روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

ایران: بغاوت کے معاشی اسباب کا مارکسی تجزیہ

ایران: بغاوت کے معاشی اسباب کا مارکسی تجزیہ

سیاوش شہابی

جب ہم’’دی اپ رائزنگ‘‘کی بات کرتے ہیں(ایرانی کیلنڈر میں دی کا مہینہ تقریباً دسمبر کے آخر سے جنوری کے وسط تک کے عرصے پر محیط ہوتا ہے)تو یہ بہت آسان ہے کہ پورے واقعے کو صرف دو تصویروں میں سمیٹ دیا جائے، گلیاں اور جبر۔ یہ شارٹ کٹ بیک وقت دو طرح کے سامعین یعنی ریاست اور سطحی تجزیہ نگاروں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

ریاست چاہتی ہے کہ اسے محض’’بدامنی‘‘کہا جائے، جو بیرونی عناصر کے اکسانے سے پیدا ہوئی اور پھر’’سختی‘‘کے ذریعے قابو کر لی گئی۔ دوسری طرف اپوزیشن کے ایک حصے کو پسند ہے کہ اسے صرف’’عوامی غصے ‘‘کے اچانک بھڑکنے کے طور پر بیان کر دیا جائے، جو آخرکار خود ہی بجھ گیا۔تاہم اگر ہم کہانی کو اسی محدود فریم میں قید رکھیں تو ہم وہ چیزنظر انداز کر دیتے ہیں جو اصل میں اہم تھی۔

دی ایک عمل کا نتیجہ تھا۔ یہ سلسلہ خزاں کے آغاز،مہر (تقریباً ستمبر کے آخر) سے،شروع ہوا، جس میں معاشی فیصلے، سیاسی رکاوٹیں، اور کرایہ دارانہ مراعات (Rentier Privileges)اور وسائل تک رسائی پر اندرونی کشمکش شامل تھی۔ (Rentierسے مراد وہ شخص ہے جو غیر محنتانہ آمدنی،یعنی ’’کرائے‘‘پر جیتا ہے، جو سرمایہ کاری یا طاقت ور سماجی مقام کی بدولت حاصل ہوتی ہے)۔

دی تک پہنچتے پہنچتے یہ جمع شدہ تضادات پھٹنے کی حد تک پہنچ گئے، جب قیمتوں کے جھٹکوں کا ٹکراؤ اس حقیقت سے ہوا کہ لوگ زندگی کی بنیادی صلاحیت کھو چکے تھے۔ ضروریات خریدنے کی طاقت، چند ہفتے آگے کا معمولی سا منصوبہ بنانے کی صلاحیت،اور غیر معمولی دباؤ کے نیچے معمول کی عزت نفس برقرار رکھنے کی اہلیت تک کھو چکے تھے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ واقعہ صرف اس لیے’’ختم‘‘نہیں ہوا کہ جبر ہوا۔ جبر فیصلہ کن تھا، لیکن جبر کے بعد جو کچھ ہوا، وہ بھی یکساں طور پر سیاسی تھا، یعنی نظام کے مرکزثقل کی ازسرنو ترتیب اور معاشرے کو ایک کھلا پیغام۔بحران کی قیمت عام لوگوں کی جیبوں سے ادا ہوگی،نہ کہ حکمران طبقے کی دولت، ان کی چھوٹ، اور ان کی ادارہ جاتی طاقت سے۔ دی کو سمجھنے کے لیے، ضروری ہے کہ سیاسی معیشت کو تجزیے میں ثانوی نہیں مرکزی اہمیت و حیثیت دی جائے۔

کیوں ہر معاشی بحران ایران میں سیاسی بن جاتا ہے؟

ایران کی معیشت کو بغیر مشکل اصطلاحات کے بہت سادہ انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔ایک طرف وہ معاشرہ ہے جس کی آمدنی ر یال میں ہوتی ہے اور جس کے پاس اجتماعی دفاع کے موثر ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں، ان میں مزدور، اساتذہ، نرسیں، ماتحت سرکاری ملازمین، پنشنرز، اور شہری متوسط طبقے کا بڑا حصہ شامل ہے۔یہ گروہ افراط زر کے نیچے جیتے ہیں، کرنسی کی قدر گرنے کے ساتھ غریب ہوتے جاتے ہیں، اور اگر احتجاج کریں تو اکثر ’’سکیورٹائزڈ‘‘ جبر کا سامنا کرتے ہیں،یعنی ’’انٹیلی جنس کیس‘‘، قومی سلامتی کے الزامات، اور سزا دینے والی مشینری۔

دوسری طرف مراعات یافتہ نیٹ ورک ہے۔یہاں مراعات کوئی مبہم اخلاقی الزام نہیں، بلکہ ٹھوس اور قابل فہم ذرائع کا مجموعہ ہیں۔غیر ملکی کرنسی (ڈالر وغیرہ) تک ترجیحی رسائی،درآمد و برآمد کے لائسنس، سرکاری ٹھیکے، تیل اور تعمیراتی منصوبے، ٹرانسپورٹ اور کسٹمز میں اجارہ داریاں، اورسب سے اہم عدالتی و سکیورٹی تحفظ جیسے مراعات اس نیٹ ورک کو حاصل ہیں۔

اس نیٹ ورک کے اندر پابندیاں صرف’’بیرونی دباؤ‘‘نہیں ہوتیں، بلکہ وہ اندرونی موقع بھی بن سکتی ہیں۔یہ تجارت کو زیر زمین دھکیلتی ہیں، اسے کم ہاتھوں میں مرکوز کرتی ہیں، کھلی مسابقت کو قتل کرتی ہیں، اور ان لوگوں کے لیے رینٹ بڑھا دیتی ہیں جن کے پاس محفوظ چینل موجود ہوں۔ نتیجہ یہ ہے کہ خود بحران ایک ایسا آلہ بن جاتا ہے جو دولت کی ازسرنو تقسیم کے نتیجے میں بالائی طبقے کو فائدہ دیتا ہے۔

چنانچہ جب ریال گرتا ہے تو صرف ڈالر کا ریٹ نہیں بڑھتا۔ خوراک، ادویات، کرایہ، ٹرانسپورٹ اور توانائی کی قیمتیں سب اوپر چلی جاتی ہیں۔عام لوگ غریب تر ہو جاتے ہیں، جبکہ مراعات یافتہ نیٹ ورکس یا تو براہ راست منافع کماتے ہیں یا کم از کم اس جھٹکے کو دوسروں کی نسبت کہیں بہتر طریقے سے برداشت کر لیتے ہیں۔ اسی لیے ایران میں معاشی بحران تیزی سے جوازیت (legitimacy) کے بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔عوام ریاست کو محض ’’نااہل‘‘نہیں سمجھتے، بلکہ اسے جانبدار تصور کرتے ہیں،یعنی ایسا ڈھانچہ جو مراعات یافتہ طبقات کے مفادات کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور جس میں سماج کو یہ نظام برقرار رکھنے کے لیے قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

’’اقتصادی سرجری‘‘ کا مطلب آخر ہے کیا؟

ایران کی سرکاری اور تکنیکی لغت میں’’اقتصادی سرجری‘‘ایک مہذب لیبل ہے جس کے پیچھے حقیقت میں شاک تھراپی چھپی ہوتی ہے۔اب عملی طور پر اس کا مطلب کیا ہے؟اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست بیک وقت اور بہت تیزی سے کئی اقدامات کرنا چاہتی ہے:

٭توانائی کی قیمتیں بڑھانا(پیٹرول، گیس، بجلی)تاکہ سبسڈیاں کم ہوں اور بجٹ خسارہ ہلکا ہو۔

٭شرح مبادلہ کو ایک سنگل ریٹ کے قریب لانا، یا کم از کم غیر ملکی کرنسی تک ’’ترجیحی‘‘ رسائی کو دوبارہ متعین کرنا، کیونکہ کثیر سطحی کرنسی نظام بدعنوانی پیدا کرتا ہے اور ان لوگوں کے لیے بڑے رینٹ بناتا ہے جنہیں ترجیحی ریٹ دستیاب ہوں۔

٭ٹیکس وصولی بڑھانا،عموماً وہ ٹیکس جو لینا سب سے آسان ہوتے ہیں، جیسے ویلیو ایڈڈ ٹیکس،اور چھوٹے کاروباروں اور شہری متوسط طبقے پر دباؤ بڑھانا، کیونکہ اصل طاقت ور اور دولت مند طبقات پر ٹیکس لگانا سیاسی طور پر مہنگا ہوتا ہے اور اکثر عملی طور پر ناممکن۔

٭سماجی اخراجات کم کرنا، یا اسی نتیجے تک پہنچنے کا ایک اور طریقہ یہ کہ اجرتوں میں ظاہری اضافہ (nominal wage increase) افراط زر سے کم رکھا جائے،جو دراصل حقیقی اجرتیں کم کرنے کے مترادف ہے۔

یہاں تک کہ ایک ’’نارمل‘‘ ریاست میں بھی یہ پیکیج کم آمدنی والے گروہوں کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے۔تاہم ایران میں یہ ایک بنیادی ساختی مسئلے سے ٹکراتا ہے جو اس تکلیف کو سیاسی دھماکے میں تبدیل کر دیتا ہے۔مراعات اور رینٹ کے سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والے ریاست کے باہر نہیں بیٹھے،وہ اقتدار کے اندرونی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔

لہٰذا ’’سرجری‘‘ لفظی طور پر تو یہ لگتی ہے کہ رینٹ کو کاٹ کر معیشت کو صحت مند کیا جائے گا، لیکن عملی طور پر یہ اکثر کچھ اور بن جاتی ہے، یعنی سماج کے لیے کفایت شعاری ، اور کرایہ داری کے آرڈر کے لیے تسلسل۔سرجری کے ذریعے رینٹ کاٹنا چاہیے تھا، مگر وہ عموماً معاشرے کے جسم میں نشتر اتار دیتی ہے۔ یہی تضاد،یعنی اصلاحات کو رینٹ کے خاتمے کے طور پر بیان کرنا، مگر ان کا نفاذ سماج کے نچلے حصے کی قربانی کی صورت میں ہونا،دی اپ رائزنگ کا مرکز ہے۔

خزاں سے دی تک: وہ سلسلہ جو دھماکے پر ختم ہوا

خزاں کے آغاز،مہر (تقریباً ستمبر کے آخر)،سے ہی تکنیکی بیوروکریسی کے حصوں، بازار دوست معیشت دانوں، اور ایران کے فیصلہ ساز حلقوں تک میں ایک سنجیدہ بحث جمنا شروع ہوئی۔ بنیادی دعویٰ بہت سیدھا تھاکہ ایک شاک ضروری ہے۔توانائی کی قیمتیں بڑھنی چاہئیں۔ شرح مبادلہ کو سنگل ریٹ نظام کے قریب لانا چاہیے۔ معیشت کو ’’مستحکم‘‘ کرنے کے لیے ایک سخت، مرتکز مداخلت ضروری ہے۔کچھ لوگ تو ارجنٹینا کی مثالیں دے کر یہ خوش فہمی بھی بیچ رہے تھے کہ ایران اپنی معاشی بے ترتیبی کو کسی بڑی خارجہ پالیسی تبدیلی یا سیاسی کشادگی کے بغیر، صرف ایک سخت معاشی شاک دے کر ’’ٹھیک‘‘ کر سکتا ہے۔ تاہم اس منصوبے کے آغاز سے ہی ایک بے رحم سوال کھڑا تھا کہ قیمت کون ادا کرے گا؟

اگر مقصد واقعی رینٹ خوری کم کرنا ہوتا، تو مراعات یافتہ نیٹ ورکس کو کاٹنا پڑتا؛ طاقت ور اداروں کے بجٹ اور ٹھیکوں کو بلیڈکے نیچے آنا پڑتا؛تیل، کسٹمز اور کنٹریکٹر اجارہ داریوں پر شفافیت اور حقیقی نگرانی نافذ کرنا پڑتی؛یعنی یہ حکمران طبقات کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ کا تقاضا کرتا۔عملی طور پر جو نافذ ہواوہ اس کے الٹ تھا۔نظام نے تیاری کی کہ شاک کا بوجھ سماج پر گرے،رینٹ خور طبقے پر نہیں۔

اسی پس منظر میں ان آوازوں کو دباناسیاسی طور پر قابل فہم ہو جاتا ہے،جو بحران کو طبقاتی اصطلاحات میں بیان کر سکتی تھیں۔اگر عوام کو یہ سمجھنے ہی نہ دیا جائے کہ مسئلہ صرف پیٹرول کا نہیں بلکہ طاقت اور دولت کی تقسیم کا ہے، تو بحران کو ’’قومی سلامتی‘‘ کا مسئلہ بنا کر اس کا جواب دینا بہت آسان ہو جاتا ہے۔دی سے پہلے کے مہینوں میں گرفتاریوں، تنقیدی پلیٹ فارمز کی بندش، اور سماجی و خواتین کارکنان کو نشانہ بنانے کو اسی منطق میں سمجھا جا سکتا ہے کہ تشریح اور تنظیم کے میدان کو صاف کر دیا جائے، اس سے پہلے کہ طوفان آئے۔

پھر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا پہلا مرحلہ نافذ ہوا۔ریاست نے خود کو اس بات پر مبارک باد دی کہ اسے ’’آبان 1398 ‘‘ (نومبر 2019) والی سورت حال نہیں دیکھنی پڑی۔تاہم جلد ہی واضح ہو گیا کہ ایران کی بیمار معیشت ایک ہی راؤنڈ کے شاک سے ’’درست‘‘ نہیں ہو سکتی، کیونکہ مسئلہ کبھی صرف پیٹرول کی قیمت نہیں تھا۔ بنیادی محرکات ساختی تھے، یعنی دائمی بجٹ خسارے، پابندیاں، نیٹ ورکڈ کرپشن، اور مراعات پر مبنی کرایہ داری معیشت۔ چنانچہ دوسرے اور زیادہ گہرے شاک کی بات دوبارہ سامنے آئی،اور یہی وہ نکتہ تھا جہاں ایک ٹیکنوکریٹک منصوبہ سیاسی بحران میں تبدیل ہو گیا۔

کیوں؟اس لیے کہ بیک وقت دو باتیں ہو رہی تھیں۔ایک طرف، حکومتی اہلکار امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کے کم از کم ’’امکان‘‘ کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ فارن ایکسچینج مارکیٹ کو پرسکون کیا جا سکے۔صرف بات چیت کے امکان سے بھی کچھ عرصے کے لیے ریال پر نفسیاتی دباؤ کم ہو جاتا ہے۔دوسری طرف، ریاست کی جارحانہ خارجہ پالیسی اور داخلی سیاسی بندشیں جوں کی توں برقرار تھیں۔یعنی نظام چاہتا تھا کہ کفایت شعاری بڑھا دے مگر کم سے کم بھی ادارہ جاتی اصلاح قبول نہ کرے۔’’سرجری‘‘ تو ہونی تھی، مگرنشترکو صرف اور صرف سماج میں اترنے کی اجازت تھی،اقتدار کے جسم میں نہیں۔

1405 (2026-962027) کے بجٹ کی تفصیل:ایک دستاویز جس نے صاف کہا، ’’قیمت تمہیں ادا کرنی ہوگی‘‘

23 دسمبر 2025 (2 دی 1404) کو حکومت نے 1405 کا بجٹ مسودہ پیش کیا،اور بہت سی وہ باتیں جو پہلے ’’افواہ‘‘ یا ’’قیاس‘‘ کے طور پر گردش میں تھیں، اچانک سرکاری دستاویز کی شکل اختیار کر گئیں۔

قاری کو پوری وضاحت سے یہ سمجھانے کے لیے کہ معاملہ آخر کیا ہے، چند بنیادی ستون اور ان کے پیچھے کار فرما منطق کو صاف صاف بیان کرنا ضروری ہے۔

(الف) اجرتیں بمقابلہ مہنگائی:تنخواہوں میں ایک ’’بلٹ ان‘‘ کٹوتی

بجٹ میں اجرتوں اور تنخواہوں میں ظاہری اضافہ (nominal increase) اس سطح پر رکھا گیا جو ایران کی موجودہ مہنگائی کے برابر نہیں۔اگر مہنگائی 40 فیصد سے زیادہ ہے ،جبکہ اجرتوں میں اضافہ صرف 20 فیصد ہے، تو نتیجہ بہت سیدھا ہے کہ حقیقی خریداری کی قوت گرتی ہے۔

سادہ الفاظ میں،اگر اس سال آپ کی تنخواہ سے آپ 10 کلو گوشت یا 20 کلو چاول خرید سکتے تھے، تو اگلے سال،’’تنخواہ بڑھنے‘‘ کے باوجودآپ اس سے کم خرید سکیں گے۔ریاست دراصل اپنا مالیاتی خلا اس طرح بند کر رہی ہے کہ ملازمین اور اجرت پر زندگی گزارنے والوں کی حقیقی آمدنی کم کر دی جائے۔(تکنیکی طور پر، 20 فیصد ظاہری اضافہ اور 40 فیصد مہنگائی کا مطلب حقیقی معنوں میں تقریباً 14 فیصد کمی ہے:1.20 ÷ 1.40 = 0.86)

(ب) کم از کم اجرت اور لیونگ باسکٹ:محنت کشوں کی غربت بطور سرکاری پالیسی کا نتیجہ

بجٹ میں جو کم از کم اجرت تجویز کی گئی تھی وہ رئیل لیونگ کاسٹ(living cost) سے بہت کم تھی۔جب ایک مزدور گھرانے کی بنیادی ضروریات کی لیونگ باسکٹ (living basket) کی تخمینی قیمت چند کروڑ تومان تک پہنچ چکی ہو، مگر کم از کم اجرت اس حد سے کہیں نیچے ہو، تو نتیجہ کوئی راز نہیں، بلکہ اجرتی غربت ہی ہوگا۔(روزمرہ کے ایرانی طرز استعمال کے مطابق ایران میں اعدادوشمار عموماً تومان (ایک تومان 10ریال کا ہوتا ہے)میں بیان کیے جاتے ہیں،جبکہ امریکی ڈالر میں تبدیلی آزاد منڈی کے اتار چڑھاؤ پر منحصر ہوتی ہے۔)

اس کا مطلب یہ ہے کہ غربت اب صرف بے روزگاری کی حالت نہیں رہی۔یہ ایسی چیز بن گئی ہے جو مکمل طور پر ملازم ہونے کے باوجود بھی آپ کو لاحق ہو سکتی ہے،یعنی یہ نظام کی ساختی خصوصیت ہے، نہ کہ کسی فرد کی ناکامی۔

(ج) ٹیکس:آمدنی وہاں سے بڑھانا جہاں آسان ہو، نہ کہ جہاں منصفانہ ہو

بجٹ کے مسودے میں ٹیکس آمدنی میں نمایاں اضافے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔عملی طور پر ’’آسانی سے وصول‘‘ کیے جانے والے ٹیکس زیادہ تر درمیانے اور نچلے طبقات سے لیے جاتے ہیں، کیونکہ اصل طاقت ور اور دولت مند مراکز پر ٹیکس لگانا یا تو سیاسی طور پر مناسب نہیں سمجھاجاتا ہے یا پھر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو 10 فیصد سے 12 فیصد تک بڑھانا اس کی ایک واضح مثال ہے۔یہ وہ ٹیکس ہے جو روزمرہ کی کھپت پر لگتا ہے،یعنی عام آدمی کی رسیدوں پر،نہ کہ کرایہ دار طبقے کے غیر معمولی منافع پر۔اس طرح ریاست کے بحران کی مالی ذمہ داری مراعات یافتہ منافعوں پر نہیں بلکہ عوام کی روزمرہ خریداریوں پر ڈال دی جاتی ہے۔

(د) آپریٹنگ خسارہ:ریاست معمول کے ذرائع سے اپنی مالیات پوری نہیں کر سکتی

بجٹ میں سینکڑوں کھرب تومان کے آپریٹنگ خسارے کی نشاندہی بھی کی گئی۔یہ عدد بظاہر کچھ مبہم سا لگتا ہے، اس لیے اس کا مفہوم واضح کرنا ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست اپنے معمول کے اخراجات کو معمول کی آمدنی سے پورا نہیں کر سکتی۔اس خلا کو پر کرنے کے لیے اسے درج ذیل میں سے ایک یا کئی راستے اختیار کرنے ہوں گے:

٭پیسہ چھاپنا یا خسارے کو مانیٹائز کرنا،جس سے افراط زر میں اضافہ ہوتا ہے۔

٭مزید ٹیکس بڑھانا،اور سماج پر دباؤ تیز کرنا۔

٭اثاثے بیچنا یا قرض جاری کرنا،اور بوجھ کو مستقبل پر منتقل کرنا۔

٭عوامی فنڈز اور ذخائر سے رقم لینا،یعنی اجتماعی وسائل کے جو بچے کھچے ذخائر ہیں، ان کو استعمال کرنا۔

سیدھے الفاظ میں،جب خسارہ اس درجے تک پہنچ جائے، تو اقتصادی انتظام کاری سیاسی کشمکش سے الگ نہیں رہ سکتی،کیونکہ ہر ’’حل‘‘ کی قیمت کسی نہ کسی سماجی طبقے کو ادا کرنی ہوتی ہے۔

(ہ) طاقتور اداروں کے بجٹ:یا تو مکمل محفوظ، یا انتہائی معمولی طور پر متاثر

اسی دوران، فوجی، سکیورٹی اور نظریاتی اداروں سے منسلک بڑے بجٹ یا تو جوں کے توں برقرار رہے، یا پھر انہیں نسبتاً محفوظ رکھا گیا۔بجٹ کا سیاسی پیغام اپنی سب سے مختصر اور فشردہ شکل میں یہی ہے۔

(و) نچلے طبقات کے لیے کفایت شعاری؛ طاقت کے مرکز کے لیے استحکام
جب سماج اس امتزاج کو واضح تحریری شکل میں دیکھ لیتا ہے، تو مسئلہ ’’صرف پیٹرول کی قیمت‘‘ یا ’’صرف مہنگائی‘‘ نہیں رہتا۔مسئلہ زیادہ بنیادی ہو جاتا ہے۔

ریاست نے باضابطہ اعلان کر دیا ہے کہ بحران کی قیمت بازار، درمیانے طبقات، اور غریب عوام سے وصول کی جائے گی،نہ کہ اس حکومتی اور کرایہ دارنیٹ ورک سے جو دولت، استثنیٰ اور ادارہ جاتی طاقت رکھتا ہے۔

یوں بجٹ محض مالیاتی دستاویزنہیں رہتا،یہ جوازیت کی دستاویز بن جاتا ہے،یا زیادہ درست طور پر، جوازیت کے انہدام کو تیز کرنے والی دستاویزبن جاتا ہے۔

بازار، اعتماد کے نیٹ ورک، اور ہولڈنگ کمپنیاں

ایران کی جدید تاریخ کے کلاسیکی بیانیے میں بازار کو ایک ایسے ستون کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کے پاس سماجی وزن، تنظیمی صلاحیت اور تاریخی اثر و رسوخ ہے۔تاہم پچھلی دو دہائیوں کی حقیقت مختلف ہے۔روایتی بازار نے اپنی ساختی طاقت کا بڑا حصہ کھو دیا ہے، کیونکہ دیوہیکل ہولڈنگ کمپنیاں،نیم ریاستی معاشی ہیڈکوارٹرز، مالیاتی و اعتباری ادارے، بڑے کنٹریکٹر،اورپابندیوں کے دور میں ابھرنے والے نیم اجارہ دار نیٹ ورکس نے فیصلہ سازی کے مراکز کو اپنی طرف منتقل کر لیا ہے۔بازار اب بھی اشیاء کی تقسیم کے لیے ایک رگوں جیسے نظام اور بطور سماجی میدان اہمیت رکھتا ہے،لیکن اصل معاشی فیصلے کب کے کہیں اور منتقل ہو چکے ہیں۔

جب فارن ایکسچینج کا بحران شدید ہوتا ہے، تو سب سے پہلے روایتی بازار منجمد ہو جاتا ہے۔قیمتوں کا تعین ممکن نہیں رہتا، نئی کھیپ خریدنے میں نقصان کا خوف بڑھ جاتا ہے، اورموجودہ اسٹاک کو نقدی میں تبدیل کرنا غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس،ٹرسٹ(کارٹیل نما) نیٹ ورک اور بڑے مربوط معاشی گروہ زیادہ موثر طریقے سے حالات کا مقابلہ کر لیتے ہیں،جن کے پاس محفوظ راستے اور مراعات یافتہ رسائی ہوتی ہے۔

اس سے اقتصادی نظام کے اندر ایک تضاد پیدا ہوتا ہے۔روایتی معیشت کا ایک حصہ کرنسی کے انہدام سے مفلوج ہو جاتا ہے،جبکہ پابندیوں کے دور کے طاقتور نیٹ ورک یا تو عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہیں، یا کم از کم اس کا بہتر انتظام کر لیتے ہیں۔یوں بحران صرف ’’ریاست بمقابلہ سماج‘‘ نہیں ہوتا، یہ نظام کے مختلف حصوں کا اندرونی تصادم بھی ہوتا ہے کہ کون جھٹکے میں بچ جائے گا، اور کون کچلا جائے گا۔

احتجاج کا بازار سے یونیورسٹی، اور پھر چھوٹے غریب قصبوں تک پھیل جانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ ’’بازار‘‘ اچانک انقلابی ہو گیا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سماج پہلے سے تیار حالت میں تھا،اور اقتصادی نظام کے اندر پیدا ہونے والی دراڑ نے ایک راستہ فراہم کیا۔یہی وہ معیاری فرق ہے جو اہم ہے۔چنگاری روایتی معیشت کے کسی مرکزی مقام سے بھڑک سکتی ہے،مگر ایندھن پورے سماجی منظرنامے سے آتا ہے۔

بغاوت کی سماجی ترکیب اور جغرافیہ: مرکز سے حاشیے تک

دی ایک صاف، یکساں اتحاد نہیں تھا،اور یہی بات اس کی اہمیت کو بڑھاتی ہے۔ حقیقی تحریکیں شاذونادر ہی منظم اور ہموار ہوتی ہیں۔ وہ شور سے بھری، مختلف آوازوں پر مشتمل اور طبقاتی طور پر مخلوط ہوتی ہیں۔ اس موج میں کئی نمایاں ستون سامنے آئے۔

چھوٹے کاروباری اور دکاندارشامل تھے ،جو زرمبادلہ کی افراتفری، بڑھتے ہوئے ٹیکسوں اور مندی کے دباؤ تلے پس رہے تھے۔طلبہ اور نوجوان تھے، جو ’’زن، زندگی، آزادی‘‘ کی یاد اپنے ساتھ لیے ہوئے تھے اور بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی کے ساتھ عزت نفس اور آزادی کے سوالات کو جوڑ رہے تھے۔

مزدور اور تنخواہ دار طبقات،اساتذہ، نرسیں، پنشنرز اور دیگرتھے، جو کئی برسوں سے مسلسل احتجاجی سلسلوں میں جی رہے ہیں، یہ کوئی اچانک بیداری نہیں بلکہ اجرتی غربت اور ادارہ جاتی تحقیر کے جمع شدہ تجربات تھے۔

چھوٹے اور غریب شہرتھے، جو پہلے بھی بارہا دکھا چکے ہیں کہ جب وہ پھٹتے ہیں تو ریاستی جبر زیادہ عریاں، براہ راست، بے نقاب اور اکثر زیادہ مہلک ہو جاتا ہے۔

قومی اقلیتی علاقے اور دیگر محروم نواحی علاقے تھے، جہاں غیر رسمی معیشت اور دوہرا جبر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ایک طرف معاشی محرومی اور دوسری طرف ’’قومی سلامتی‘‘ کے نام پر شدید تر ریاستی کنٹرول قائم ہے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ بازار سے یونیورسٹی تک، اور وہاں سے چھوٹے شہروں تک پھیلتی ہوئی یہ لہر اس بات کا ثبوت تھی کہ دراڑیں صرف طبقاتی نہیں تھیں۔ یہ خلیجیں نسلی، علاقائی اور نسلوں کی بھی تھیں،لیکن یہ سب ایک ہی محور کے گرد گھوم رہے تھے۔ فیصلہ سازی سے عوام کی منظم بیخ کنی، اور بحران کی معاشرتی قیمتوں کو نیچے کی طرف دھکیلنے کی مستقل حکمت عملی، بالخصوص ان طبقات پر جن کے پاس انکار کی طاقت سب سے کم ہے۔

طاقت کے بلاک کے اندر دراڑیں

دی سے چند ماہ پہلے حکمران بلاک کے اندر دراڑیں مزید نمایاں ہو گئی تھیں۔ بعض ٹیکنوکریٹ اور سیاسی شخصیات نے کھل کر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ زرمبادلہ کی منڈی پر دباؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات ضروری ہیں،یعنی ریال کے لیے ایک نسبتاً مستحکم افق پیدا کرنا۔دوسری طرف، معاشی اولیگارکی کے کئی حصے اپنی مراعات قربان کرنے پر تیار نہیں تھے۔ انہوں نے حکومت کے ان مطالبات کی مزاحمت کی کہ وہ اپنا بیرون ملک سرمایہ واپس لائیں، یا اپنے منافع کو بچانے کے طریقوں میں کوئی تبدیلی کریں۔ کئی معاملات میں عدلیہ نے بھی اسی طاقت کے توازن کو مضبوط کیا،بڑے سرمایہ داروں کے ساتھ نرمی کی گئی، اور مزدوروں، مظاہرین اور ’’قومی سلامتی‘‘ کی دفعات میں پھنسے عام شہریوں کے ساتھ سختی سے نمٹا گیا۔

تاہم یہ اندرونی تنازعات آخرکار ایک ہی مقام پر آکر گھل مل جاتے ہیں، اوروہ مقام گلیاں اور سڑکیں ہیں۔جب عوامی احتجاج سڑکوں پر پھوٹ پڑتا ہے تو باہمی رقیب دھڑے ایک مشترکہ خطرے کو پہچان لیتے ہیں۔ کرایہ داری آرڈر کو کیسے چلانا ہے، اس پر اختلافات برقرار رہ سکتے ہیں، لیکن جبر ایک مشترکہ منصوبہ بن جاتا ہے۔دوسرے لفظوں میں کرائے کے وسائل کی تقسیم پر اختلاف رہتا ہے، لیکن جبرکے استعمال پر اتحاد مضبوط ہو جاتا ہے۔

بیرونی کھلاڑی اور جلاوطن دایاں بازو

بحران کے لمحات میں بیرونی طاقتیں ناگزیر طور پر حرکت میں آتی ہیں۔ غیر ملکی ریاستیں ہمیشہ اپنے مفادات کا تعاقب کرتی ہیں،ایران کے عوام کی آزادی کا نہیں۔ دوسری طرف جلاوطن دایاں بازو اکثر ایک مرکزی خیال کے گرد گھومتا ہے۔ یہ خیال بیرونی راستے یعنی سودوں، لابنگ اور بیرونی دباؤ پر انحصار کے ذریعے سے اقتدار حاصل کرنے کے گرد گھومتا ہے۔ اس طریقہ کار میں دو بڑے خطرے پوشیدہ ہیں:

1۔ یہ ریاست کو ایک بیانیئے کا ہتھیار دے دیتا ہے۔حکومت احتجاج کو’’غیر ملکی سازش‘‘قرار دے سکتی ہے، اختلاف رائے کو بیرونی سازش کے طور پر پیش کر سکتی ہے، اور اسی فریم کے ذریعے جبر کو جائز ٹھہرا سکتی ہے۔

2۔ یہ معاشرے کو داخلی تنظیم سازی سے ہٹا کر نجات دہندہ کے خیالی تصور کی طرف دھکیل دیتا ہے،یعنی یہ توقع کہ سیاسی تبدیلی ’’کسی مسیحا‘‘ کے ذریعے آئے گی،نہ کہ نیچے سے تعمیر شدہ عوامی طاقت کے ذریعے۔

دی نے دکھا دیا کہ یہ توقع کس قدر تباہ کن ہو سکتی ہے۔ یہ تحریک کو تقسیم کرتی ہے، حکمت عملی کو گروہی تماشے میں بدل دیتی ہے، اور جدوجہد کا مرکز ٹھوس مطالبات، یعنی اجرتوں، منظم ہونے کے حق، خواتین کی آزادی، اورسماجی انصاف سے ہٹا کر علامتی جنگوں کی طرف لے جاتی ہے۔ایسی جنگیں زیادہ آسانی سے ہیر پھیر کی جا سکتی ہیں، زیادہ آسانی سے ہتھیائی جا سکتی ہیں، اور خود بغاوت کے خلاف ہتھیار بنائی جا سکتی ہیں۔

انقلاب بمقابلہ بوناپارٹ ازم

یہاں بوناپارٹ ازم کا تصور تجزیاتی طور پر مفید بن جاتا ہے،لیکن صرف اس صورت میں جب اسے سادہ اور قابل فہم زبان میں بیان کیا جائے۔مارکسی روایت میں، بوناپارٹ ازم اس حالت کو کہتے ہیں جب معاشرتی تضادات اور سیاسی بحران اس قدر شدید ہو جائیں کہ ریاست،خصوصاً اس کا عسکری و انتظامی ڈھانچہ،خود کو ’’طبقات سے بالا ایک ثالث‘‘ کے طور پر پیش کرے۔ریاست دعویٰ کرتی ہے کہ معاشرہ بکھر رہا ہے، طاقتیں تباہ کن تصادم میں بندھی ہوئی ہیں، اور اس لیے’’نظم‘‘کی بحالی کے لیے ایک مرتکز اختیار ضروری ہے۔تاہم یہ ثالثی عملی طور پر کبھی غیر جانبدار نہیں ہوتی۔اس کا اصل کام ملکیتی تعلقات اور بالادست طبقات کے مفادات کی حفاظت ہی ہوتاہے،چاہے حکومت کی ظاہری شکل بدل جائے۔ اگر اس تصور کو آج کے ایران کی زبان میں منتقل کریں، تو بوناپارٹ ازم کچھ یوں نظر آتا ہے :

پہلے مرحلے میں بحران کو بڑے پیمانے پر تشدد اور مواصلاتی بندشوں کے ذریعے قابو کیا جاتا ہے۔قتل و غارت کی جاتی ہے، گرفتاریاں کی جاتی ہیں، اور معاشرے کے دستاویزی، تنظیمی اور اجتماعی عمل کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو دانستہ طور پر ختم کیا جاتا ہے۔پھر جب سٹریٹ پاور پیچھے دھکیلی جاتی ہے، نظام از سر نو سیاسی ترتیب کی طرف مڑتا ہے اور ایک ایسی شخصیت،یا ڈھانچے کو اوپر لاتا ہے جسے ’’مسیحا‘‘ کے طور پر بیچا جاتا ہے۔اس کا مقصد معاشرے کو سماجی انقلاب کے راستے سے دور کرنا ہوتا ہے۔

یہ ’’مسیحا‘‘ مختلف بھیس اپنا سکتا ہے۔ایک ٹیکنوکریٹ کی صورت میں،جسے ’’معاشی اصلاحات‘‘ کا نام دیا جاتا ہے؛ایک فوجی مضبوط آدمی کی شکل میں،جسے ’’قومی سلامتی‘‘ کہا جاتا ہے؛یا ایک بادشاہت پسند فریم میں،جسے ’’تاریخی نجات‘‘ کا لیبل دیا جاتا ہے۔ ان سب کا مشترکہ پہلو ایک ہی ہے۔ان میں سے کوئی بھی راستہ کرایہ داری آرڈر کی حقیقی بنیادوں، یعنی جائیداد، مراعات، اور استثنائی نیٹ ورکس کو نہیں چھیڑتا۔یہ صرف انتظامی انداز بدلتے ہیں، اور ایک بار پھر قیمت عوام پر ڈال دیتے ہیں۔

اگر دی کو اس فریم سے پڑھا جائے، تو ’’قومی سلامتی‘‘ کے نام پر جبر محض ایک فوری ردعمل نہیں ہے۔یہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، یعنی معاشرے کو کمزور کرنا،انقلابی تبدیلی کی ممکنہ راہ کو معطل کرنا،اور اوپر سے مسلط کردہ نظم کے لیے زمین تیار کرنا۔ ایک ایسا نظم جو حکمران نیٹ ورک کو تو مستحکم کرے، مگر ایران کو ساختی طور پر مزید کمزور اور اس کی سماجی اکثریت کو زیادہ غیر محفوظ چھوڑ دے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں