائیل ہی ہے جو ان کے معاشرے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے۔

رژیم یہ سب کچھ ’گیس لیک‘یا دیگر خیالی کہانیوں کے ذریعے چھپانے کی کوشش کرتی ہے تاکہ کمزوری ظاہر نہ ہو۔ مغربی میڈیا بھی اس سب کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایران میں ہونے والی ہلاکتوں پر کوئی رپورٹنگ نہیں ہو رہی۔ جنگ بندی صرف اتنی ہوئی کہ ایران نے اسرائیل پر بمباری روک دی، لیکن ایران کے اندر تو کبھی جنگ بند ہی نہیں ہوئی۔

اگرچہ مرکزی میڈیا رپورٹ نہیں کر رہا، لیکن ایرانی ذرائع کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر تخریب کاری کی خبریں آ رہی ہیں۔ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ اسرائیل نے اپنا منصوبہ تبدیل کر لیا ہے اور جنگ اب بھی جاری ہے؟

نسرین پرواز:ایران اسرائیل تنازع نیا نہیں ہے۔ اسرائیل کئی سالوں سے ایران میں فوجی کارروائیاں اور حکومت کے خلاف تخریب کاری کر رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ ایرانی جوہری تنصیبات اور دیگر اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔

اسرائیلی تخریب کاری کے کچھ اہم واقعات درج ذیل ہیں:

اپریل 2024 میں اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے فضائی دفاعی نظام کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا، جو اصفہان کے قریب واقع تھا۔

14 فروری 2024 کو جوہری تنصیبات اور قدرتی گیس پائپ لائنوں میں تخریب کاری کی گئی اور جوہری سائنسدانوں کو قتل کیا گیا۔

اپریل 2024 میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی قونصل خانے کو تباہ کر دیا گیا، جس میں 16 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

31 جولائی 2024 کو حماس کے رہنما اسماعیل ہنیا کو تہران کے دورے کے دوران اسرائیلی فضائی حملے میں قتل کر دیا گیا۔

26 اکتوبر 2024 کو اسرائیل نے ایران کے فضائی دفاعی نظام اور میزائل پروگرام سے وابستہ مقامات پر حملے کیے،اور اب بھی روزانہ کی بنیاد پر اسرائیل ایران میں ڈرون بھیج رہا ہے۔

کیا آپ سمجھتی ہیں کہ اس جنگ کے بعد ایرانی رژیم کمزور ہو چکی ہے؟ یا اس نے امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کر کے کوئی عوامی حمایت حاصل کی ہے؟

نسرین پرواز: یہ رژیم بہت کمزور ہو چکی ہے، کیونکہ اس کے کئی اعلیٰ اہلکار مارے جا چکے ہیں۔تاہم رژیم کو امریکہ اوراسرائیل کے حملوں کی وجہ سے عوامی حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ یہ 1980 کی دہائی جیسی صورت حال نہیں ہے، جب لوگ ایران عراق جنگ کے دوران حکومت کا ساتھ دیتے تھے اور پھر کفن میں لپٹ کر میدان جنگ سے واپس آتے تھے۔

اس جنگ سے پہلے بھی ایرانی عوام رژیم کے خلاف تھے اور ملک میں کئی بغاوتیں ہو چکی تھیں۔ اس جنگ نے عوامی حمایت میں اضافہ نہیں کیا، بلکہ اسرائیلی بمباری سے قبل ایک نئی عوامی تحریک جنم لے رہی تھی۔ ایران کے 163 سے زائد شہروں میں ٹرک ڈرائیور تین ہفتے سے ہڑتال پر تھے، جن میں سے 40 سے زیادہ کو گرفتار کیا گیا۔ یہ اب تک کی سب سے بڑی مزدور ہڑتالوں میں سے ایک تھی۔ یہ ہڑتال پورے ملک میں خوراک کی فراہمی کے نظام کو متاثر کر کے ایک قومی بغاوت میں بدل سکتی تھی۔

اب جب کہ اسرائیلی کارروائیوں کے باوجود لوگ بمباری کے صدمے سے باہر آ رہے ہیں، تو وہ ایک بار پھر رژیم کے خلاف مظاہرے اور احتجاج شروع کر چکے ہیں۔

ایران میں جبر میں اضافے کی خبریں ہیں۔ اختلاف رائے رکھنے والوں کو قید کیا جا رہا ہے اور انہیں سخت سزائیں دی جا رہی ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ رژیم کو جنگ کے بعد کوئی نئی عوامی قبولیت حاصل ہوئی ہے جس کا فائدہ اُٹھا کر وہ مخالفین کی آواز دبانے میں مصروف ہے؟ آپ اس پر کیا کہیں گی؟

نسرین پرواز:بمباری کے دوران ان قیدیوں کو پھانسی دی گئی جو کئی برسوں سے جیلوں میں تھے۔ رژیم نے انہیں اسرائیلی جاسوس قرار دے کر قتل کیا۔ ایران میں گرفتاریاں اور سزائیں زندگی کا معمول بن چکی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ جدوجہد اب بھی جاری ہے۔ کچھ قیدی ایسے بھی ہیں جو پچھلے 25 سال سے جیل میں ہیں۔ تاہم بمباری کے دوران گرفتار ہونے والوں کی تعداد معمول سے کہیں زیادہ تھی۔ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا۔

جنگ ہمیشہ عوام کو دبانے کا بہانہ بنی ہے۔ ایران عراق جنگ کے دوران 1988 میں 5ہزار سے زائد قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ میں جس جیل کے بلاک میں تھی، وہاں سے 50قیدیوں کو لے جایا گیا جو کبھی واپس نہ آئے۔

لاکھوں افغانوں کو ایران سے بے دخل کر دیا گیا ہے، حالانکہ ایران ہمیشہ امت مسلمہ کے حق کی بات کرتا ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ ایرانی رژیم اسلام کے نام پر فلسطینی بھائیوں کے لیے فکر مند ہے لیکن افغانوں کے لیے نہیں؟ایرانی عوام اس دوہرے معیار پر کیا کہتے ہیں اور مجموعی طو رپر ایرانی عوام اس جبری بے دخلی پر کیا رد عمل دے رہے ہیں؟

نسرین پرواز:صرف برطانیہ جیسی مغربی حکومتیں ہی نہیں، بلکہ اسلامی رژیم بھی پناہ گزینوں کو اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ ایران میں غربت، بے روزگاری، پانی اور بجلی کی قلت جیسے مسائل کا الزام افغان مہاجرین پر لگایا جاتا ہے۔ بالکل برطانیہ کی طرح ایران میں بھی کچھ لوگ حکومتی جھوٹ پر یقین کر کے نسل پرست ہو گئے ہیں اور معصوم افغانوں کے خلاف ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی حملوں سے پہلے ہی رژیم نے ایران میں ایک سخت گیر اور مہاجرین مخالف ماحول پیدا کر دیا تھا، جس کے بعد افغانوں کو پولیس تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا تھا۔

2024 میں رژیم نے تمام دستاویزات کے بغیر افغانوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا، اور مئی 2025 میں 40لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کی جبری واپسی کا حکم دے دیا۔ انہیں غلاموں کی طرح جمع کر کے ملک بدر کیا گیا۔ ایسے افغان بھی نکالے گئے جو ایران میں پیدا ہوئے اور وہ بھی جن کے پاس درست ویزے تھے۔ صرف 2025 میں 10لاکھ سے زائد افغانوں کو ملک بدر کر دیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو پچھلی 4 دہائیوں میں ایران میں پیدا ہوئے، پروان چڑھے، اورایرانی معاشرے میں گھل مل چکے تھے۔ انہیں ان کے گھروں، کمیونٹیز اور دوستوں سے زبردستی جدا کیا گیا۔

وہ بچے جو ایران میں پیدا ہوئے اور وہیں اسکول جا رہے تھے، انہیں ان کے اسکولوں سے نکال کر ایک ایسے افغانستان واپس بھیجا جا رہا ہے جہاں وہ کبھی گئے ہی نہیں تھے۔ صرف افغان ہونے کی بنیاد پر لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، انہیں گرفتار کر کے زبردستی افغانستان بھیجا گیا۔ کچھ افغانوں کو سڑکوں پر روک کر گرفتار کیا گیا، انہیں گھر جا کر سامان لینے کی اجازت بھی نہ دی گئی۔ بہت سے لوگ اپنی رہائشگاہوں کے رینٹ کی رقوم بھی واپس نہیں لے سکے۔ انہیں بس میں بٹھا کر سرحد پر چھوڑ دیا گیا۔ وہ افغانستان پہنچے تو ان کے پاس نہ پیسے تھے، نہ خوراک اور نہ پناہ کا کوئی انتظام تھا۔

جو خواتین، لڑکیاں، کارکن اور صحافی افغانستان بھیجے گئے، انہیں طالبان کے ہاتھوں شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔ ان پر سخت پابندیاں لاگو ہیں۔ لڑکیاں تعلیم کے حق سے محروم ہو گئی ہیں، اور سخت ذہنی دباؤ میں ہیں۔

افغانوں کو ایران میں سب سے نچلا سماجی درجہ حاصل ہے۔ رژیم ان پر یہ الزام لگا رہی ہے کہ وہ ’موساد کے ساتھ مل کر ایران میں دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں‘۔تاہم جن اعلیٰ رژیم افسران کو اسرائیل نے قتل کیا، ان کے علاقے افغانوں کی دسترس سے باہر تھے۔

افغان مزدوروں کو ایرانی مزدوروں سے کم اجرت دی جاتی ہے۔ ایران اور خاص طور پر تہران میں حالیہ برسوں میں جو نئی عمارتیں بنی ہیں، وہ زیادہ تر افغان مزدوروں کے ہاتھوں بنی ہیں۔ اس کے باوجود کچھ لوگ رژیم کے پروپیگنڈے کا شکار ہو کر افغانوں کو اپنی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور ان کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں۔ افغانوں کو کئی برسوں سے ایران کے مخصوص شہروں یا علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہیں خوفناک امتیاز، ذلت، زیادتی اور ناانصافی کا سامنا ہے۔ انہیں اکثر جسمانی تشدد، قید اور استحصال کا سامنا رہتا ہے۔

فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے والا صرف اسرائیل ہی نہیں، ایرانی رژیم بھی افغانوں کے ساتھ یہی سلوک کر رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایران ان پر بم نہیں برساتا۔ اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی رژیم جیسے کوئی زخمی جانور بن گئی ہو، اور غصے میں آ کر صرف چند ہفتوں میں 5 لاکھ سے زائد افغانوں کو ملک بدر کر دیا۔

یہ حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی جبری بے دخلی ہے۔ اسرائیلی بمباری نے ایران میں افغانوں کے خلاف نفرت اور نسل پرستی کو بڑھاوا دیا ہے۔ غربت اور رژیم کی مہاجر دشمن پالیسیوں نے لوگوں کے دل سے ہمدردی چھین لی ہے۔ بدقسمتی سے بہت کم لوگ افغانوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ وہ رژیم کے اس جھوٹ کو سچ مان بیٹھے ہیں کہ افغان ’اسرائیلی جاسوس‘ہیں۔

میں نے سوشل میڈیا پر کلپس دیکھے ہیں جن میں افغان مہاجرین کو بغیر پانی اور خوراک کے قید میں دکھایا گیا ہے، اور وہ ملک بدری کے منتظر ہیں۔ ان کے ساتھ بچے بھی ہیں، جن کے لیے دودھ، خوراک یا بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ کچھ مقامی لوگوں نے بچوں کے لیے دودھ، ڈائپر، روٹی اور پانی لا کر قیدیوں کو ان کے پنجروں کے نیچے سے دینے کی کوشش بھی کی۔

ریاستی نسل پرستی کے تکلیف دہ تجربات اور غیر یقینی مستقبل کے ساتھ یہ سب لوگ افغانستان واپس جا رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی، رشتے اور معاشرہ پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اب انہیں سب کچھ صرف حوصلے اور امید کے ساتھ نئے سرے سے شروع کرنا ہوگا۔افغان خواتین کو ایک ایسے نظام کے حوالے کیا جا رہا ہے جو عورتوں سے محض عورت ہونے کی وجہ سے نفرت کرتا ہے۔ تنہا عورتوں کو صرف اس لیے پناہ گاہ نہیں دی جاتی کیونکہ ان کے ساتھ کوئی مرد سرپرست نہیں ہوتا۔ انہیں جہنم کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

ہر انسان کو ،چاہے وہ کہیں سے بھی ہو، تحفظ اور وقار کا حق حاصل ہے۔ اجتماعی جبری بے دخلی بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔ ایران اس قانون کا دستخط کنندہ ہے، لیکن یہ سب کچھ رژیم کے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔ نہ پناہ کی سہولت دی گئی، نہ کوئی قانونی طریقہ کاراپنایا گیا۔

اگر یورپی حکومتوں کی حمایت سے اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ ایسا سلوک کر سکتا ہے، تو اسلامی رژیم کو یہ دہشت پھیلانے سے کون روکے گا، جب کسی طرف سے مذمت بھی نہیں ہوتی؟

جب 2021 میں مغربی حکومتوں نے طالبان کو اقتدار سونپا تو ہزاروں افغان، خاص طور پر خواتین اور بچے، طالبان کے ظلم سے بچنے کے لیے ایران کی طرف بھاگے۔ یورپ نے بارہا کہا کہ افغان ایران میں محفوظ رہیں گے اور علاقائی سطح پر ہی تحفظ حاصل کریں۔ اب سب کو نظر آ رہا ہے کہ وہ اسلامی رژیم اور طالبان کے ہاتھوں کتنے’محفوظ‘ہیں ۔

ان مغربی حکومتوں کا شکریہ،جنہوں نے افغانستان میں طالبان کو دوبارہ اقتدار دلایا اور ملک کی نصف آبادی ،یعنی خواتین کو جیل میں ڈال دیا۔ افغان خواتین کو ان کے صنفی امتیاز کی بنیاد پر پناہ کا حق ملنا چاہیے، مگر صنفی امتیاز کو کہیں تسلیم نہیں کیا جاتا، خاص طور پر ایران جیسے ملک میں بھی ، جو خود صنفی امتیاز کا شکار ہے۔

افغانستان میں عورتیں خطرے میں ہیں اور انہیں وہاں واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے، لیکن اس بات کی کسی کو پرواہ نہیں ہے۔ مغربی ممالک کی خواتین کو اپنی آنکھیں کھولنی ہوں گی کہ ان کی حکومتوں نے افغانستان کی خواتین کے ساتھ کیا کیا۔ انہیں چاہیے کہ وہ افغان خواتین کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھائیں اور ان کے لیے پناہ کے حقوق کی ضمانت حاصل کریں، جو صنفی امتیاز والے ملکوں میں رہ رہی ہیں۔

وہ مغربی حکومتیں ،جنہوں نے طالبان کو اقتدار میں لایا، اب افغان عوام کی مقروض ہیں۔ انہیں چاہیے کہ افغان خواتین اور ان کے خاندانوں کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے اور محفوظ راستے فراہم کریں تاکہ انہیں ایران سے نکال کر طالبان کے ظلم سے بچایا جا سکے۔

میں نہیں سمجھتی کہ اسلامی حکومت واقعی فلسطینیوں کی فکر کرتی ہے۔ جب وہ’فلسطین‘کا نام لیتے ہیں تو ان کی مراد دراصل صرف ’حماس‘ہوتی ہے۔ وہ صرف حماس کی حمایت کرتے ہیں، لیکن دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ تمام فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ ایران میں کچھ لوگ حقیقت سے لاعلم ہیں اور حکومت کے بیانات پر یقین کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت واقعی فلسطینیوں کی مدد کر رہی ہے۔ایران میں چونکہ لوگوں کو غریب رکھا گیا ہے، اس لیے کچھ افراد حکومت پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ ان کا پیسہ فلسطینیوں کو دے دیتی ہے، اور یوں فلسطینیوں کے خلاف ایک نفرت بھی جنم لیتی ہے۔کچھ لوگ حکومت کی جانب سے اپنی ہی عوام پر کیے جانے والے مظالم کو نہیں دیکھتے، اور بجائے اس کے کہ حکومت کو قصوروار ٹھہرائیں، وہ ان اقوام کو الزام دیتے ہیں جنہیں حکومت نشانہ بناتی ہے۔

اسد رژیم ختم ہو چکی ہے، حزب اللہ کمزور ہو چکی ہے، اور کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق عراق میں تہران کا اثر و رسوخ گھٹ رہا ہے۔ خطے میں بدلے ہوئے حالات ایرانی رژیم کے مستقبل کو کس طرح متاثر کریں گے؟

نسرین پرواز: مغربی طاقتیں طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مغربی حکومتیں کئی برسوں سے ایران پر حملے کی تیاری کر رہی تھیں۔ جیسے عراق پر حملے کے لیے جھوٹے جواز دیے گئے تھے، ویسے ہی ایران پر اس غیر قانونی حملے کے جھوٹ بھی بے نقاب ہوں گے۔

اسرائیل 2012 سے یہ کہتا آ رہا ہے کہ ایران چند مہینوں میں ایٹمی بم بنا لے گا، لیکن معلوم نہیں کیوں اب کی بار ایران پر حملے کا وقت ’صحیح‘سمجھا گیا۔

ہم 2025 میں رہ رہے ہیں، نہ کہ 1953 میں، جب مغرب نے ایک بغاوت کے ذریعے ایران کی تاریخ کو موڑ دیا تھا۔ آج ایران کے عوام، خاص طور پر خواتین، تعلیم یافتہ ہیں اور وہ مغرب کی مرضی کی بجائے ملک کو اس نہج پر بدلنا چاہتے ہیں جو ان کے لیے بہتر ہو۔

لوگ چاہتے ہیں کہ وہ ایک بہتر زندگی گزار سکیں، بجائے اس کے کہ جب بھی وہ گھر سے باہر نکلیں تو انہیں بچوں کی مشقت یا بے گھر بچے نظر آئیں۔لوگ بیروزگاری کا خاتمہ چاہتے ہیں، بیروزگاری الاؤنس چاہتے ہیں، اور ایسی بنیادی حقوق چاہتے ہیں جو ان کی زندگیوں کو بہتر بنائیں۔میں امید کرتی ہوں کہ مغرب رژیم کو ہٹا کر وہاں کوئی کٹھ پتلی نہ بٹھا سکے، بلکہ خود عوام اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔

چین اور روس نے ایران ،اسرائیل ،امریکہ جنگ کے دوران تہران کی کوئی موثر یا بامعنی سفارتی مدد نہیں کی۔ایسا کیوں ہے؟

نسرین پرواز: یہ حکومتیں دوسروں کا استحصال اتنا ہی کرتی ہیں جتنا وہ اپنی عوام کا کرتی ہیں۔ روس اور چین دونوں نے ایران میں وسائل کو لوٹا ہے۔ انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ وہاں کے عوام پر کیا گزر رہی ہے۔ انہیں اس سے بھی کوئی سروکار نہیں کہ رژیم کا کیا بنے گا، جب تک کہ ان کے مفادات محفوظ رہیں۔

واحد مدد جو وہ رژیم کو دیں گے ،وہ یہ ہے کہ جب رژیم کے ارکان ایرانی عوام کے غصے سے بھاگ کر کہیں پناہ لینا چاہیں تو ان کے لیے اپنے دروازے کھول دیں گے۔وہاں وہ اسد کے ساتھ بیٹھ کر چائے اور شراب پی سکتے ہیں، جو ایک وقت میں شام کا حکمران تھا۔

بائیں بازو کے ایک طبقے نے امریکہ اوراسرائیل کی ایران پر جارحیت کے دوران ایرانی ملا رژیم کو سامراج مخالف مزاحمت کی آخری علامت قرار دیا۔ آپ اس موقف پر کیا جواب دیں گی کہ ایرانی تھیوکریٹک رژیم کو اینٹی امپیریلسٹ قرار دینا درست ہے؟

نسرین پرواز: اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ کوئی خود کو کیا سمجھتا ہے، اصل بات یہ ہے کہ وہ کرتا کیا ہے۔یہ وہی لوگ ہیں جو رژیم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، جیسے’تودہ پارٹی‘نے کیا تھا، جو محض اس کے نعرے ’مرگ بر امریکہ،مرگ بر اسرائیل‘ کی وجہ سے عوام کے خلاف حکومت کے ساتھ جا ملی ۔حکومت کا ایک نعرہ روس کے خلاف بھی تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انہیں اندازہ ہوا کہ روس کے ساتھ کھڑے ہو کر نفع حاصل کیا جا سکتا ہے۔یہ پارٹیاں بھی خود کو بائیں بازو کی سمجھتی ہیں، لیکن عملی طور پر وہ دائیں بازو کی تنظیموں جیسا رویہ اپناتی ہیں۔میرے نزدیک ایک بائیں بازو کی جماعت وہ ہوتی ہے جو طاقت کی بجائے عوام کے ساتھ کھڑی ہو۔بدقسمتی سے کچھ یورپی پارٹیاں جو خود کو بائیں بازو کہتی ہیں، صرف اس لیے اسلامی رژیم کا ساتھ دیتی ہیں کیونکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگاتی ہے۔یہ جماعتیں ان ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے سے قاصر ہیں، جن پر یہ رژیم پچھلے 46 سال سے ظلم کر رہی ہے۔

یہ جماعتیں صرف ادارہ جاتی طاقتوں کا ساتھ دینا جانتی ہیں۔

2022 کی ’زن، زندگی، آزادی‘تحریک کے دوران بھی ان بائیں بازو کی جماعتوں نے عوام کی جدوجہد کا ساتھ نہیں دیا۔ان میں سے کچھ جماعتیں اتنی اندھی ہو چکی تھیں کہ انہوں نے کہا یہ تحریک امریکہ کی جانب سے منظم کی گئی ہے۔وہ اس رژیم کے ساتھ کھڑی ہو گئیں، جب اسکول کی لڑکیوں کو گرفتار کیا گیا، ان کا جنسی استحصال ہوا، اور ان کی لاشیں سڑکوں پر پھینکی گئیں۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں