روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

افغانستان: خواتین سمیت 20 افراد کو سرعام کوڑے مارنے کی سزا

افغانستان: خواتین سمیت 20 افراد کو سرعام کوڑے مارنے کی سزا

لاہور(جدوجہد رپورٹ) افغانستان میں طالبان حکومت نے مختلف جرائم میں صوبہ خوست اور صوبہ پروان میں خواتین سمیت20افراد کو کوڑے مارنے کی سزا دی ہے۔

’وی او اے‘ کے مطابق صوبہ خوست میں مختلف جرائم میں ملوث 18افرادکو کوڑے مارے گئے اور ان کو قید کی سزائیں بھی سنائی گئیں، جبکہ صوبہ پروان میں 2افراد کو کوڑے مارے گئے ہیں۔

خوست میں کوڑنے مارنے کی سزا پر سرکاری عمارت کے احاطے میں عملدرآمد کیا گیا اور وہاں مقامی آبادی کو یہ منظر دیکھنے اور فلمانے کی اجازت نہیں دی گئی، تاہم پروان صوبہ میں سزا کا منظر دیکھنے کے لیے مقامی آبادی، عدلیہ اور طالبان حکومت کے عہدیداران موجود تھے۔

خوست کی صوبائی فوجداری عدالت کے فیصلے کے مطابق 4افراد کو ہم جنس پرستی، جبکہ14افراد کو ناجائز تعلقات کے الزام میں سزا دی گئی، جن میں 4خواتین بھی شامل ہیں۔

مقامی صحافی یوسف منگل کے مطابق خوست میں سزائیں سرکاری عمارت کے احاطے میں دی گئیں، جہاں عام شہریوں کا داخلہ منع تھا۔ وہاں جانے والے کسی بھی فرد کو کیمرا یا موبائل لانے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کے واقعات کی کوئی ویڈیو یا تصویر منظر عام پر نہیں آتی۔

انکا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی خوست میں اس نوعیت کی سزائیں دی جا چکی ہیں۔ سزاؤں پر عملدرآمد کے وقت عوامی رسائی محدود ہونے کے باوجود ان واقعات سے متعلق مقامی سطح پر بات چیت ہوتی ہے، جس سے خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی سزاؤں کے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، کیونکہ طالبان خود ان معاملات کو زیادہ نمایاں نہیں کرتے۔

صوبہ پروان میں جن افراد کو سزائیں دی گئیں، ان پر زنا اور ناجائز یا غیر فطری تعلقات قائم کرنے کے الزامات تھے۔ سپریم کورٹ کے مطابق تمام مجرموں کو 39، 39کوڑوں کی سزا دی گئی، جبکہ ان افراد کو ایک سے 7برس کے درمیان قید کی سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ اگست 2021 میں افغانستان سے غیر ملکی افراد کے انخلا کے ساتھ ہی طالبان کابل سمیت ملک بھر پر قابض ہو گئے تھے اور اس کے بعد انہوں نے وہاں عبوری حکومت قائم کی تھی۔

طالبان کی عبوری حکومت کو تاحال کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

طالبان نے خواتین کی تعلیم اور روزگار تک رسائی پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس سے وہ عوامی زندگی سے مکمل طور پر دور ہو گئی ہیں۔

افغانستان میں لڑکیوں کی چھٹی جماعت سے آگے تعلیم کے حصول پر پابندی عائد ہے جب کہ خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بھی محدود کر دیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ خواتین کے تنہا پبلک پارکوں جانے پر بھی پابندی ہے جب کہ انہیں 70 کلومیٹر سے زائد سفر کے لیے محرم مرد کے ساتھ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں طالبان کی ان پالیسیوں کو خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ تاہم طالبان اسے اسلامی قوانین کے مطابق قرار دیتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے طالبان کے خواتین کے حوالے اسے اقدامات کو ’جنسی امتیاز‘قرار دیا ہے۔ طالبان کی خواتین پر عائد ان پابندیوں کو ختم کرنے کے مسلسل مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں