روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

امریکی پابندیوں نے کیوبا کو اندھیروں میں دھکیل دیا، لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے - روزنامہ جدوجہد

امریکی پابندیوں نے کیوبا کو اندھیروں میں دھکیل دیا، لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے - روزنامہ جدوجہد

لاہور(جدوجہد رپورٹ)کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں بدھ کی شام اس وقت بڑے پیمانے پر احتجاج پھوٹ پڑے جب شہر نے دہائیوں کے بدترین لوڈ شیڈنگ بحران کا سامنا کیا۔ امریکی پابندیوں کے باعث ایندھن کی شدید قلت نے جزیرے کو اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق سینکڑوں مشتعل شہری مضافاتی علاقوں کی سڑکوں پر نکل آئے، جگہ جگہ جلتا ہوا کچرا رکھ کر راستے بند کیے، برتن بجائے اور نعرے لگائے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے جنوری میں ایندھن فراہمی کرنے والے ممالک پر پابندیاں اور ٹیرف کی دھمکیاں دینے کے بعد سے بجلی کا بحران تیزی سے بگڑ گیا ہے۔ انہوں نے کھلے عام کہا تھا کہ وہ کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

ہوانا کے رہائشی رودولفو الونسو نے بتایا کہ وہ اس وقت احتجاج پر مجبور ہوئے جب ان کے علاقے پلایا میں 40 گھنٹے سے زائد مسلسل بجلی بند رہی۔

انہوں نے کہاکہ ’’ہمارے علاقے میں بزرگ لوگ ہیں، کئی تو بستر سے اٹھ بھی نہیں سکتے۔ ہمارا کھانا خراب ہو رہا ہے۔ ہم نے صرف تین گھنٹے کی بجلی کی درخواست کے لیے برتن بجانے شروع کیے۔ یہ سیاسی مسئلہ نہیں، زندگی کا مسئلہ ہے۔‘‘

بعض مقامات پر مظاہروں کے دوران ہی بجلی بحال ہوتی دیکھی گئی، جس پر مظاہرین خوشی سے چیخنے لگے اور پھر فوراً منتشر ہو گئے۔ ہر جگہ پولیس موجود تھی لیکن زیادہ تر خاموشی سے حالات کا جائزہ لیتی رہی۔

ایرائلڈا براوو نامی خاتون نے بتایا کہ وہ کئی دنوں سے گھر کے باہر چبوترے پر سوتی رہی ہیں، کیونکہ گرمی کے باعث گھر کے اندر رہنا ناممکن ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ’’ملک کی صورتحال تباہ کن ہے، لیکن ہمارے بچے ہیں، ہمیں کام کرنا ہے، جینا ہے۔ آرام بھی ضروری ہے، جو ہمیں مل نہیں رہا۔‘‘

کیوبا کے وزیر توانائی نے اس سے قبل اعلان کیا کہ ملک کے پاس ڈیزل اور فیول آئل بالکل ختم ہو چکا ہے اور پاور گرڈ انتہائی نازک حالت میں داخل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ’’ہمارے پاس بالکل کوئی ایندھن نہیں۔ کوئی ذخائر نہیں۔‘‘

ان کے مطابق اس ہفتے بجلی کی طویل بندش میں خطرناک اضافہ ہوا ہے، اور ہوانا کے کئی علاقوں میں روزانہ 20 سے 22 گھنٹے تک بجلی غائب رہتی ہے۔

وزیر توانائی نے کہا کہ کیوبا اب بھی ایندھن کی درآمد کے لیے مذاکرات کر رہا ہے، لیکن امریکہ ،اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث تیل اور نقل و حمل کی قیمتوں میں اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کیوبا کسی بھی ملک سے ایندھن خریدنے کے لیے تیار ہے، مگر میکسیکو اور وینزویلا،جو کبھی بڑے سپلائر تھے،نے ٹرمپ کے ٹیرف خطرات کے بعد سے کوئی سپلائی نہیں بھیجی۔

صرف ایک بڑا روسی آئل ٹینکردسمبر کے بعد سے کیوبا کے لیے تیل لایا ہے، جس نے اپریل میں عارضی ریلیف فراہم کیا۔

ایندھن کی اس کمی اور امریکہ کی جانب سے چار ماہ سے جاری فیول بلاکیڈ نے تقریباً 1 کروڑ آبادی والے جزیرے میں صحت، پانی، ٹرانسپورٹ اور دیگر سرکاری خدمات کو مفلوج کر دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ نے اس بلاکیڈ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے کیوبا کے عوام کے ترقی، خوراک، تعلیم، صحت اور صاف پانی کے بنیادی حقوق کو نقصان پہنچایا ہے۔

ماخذ: jeddojehad.com

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں