جدوجہد رپورٹ
کولکتہ (بھارت) سے شائع ہونے والے آن لائن سوشلسٹ جریدے’آلٹرنیٹو وئیو پوائنٹ‘ نے مدیر جدوجہد فاروق سلہریا سے حالیہ پاک افغان کشیدگی پر ایک تفصیلی انٹرویو کیا۔ اس انٹرویو کو فورتھ انٹرنیشنل کے جریدے’ انٹرنیشنل وئیو پوائنٹ‘، آسٹریلوی سوشلسٹ جریدے’لنکس‘، معروف امریکی لیفٹ جریدے ’نیو پالیٹیکس‘ پر بھی شائع کیا جا رہا ہے۔ اس انٹرویو کو فرانسیسی، پرتگیزی اور بعض دیگر عالمی زبانوں میں شائع کیا جا رہا ہے۔ قارئین جدوجہد کے لئے اس کا اردو ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ترجمہ: حارث قدیر)
جوں جوں سرحد پار حملے تیز ہو رہے ہیں اور پاکستان کے وزیر دفاع’’کھلی جنگ‘‘کا اعلان کر رہے ہیں، اسلام آباد کی افغانستان پالیسی شدید دباؤ میں نظر آتی ہے۔ کیا یہ صرف سرحدی کشیدگی کا ایک اور باب ہے ، یا پھر دہائیوں پر محیط عسکری حکمت عملی اور پراکسی سیاست کے رد عمل کا نتیجہ؟
’آلٹرنیٹو ویو پوائنٹ‘ کے ساتھ اس مکالمے میں پاکستانی بائیں بازو کے کارکن، اکیڈیمک اور صحافی فارو ق سلہریا اس بحران کا تجزیہ ایک ساختی نقطہ نظر سے کرتے ہیں: ’’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘‘ کی وراثت، جہادی سرپرستی کی فرینکینسٹائن منطق، طالبان حکمرانی کا نظریاتی کردار، اور بائیں بازو کے کچھ حلقوں میں پایا جانے والا کیمپ ازم۔ ریاستی عسکریت اور مذہبی آمریت ، دونوں کو رد کرتے ہوئے فاروق سلہریا کے مطابق موجودہ تصادم دراصل خطے کے بگڑتے ہوئے نظم کا اظہار ہے، جس کی قیمت ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب محنت کش عوام کو چکانی پڑے گی۔‘‘
پاکستان کے وزیر دفاع نے افغان طالبان حکومت کے خلاف’’کھلی جنگ‘‘کا اعلان کیا ہے۔ کیا یہ کشیدگی محض ایک عارضی حکمت عملی ہے، یا پاکستان کے طویل المدتی افغانستان ڈاکٹرائن کی ناکامی؟
فارو ق سلہریا:یہ نہ تو کوئی عارضی حکمت عملی ہے اور نہ ہی اسٹریٹجک ڈیپتھ ڈاکٹرائن کے مکمل خاتمے کا اعلان۔ یہ اعلان دراصل ایک جاری کشمکش پر اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی جھنجھلاہٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔ جنگ کا اعلان کبھی ہلکے میں نہیں کیا جاتا، اس سے پہلے یقینا تیاری ہوئی ہوگی۔ دوسرے تمام راستے آزمانے کے بعد ہی پاکستان نے اس طالبان رژیم کو حریف قرار دیا ہے جسے کبھی وہ خود اقتدار تک لانے میں سرگرم تھا۔مضحکہ خیز حقیقت یہ ہے کہ خود وزیردفاع خواجہ آصف نے طالبان کی امریکی شکست اور کابل پر دوبارہ قبضے پرشکرگزاری کا اظہار کیا تھا۔
گزشتہ اکتوبر سے سرحدی جھڑپیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ پاکستان کابل اور دیگر افغان شہروں پر حملے کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قطر، ترکی اور چین نے کابل اوراسلام آباد کے درمیان مذاکرات کے65 دور کرائے، لیکن ٹی ٹی پی کے مسئلے کا حل نہ نکل سکا۔ اسی دوران تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے پاکستان کے اندر حملوں میں شدت پیدا کر دی، اور وہ افغانستان میں قائم محفوظ پناہ گاہوں سے کام کر رہی ہے۔ صرف گزشتہ سال پاکستان میں تقریباً 1ہزار دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے جن میں سے زیادہ تر کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی۔
اکتوبر سے پاکستان نے سرحد بند کر رکھی ہے اور افغانستان کے ساتھ تجارت روک دی ہے۔ چونکہ افغانستان لینڈ لاکڈملک ہے، وہ تجارت کے لیے ، اور خصوصاً بھارت سے تجارت کے لیے پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔وہ گندم، سبزیاں اور ادویات جیسے بنیادی سامان کی درآمد کیلئے بھی پاکستان کا راستہ استعمال کرتا ہے۔
اسی وقت پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں قوم پرستانہ مسلح تحریک بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ اسلام آباد الزام لگاتا ہے کہ بھارت بلوچ علیحدگی پسندوں کی مدد کر رہا ہے۔ طالبان حکومت نے بھی دباؤ کا توڑ کرنے کیلئے نئی دہلی سے روابط بڑھا لیے ہیں ، جو پاکستان کیلئے سخت پریشانی کا باعث ہے۔
دہائیوں تک پاکستان نے افغان طالبان کو پناہ گاہیں دینے کو ’’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘‘ کے نظریے کے تحت جائز قرار دیا، یعنی یہ کہ افغانستان بھارت کے خلاف کسی ممکنہ جنگ میں ایک ’’فرینڈلی بیک یارڈ‘ ثابت ہوگا۔ یہی منطق آج بھی اسلام آباد کی سوچ پر اثرانداز ہے۔
’’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘‘ کا نظریہ دہائیوں سے اسلام آباد کی پالیسی پر اثرانداز رہا ہے۔ کیا یہ ڈاکٹرائن اب ختم ہو چکی ہے؟ اگر ہاں، تو اس کی جگہ کیا لے سکتا ہے؟
فاروق سلہریا: اس کے برعکس، یہ نظریہ ہرگز ختم ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ اسٹیبلشمنٹ کے قریبی مبصرین نے کابل میں رژیم چینج کے خیال کو ہوا دی ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا اسلام آباد واقعی ایسی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے، لیکن اس قسم کی سوچ کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان تاریخی طور پر افغانستان میں بغاوتیں کرانے اور سیاسی انجینئرنگ کی کوششیں کرتا رہا ہے۔
یہ خیالات چاہے غیر حقیقی ہوں یا اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف، لیکن یہ اس بات کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں کہ اسٹریٹجک ڈیپتھ کا جنون اب بھی موجود ہے۔ موجودہ بڑھتی ہوئی کشیدگی دراصل اسلام آباد کی اس بے چینی کی علامت ہے کہ وہ ایک ایسے طالبان نظام حکومت کو لگام دینا چاہتا ہے جو اب سابقہ فرماں بردار پراکسی کے طور پر کام کرنے پر آمادہ نہیں۔
اسلام آباد موجودہ بحران کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں سے جوڑتا ہے۔ یہ تنازع کس حد تک پاکستان کی پراکسی جنگوں اور عسکریت پسند گروہوں کی سرپرستی کی طویل تاریخ کا نتیجہ ہے؟
فاروق سلہریا:یہ فرینکنسٹائن مونسٹریا جادوگر کے شاگرد(Sorcerer’s Apprentice) جیسا کلاسیکی معاملہ ہے۔ پاکستان طویل عرصے تک اسلامی بنیاد پرستی کو پیدا بھی کرتا رہا اور اس کی پرورش بھی۔ نام نہاد ’’افغان جہاد‘‘، جسے ناقدین طنزیہ طور پر ’’ڈالر جہاد‘‘ کہتے ہیں ، کے بعد سے ریاست نے جہاد انڈسٹری کو فروغ دیا۔
ابتدائی طور پر یہ ڈھانچہ سوویت قبضے کے خلاف استعمال ہوا، بعد ازاں اسے بھارت کی طرف موڑ دیا گیا۔ ’’گڈ طالبان‘‘ اور ’’بیڈ طالبان‘‘ میں تقسیم اس بات کا ثبوت ہے کہ بنیادی پالیسی منطق آج بھی ویسی ہی ہے۔
اسی اثناء میں طالبان حکومت کی اپنی ذمہ داری کو کیسے دیکھا جائے؟ کیا کابل نظریاتی یا تذویراتی وجوہات کی بنا پر سرحد پار عسکریت پسندی کو روکنے میں ناکام ہوا ، یا روکنے سے انکار کیا ہے؟
فاروق سلہریا: افغان حکومت نے ٹی ٹی پی کو قابو کرنے کے لیے بہت کم عملی اقدامات کیے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت کے پاس ٹی ٹی پی پر مکمل کنٹرول کی صلاحیت ہی نہیں۔ اس میں نظریاتی ہم آہنگی، عملی مشکلات اور جیو پولیٹیکل حساب کتاب سب شامل ہیں۔ پاکستان پر دباؤ بڑھانے اور بھارت سمیت خطے کے دیگر ممالک سے تعلقات بنانے کے لیے طالبان نے ٹی ٹی پی کو تذویراتی طور پر بھی استعمال کیا۔
کیا موجودہ تصادم کو بنیادی طور پر دو رژیمزکے درمیان ایک ایسے ٹکراؤ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو دہائیوں کے تنازعات اور سکیورٹی سوچ سے متاثر ہیں، بجائے اس کے کہ اسے سیدھا سادہ حملہ اور جوابی کارروائی تصور کیا جائے؟
فاروق سلہریا: یہ دراصل بربریتوں کا ٹکراؤ ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی اخلاقی برتری کا دعویدار نہیں ہو سکتا۔ طالبان حکومت نے جس طرزحکمرانی کو ادارہ جاتی شکل دی ہے، اسے بجا طور پرجینڈر اپارتھائیڈکہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو خوف اور جبر کے ذریعے حکومت کرتا ہے۔ اس کی سماجی بنیاد بھی محدود ہے، جو سخت گیر مذہبی حلقوں پر منحصر ہے۔
دوسری طرف پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ ایک ایسی سکیورٹی سوچ کے تحت حکومت کرتی ہے جو ہر مسئلے کو قومی سلامتی کے فریم میں قید کر دیتی ہے۔ جب دونوں نظام سیاسی عمل پر جبراور عسکریت کو فوقیت دیتے ہیں تو سفارتی گنجائش سکڑ جاتی ہے۔
اس المناک صورتحال میں قیمت عام شہری ادا کرتے ہیں۔ افغان عوام 1979 سے جہنم جیسی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان کے لوگ ، خصوصاً خیبر پختونخوا میں نائن الیون کے بعد سے شدید تکالیف کا شکار ہیں ۔ وہ طالبان تشدد، ریاستی فوجی آپریشنوں اور پھیلتی ہوئی فرقہ وارانہ دہشت گردی کے درمیان پس رہے ہیں۔ سرد جنگ سے لے کردہشت گردی کے خلاف جنگ تک مغربی سامراجی مداخلتوں نے اس تباہی کی بنیادرکھی، لیکن اس کے بعد سے خطے کی طاقتوں نے اسے مزید گہرا کر دیا ہے۔
2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد طالبان کو معاشی تباہی، سفارتی تنہائی اور اندرونی گروہی کشیدگی کا سامنا ہے۔ یہ دباؤ پاکستان کے بارے میں ان کے رویے کو کس طرح تشکیل دیتے ہیں؟
فاروق سلہریا: اقتدار مستحکم ہوتے ہی طالبان نے پاکستان سے فاصلہ اختیار کرنے کا اشارہ دیا۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ اسلام آباد کے پاس اتنی معاشی یا سفارتی صلاحیت نہیں کہ وہ طالبان کی حکومت کو عالمی سطح پرتسلیم کروا سکے۔ اسی لیے طالبان نے چین، روس، ترکی اور خلیجی ریاستوں سے روابط بڑھانے کی کوشش کی ، اور یہاں تک کہ بھارت سے بھی روابط بڑھائے، جو پاکستان کی جھنجھلاہٹ کا باعث بنے۔
طالبان حکام کی پاکستان مخالف بیان بازی افغانستان کے اندر بھی مقبول ہے، جہاں پاکستان کی ساکھ بہت خراب ہے۔ اس طرح کی پوزیشن انہیں اپنی داخلی جوازیت مضبوط کرنے میں مدد دیتی ہے۔
بائیں بازو کے نقطہ نظر سے آج طالبان رژیم کی نوعیت کو کیسے بیان کیا جائے؟
فاروق سلہریا: کچھ حلقوں میں طالبان کو ’’اسلامی قوم پرست‘‘ دکھانے کا رجحان رہا ہے۔ طارق علی کی کتاب ’The Forty-Year War in Afghanistan‘اسی تعبیر ہی پیش کرتی ہے۔ میں اس سے اختلاف کرتا ہوں۔ طالبان اسلامی بنیاد پرستی کی سب سے انتہاپسند شکلوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتے ہیں۔
قوم پرستی زبان، ثقافت اور مشترکہ تاریخی شناخت پر زور دیتی ہے۔ اس کے برعکس اسلامی بنیاد پرستی ان تمام زمروں کو ایک ماورائے قوم مذہبی نظم ، یعنی شریعت کے تابع کر دیتی ہے۔ ثقافت کو اکثراخلاق باختگی کہا جاتا ہے، موسیقی اور رقص گناہ بن جاتے ہیں۔
کچھ لوگوں نے تو طالبان کو طبقاتی جدوجہدکا اظہار بھی قرار دیا۔ نائن الیون کے بعدیہی غلط تعبیرات کیمپ ازم کے ابتدائی آثار تھیں ، جہاں مغربی سامراج کی مخالفت نے بعض لوگوں کو رجعت پسند قوتوں کی رومانوی تصویر کشی پر مجبور کر دیا۔
طالبان دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ افغان خودمختاری کا دفاع کر رہے ہیں۔ اس دعوے کا تنقیدی جائزہ کیسے لیاجائے؟
فاروق سلہریا: پاکستان افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کوخودمختاری کی خلاف ورزی کہتا ہے۔ طالبان پاکستانی فضائی حملوں کوخودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔ یعنی دونوں فریق سہولت کے وقت قانونیت کی دہائی دیتے ہیں۔ یہ دراصل دو بربریتوں کا ٹکراؤ ہے۔
آپ چاہیں تو فرینکنسٹائن سے ہمدردی رکھیں یا اس کے مونسٹرسے، انجام تباہی ہی ہے۔ اصل متاثرین دراصل وہ عام شہری ہیں جوڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف رہتے ہیں۔
خطے کی طاقتوں، یعنی چین، ایران، روس اور خلیجی ریاستوں نے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس واقعے سے وسیع تر علاقائی نظام کی کمزوری کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
فاروق سلہریا: پاکستان کے اعلان جنگ کے چند ہی دن بعد امریکہ اسرائیل کے ایران پر حملے اور اس کے بعد کی صورتحال نے پاک افغان تنازعے کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ یہ تنازعہ صرف علاقائی نہیں ہے بلکہ مجموعی طور پر ریاستی جنگوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ اقوامِ متحدہ تیزی سے بے اثر ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی لبرل آرڈر چاہے جتنا بھی منافقانہ اور مسائل زدہ تھا، لیکن ٹرمپ اسٹ متبادل اس سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے پاکستان کے افغانستان پر حملے کی کھلے عام تعریف کی ہے۔
دونوں ممالک شدید معاشی بحران سے گزر رہے ہیں۔ عسکری کشیدگی طبقاتی حقیقتوں سے کس طرح جڑتی ہے؟
فاروق سلہریا: ہمیشہ کی طرح اس کا بوجھ محنت کش طبقات ہی بے دخلی، بے روزگاری، عسکریت اور بڑھتی ہوئی کفایت شعاری (کٹوتیوں) کی شکل میں اٹھائیں گے ۔ مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا میں جاری تنازعات ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کریں گے۔
ایک عسکریت زدہ پوسٹ کلونیل ریاست اور ایک تھیوکریٹک رژیم کے درمیان جنگ کی صورت میں بائیں بازو کا اصولی موقف کیا ہونا چاہیے؟ وہ کس طرح جیوپولیٹیکل کیمپ ازم کا شکار ہوئے بغیر عسکریت اور مذہبی آمریت ، دونوں کی مخالفت کرے؟
فاروق سلہریا: پاکستان طالبان کو اس وقت تک شکست نہیں دے سکتا جب تک کہ وہ حقیقی معنوں میں سیکولر سمت اختیار نہ کرے ، یہ بنیادی شرط ہے۔ طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے، اور افغان عوام ، خصوصاً ان خواتین کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا جانا چاہیے، جو ادارہ جاتی صنفی آپارتھائیڈ کا شکار ہیں۔
بائیں بازو کو نہ اسلام آباد کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور نہ کابل کے ساتھ۔ ہم جنگ کی مخالفت کرتے ہیں اور انصاف، جمہوریت اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمیں طالبان اور ان کے علاقائی یا سامراجی سرپرستوں ، دونوں کو جنگی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانا ہوگا۔
یہ انتہائی پریشان کن بات ہے کہ بعض خود ساختہ بائیں بازووالے لوگ بنیاد پرستی کی مخالفت کے نام پر فوجی کشیدگی کی حمایت کرنے لگے ہیں۔ یہ دراصل وہ کیفیت ہے ،جسے میں ’’انٹرنل اورینٹلزم‘‘ کہتا ہوں ، یعنی ایک ایسا متعصبانہ زاویہ جس میں تنازعے کوتہذیبوں کی جنگ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
کیا یہ بحران خطے میں سکیورٹی اسٹیٹ سیاست پر نظر ثانی کا موقع فراہم کرتا ہے؟ اور کیا پاکستانی اور افغان سول سوسائٹی کے درمیان کسی حقیقی سرحد پار ترقی پسند یکجہتی کی گنجائش موجود ہے؟
فاروق سلہریا:ہمیں خود کو صرف پاک افغان یکجہتی تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں پورے جنوبی ایشیا کی سطح پر ایک وسیع ترقی پسند منصوبے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے اندر سول سوسائٹی شدید جبر کا شکار ہے، اس لیے ڈائسپورا نیٹ ورکس انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ترقی پسند آوازیں حاشیے پر ہیں۔
اس کے باوجود ایسا منصوبہ نہایت ضروری ہے۔ ہمارا اخبار روزنامہ جدوجہد اس سمت میں ابتدائی اور محدود مگر عملی قدم اٹھائے گا۔ صرف علاقائی یکجہتی کے ذریعے ہی ہم عسکریت اور بنیاد پرستی دونوں کو چیلنج کر سکتے ہیں۔