روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

امریکہ بھر میں ’نو کنگز‘ احتجاج: 50 ریاستوں میں 3300 سے زائد مظاہرے

امریکہ بھر میں ’نو کنگز‘ احتجاج: 50 ریاستوں میں 3300 سے زائد مظاہرے

لاہور(جدوجہد رپورٹ)امریکہ کے درجنوں شہروں میں ہفتے کے روز ’نو کنگز‘ کے عنوان سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ یہ مظاہرے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد پہلی مرتبہ منعقد ہوئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران یہ ملک گیر احتجاجی سلسلے کی تیسری بڑی کڑی ہے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق’نو کنگز‘ کی ویب سائٹ نے بتایا ہے کہ 50 امریکی ریاستوں میں 3ہزار300 سے زائد احتجاجی پروگراموں کا اہتمام کیا گیا، جن میں نیو یارک، لاس اینجلس اور واشنگٹن ڈی سی جیسے بڑے شہروں میں بڑے اجتماعات شامل ہیں۔ ساتھ ہی روم، پیرس اور برلن میں بھی یکجہتی کے مظاہرے منعقد کیے گئے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ اس بار صرف مظاہرین کی تعداد اہم نہیں بلکہ یہ بھی کہ وہ کہاں احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً دو تہائی شرکاء بڑے شہری مراکز کی بجائے نسبتاً قدامت پسند علاقوں میں جلسوں میں شریک ہوئے۔ ’نو کنگز‘ تحریک کی شریک بانی لیا گرینبرگ کے مطابق ”اس ہفتے کے احتجاج کی سب سے بڑی بات صرف تعداد نہیں، بلکہ مقامات ہیں۔“

سب سے بڑا اجتماع منیسوٹا کے جڑواں شہروں منیاپولس اورسینٹ پال میں ہوا، جو حالیہ مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کا مرکز رہے ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں صدر ٹرمپ نے آپریشن میٹرو سرج کا آغاز کیا تھا، جس کے تحت 3ہزارسے زائد وفاقی امیگریشن اہلکاروں نے ٹون سٹیز میں چھاپے مارے۔ ان کارروائیوں پر بے تحاشا طاقت کے استعمال کے الزامات لگے۔

جنوری میں انہی چھاپوں کے دوران دو امریکی شہریوں،ایلیکس پریٹی اور رینی نکول گڈ،کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا، جس پر ملک گیر غم و غصہ پھوٹ پڑا۔ اس کے بعد درجنوں مقدمات درج کیے گئے اور فروری میں اس آپریشن کو ختم کر دیا گیا۔ ہفتے کے روز ہونے والے احتجاج میں ان دونوں ہلاکتوں کی یاد بھی منائی گئی، جہاں مقررین، موسیقاروں، مزدور رہنماؤں اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔

پروگریسیو سینیٹر برنی سینڈرز نے خطاب کیا، جبکہ امریکی راک لیجنڈ بروس اسپرنگسٹین اور معروف فوک گلوکارہ جون بائز نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اداکار رابرٹ ڈی نیرو نے ریکارڈ شدہ پیغام میں مظاہرین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ”آپ کی ہمت اور عزم نے ہم سب کو متاثر کیا ہے۔ آپ نے حکومتی غنڈوں کے حملوں کے سامنے جرات دکھائی اور متحد ہو کر انہیں پسپا کیا۔“

دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرین لنکن میموریل اور واشنگٹن مانیومنٹ کے گرد جمع ہوئے، جہاں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی علامتی پتلے اٹھا رکھے تھے۔ اس سے قبل جون اور اکتوبر میں دو بڑے ’نو کنگز‘ مارچ ہو چکے ہیں، جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی تھی۔ اکتوبر کے احتجاج کے جواب میں ٹرمپ نے ایک اے آئی جنریٹڈویڈیو جاری کی تھی جس میں وہ مظاہرین پر گندگی پھینکتے دکھائے گئے تھے، جس پر مزید تنقید شروع ہو گئی۔

امریکہ میں اس وقت نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کی انتخابی مہم جاری ہے۔ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس ٹرمپ کی گرتی مقبولیت کے باعث سیٹیں حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

سینیٹر برنی سینڈرز نے اپنے خطاب میں عوام کو متنبہ کیا کہ ”ہم اس ملک کو آمریت یا اولیگارکی میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔ امریکہ میں حکومت عوام کی ہوگی،ہم عوام کی۔“

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں