روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

اسرائیلی اور یورپی خفیہ اتحاد: عشروں پر محیط ٹارگٹ کلنگ منصوبوں کے انکشافات

اسرائیلی اور یورپی خفیہ اتحاد: عشروں پر محیط ٹارگٹ کلنگ منصوبوں کے انکشافات

لاہور(جدوجہد رپورٹ)اسرائیل کی ٹارگٹ کلنگ پالیسی پر نئی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ نصف صدی میں خفیہ اسرائیلی کارروائیوں کو نہ صرف یورپ میں وسیع گنجائش ملی بلکہ یورپی انٹیلی جنس اداروں نے خود بھی ان کارروائیوں میں فعال معاونت فراہم کی۔ معروف صحافی اینڈریو کوکبرن (Andrew Cockburn)نے اپنے تازہ ترین مضمون میں اویوا گٹمن(Aviva Guttmann) کی تحقیقاتی تصنیف کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل کی ٹارگٹ کلنگ مہموں کو اکثر یورپی سکیورٹی نیٹ ورکس اور خفیہ اداروں سے خاموش حمایت ملتی رہی ہے۔ ان مہموں میں فلسطینی رہنماؤں سے لے کر حزب اللہ، حماس اور حوثیوں کے کارکنوں تک سیکڑوں افراد کو قتل کیا گیا۔

مضمون اور کتاب میں یہ بات نمایاں ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سیاسی یا عسکری مخالفین کے قتل کا سلسلہ کوئی نیا نہیں۔ تاہم حالیہ واقعات، خصوصاً ایران جنگ کے ابتدائی مرحلے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت، اس طویل تاریخ کے تسلسل اور اس کے عالمی اثرات کو نئی توجہ کا مرکز بنا رہے ہیں۔

اسرائیل کی حکمت عملی اس بنیادی اصول پر کھڑی ہے کہ کوئی ایسا سیاسی مسئلہ نہیں جو کسی فرد کی ہلاکت سے کم نہ ہو سکے۔ ان کے بقول گزشتہ دو برسوں میں اسرائیل نے نہ صرف حزب اللہ، حماس اور یمن کے حوثیوں کے مرکزی رہنماؤں کو باقاعدگی سے نشانہ بنایا بلکہ پہلے سے مارے جانے والوں کی جگہ لینے والے نئے افراد کو بھی تقریباً فوری طور پر ختم کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ افراد بھی نشانہ بنتے رہے جو عسکری سطح پر سرگرم نہیں تھے بلکہ شہری یا ترقیاتی شعبے میں کام کررہے تھے۔

یہ تحقیق یورپی انٹیلی جنس اتحاد ”کلب ڈی برن“ اور اس کے ”کلو واٹ“ نامی پروگرام پر مبنی ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ 1970 کی دہائی سے موسادکو یورپی ملکوں سے مسلسل ایسی معلومات ملتی رہیں جو نہ صرف فلسطینی کارکنوں کی نقل و حرکت، ملاقاتوں اور سرگرمیوں پر مشتمل تھیں بلکہ اسرائیلی قاتل ٹیموں کو یہ جاننے میں بھی مدد دیتی تھیں کہ کون سا ٹارگٹ کس وقت کس مقام پر موجود ہو گا۔ اس تعاون کی حیران کن بات یہ ہے کہ اس وقت یورپی ریاستیں اسرائیل کی پالیسیوں، خاص طور پر فلسطین پر قبضے اور بستیوں کے قیام کی کھل کر مخالفت بھی کرتی رہی تھیں، لیکن خفیہ سطح پر معاملہ بالکل مختلف تھا۔

ہزاروں خفیہ پیغامات پر مشتمل کلب ڈی برن کے ریکارڈیہ ثابت کرتے ہیں کہ جرمنی سے لے کر اٹلی اور سوئٹزرلینڈ تک کئی یورپی ریاستیں عملی طور پر موسادکے ساتھ ٹارگٹڈ کلنگ مہموں میں شریک تھیں۔ مثال کے طور پر 1972 کے میونخ اولمپکس حملے کے بعدموسادنے ’آپریشن ورتھ آف گاڈ‘ کے نام سے ایک قاتلانہ مہم شروع کی۔ اس مہم کو عالمی سطح پر اخلاقی جواز تب ملا جب اسے ”انتقامی کارروائی“ قرار دیا گیا، لیکن دوسری ہی ہلاکت کے بعد یہ مہم ”انتقام“ سے آگے بڑھ کر ”سیاسی دشمنوں کی مکمل صفائی“ کی طرف منتقل ہو چکی تھی۔

تحقیق کے مطابق فلسطینی نمائندے حسین ابو خیار کو قبرص میں صرف اس بنیاد پر ختم کیا گیا کہ وہ سوویت یونین سے رابطے میں تھے، جبکہ ان کے خلاف میونخ حملے سے جڑے ثبوت انتہائی کمزور تھے۔ اسی طرح پیرس میں محمود حامشری کو قتل کرنے کا الزام اگرچہ ایک سوئس ایئر لائن کی تباہی سے متعلق تھا، مگر اس کے ساتھ ساتھ موساد ان کے فرانسیسی حکومت سے ممکنہ امن مذاکرات سے بھی خوفزدہ تھا۔

1973 میں ناروے کے شہر لیلی ہمر میں ہونے والی قتل کی مشہور ناکام کارروائی میں موسادنے غلطی سے ایک بے گناہ مراکشی ویٹر احمد بوچیکی کو قتل کر دیا۔ اس کارروائی نے اگرچہ پہلی بار اسرائیلی نیٹ ورک کو بے نقاب کیا، لیکن اس کے باوجود یورپی ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعاون میں کمی نہیں کی۔ ناروے نے 6 موساداہلکاروں کو گرفتار تو کیا، مگر چند ہی برس بعد سب کو رہا کر دیا گیا۔

تحقیق یہ بھی دکھاتی ہے کہ موساد کی ناکامیوں سے سیکھنے میں بھی یورپی ادارے خاموش مددگار تھے۔ مثال کے طور پر بوچیکی کے قتل کی تفتیش میں کلب ڈی برن کی خفیہ رپورٹس اسرائیل کو یہ بتاتی رہیں کہ مقامی پولیس کیا سوچ رہی ہے اور کن غلطیوں کی وجہ سے قاتل ٹیم نشاندہی کا شکار ہوئی۔ یوں یہ نیٹ ورک قاتل اور تفتیش کار دونوں کو ایک ہی وقت میں معلومات فراہم کر رہا تھا۔

تحقیق کے مطابق موساد کی ٹارگٹڈ کلنگ مہموں کو امریکہ نے بعد ازاں ماڈل کے طور پر اپنا لیا۔نائن الیون کے بعد امریکہ نے ڈرون حملوں، سیل ٹیم سکس اور اسپیشل فورسز کے ذریعے ”ہائی ویلیو ٹارگٹس“ کے قتل کو مرکزی حکمت عملی بنا دیا۔ امریکی صدر براک اوباما خود بھی ”میں لوگوں کو مارنے میں ماہر ہوں“ جیسے جملے اپنے ساتھیوں سے کہہ چکے تھے۔

تاہم اسرائیل اس کھیل میں اب بھی سب سے آگے ہے۔ غزہ میں گزشتہ ڈھائی برس میں ہونے والے ہزاروں فضائی حملوں میں اے آئی پر مبنی نظام براہ راست ٹارگٹس کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ تک اندازہ لگاتا ہے کہ ایک حملے میں کتنے عام شہری مارے جائیں گے۔ آج ٹارگٹڈ کلنگ کے لیے وہ احتیاط، چھان بین اور انتخابی عمل نہیں رہا جو 1970 کی دہائی میں موساد کے پاس موجود تھا۔ اب فیصلے تیز تر، حملے زیادہ وسیع اور متاثرین کی تعداد کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔

تحقیق کے مطابق اسرائیل کے پرانے خفیہ یورپی اتحادی اب بھی اس پالیسی پر خاموش ہیں، جو اب ہالینڈ کے شہر ہیگ میں ایک مستقل آپریشنل ہیڈکوارٹر رکھتے ہیں۔ کسی سطح پر اعتراض سامنے نہیں آتا۔ ایک سابق اسرائیلی فوجی وکیل کے الفاظ اس طویل تاریخ کا خلاصہ کرتے ہیں کہ ”اگر آپ کوئی کام کافی عرصے تک کرتے رہیں تو دنیا اسے قبول کر لیتی ہے۔“

تحقیق اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ دنیا نے نہ صرف قبول کیا بلکہ کئی ملکوں نے اسے اپنی ریاستی پالیسی میں تبدیل بھی کر لیا ہے۔ موسادکی ”ٹارگٹڈ پریونشن“ اب عالمی طاقتوں کی مشترکہ زبان بن چکی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ خفیہ قتل اور ڈرون حملے بین الاقوامی سیاست کا معمول بن گئے ہیں، چاہے ان کے نتیجے میں شہری آبادی کس قدر تباہ کیوں نہ ہو۔

اسرائیل کا قاتلانہ ماڈل اب صرف ایک ملک کی حکمت عملی نہیں رہا بلکہ کئی ریاستوں کی سوچ اور طاقت کے استعمال کا مرکزی ستون بن چکا ہے۔ اس تحقیق نے یہ بھی ظاہر کیا کہ یورپی خفیہ ادارے، جنہیں عام طور پر انسانی حقوق کے چمپئن سمجھا جاتا ہے، طویل عرصے تک ان آپریشنز میں شریک رہے اور ان کی خاموش رضامندی نے ریاستی قتل و غارت کے لیے عالمی سطح پر راستے کھولے۔ اس پس منظر میں آج کے حملے، چاہے وہ ایران میں ہوں یا غزہ میں، ایک طویل تاریخی اور ادارہ جاتی تسلسل کا حصہ ہیں جس کا آغاز کئی دہائیاں پہلے ہو چکا تھا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں