روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

’الشرع اسد رژیم کی طرح فرقہ واریت کے ذریعے شام کو کنٹرول اور تقسیم کر رہا ہے‘

’الشرع اسد رژیم کی طرح فرقہ واریت کے ذریعے شام کو کنٹرول اور تقسیم کر رہا ہے‘

ژاں باتو

جوزف داہر اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ محنت کشوں اور سماجی تحریکوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں، بشرطیکہ وہ فرقہ واریت اور نسلی امتیاز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور ملک میں ایک دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ ایک طرف نئی حکمران پرتیں ہیں جو اپنے لیے دولت اور طاقت سمیٹنے اور ایک آمرانہ نظام کو مضبوط کرنے کی خواہش مند ہیں۔انہیں خطے کی رجعتی قوتوں (خلیجی پیٹرڈالربادشاہتیں، ترکی، اسرائیل) اور عالمی طاقتوں (خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر قیادت امریکہ) کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ دوسری طرف شام کے عوام کی جمہوری اور سماجی امنگیں ہیں۔

احمد الشرع (جو پہلے اپنے جنگی نام ابو محمد الجولانی کے نام سے جانے جاتے تھے) حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کے سربراہ ہیں۔وہ دسمبر 2024 میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام کے عبوری صدر بنے۔ وہ ایک سابق جہادی ہیں جنہوں نے عراق میں القاعدہ کے ہمراہ لڑائی میں حصہ لیا اور پھر 2011 میں شام میں اس کی شاخ جبہۃ النصرہ قائم کی۔ اب وہ خود کو ایک عملی سیاست دان کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ان کی حکومت کی آمرانہ روش ، نیولبرل معاشی پالیسیاں، اور فرقہ واریت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے جیسے اقدامات کے خلاف شام کے اندر موجود جمہوری اور ترقی پسند قوتیں شدید تنقید کر رہی ہیں۔

یکم فروری کو ژاں باتو نے جوزف داہر سے طویل گفتگو کی۔وہ دسمبر 2024 میں بشارالاسد کی سفاک حکومت کے خاتمے کے بعد اپنے تیسرے دورہ شام سے واپس آئے تھے۔ جوزف داہر نے احمد الشرع کی نئی حکومت کے تحت پیدا ہونے والی تشویشناک پیش رفتوں کے بارے میں تازہ معلومات فراہم کیں۔ ان کا تفصیلی انٹرویو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

آپ ابھی شام کے ایک طویل سفر سے واپس آئے ہیں۔ اس مرتبہ ملک کی اندرونی صورت حال میں آپ نے کون سی نمایاں تبدیلیاں دیکھیں؟ آپ کون سے اہم مشاہدات اور شہادتیں جمع کرنے میں کامیاب رہے؟

جوزف داہر:یہ دسمبر 2024 میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد میرا شام کا تیسرا دورہ ہے۔ ہر بار میں کوشش کرتا ہوں کہ ملک کے مختلف خطوں کا دورہ کروں اور صرف دارالحکومت دمشق تک محدود نہ رہوں۔

شام اس وقت ایک متضاد کیفیت سے گزر رہا ہے۔ اسے سیاسی، معاشی اور سماجی سطحوں پر بے شمار چیلنجوں کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر، ملک کی تعمیر نو انفرادی کوششوں یا مقامی کمیونٹیز کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہے، اس کے لیے ابھی تک مرکزی حکومت نے کوئی جامع منصوبہ نہیں دیا ۔ پورے ملک میں تباہی بہت بڑے پیمانے پر ہوئی ہے، رہائشی عمارتوں سے لے کر بنیادی ڈھانچے تک سب کچھ منہدم پڑا ہے۔

مزید یہ کہ زیادہ تر [عالمی]پابندیوں کے خاتمے کے باوجود، سماجی و معاشی حالات تباہ کن ہیں، جنہیں نئی حکمران پرتوں کی سخت کفایت شعاری (کٹوتیوں)کی پالیسیوں نے مزید بدتر بنا دیا ہے۔ آدھے سے زیادہ شامی باشندے ابھی تک ملک کے اندر یا بیرون ملک بے گھر ہیں۔ 90 فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ 1 کروڑ 70 لاکھ افراد ، یعنی تین چوتھائی آبادی انسانی امداد کی محتاج ہے۔ شامی عوام کی ایک بڑی اکثریت اپنے اہل خانہ اور بیرون ملک مقیم رشتہ داروں کی جانب سے بھیجے گئے ترسیلات زر پر گزارہ کرتی ہے، جن کا تخمینہ سالانہ 4 ارب امریکی ڈالر سے زائد لگایا جاتا ہے۔

فرقہ وارانہ اور نسلی تقسیم کئی حوالوں سے مزید گہری ہو گئی ہے، خصوصاً اس نئی حکومت کی آمرانہ، خارج کرنے والی اور پرتشدد پالیسیوں کے باعث جو اسد حکومت کے خاتمے کے بعد وجود میں آئی۔ اسی کے ساتھ ساتھ متعدد سول سوسائٹی تنظیمیں اور مقامی انیشی ایٹوزاس تقسیم کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور نفرت انگیز گفتگو، امتیازی رویوں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے مقابلے میں سماجی یکجہتی کو فروغ دینے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

آپ نے ملک کی حالت کی ایک مشکل، بلکہ یوں کہیے کہ نہایت تاریک تصویر پیش کی ہے، لیکن کیا بشار الاسد کی ہولناک آمریت کے خاتمے کے بعد سماجی اور سیاسی امکانات کے ابھرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی؟

جوزف داہر:ہاں، صورت حال ہرگز مثالی نہیں ہے، لیکن اسی کے ساتھ ایک نئی سیاسی زندگی بھی جنم لے رہی ہے۔ اب سیاست پر گفتگو ممکن ہو گئی ہے، یہاں تک کہ اہل اقتدار پر تنقید بھی ممکن ہے۔ کانفرنسیں منعقد کی جا سکتی ہیں، دھرنے اور مظاہرے کیے جا سکتے ہیں، اور نئی سیاسی تنظیمیں بھی قائم ہو رہی ہیں (اگرچہ سیاسی جماعتوں کے قیام کا قانون ابھی تک منظور نہیں ہوا ہے)۔ اسی طرح آزاد صحافت موجود ہے اور مقامی عوامی انیشی ایٹوزمختلف موضوعات پر سرگرم ہیں، جو معاشرے کے مختلف گروہوں کو قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کوششوں کے راستے میں رکاوٹیں نہیں ہیں، یا یہ کہ کہیں کھلا جبر و سرکوبی نہیں ہوتی۔

اس کے باوجود ایک ایسا سیاسی دائرہ موجود ہے جس میں اگرچہ رکاوٹیں ہیں، لیکن اظہار رائے اور سیاسی سرگرمی کی گنجائش پہلے سے زیادہ ہے۔ تاہم یہ وہ جگہ ہے جسے استعمال بھی کیا جا سکتا ہے اور کرنا چاہیے، جہاں تک ممکن ہو۔یوں تصویر پوری طرح تاریک بھی نہیں، اس میں کئی پہلو ہیں۔

آپ موجودہ حکومت کی نوعیت کو کیسے دیکھتے ہیں، جس کی قیادت احمد الشرع کر رہے ہیں، جو پہلے حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کے سربراہ تھے ، ایک ایسی تنظیم جو شام میں القاعدہ سے وابستہ رہی ہے؟ گزشتہ ایک سال میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کے عملی رویے نے کس حد تک شامی عوام کی ان امنگوں کا ساتھ دیا ہے جو وہ بشار الاسد کی سفاک آمریت سے نجات کے بعد ایک نئے راستے کے طور پر دیکھ رہے تھے؟

جوزف داہر:اگرچہ ان کی تنظیم نے سیاسی اور نظریاتی سطح پر تبدیلیاں دکھائی ہیں ، خاص طور پر اپنی بین الاقوامی جہادی حکمت عملی ترک کرکے قومی شامی سیاسی فریم ورک میں کام کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ احمد الشرع یاایچ ٹی ایس ایک جمہوری معاشرے کے حامی ہیں یا برابری اور سماجی انصاف کو فروغ دیتے ہیں۔

عوامی امنگوں کے جواب میں کچھ کرنے کی بجائے، سابقہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری سیاسی عبوری مرحلہ دراصل موجودہ اقتدار کی حامل قوتوں کے لیے ایک موقع بن گیا ہے کہ وہ سیاسی اور معاشی اداروں پر اپنی گرفت کو مستحکم کریں ، اور ان قوتوں پر احمد الشرع اور ایچ ٹی ایس کا غلبہ ہے۔ انہوں نے اس موقع کو ایک جامع، سماجی انصاف پر مبنی، شمولیتی جمہوری عمل کی تعمیر کے لیے استعمال نہیں کیا۔

اس مقصد کے لیے ایچ ٹی ایس کی قیادت میں قائم حکام نے اپنی حکمت عملی تین بنیادی ستونوں پر استوار کی ہے:نیولبرل پالیسیوں کے فریم ورک میں نئی علاقائی اور بین الاقوامی اتحاد سازی،ریاستی، سکیورٹی اور معاشی اداروں پر کنٹرول،اور فرقہ واریت کا سیاسی استعمال (instrumentalisation)۔

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ احمد الشرع کا شام بین الاقوامی حالات سے کس طرح فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے، اور علاقائی و عالمی طاقتوں نے ان کوششوں پر کیا ردعمل دکھایا ہے؟

جوزف داہر:8 دسمبر 2024 کو اقتدار میں آنے کے بعد سے نئی شامی حکومت مسلسل اس کوشش میں ہے کہ وہ شام کو ایک ایسے جیو پولیٹیکل اتحاد کا حصہ بنائے جس کی قیادت امریکہ کر رہا ہے، اور جس میں ترکی اور قطر جیسے علاقائی ممالک ، جو ماضی میں ایچ ٹی ایس کے قریب سمجھے جاتے تھے ، اور سعودی عرب شامل ہیں۔

یہ کوئی اتفاق نہیں کہ احمد الشرع نے عبوری صدر کی حیثیت سے اپنا پہلا غیر ملکی دورہ فروری 2025 میں سعودی عرب کا کیا، جہاں ان کی ملاقات ولی عہد محمد بن سلمان سے ہوئی۔ ریاض نئی شامی حکومت کو علاقائی اور بین الاقوامی قبولیت دلانے اور اس عمل کو تیز کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

بین الاقوامی و علاقائی طاقتوں کی جانب سے نئی شامی حکومت کو تسلیم کیے جانے کے بعد بہت سے علامتی اقدامات کیے گئے، تاکہ اس کی سیاسی ساکھ کو مضبوط کیا جا سکے۔ ان میں سب سے نمایاں واقعہ ستمبر 2025 میں نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے احمد الشرع کا خطاب تھا ، یہ تقریباً 60 برس بعد کسی شامی صدر کی پہلی شرکت تھی۔ آخری بار کوئی شامی صدر 1967 میں شریک ہوا تھا، اسد خاندان کی 50 سالہ حکمرانی شروع ہونے سے پہلے۔

مزید برآں نومبر 2025 کے وسط میں عبوری صدر الشرع کا وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے استقبال کیا ۔ یہ بھی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ کسی شامی سربراہ ریاست کا وائٹ ہاؤس میں استقبال ہوا ہو۔ ٹرمپ نے الشرع کو’’طاقتور لیڈر‘‘قرار دیا، ان پر اپنا اعتماد ظاہر کیا، اور شام کی کامیابی کے لیے ہر ممکن مدد کا وعدہ کیا۔دسمبر 2025 کے آخر میں امریکہ نے سیزر ایکٹ بھی مستقل طور پر منسوخ کر کے شام پر عائد پابندیوں کو مکمل طور پر اٹھا لیا۔

اسی طرح امریکہ کی جانب سے شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف)، جو بنیادی طور پر کرد پی وائی ڈی ( PYD ) کے زیر اثر ہیں، کے زیر کنٹرول علاقوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے گرین سگنل دینا بھی نئی شامی حکومت کی حمایت کا ایک اور نمایاں اظہار ہے (اس کی تفصیل آگے آئے گی)۔

شام کی جیو پولیٹیکل سمت (realignment) اور عالمی سطح پر جائز حیثیت (legitimacy) حاصل کرنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نارملائزیشن کی کوششیں بھی جاری ہیں۔اقتدار سنبھالنے کے بعد سے عبوری صدر الشرع کئی بارا علانیہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے حتیٰ کہ یہ بھی کہا کہ ( ایران اور حزب اللہ)شام اور اسرائیل کے’’مشترکہ دشمن‘‘ہیں ۔دمشق نے جون 2025 میں ایران پر ہونے والے اسرائیلی بڑے حملوں کی مذمت بھی نہیں کی، بلکہ ایران (اور لبنان میں حزب اللہ) کی کمزوری کو اپنے حق میں مثبت قرار دیا۔

جنوری 2026 میں امریکی سرپرستی میں پیرس میں دو روزہ مذاکرات بھی ہوئے۔ ان مذاکرات کے آخر میں امریکہ، اسرائیل اور شام نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں دمشق اور تل ابیب کے اس عزم کی تصدیق کی گئی کہ مستقل سکیورٹی انتظامات قائم کیے جائیں گے اور ایک مشترکہ میکانزم ، ایک’’خصوصی رابطہ سیل‘‘تشکیل دیا جائے گا،جو خفیہ معلومات کے تبادلے، فوجی تناؤ میں کمی، سفارتی مکالمے اور تجارتی مواقع جیسے امور میں فوری اور مستقل تعاون کو ممکن تنائے گا۔ اس سب کی نگرانی امریکہ کرے گا۔

اس جیوپولیٹکل سمت کے تعین کا مقصد صرف نئی حکومت کی بین الاقوامی حیثیت مضبوط کرنا نہیں بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی ) کو بھی اپنی طرف لانا ہے۔نئی حکومت کی سیاسی و معاشی سمت ایک نیولبرل اقتصادی ماڈل کی طرف ہے، جو منڈی کے رجحانات، تیز منافع، اور غیر پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتا ہے ، جبکہ معیشت کے پیداوار ی شعبے (جیسے صنعت اور زراعت) نظر انداز ہوتے ہیں۔

یہ رجحان شام کے لیے کیے گئے سرمایہ کاری کے وعدوں میں صاف جھلکتا ہے۔ دمشق کی حکومت ان سرمایہ کاروں کو زیادہ ترجیح دیتی ہے جوسیاحت، رئیل اسٹیٹ (جائیداد)،اور مالیاتی خدمات جیسے شعبوں میں سرمایہ لگانا چاہتے ہیں، کیونکہ ان سے فوری منافع ملتا ہے۔ اس کے برعکس پیداواری شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بہت کم ہے۔یوں پوری معاشی حکمت عملی کا بنیادی مقصد حکومت کی سیاسی گرفت مضبوط کرنا ہے ، جبکہ ملک کی حقیقی تعمیر نو اور دیرپا معاشی بحالی ثانوی ترجیحات بن کر رہ گئی ہیں۔

کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں کہ نیا شامی نظام کس طرح ریاستی ڈھانچے خصوصاً سکیورٹی اداروں کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کے مختلف حصوں پر اپنے حکمرانی طبقے کے خصوصی فائدے کے لیے کنٹرول قائم کر رہا ہے؟

جوزف داہر:علاقائی اور عالمی طاقتوں کی جانب سے اپنی حکومت کی بیرونی توثیق حاصل کرنے کے بعد، نئے شامی حکام نے ریاستی، سیاسی، معاشی اور سماجی طاقت کے بنیادی مراکز پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ان حکام پر عبوری صدر احمد الشرع، ان کے قریبی خاندان، اور ایچ ٹی ایس کی اہم شخصیات کا غلبہ ہے۔اب وہ ریاستی اداروں، فوج اور سکیورٹی خدمات کے کلیدی عہدوں پر مکمل طور پر چھائے ہوئے ہیں۔

اسی طرح عبوری حکومت کے اہم عہدے بھی عبوری صدرکے قریب سمجھے جانے والے افراد کے پاس ہیں۔ اسعد الشیبانی اور ابو قصرہ نے بالترتیب وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کی اپنی پچھلی ذمہ داریاں برقرار رکھیں، جبکہ انس خطاب کو مارچ 2025 کے آخر میں قائم ہونے والی عبوری حکومت میں وزیر داخلہ مقرر کیا گیا۔

یہ تمام افراد دسمبر 2024 میں شامی حکومت کے انہدام سے قبل ادلب میں ایچ ٹی ایس کی طاقت کے ڈھانچے میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔ 2017 سے ادلب میں ایچ ٹی ایس کی حکمرانی سیاسی، عسکری اور معاشی طاقت کے شدید ارتکاز کے ساتھ ساتھ اپنے مخالفین کو اپنے رنگ میں رنگنے یا کچل دینے کی پالیسیوں سے عبارت تھی۔

نئے حکام نے کئی متوازی ادارے بھی قائم کیے ہیں، جیسے شامی قومی سلامتی کونسل، جس کی سربراہی بذات خود الشرع کر رہے ہیں، اور اس میں ان کے قریبی رفقا وزیرخارجہ، وزیردفاع، وزیر داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس شامل ہیں۔اسی طرح وزارت خارجہ نے مارچ کے آخر میں سیاسی امور کے جنرل سیکرٹریٹ کے نام سے ایک نیا ادارہ بنایا، جس کا کام اندرونی سیاسی سرگرمیوں کی نگرانی، عمومی سیاسی رہنما خطوط وضع کرنا، اور تحلیل شدہ بعث پارٹی کے اثاثوں کا نظم و نسق سنبھالنا ہے۔اپریل کے وسط میں احمد الشرع کے بھائی ماہر الشرع کو سیکرٹری جنرل آف دی پریذیڈنسی تعینات کیا گیا، جو صدارتی انتظامیہ کے انچارج ہونگے اور ریاستی اداروں اور صدر کے دفتر کے درمیان رابطے کا بنیادی ذریعے کے طور پر کام کریں گے۔

معاشی معاملات اور کاروباری طبقے کے نظم و نسق میں صدر کے بھائی حازم الشرع تیزی سے ایک اہم کردار کے طور پر ابھرے ہیں۔انہوں نے صدر کے پہلے یعنی سعودی عرب اور ترکی کے دوروں میں ان کے ہمراہ شرکت کی، اور انہیں شامی سپریم کونسل فار اکنامک ڈویلپمنٹ کا نائب صدر بھی مقرر کر دیا گیا۔

رائٹرز کی ایک تحقیق کے مطابق حازم الشرع دیگر چند افراد کی کمیٹی کے ساتھ مل کر ایک ایسی حکمت عملی چلا رہے ہیں جس کا مقصد شامی معیشت کی ازسرنو تشکیل ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت سابق اسد نظام سے وابستہ سرمایہ داروں اور کمپنیوں کے اثاثوں کو خاموشی سے خرید کر اپنے کنٹرول میں لیا جا رہا ہے۔تحقیق کے مطابق یہ کمیٹی اب تک 1.6 ارب امریکی ڈالر سے زائد کے اثاثوں پر قبضہ حاصل کر چکی ہے۔

حازم الشرع مقامی کاروباری حلقوں کے ساتھ روابط قائم کرنے، بیرون ملک آباد شامی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے، اور صدر کی جانب سے قائم کیے جانے والے فنڈز اور ترقیاتی اداروں کی نگرانی کے انجینئر اور معمار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

نئی حکومت کی طاقت غیر رسمی نیٹ ورکس کے ذریعے بھی چلائی جا رہی ہے، جن میں انتظامی شیخ ،وزارتوں اور ریاستی اداروں کے اندر خفیہ کمیٹیاں شامل ہیں، جو سکیورٹی، مالیات، خارجہ پالیسی اور داخلی انتظامیہ تک ضروری شعبوں کو ریاستی بیوروکریسی کو بالکل نظرانداز کرتے ہوئے چلا رہی ہیں۔ان حالات میں سرکاری اداروں کے باضابطہ راستے اکثر غیر موثر ہو جاتے ہیں، جبکہ اصل اختیار بہت چھوٹے، خفیہ اور خودمختار غیر رسمی حلقوں کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔

نئے اداروں کے قیام اور اقتصادی قوانین کے نئے ڈھانچے نے عوام میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے کہ صدر الشرع کے ہاتھوں میں طاقت کا ارتکاز بڑھتا جا رہا ہے، ایسا ارتکاز جسے لوگ مالی بدعنوانی، اقربا پروری اور غیر شفافیت کے فروغ کے لیے موزوں سمجھتے ہیں۔اس رجحان کو اس وقت مزید تقویت ملی جب کئی ذمہ داریاں، جو پہلے وزارتوں کے دائرے میں تھیں، براہ راست صدارت کے ماتحت کر دی گئیں ۔ یوں فیصلہ سازی کی طاقت صدر اور ان کے قریبی حلقے میں سمٹ گئی۔

ریاستی اداروں سے آگے بڑھ کرایچ ٹی ایس کے زیر اثر نئی حکومت نے معاشی اور سماجی شعبوں میں بھی اپنا کنٹرول بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ملک کی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ازسرنو تشکیل اس کی ایک مثال ہے۔ان میں سے زیادہ تر ارکان کو برطرف کر کے نئی حکومت کے مقرر کردہ افراد کو تعینات کیا گیا۔اسی طرح ٹریڈ یونینز اور پیشہ ورانہ انجمنوں کے سربراہ بھی حکومت نے بغیر کسی انتخاب کے مقرر کیے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے سابق بشار الاسد حکومت میں ہوتا تھا۔اس کے جواب میں تنقید اور احتجاج پیدا ہوئے ۔ مثال کے طور پر وکلاء نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے جس میں آزادانہ یونین انتخابات کا مطالبہ کیا گیا، کیونکہ نئی حکومت نے ان کی منتخب یونین کو ہٹا کر ایک غیر منتخب کونسل تعینات کر دی تھی۔

نئی رژیم کس طرح بڑھتی ہوئی فرقہ واریت اور قومی اقلیتوں کے اخراج کو استعمال کرتے ہوئے شامی آبادی کو تقسیم کرتی ہے اور نئے آمرانہ نظام کے ابھار اور دولت مند سرکاری اتحادیوں کے مفادات پر مبنی طبقاتی سیاست کے خلاف عوامی مزاحمت کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے؟

جوزف داہر:آخرکار معاشرے پر اپنی طاقت مضبوط کرنے کے لیے ایچ ٹی ایس فرقہ واریت کو غلبے اور کنٹرول کے ایک اوزار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ اگرچہ مارچ میں علوی شہریوں کے خلاف بھڑکنے والا فرقہ وارانہ تشدد ابتدا میں اسد حکومت کے باقی ماندہ عناصر کی طرف سے اکسانے کا نتیجہ تھا، جنہوں نے سیکورٹی فورسز اور شہریوں پر مربوط حملے منظم کیے۔تاہم حکومت کا ردعمل تمام علویوں کو نشانہ بنانے کی شکل میں سامنے آیا، گویا فرقہ وارانہ نفرت اور انتقامی منطق کار فرما ہو۔ اپریل اور مئی 2025 میں حکام سے منسلک یا ان کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں نے دروز آبادی پر بھی حملے کیے، جن کے بعد جولائی 2025 کے وسط میں سویدا میں قتل عام کے واقعات پیش آئے۔

مارچ اور جولائی میں ہونے والی قتل عام کی ذمہ داری ساحلی علاقوں میں علوی شہریوں کے لگاتار قتل اور اغوا، اور سویدا گورنریٹ کے مسلسل محاصرے کی بنیادی ذمہ داری نئے شامی حکام پر عائد ہوتی ہے۔ وہ انہیں روکنے میں ناکام رہے، اور ان کی کچھ ملیشیائیں براہ راست ان مظالم میں ملوث تھیں۔ ریاست کے اعلیٰ حکام ان اذیت رسانیوں سے واقف تھے ،اور رائٹرز اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹوں کے مطابق انہوں نے ان کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہایچ ٹی ایس کے زیر اثر قائم کردہ حکام نے وہ سیاسی حالات پیدا کیے جن کی بنیاد پر یہ سب ممکن ہوا۔

اس سال کے آغاز سے علوی افراد اور آبادیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے، جن میں اغوا اور قتل شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ واقعات، جیسے دسمبر 2024 کے آخر میں فاحل کا قتل عام اور فروری 2025 کے آغاز میں ارزہ کا قتل عام، ساحلی علاقوں میں ہونے والی بڑی سطح کی ہلاکتوں سے پہلے گویا ڈریس ریہرسل لگتے تھے۔ اسی طرح دمشق اور جنوب میں سویدا کے اندر دروز آبادی کے خلاف فرقہ وارانہ حملے بھی جولائی 2025 کے وسط کے بڑے قتل عام سے پہلے کیے گئے۔

فرقہ واریت بنیادی طور پر اقتدار مضبوط کرنے اور معاشرے کو تقسیم کرنے کا ایک ہتھیار ہے۔ اس کا مقصد محنت کش عوام کی توجہ معاشی اور سیاسی سوالات سے ہٹانا ہے، اور کچھ مخصوص گروہوں کو ملک کے مسائل کا ذمہ دار اور سکیورٹی خطرہ قرار دینا ہے،جن کی شناخت مذہبی کمیونٹی یا نسلی وابستگی کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔ یوں ان کے خلاف جابرانہ اور امتیازی پالیسیوں کو جواز فراہم کیا جاتا ہے۔

مزید برآں فرقہ واریت سماجی کنٹرول کا نہایت طاقتور طریقہ ہے۔ یہ طبقاتی جدوجہد کے بہاؤ کو اس طرح موڑ دیتی ہے کہ محنت کش طبقہ اپنے فرقے کے رہنماؤں پر انحصار کرنے لگتا ہے۔ نتیجتاً وہ اپنی سیاسی عمل کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں اور اپنی سیاسی شناخت فرقہ وارانہ شناخت کے دائرے میں محدود کر دیتے ہیں، اور اسی دائرے میں خود کو سیاسی طور پر ظاہر بھی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے نئے حکام سابقہ اسد رژیم کے راستے پر چل رہے ہیں، یعنی فرقہ وارانہ پالیسیوں اور طریقہ کار کو حکومت، کنٹرول اور سماجی تقسیم کے ایک ذریعہ کے طور پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نئی قائم کی گئی ادارہ سازی کس حد تک ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی اور ایک مرکزی آمرانہ قوت کے قیام کی عکاس ہے؟

جوزف داہر:اس تناظر میں نئی حکومت عوام کو کسی بھی جامع اور انکلوسیو(inclusive) جمہوری عمل سے محروم کرتی ہے۔ یہ بات مختلف اقدامات، کانفرنسوں اور کمیٹیوں میں واضح نظر آئی جنہیں بظاہر ملک کے اگلے سیاسی مراحل طے کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ ان میں سے 25 فروری کو منعقدہ شامی نیشنل ڈائیلاگ کانفرنس کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ اس کی تیاری ناکافی تھی، نمائندگی محدود تھی اور اجلاسوں کے لیے مختص کم وقت کے باعث اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ عبوری شامی صدر کے دستخط سے نافذ ہونے والے عبوری آئین کو بھی مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔ خاص طور پر اس کا مسودہ تیار کرنے والی کمیٹی کے انتخاب کے معیار کی غیر شفافیت اور خود آئین کے مواد کی وجہ سے اس پر تنقید کی گئی۔

مزید یہ کہ اگرچہ عبوری آئین رسمی طور پر اختیارات کی تقسیم کا اعلان کرتا ہے، لیکن اس تقسیم کو صدر کو دیے گئے وسیع اختیارات بری طرح محدود کر دیتے ہیں۔ ایک اور مثال اکتوبر میں ہونے والے عوامی اسمبلی کے نام نہاد ’’انتخابات‘‘ ہیں۔انہیں بھی وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مستقبل کی پارلیمان کے اراکین کے انتخاب کے لیے اپنایا گیا طریقہ کار غیر شفاف اور غیر جامع تھا، جس نے نئے حکمرانوں سے قریبی تعلق رکھنے والے طبقات کو فائدہ پہنچایا۔

مزید برآں عبوری صدر احمد الشرع پارلیمان کے ایک تہائی اراکین کا خود تقرر کریں گے، جبکہ باقی دو تہائی اراکین کا انتخاب ’’علاقائی ذیلی کمیٹیوں‘‘ نے کیا، جنہیں عوامی اسمبلی کے انتخابات کی اعلیٰ کمیٹی نے نامزد کیا تھا، اور اس اعلیٰ کمیٹی کے اراکین کا تقرر خود صدر نے کیا تھا۔ اس کے علاوہ21نشستیں فی الحال خالی چھوڑ دی گئیں ،یعنی وہ نشستیں جو حسکہ اور رقہ کے شمال مشرقی صوبوں (جہاں کرد آبادی اکثریت میں ہے) اور سویدا کے جنوبی صوبے (جہاں دروز آبادی اکثریت میں ہے) کے لیے مختص تھیں ، کیونکہ انتخابات کے وقت یہ علاقے مرکزی حکومت کے کنٹرول سے باہر تھے۔

زمینی سطح پر جمہوری حقوق کی پابندی، اور افراد و گروہوں کے حقوق کی خلاف ورزی کس شکل میں سامنے آ رہی ہے؟

جوزف داہر:نئی دمشق حکومت سے منسلک مسلح دھڑوں کی جانب سے ایس ڈی ایف کے خلاف کیے گئے حالیہ حملوں کے دوران شہریوں اور کرد فوجیوں کے خلاف درجنوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، جن کے ساتھ نفرت پر مبنی طرز عمل اور بیانیہ بھی شامل تھا۔

مزید وسیع پیمانے پرحکام نے سماجی کنٹرول کو سخت کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں جمہوری حقوق کو محدود کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔ حالیہ مہینوں میں انہوں نے سیاسی اجتماعات کے انعقاد پر پابندیاں عائد کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی۔ ابتدا میں یہ پابندیاں غیر رسمی تھیں، لیکن آہستہ آہستہ انہیں باضابطہ شکل دی جا رہی ہے۔مثال کے طور پر نومبر میں شامی وزارت سیاحت نے ایک سرکلر جاری کیا جس میں تمام سیاحتی اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ کسی بھی سیاسی نوعیت کی تقریب یا کانفرنس کی میزبانی سے اجتناب کریں، جب تک کہ انہیں جنرل سیکرٹریٹ برائے سیاسی امور سے پیشگی منظوری نہ مل جائے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ وزارت خارجہ کی جانب سے اسد کے زوال کے بعد تشکیل دیا گیا جنرل سیکرٹریٹ برائے سیاسی امور اب وسیع اختیارات رکھتا ہے، جن میں ملک کے اندر ہونے والی سیاسی سرگرمیوں کی نگرانی بھی شامل ہے۔

بعض صورتوں میں تقریبات کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا ، جن میں سول سوسائٹی کی طرف سے خواتین کے حقوق، امن یا سماجی ہم آہنگی جیسے موضوعات پر منعقدہ سیشن بھی شامل ہیں۔

اگرچہ اسد رژیم کے خاتمے کے بعد مقامی اور بین الاقوامی پریس کو یقینازیادہ آزادی حاصل ہے، لیکن پھر بھی محققین اور صحافیوں کو ہراسانی کے بعض واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

نئی شامی رژیم اگرچہ اب عرب سلفی و جہادی روایت سے عملی طور پر علیحدہ ہو چکی ہے، لیکن اسی ماحول سے ابھری تھی۔ اب یہ ایک مرکزیت رکھنے والی ریاست کی ازسرنو تعمیر کی کوشش کر رہی ہے۔ جیسے جیسے یہ مضبوط ہو رہی ہے، ویسے ویسے یہ کرد برادریوں کی محدود خودمختاری کو کم یا زیادہ زور سے چیلنج کر رہی ہے، اور ساتھ ہی علوی اور دروز جیسی دیگر اقلیتوں کے خلاف حملے بھی کر رہی ہے۔ کیا اس طرز عمل سے ایک نئی خانہ جنگی جنم لے سکتی ہے ، جیسا کہ شمال مشرق میں اکثریتی کرد فورسز کے ساتھ موجودہ جھڑپوں سے ظاہر ہوتا ہے؟

جوزف داہر:بہت سے پہلوؤں سے دیکھا جائے تو جابرانہ اسد رژیم کے خاتمے نے فرقہ وارانہ، علاقائی اور سماجی ومعاشی فالٹ لائنز میں اضافے کا راستہ نہیں روکا۔

علوی اور دروز آبادیوں کے خلاف قتل عام، ایس ڈی ایف کے خلاف کشیدگی اور حالیہ حملوں کے بعد معاشرہ مزید بکھراؤ کا شکار ہو گیا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ ہم لازمی طور پر ایک نئی خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔۔۔ اگرچہ تشدد بدستور جاری ہے اور ممکن ہے کہ مستقبل میں بھی جاری رہے ،لیکن ہم زیادہ تر ایک ایسے استبدادی نظام کی طرف جا رہے ہیں جو معاشرے کے بڑے حصوں ،اور خصوصا نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو کسی بھی سیاسی شرکت سے محروم کر دے گا۔ دمشق کی حکومت کچھ ثقافتی حقوق کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہے، وہ بھی زیادہ تر علامتی نوعیت کے، لیکن ایسا کچھ نہیں جو اس کی طاقت پر اجارہ داری کو چیلنج کر سکے یا نچلی سطح سے سیاسی شرکت کی اجازت دے۔

اسی کے ساتھ ساتھ سماجی بکھراؤ کا خطرہ حقیقی ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر شامی شناخت، اقلیتوں، سماجی ہم آہنگی وغیرہ پر بہت سے مباحثے ہو رہے ہیں۔ یہ مباحثے ضروری ہیں، مگر اکثر یہ جامع اور جمہوری حل کی تلاش کی بجائے فرقہ وارانہ اور نسلی کشیدگی کو بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ملک کے اندر مقامی عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی میں ہونے والے مباحثے ان مسائل پر باہر سے مسلط کردہ یا سوشل میڈیا پر چلنے والے مباحثوں کے مقابلے میں زیادہ تعمیری ہوتے ہیں۔

دروز آبادی کے خلاف تشدد، خصوصاً سویداکے علاقے میں، اور اس سے اسرائیلی ریاست کے فائدہ اٹھانے کی کوششوں پر روشنی ڈالیں؟

جوزف داہر:سیاسی عدم مرکزیت کی کسی بھی شکل کو قبول نہ کرنے اور خصوصاً حکومت سے وابستہ مسلح گروہوں کے ہاتھوں دروز آبادی کے خلاف ہونے والے تشدد اور قتل عام نے جنوبی صوبے سویداکی دروز آبادی کے بڑے حصے کو شام سے علیحدگی کی خواہش کے اظہار تک پہنچا دیا ہے۔ اس صورتحال نے دروز برادری کے ان حلقوں کو مضبوط کیا ہے جو برسوں سے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کے لیے سرگرم تھے۔ اب یہ عناصر سویدامیں زیادہ قبولیت حاصل کر چکے ہیں اور مقامی سطح پر کئی معاملات میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔

سابقہ رژیم کے خاتمے سے پہلے اور اس کے فوری بعد تک اسرائیل نواز گروہ سویدا میں اقلیت میں تھے، اور آبادی کا بڑا حصہ تل ابیب کے ساتھ کسی قربت کو مسترد کرتا تھا۔ مقامی گروہوں نے کئی مواقع پر غزہ میں ہونے والی نسل کشی کے خلاف احتجاج بھی کیے۔ سویداکا علاقہ طویل عرصے سے فلسطین سے اظہار یکجہتی کی تاریخ رکھتا ہے۔ تاہم گزشتہ جولائی کے قتل عام کے بعد صورت حال مکمل طور پر بدل گئی۔ اسرائیل نواز گروہوں کی وہ کوششیں، جو پہلے ناکام رہی تھیں، تیزی سے کامیاب ہونے لگیں۔ اسرائیلی ریاست سے مدد کی امید رکھنے کا رجحان اب سویدامیں کہیں زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔

دمشق سے وابستہ مسلح دستوں کی فوجی یلغار کے دوران اسرائیل نے بظاہر دروز آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے نام پر عسکری مداخلت کی۔ واضح رہے کہ اسرائیلی اپارتھائیڈریاست ان فرقہ وارانہ تقسیموں کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہے، تاکہ دمشق حکومت سے مزید رعایتیں حاصل کر سکے۔ جس دن تل ابیب کو دمشق سے وہ تمام ضمانتیں مل گئیں جن کی اسے ضرورت ہے، وہ سویداکو اس کی حالت پر چھوڑ دے گا۔

فی الحال سویداصوبہ ایک خودمختار اتھارٹی کے تحت چل رہا ہے، جس پر شیخ حکمت حجری کا غلبہ ہے، جو مخالف آوازوں کو دبانے، حتیٰ کہ قتل کرنے تک سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس کے باوجود صوبے کی سول سوسائٹی کے اندر سے جمہوری اور ترقی پسند آوازیں اب بھی سامنے آ رہی ہیں جو حجری کی پالیسیوں اور ان کے اسرائیل سے اتحاد پر تنقید کر رہی ہیں، جبکہ ساتھ ساتھ دمشق کی مرکزی حکومت پر بھی تنقید کرتی ہیں ،اور گزشتہ جولائی میں اس کی مسلح افواج کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کی مذمت بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

علوی آبادی اور ان کے مذہبی رہنماؤں نے مرکزی حکام کی جانب سے ان پر ہونے والے امتیاز اور تشدد ، جو کہ ان کی سرپرستی یا حتیٰ کہ احکام کے تحت ہو رہا ہے ، پر کس طرح ردعمل ظاہر کیا ہے؟ وسیع تر سطح پر نئی حکومت کی ان پالیسیوں کے اقلیتوں اور خصوصاً ان کے مذہبی رہنماؤں پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟

جوزف داہر:دروز کی طرح علوی برادری کے مختلف حصوں میں بھی اسد رژیم کے خاتمے کے بعد ان پر ہونے والے تشدد کے خلاف تنقید اور احتجاجات میں اضافہ ہوا ہے، ایسا خصوصاً 2025 کے اختتام میں دیکھنے کو ملا۔ ان مظاہروں میں بنیادی طور پر مسلسل قتل اور اغوا کی وارداتوں(بالخصوص عورتوں کے اغو) کے خلاف سکیورٹی کا مطالبہ کیا گیا۔ ان مظاہروں میں کسی حد تک وفاقیت (فیڈرلزم) کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ مظاہرین نے سرکاری اداروں میں علوی آبادی کے خلاف من مانی، غیر منصفانہ اور غیر متناسب برطرفیوں کی مذمت کی، ساتھ ہی مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی پر بھی شدید احتجاج کیا۔

ان مطالبات کی حمایت میں شام اور بیرون ملک علوی اسلامک کونسل کے صدر غزال غزال نے سابقہ حکومت کے خاتمے کی تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور علوی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ 8 تا 12 دسمبر کی ’’عام ہڑتال‘‘ میں گھروں پر رہیں، تاکہ ’’نئی جابررژیم‘‘ کے خلاف احتجاج کیا جا سکے۔

چاہے دروز ہوں یا علوی،دونوں صورتوں میں یہ بات نمایاں طور پر سامنے آ رہی ہے کہ ایسے مذہبی رہنماؤں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے جو کسی طور پر بھی ترقی پسند یا جمہوری نقطہ نظر کی نمائندگی نہیں کرتے۔ اس کے پیچھے دو بنیادی محرکات ہیں:

٭پہلا،دمشق کی مرکزی حکومت کی جانب سے ان آبادیوں کے خلاف نفرت انگیز فرقہ وارانہ گفتگو اور پالیسیوں کے ساتھ کیے گئے تشدد اور مظالم،اور مجموعی طور پر ان کی اخراجی (exclusionary) اور استبدادی (authoritarian) حکمت عملی۔
٭دوسرا ،جمہوری اور ترقی پسند تنظیموں کی غیر موجودگی جو اتنی مضبوط اور زمین سے جڑی ہوں کہ عوامی غصے کو محض اقلیتی برادریوں کی شکایات کے بجائے جمہوری اور سماجی مطالبات کی شکل میں ڈھال سکیں۔حقیقت میں سیاسی عدم مرکزیت، جمہوریت اور سیاسی شرکت، سماجی انصاف، مساوات اور تحفظ جیسے سب مسائل صرف اقلیتوں کے نہیں بلکہ پوری شامی آبادی کے مسائل ہیں۔

ان شخصیات کا ابھار کئی حوالوں سے جمہوری، سماجی اور سب کو شامل کرنے والی شام کے لیے بڑے عوامی تحریکی ڈھانچوں کی تعمیر میں ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔

ایسے زہریلے ماحول میں سماجی انصاف پر مبنی انکلوسیوجمہوریت کا دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کیا عوامی تحریک فرقہ وارانہ یا نسلی تقسیم سے بالاتر ہو کر ایسے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

جوزف داہر:ایسے حالات میں جمہوریت پسندوں اور ترقی پسندوں کا کردار یہ ہے کہ وہ ایک جمہوری، شمولیتی (انکلوسیو)اور ترقی پسند عوامی تحریک کی تعمیر کریں، جو تمام شامیوں کے خدشات کا قومی سیاسی جواب فراہم کر سکے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ملک کی تقسیم مزید گہری ہوتی چلی جائے گی۔البتہ حجری یا غزال جیسے فرقہ وارانہ مذہبی رہنماؤں پر تنقید ، خواہ وہ سویدا میں ہوں یا ساحلی علاقوں میں ،ہرگز اس بات میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے کہ شام کے جمہوریت پسند اور ترقی پسند دروز اور علوی آبادیوں اور ان کے جائز مطالبات کا دفاع کریں۔

ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایک ایسی سیاسی سمت اور افق کا دفاع کریں جو ہمیں سویدا کی آبادی، ساحلی علاقوں کی علوی برادریوں اور کرد آبادیوں کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے قابل بنائے ، تاکہ سب مل کر تمام شامیوں کے لیے ایک جمہوری اور شمولیتی سیاسی منصوبہ تشکیل دے سکیں۔قومی شناخت ہمیشہ ایک سماجی تعمیر ہوتی ہے، جو سیاسی منصوبے سے جڑی ہوتی ہے۔ چنانچہ تمام شامیوں میں ایک مشترکہ شناخت کی ازسرنو تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب ایک ایسا متبادل، مضبوط اور قابل عمل سیاسی منصوبہ تیار کیا جائے جو تمام نسلی و مذہبی پس منظر رکھنے والے محنت کش طبقات میں جڑیں رکھتا ہو اور واضح جمہوری اور شمولیتی مقاصد کا حامل ہو۔

نئی شامی رژیم کا خواتین کے حقوق کے بارے میں کیا رویہ ہے؟ کیا بین الاقوامی سطح پر جس’’جدید اسلام ازم‘‘کی شبیہہ وہ پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہ شامی خواتین کے سیاسی و سماجی حقوق کی عملی صورت حال سے مطابقت رکھتی ہے؟
جوزف داہر:برسر اقتدار آتے ہی ایچ ٹی ایس کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں نے ایسے بیانات دیے اور فیصلے کیے جنہوں نے ان کی رجعتی نظریاتی سمت کو واضح کر دیا۔

ایچ ٹی ایس کے رہنماؤں نے معاشرے میں عورت کے کردار کے حوالے سے متعدد بیانات دیے، خصوصاً یہ کہ عورتیں کن شعبوں میں کام کرنے کی اہل ہیں۔ 16 دسمبر 2024 کو ایک انٹرویو میں ایچ ٹی ایس کے رکن اور ملٹری آپریشنز کمانڈ (ایم او سی) کے سیاسی امور کے ترجمان عبیدہ ارناؤط نے کہا کہ عورت کا کردار’’اس کی صلاحیتوں کے مطابقہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر ہم کہیں کہ عورت کو وزیر دفاع ہونا چاہیے، تو کیا یہ اس کی فطرت اور حیاتیاتی ساخت سے مطابقت رکھتا ہے؟ بلا شبہ، نہیں۔‘‘

چند دن بعد دسمبر 2024 سے مارچ 2025 تک پہلے عبوری حکومت میں واحد خاتون وزیر اور خواتین کے امور کی وزیر رہنے والی عائشہ الدبس سے جب ملک میں فیمن اسٹ تنظیموں کے کردار کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر’’ان تنظیموں کی سرگرمیاں اس ماڈل کی حمایت کریں جسے ہم تشکیل دینے جا رہے ہیں، تو ان کا خیر مقدم ہوگا۔‘‘انہوں نے مزید کہاکہ ’’میں ان کے لیے راستہ نہیں کھولوں گی جو میرے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں رکھتے۔‘‘

انہوں نے انٹرویو میں خواتین کے معاشرتی کردار کے حوالے سے ایک رجعتی تصور پیش کیا، عورتوں کو نصیحت کی کہ وہ’’اپنی خدائی فطرت کی ترجیحات سے تجاوز نہ کریں‘‘اور’’ اپنی خاندانی تعلیمی ذمہ داری‘‘کو تسلیم کریں۔

مارچ 2025 سے موجود عبوری حکومت میں بھی صرف ایک خاتون وزیر ہے، اور پیپلز اسمبلی (پارلیمان) میں اب تک مختص کردہ نشستوں میں خواتین کی نمائندگی صرف 5 فیصد ہے۔

متعدد حکومتی فیصلے خواتین کے حقوق محدود کرنے اور معاشرے میں قدامت پسند رجحانات کو مضبوط کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔پردے یا نقاب کے حق میں مختلف مہمات چل رہی ہیں اور مقامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ مہمات اور اقدامات اکثر نئی حکومت کے قریب یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں سے وابستہ ہیں۔ ان کی جانب سے ان خواتین کی بھی مذمت کی جاتی ہے جو ان اقدامات سے انکار کرتی ہیں۔اسی طرح بعض اداروں یا پبلک ٹرانسپورٹ میں مرد و عورت کی علیحدگی کے مطالبات بھی دیکھنے میں آئے ہیں، اگرچہ ابھی تک قومی سطح پر کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔

جنوری 2026 میں صوبہ اللاذقیہ کی مقامی انتظامیہ نے خاتون سرکاری ملازمین کے لیے میک اپ پر پابندی لگا دی، جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔ متعدد کارکنان نے اسے انفرادی آزادیوں پر حملہ اور خواتین کے حقوق محدود کرنے کی کوشش قرار دیا۔

جواب میں صوبے کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ نے وضاحت دی کہ اس اقدام کا’’مقصد آزادیوں کو محدود کرنا نہیں بلکہ پیشہ ورانہ طرز عمل کو منظم کرنا اور ضرورت سے زیادہ نمائش سے گریز کرنا ہے، تاکہ انفرادی آزادی، ادارہ جاتی وقار اور عوامی تاثر میں توازن قائم رہے۔‘‘تاہم اس وضاحت سے تنقید کم نہیں ہوئی بلکہ مزید شدید بحث چھڑ گئی۔

گزشتہ گرمیوں میں اسی صوبے کی انتظامیہ نے غیر ملکی سیاحوں کے لیے ہدایات جاری کیں کہ وہ ساحل اور سوئمنگ پولز پر ’’باوقار‘‘ لباس پہنیں ، جسے بڑے پیمانے پر خواتین کو نشانہ بنانے والی ہدایت سمجھا گیا۔ تنقید کے جواب میں انتظامیہ نے کہا کہ وہ کوئی مخصوص لباس نافذ نہیں کر رہے اور ان کی ہدایات خطے کے دیگر ممالک سے مختلف نہیں۔

مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ علوی خواتین ، اور کچھ کم حد تک دروز خواتین کے اغوا کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں، جس نے نہ صرف ان برادریوں بلکہ پورے معاشرے میں شدید عدم تحفظ پیدا کر دیا ہے۔فروری سے جولائی 2025 کے درمیان ایمنسٹی انٹرنیشنل کو کم از کم 36 علوی خواتین اور لڑکیوں (عمر 3 سے 40 سال تک) کے اغوا کی معتبر رپورٹس موصول ہوئیں، جو صوبہ لاذقیہ، طرطوس، حمص اور حماہ میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا ہوئیں۔ان دستاویزکیے گئے کیسز میں،سوائے ایک کے،پولیس اور سکیورٹی فورسز متاثرہ خواتین کی تلاش یا ان کی ممکنہ بازیابی کے لیے کوئی موثر تحقیقات کرنے میں ناکام رہیں۔

یہ صورتحال بعض شعبوں میں ، خاص طور پر علوی اور دروز خواتین کے درمیان اس نتیجے پر منتج ہوئی ہے کہ وہ اپنی حرکتیں محدود کرنے لگی ہیں اور بعض اوقات ہراسگی یا اغوا کے خوف کی وجہ سے جاب مارکیٹ سے بھی نکل گئی ہیں، جس کا اثر ان کی عوامی اور اقتصادی زندگی میں شرکت پر پڑ رہا ہے۔ اسی طرح وہ خواتین جو سرکاری اداروں میں کام کرتی تھیں، جہاں ان کی مضبوط موجودگی تھی ، انہیں بھی نئے حکمران طبقے کی کٹوتی پالیسیوں اور برخاستگیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ خواتین کی مزدور مارکیٹ میں شرکت نے جنگ کے سالوں (2011 سے 2024) کے دوران خاصی ترقی کی تھی، خاص طور پر سرکاری اداروں میں۔ اس کا جزوی سبب یہ تھا کہ شامی معاشرے میں مردوں کی کمی تھی، جو تنازع اور ہجرت کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ اس سے خدشہ ہے کہ نئی حکومت کی سیاسی سمت اب اس موجودگی کو چیلنج کر رہی ہے۔

صرف خواتین کے حقوق کے حوالے سے مبہم بیانات دینا کافی نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انہیں مکمل شہری حقوق کے حامل کے طور پر تسلیم کیا جائے، تاکہ وہ ملک کے مستقبل میں حصہ لے سکیں۔وسیع تر طور پر نئی حکومت کے عہدیدار ، جو ایچ ٹی ایس اور ان کے اتحادیوں سے وابستہ ہیں ، کئی مواقع پر اسلامی حکومت اور شریعت کے نفاذ کو ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر شام کے نئے گرینڈ مفتی شیخ اسامہ الرفاعی نے جنوری 2026 میں ایک حالیہ تقریر میں کہا کہ شریعت ہر چیز پر مقدم ہے، خاص طور پر آئندہ قانونی اور آئینی مسائل کے حوالے سے۔

اسی دوران خواتین کے حقوق کے خلاف تقریباً ہر اقدام یا بیان نے تنقید اور مخالفت کو جنم دیا، خاص طور پر خواتین اور فیمن اسٹ تنظیموں کی جانب سے ان اقدامات کی مخالفت یا ان پر تنقید کی گئی۔

30جنوری کو شامی حکومت اور ایس ڈی ایف کے مابین ہونے والے معاہدے پر آپ کا تجزیہ کیا ہے؟شام میں کردوں کے حقوق کا مستقبل کیا ہے؟

جوزف داہر:20 جنوری 2026 کو شامی عبوری حکومت (ایس ٹی جی) اور شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے بعد 30 جنوری 2026 کو ایک نیا معاہدہ اعلان کیا گیا۔ اس معاہدے کے مطابق جنگ بندی کی جانی ہے اور ایس ڈی ایف کا ریاستی اداروں میں فوجی اور انتظامی انضمام یقینی بنایا جانا ہے۔اس میں ملٹری فورسز کا رابطہ پوائنٹس سے انخلاء اور وزارت داخلہ کی سکیورٹی فورسز کی حسکہ اور قامشلی میں تعیناتی، بھی شامل ہے،جو خطے میں سکیورٹی فورسز کے انضمام کا آغاز ہے۔

معاہدے کے تحت ایک فوجی ڈویژن قائم کیا جائے گا، جس میں ایس ڈی ایف کی تین بریگیڈز اور کوبانی (عین العرب) کی ایک بریگیڈ شامل ہوگی، جو حلب کے گورنریٹ میں ایک ڈویژن سے منسلک ہوگی۔ ایس ڈی ایف کا فوجی و سکیورٹی انضمام ہر بریگیڈ میں کیس ٹو کیس کیا جائے گا، جبکہ ریاست تمام سول اداروں، سرحدی گزرگاہوں اور انٹری پوائنٹس پر مکمل کنٹرول رکھے گی۔کوبانی کے ادارے تدریجی طور پر شامی ریاستی اداروں میں ضم کیے جائیں گے، جبکہ سول عملہ برقرار رہے گا۔ معاہدے میں کرد برادری کے سول اور تعلیمی حقوق کا ذکر بھی شامل ہے اور بے گھر افراد کی ان کے اصل علاقوں میں واپسی کی ضمانت دی گئی ہے۔

یہ معاہدہ اس حد تک مثبت ہے کہ یہ کرد آبادیوں پر حملے اور خطرات کو کم از کم عارضی طور پر روکنے کی ضمانت دیتا ہے۔ اس سے پہلے کئی ہفتوں تک لڑائی جاری رہی، جس میں حکومت کی مسلح افواج نے حلب کے شیخ مقصود اور اشرفیہ کے بنیادی طور پر کرد علاقوں پر قبضہ کیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کی زبردستی نقل مکانی ہوئی۔یہ کشمکش اس وقت عروج پر پہنچی جب حکومت کی افواج نے دیرا ززور اور رقہ کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا، جس سے ایس ڈی ایف کو پیچھے ہٹنا پڑا۔

نئی شامی حکومت کی کرد برادریوں کے خلاف کارروائی کن داخلی اور بین الاقوامی حالات میں وقوع پذیر ہوئی، چاہے وہ حلب میں ہو یا ایس ڈی ایف کے زیر کنٹرول علاقوں میں؟

جوزف داہر:دمشق کی حکومتی افواج کی حلب اور دیگر ایس ڈی ایف کے زیر کنٹرول علاقوں میں فوجی کارروائی 10 مارچ 2025 کے معاہدے کے تحت مقرر کردہ 31 دسمبر 2025 کی آخری تاریخ کے ختم ہونے کے بعد شروع ہوئی۔ اس معاہدے کو واشنگٹن نے سپانسر کیا تھا اور یہ عبوری شامی صدر احمد الشرع اور ایس ڈی ایف کے سربراہ مظلوم عابدی کے درمیان طے پایا تھا، جس کا مقصد ایس ڈی ایف کی سول اور فوجی شاخوں کو ریاست میں ضم کرنا تھا۔ تاہم سیاسی جمود برقرار رہا۔

مزید برآں فوجی کشیدگی صرف دو دن بعد اس ملاقات کے وقوع پذیر ہونے کے بعد بڑھائی گئی، جس میں شامی حکام اور ایس ڈی ایف کے نمائندے شامل تھے اور امریکی فوجی بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے دوران شامی حکام نے پہلے حلب میں فوجی آپریشن شروع کرنے اور پھر اسے دیگر ایس ڈی ایف کے زیر کنٹرول علاقوں تک پھیلانے کا منصوبہ تیار کیا۔انہوں نے مختلف عرب قبائل کو متحرک کیا ،جو کچھ عرصے سے الشرع کے رابطے میں تھے ، تاکہ ایس ڈی ایف کے خلاف عام حملے کی تیاری کی جا سکے۔یہ سب کچھ ترکی کی حمایت اور واشنگٹن کے گرین سگنل کے ساتھ کیا گیا۔

اسی دوران حساکہ کے مشہور الخول کیمپ میں حالات تشویش ناک تھے، جہاں اسلامک اسٹیٹ(آئی ایس) کے خاندان اور وابستگان مقیم ہیں، اور رپورٹس کے مطابق سینکڑوں افراد وہاں سے فرار ہو گئے۔ کیمپ اب شامی حکام کے کنٹرول میں ہے، جبکہ امریکہ نے تقریباً 7ہزار قیدیوں کو عراق منتقل کر دیا ہے۔

اگرچہ امریکہ (اور فرانس) باضابطہ طور پر دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اس کے باوجود واشنگٹن نے شامی حکومت کی فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی خاص دباؤ نہیں ڈالا۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نئی شامی حکومت کا ایک اہم حمایتی بن چکا ہے، جیسا کہ ٹرمپ اور الشرع کی متعددملاقاتوں اور دسمبر 2025 میں سیزر پابندیوں کے اٹھائے جانے سے ظاہر ہوتا ہے۔

ترکی نے ایس ڈی ایف پر دباؤ ڈالا کہ وہ تحلیل ہو کر شامی فوج میں شامل ہو جائیں۔ ترکی اس گروپ کو کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی ایک شاخ سمجھتا ہے، جسے وہ دہشت گرد تنظیم کے طور پر کلاسفائی کرتا ہے۔ ترکی کے عہدیداروں نے بار بار کہا کہ وہ شامی کرد افواج کے خلاف شامی فوج کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

اسد رژیم کے زوال کے بعد ترکی شامی شمال میں سب سے اہم علاقائی کھلاڑیوں میں سے ایک بن گیا ہے۔اس نے ایچ ٹی ایس کے زیر قیادت شامی حکام کی حمایت کرکے ان کے ملک پر اثرورسوخ مضبوط کیا۔

ترکی کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:

شامی پناہ گزینوں کی واپسی کو یقینی بنانے اورتعمیر نو کے ذریعے اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے پیچھے ترکی کا اہم مقصدکرد خودمختاری کی خواہشات کو ناکام بناناہے، جسے وہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس کا مقصد شمالی اور مشرقی شامی خودمختار انتظامیہ (AANES) کو ختم بھی کرناہے۔

دمشق کی افواج کی تیز پیش رفت بلاشبہ نئے بین الاقوامی سیاق و سباق، یعنی واشنگٹن کے گرین سگنل اور ترکی کی حمایت سے واضح طور پر جانی جا سکتی ہے، لیکن کیا یہ ایس ڈی ایف کی کچھ غلطیوں کے سبب بھی نہیں ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں عرب آبادی کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے جو ان کے کنٹرول میں ہیں؟

جوزف داہر:چند ہی دنوں میں شامی حکام نے ایس ڈی ایف کے زیر کنٹرول دو تہائی علاقے پر قبضہ کر لیا۔ فوری جیوسٹریٹجک پہلوؤں کے علاوہ یہ تیز پیش رفت AANES کے سیاسی منصوبے کی محدود نوعیت کو غیر کرد، خاص طور پر عرب آبادی کے درمیان واضح کرتی ہے۔ برسوں کے دوران عرب آبادی کے بعض حصوں نے امتیازی سلوک، مخصوص ’’سکیورٹی‘‘ اقدامات، سرگرم کارکنوں اور شہریوں (خاص طور پر نوجوان مردوں) کی قید اور AANES کی اداروں میں حقیقی نمائندگی کی کمی کے خلاف احتجاج کیا۔

ایس ڈی ایف قیادت نے عرب محنت کشوں کی رضامندی حاصل کرنے یا انہیں AANES اداروں کی مینجمنٹ میں شامل کرنے کی بجائے قبائلی سرداروں کے ساتھ تعاون کیا تاکہ مقامی آبادی کو کنٹرول کیا جا سکے۔ تاہم یہ قبائلی سردار حالات کے مطابق وفاداری بدلنے اور اپنے مادی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ جیسے ہی طاقت کا توازن دمشق کے حق میں منتقل ہوا، قبائلی سرداروں نے بھی اپنا رویہ تبدیل کر لیا۔

مزید برآں ایس ڈی ایف قیادت کے امریکی حمایت کے جاری رہنے پر غلط اعتماد اور ملک کے دیگر حصوں میں جمہوری اور ترقی پسند قوتوں کے ساتھ وسیع اور گہرے سیاسی اتحادبنانے میں عدم دلچسپی نے اس کے سیاسی منصوبے کی پائیداری کو کمزور کر دیا۔اسی دوران ترکی نے دمشق کی افواج کی کارروائی کے دوران قامشلی کے علاقوں پر بمباری کی، اور یہ بات وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ ہے کہ انقرہ نے دمشق کو تازہ فوجی کارروائیوں میں خاطر خواہ لاجسٹک مدد فراہم کی۔

حال ہی میں کردوں کے خلاف کی جانے والی یہ کارروائی کس حد تک الشرع کی حکومت کے مرکزیت پسند اور عصبی عزائم کا حصہ ہے، خصوصاًجب کہ وہ اندھا دھند تشدد کاسہارا بھی لے رہی ہے؟

جوزف داہر:واقعی حکومتی افواج کی حالیہ فوجی کارروائی کو شامی حکمران اشرافیہ کی طاقت کی مرکزیت اور ملک کے مستقبل کے لیے شمولیتی راستے کو مسترد کرنے کی جاری کوشش کے حصہ کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔ یہ سلسلہ اسد کے زوال کے بعد سے جاری ہے۔

مزید برآں حکمران حکام اور ان کے حامیوں نے کردوں اور ایس ڈی ایف کے خلاف جارحانہ بیانئے کو فروغ دیا۔ حکومت کی افواج اور ان سے منسلک مسلح گروہوں کی جانب سے نسلی امتیاز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعدد شواہد موجود ہیں۔

مثال کے طور پر شامی وزیر برائے مذہبی امور (اوقاف) محمد ابو الخیر شکری نے ایک مذہبی ہدایت نامہ شائع کیا، جس میں ملک بھر کی مساجد کو ہدایت کی گئی کہ وہ مشرقی شامی علاقوں میں دمشق کی حامی افواج کی ’’فتح اور کامیابیاں‘‘کا جشن منائیں اور شامی عرب فوج کے فوجیوں کی کامیابی کے لیے دعا کریں۔

مزید برآں یہ کہ انہوں نے قرآن کی سورہ الانفال کی آیت 6 کا خصوصی ذکر کرنے کی ترغیب دی، جس کا اشارہ ممکنہ طور پر 1988 میں صدام حسین کی جانب سے کردوں کے خلاف انجام دی گئی انفال مہم کی طرف ہے، جو موجودہ عراق کے کردستان میں ہوئی تھی۔ یہ مہم کیمیائی بمباری، بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور وسیع پیمانے پر تباہی کے لیے مشہور ہے۔اس خطرناک تناظر کے باوجود، علاقائی اور بین الاقوامی رہنما شامی حکام کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے ان کے ملک پر تسلط کی قانونی حیثیت اور استحکام کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔

نتیجتاً الشرع کی جانب سے کرد آبادی کو لسانی، ثقافتی اور شہریت کے حقوق دینے، جو ابھی تک قانونی اور آئینی عمل کے ذریعے عملی شکل نہیں اختیار کر پائے ، اور سرکاری عہدوں میں شمولیت کے باوجود، جو ابھی تک قائم نہیں کیے گئے ،معتبر خدشات موجود ہیں۔

آپ یہ سمجھتے ہیں کہ دمشق اور ایس ڈی ایف کے درمیان 30جنوری کا معاہدہ مجموعی طور پر مثبت تھا، لیکن یہ تمام مسائل کے حل سے ابھی بہت دور ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کن نکات پر یہ معاہدہ بدستور مسئلے کا باعث بنا ہوا ہے؟

جوزف داہر:30جنوری کے معاہدے کے نفاذ میں متعدد غیر حل شدہ سوالات موجود ہیں، خاص طور پر سول ملازمین کے انضمام اور وزارت دفاع کے زیر انتظام چار کرد بریگیڈز کی شکل و ساخت کے حوالے سے۔ اسی طرح معاہدے کا متن انتظامی اور سکیورٹی کے امور میں مرکزیت سے آزادی کے اہم سوالات پر اب بھی غیر واضح ہے۔ وسیع تر سطح پر حقیقی سیاسی شمولیت، چاہے کردوں کے لیے ہو یا شامی آبادی کے دیگر طبقات کے لیے، ابھی بھی محض ایک مفروضہ ہے۔

جہاں تک شامی ترقی پسند اور جمہوری قوتوں کی اولین ترجیح ہے، وہ یہ کہہ سکتی ہیں کہ خونریزی کا خاتمہ، بے گھر ہونے والے شہریوں کی محفوظ واپسی، اور ملک میں نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ رویوں کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ تاہم موجودہ عبوری حکومت میں عوام کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے اب بھی بہت سے سوالات باقی ہیں۔

شام کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ درحقیقت نئی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ان کے منصوبے سابقہ آمرانہ رژیم کے رویوں سے بالکل علیحدہ نہیں ہیں۔

دمشق کی طرف سے فی الحال کسی بھی جمہوری اور شمولیتی سیاسی نمائندگی یا طاقت کی شراکت کے منصوبے کی پیشکش نہیں کی گئی۔ جمہوریت، سماجی انصاف اور مساوات کے خواہاں تمام شامی شہریوں کو ان رویوں سے خبردار رہنا چاہیے اور انہیں اپنی تمام طاقت سے چیلنج کرنا چاہیے۔ کرد مسئلہ بھی مکمل طور پر انہی رویوں کا حصہ ہے۔

نئی حکومت کی وحشیانہ سرمایہ دارانہ اور بڑھتی ہوئی آمرانہ پالیسیوں کا سامنا اب شامی عوام کے کچھ طبقات سے ہو رہا ہے، جو بنیادی ضروریات کی ناقابل برداشت قیمتوں میں اضافے اور حکومت کے قریبی سرمایہ دار حلقوں کو ملنے والے مراعات سے شدید متاثر ہیں۔ یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا یہ عوام اب 2011 انقلاب کے جمہوری اور سماجی مطالبات سے دوبارہ جڑ رہی ہے؟

جوزف داہر:ملک کی بڑھتی ہوئی سماجی و اقتصادی مشکلات عوامی تنقید کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ حکمرانوں نے صرف لگژری پراپرٹی پراجیکٹس میں سرمائے کے ارتکاز کی خواہش ظاہر کی ہے، لیکن بحالی یا تعمیر نو کے لیے کوئی واضح منصوبہ پیش نہیں کیا۔ عوام اس سب سے واضح طور پر مطمئن نہیں ہیں۔

کئی مظاہرے ہوئے ہیں۔ مثلاً پراپرٹی کے منصوبوں کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں، جیسا کہ کویت میں مقیم شامی بزنس مین کی ملکیتی کمپنی ال امران رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کے منصوبوں کے خلاف احتجاج ہوا ہے۔

حمص میں’’Victory Boulevard‘‘ شہری ترقیاتی منصوبے کے خلاف مظاہرے ہوئے، جن میں مظاہرین نے بینرز اٹھائے جن پر لکھا تھا کہ ’’No Boulevard, No Displacements‘‘۔یہاں تک کہ اس کا تقابل ’’ڈریم ہاؤس‘‘منصوبے سے کیا گیا، جو بشار الاسد کے تحت تیار ہوا تھا۔ اس منظم احتجاج کے بعد کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ اپنے منصوبے کا وہ حصہ منسوخ کرے گی جو متنازعہ علاقے سے گزر رہا تھا۔

تعلیم کے شعبے میں اساتذہ نے کئی ہفتوں تک ہڑتالیں کیں اور حلب اور ادلب میں سرکاری عمارات کے باہر مظاہرے کیے۔ انہوں نے نعرہ لگایا کہ ’’ہمارے مطالبات پورے ہونے تک تحریک جاری رہے گی۔‘‘وہ مستقل ملازمت، برطرف شدگان کی فوری بحالی، اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مطابق تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ مسئلہ تاحال حل نہیں ہوا، جس کی وجہ سے فروری کے آغاز میں نئی تحریکیں پھوٹ پڑیں۔

اس کے علاوہ دمشق میں منی بس ڈرائیوروں نے ہڑتال کی۔نجی کمپنی مادار ایلومینیم کے کارکنوں نے بہتر کام اور زندگی کے حالات کے لیے احتجاج کیا۔

دسمبر 2025 میں تارطوس بندرگاہ کے ملازمین نے گورنریٹ عمارت کے باہر احتجاج کیا، کیونکہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے انہیں واٹس ایپ کے ذریعے مطلع کیا گیا کہ انہیں سرحدی مقامات (جرابلس اور البوکمال) پر منتقل کیا جائے گا۔

جنوری کے آغاز میں ایک ایسا مظاہرہ بھی منعقد کیا گیا تاکہ شامی حکام اور محمد حمشو کے درمیان صلح نامے کے خلاف احتجاج کیا جا سکے۔ محمد حمشو سابقہ اسد دور کی ایک مشہور کاروباری شخصیت ہیں، جو سابق آمر کے خاندان کے انتہائی قریب ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ملیشیاؤں کی مالی معاونت کی اور جنگی معیشت سے فائدہ اٹھا کر اپنی دولت میں اضافہ کیا۔

مزید برآں بجلی کے نرخوں میں زبردست اضافے کے خلاف ملک بھر کے شہریوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا، اور جنوری میں دمشق اور حمص جیسے شہروں میں مظاہرے منعقد کیے گئے، جن میں اس فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔بجلی کے نرخوں میں یہ اضافہ ملک کی جدید تاریخ میں سب سے بڑا تھا۔ گھریلو اخراجات کی اوسط 10ہزار سے بڑھ کر 50ہزار شامی پاؤنڈ (تقریباً 0.85 سے 4 امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی، جبکہ کچھ معاملات میں یہ 6لاکھ سے زیادہ20 لاکھ پاؤنڈ تک (50 سے 169 امریکی ڈالر) جا پہنچی۔ بعض خاندانوں کے بل یہاں تک بڑھ گئے کہ وہ 50سے60 لاکھ پاؤنڈ (423 سے 508 امریکی ڈالر)تک پہنچ گئے ۔

نئے نرخوں نے اہم شعبوں، خاص طور پر مینوفیکچرنگ اور زراعت پر بھی شدید اثر ڈالا، جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگتوں کا سامنا کر رہے تھے۔

حالانکہ جولائی 2025 کے آخر میں کم از کم اجرت 68 امریکی ڈالر ماہانہ تک بڑھائی گئی، تاہم اکثریت عوام ، چاہے وہ سرکاری شعبے میں کام کرتے ہوں یا نجی شعبے میں ،اپنی ضروریات اپنی آمدنی سے پوری نہیں کر سکتے۔اخبار قاسیون کے مطابق دمشق میں پانچ افراد کے ایک خاندان کے لیے زندگی کی اوسط لاگت دسمبر 2025 کے آخر تک تقریباً 11.6 ملین شامی پاؤنڈ (983 امریکی ڈالر) تھی۔

حکومتی اہلکاروں نے بجلی کے نرخ بڑھانے کے فیصلے کی وجہ یہ بیان کی کہ ملک کے زیادہ تر حصوں میں بجلی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے، اگرچہ کچھ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں یہ فراہمی اب بھی غیر یقینی ہے۔مزید برآں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے دلائل کے مطابق حکومتی نمائندے کہتے ہیں کہ یہ اضافہ قیمت کی خرابیوں کو درست کرنے اور سروس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے، کیونکہ بجلی کے شعبے سالانہ تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر لاگت آتی ہے۔

اب عوام کو خدشہ ہے کہ بجلی کے نرخ مزید بڑھ سکتے ہیں کیونکہ حکومت نے اس شعبے کی لبرلائزیشن کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ یہ خدشات اس حقیقت سے مزید بڑھ گئے ہیں کہ حکومت نے غیر ملکی کمپنیوں کے ایک گروپ کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جس کی قیادت قطری کمپنی یو سی سی ہولڈنگ کر رہی ہے، تاکہ شام میں 8گیس اور سولر پاور اسٹیشنز تعمیر کیے جائیں، جن کی کل قیمت 7 ارب امریکی ڈالر ہے۔

اس قیمتوں میں اضافے سے یہ بڑی غیر ملکی کمپنیاں فائدہ اٹھا رہی ہیں، اور یہ سب نجکاری کے عمل کو مضبوط کرنے کے تناظر میں ہو رہا ہے۔

فروری کے آغاز میں نئی سماجی تحریکیں شروع ہوئیں۔تارطوس اور الاذقیہ کے اساتذہ نے احتجاج کیا، کیونکہ انہیں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اپنے رہائش کے مقامات سے دور منتقل کیا گیا۔الاذقیہ بندرگاہ کے ملازمین نے اپنی برطرفیوں کے خلاف احتجاج کیا۔جنوبی گورنریٹ قنیطرہ میں زرعی تحقیقاتی مرکز کے ملازمین نے 65 بغیر اطلاع برطرفیوں کے خلاف مظاہرہ کیا اور اس فیصلے کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔حلب میں بھی مظاہرہ ہوا، جسے ریڑھی بانوں نے منظم کیا، تاکہ مقامی حکام کے ان کے کاروبار پر پابندی کے فیصلے کے خلاف آواز بلند کی جائے ، یعنی سڑک پر ان کے فروخت کے مقامات کو ختم کرنے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

ملک بھر میں جمہوریت اور سماجی انصاف کے پروگرام کا دفاع کرنے کے لیے مذہبی یا نسلی تقسیم کو مسترد کرنے والی سیاسی متبادل قیادت کے وجود میں آنے کے کا موجودہ پوٹینشل کیا ہے؟ کیا ایسی سمت کی حمایت کرنے والی قوتیں نئی رژیم کی جانب سے کسی خاص قسم کے جبر و پابندی کا شکار ہو رہی ہیں؟

جوزف داہر:سماجی اور جمہوری پروگرام کی بنیاد پر قائم عوامی تحریکیں محدود ہیں، اور سب کچھ دوبارہ تعمیر کرنا ضروری ہے۔

مارچ 2011 میں شام کے اندر عوامی انقلاب کے پیچھے موجود جمہوری اور سماجی تنظیموں اور عوامی قوتوں کی اکثریت کو بے مثال تشدد کے ذریعے دبایا گیا تھا۔ سب سے پہلے سابقہ شامی رژیم کے ذریعہ ایسا کیا گیا، لیکن مختلف اسلامی انتہا پسند مسلح تنظیموں نے بھی اس میں حصہ لیا۔ اسی طرح مظاہرین کی جانب سے قائم کیے گئے متبادل مقامی سیاسی ادارے بھی نشانہ بنے، جیسے کوآرڈینیشن کمیٹیاں اور مقامی کونسلیں جو عوام کو خدمات فراہم کرتی تھیں۔

کچھ سول سوسائٹی گروپس اور نیٹ ورکس اس دوران سرگرم رہے، لیکن وہ سابقہ حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں خفیہ طور پر کام کرتے رہے تاکہ جبر سے محفوظ رہ سکیں۔ شمال مغرب میں اسد دور کے زوال سے پہلے ایک دہائی کے دوران این جی اوز کا ایک نیٹ ورک ابھرا جس کے سیاسی رجحانات بہت مختلف تھے، لیکن عام طور پر یہ ابتدائی انقلاب کی تحریک سے مختلف تھے۔ شمال مشرق میں کچھ سیاسی اور سول سوسائٹی ادارے موجود تھے، لیکن ان کی اکثریت PYD کے زیر تسلط یا تابع تھی۔ جو عناصر AANES کے لیے بہت تنقیدی تھے، انہیں دبایا گیا یا ان کی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔

ملک میں جدوجہد کے دیگرکچھ تجربات بھی سامنے آئے، اگرچہ شدت میں کم تھے۔اسد رژیم کے زوال کے بعد نئی مقامی عوامی تحریکیں اور سول سوسائٹی تنظیمیں ابھریں اورڈیویلپ ہوئیں،ان میں زیادہ تر این جی اوزتھی، لیکن ساری نہیں۔ تاہم سب کچھ ابھی کرنے کی ضرورت باقی ہے۔

آج ضرورت یہ ہے کہ ایک جمہوری اور ترقی پسند بلاک بنایا جائے جو خود کو منظم کر سکے، عوام میں جڑ پکڑے، اور واضح طور پر نئی حکومت کی مخالفت کرے۔ خاص طور پر 50 سالہ ظالمانہ آمریت اور 14 سالہ خونریز جنگ کے بعدیہ وقت لے گا ۔اس بلاک کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ آمریت، استحصال اور ہر قسم کے ظلم کے خلاف جدوجہد کو جوڑے، ساتھ ہی جمہوریت، مساوات، کرد خود ارادیت کی حمایت، اور خواتین کی آزادی کے لیے مطالبات کرے، تاکہ ملک کے استحصال زدہ اور مظلوم عوام میں یکجہتی پیدا ہو۔

ان مطالبات کو آگے بڑھانے کے لیے یہ ترقی پسند بلاک عوامی تنظیموں کی تخلیق اور تعمیر نو کو فروغ دے، جیسے ٹریڈ یونینز اور فیمن اسٹ تنظیمیں قائم کی جائیں۔ یہ کام جمہوری اور ترقی پسند قوتوں کے درمیان تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔

مزید برآں ایک اہم کام نسلی اور مذہبی تقسیموں پر قابو پانا ہوگا، تاکہ معاشرے میں اختلافات ختم ہوں اور مختلف آبادیوں کے درمیان یکجہتی پیدا ہو۔ یہ چیلنج شامی انقلاب 2011 سے موجود ہے اور اسے بتدریج پورا کرنا ضروری ہے تاکہ ملک کے محنت کش طبقات اپنی نجات کی راہ پر مستقل قدم رکھ سکیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ جمہوری اور ترقی پسند سماج کی جدوجہد موجودہ ایچ ٹی ایس حکام، ان کی حکومت یا عبوری انتظامیہ پر اعتماد کرنے سے نہیں بلکہ ایک آزاد متبادل طاقت بنانے سے جڑی ہے، جو جمہوری اور ترقی پسند نیٹ ورکس کو ملا کر عوام کی جدوجہد کی قیادت کرے۔

فی الوقت فیصلہ سازی کی طاقت مکمل طور پر عبوری صدر احمد الشرع اورایچ ٹی ایس کے ہاتھ میں ہے۔ یہ عمل علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کی اکثریت کا حمایت یافتہ ہے۔ یہ تمام قوتیں ایک مشترکہ مقصد رکھتی ہیں، یعنی شام اور خطے میں ایک قسم کی مستحکم اور طاقتور آمریت نافذ کرنا۔ اگرچہ یہ علاقائی اور سامراجی طاقتوں کے درمیان اتحاد کو معنی نہیں دیتا ، کیونکہ ہر ایک کے اپنے مفادات ہیں، جو اکثر متضاد ہیں ،لیکن وہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں غیر مستحکم صورتحال سے سب خوفزدہ ہیں۔

بہتر مستقبل کی امید مکمل طور پر شامی عوام کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ وہ عوامی سطح پر جدوجہد کو ترقی دیں اور ہم آہنگ کریں۔ فی الحال ایچ ٹی ایس حکام کی طاقت اور کنٹرول مکمل نہیں ہے، کیونکہ ان کی انسانی اور فوجی صلاحیتیں پورے ملک پر مکمل حکمرانی کے لیے کافی نہیں، اگرچہ وہ رفتہ رفتہ اپنے قبضے کو مضبوط کر رہے ہیں۔اس لیے جدوجہد اور منظم ہونے کے لیے ابھی جگہ موجود ہے، جسے استعمال کرنا ضروری ہے۔ یہ موقع موجود ہے لیکن وقت کم ہے اور محنت کش طبقے کو اسے استعمال کر کے اپنی جگہ بنانی ہوگی، اور 2011 کے انقلاب کے اصل مقاصد ، جمہوریت، سماجی انصاف اور مساوات کو تحفظ دینا ہوگا۔

(بشکریہ: ’لنکس‘۔ترجمہ : حارث قدیر)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں