سمیہ رستم پور
ایران اس وقت غیر معمولی شدت اور تشدد کے ایک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ فلسطین میں جاری نسل کشی اور لبنان پر ہونے والی وسیع تباہی کے بعدامریکہ اور اسرائیل ایران میں بھی زندگیوں، جسموں، سرزمینوں اور ضروری بنیادی ڈھانچوں کی تباہی میں براہ راست شریک ہیں۔ وہ نہ صرف آئل ریفائنریوں اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ صحت کی سہولیات، پانی کے وسائل، توانائی کے نظام، تیل کے تنصیبات، اسکولوں اور دیگر شہری مقامات کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ میناب میں ایک گرلز اسکول کو تباہ کر دیا گیا اور 168 سے زیادہ لوگ مارے گئے، جن میں بلوچ بچے بھی شامل تھے۔
اس جنگ نے سماجی تولید کی بنیادی شرائط کو درہم برہم کر دیا ہے، محنت کش طبقات کی کمزوریوں کو مزید گہرا کر دیا ہے، اور سماجی خودمختاری کی مادی بنیادوں کو تباہ کیا ہے۔ اس نے نیچے سے چلنے والی جدوجہد کو کئی قدم پیچھے دھکیل دیا ہے اور ریاستی یا معاشرتی سطح کے نسلی قوم پرستانہ رجحانات کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ایک ہی ماہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس وعدے کہ وہ’’ایران کو دوبارہ عظیم بنائیں گے‘‘سے لے کر اس دھمکی تک کہ ملک کو’’پتھر کے زمانے‘‘ میں واپس دھکیل دیا جائے گا ، اس تیز رفتار تبدیلی نے اس امپیریل منطق کے تمام ابہامات ختم کر دیے۔ یہ وہی منطق ہے جو 1991 کی خلیجی جنگ میں عراق کے خلاف استعمال ہوئی تھی۔
تاہم یہ بیرونی سامراجی تشدد اس داخلی بحران سے الگ نہیں سمجھا جا سکتا جس کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران اپنی کھوئی ہوئی اتھارٹی کی بحالی کی کوشش کر رہی ہے۔ نوجوان کرد خاتون ژینا مہسا امینی کے ریاستی قتل کے بعد اٹھنے والی 2022 کی بغاوت کے بعد سے اسلامی جمہوریہ ہر جنگ اور ہر جیو پولیٹیکل بحران کو اس موقع کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ وہ اپنی ساکھ اور کھویا ہوا رعب دوبارہ حاصل کر سکے۔
سامراجی حملہ اور رژیم کی جوازیت کا تضاد
7 اکتوبر 2023 کے بعد فلسطینیوں کے خلاف صیہونی نوآبادکارطاقت کی نسل کش جنگ، اور پھر جون 2025 میں ایران پر امریکہ واسرائیل کے پہلے حملے نے اسلامی جمہوریہ کو اپنی بازگشت بہتر بنانے کا ایک ابتدائی فریم مہیا کیا۔ تاہم جنوری 2026 کے قتل عام نے تہران کے لیے داخلی اور بین الاقوامی سطحی پر جوازیت کا شدید بحران دوبارہ کھول دیا۔ اس دوران صرف دو دنوں میں ہزاروں ایرانی مظاہرین کو معاشی بحران اور سیاسی آمریت کے خلاف احتجاج کرنے پر تھیوکریٹک ریاست نے قتل کر دیا۔
جب ایرانی اب بھی سوگ میں تھے، اور جب سیکڑوں خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں تک نہ وصول کر سکے تھے، عین اس وقت 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایک نیا سامراجی حملہ کر دیا، جو پہلے حملوں سے بھی زیادہ ہولناک تھا۔متناقض طور پر ان حملوں نے اب تک اسلامی جمہوریہ کو وہ ساکھ دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دی ہے جو اس نے گزشتہ ماہ کے خونریز جبر کے ذریعے کھو دی تھی۔
قتل عام اور جنگ کے یہ دونوں واقعات نہ تو الگ الگ سلسلے ہیں اور نہ ہی دو مختلف اقسام کے تشدد (ایک جابرانہ، دوسرا بظاہر آزادی بخش)، بلکہ یہ ایک ہی رد انقلابی عمل کے مسلسل، اگرچہ غیر متناسب مراحل ہیں۔ ’’بیرونی‘‘ جنگ داخلی ردانقلاب کو طول دیتی ہے اور اسے گہرا کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ایرانی ریاست داخلی اتحاد کو سخت کرنے اور عوامی مزاحمت کو پھر سے دبانے کے قابل ہو جاتی ہے۔
اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران سامراجی اور نوآبادیاتی جارحیت کا نشانہ نہیں ہے ۔ وہ ہے، اور مسلسل ہے، اور یہ حملے بغیر کسی جوابدہی کے کیے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس حملے کو اس کے گہرے سیاسی کردار کے تناظر میں پڑھا جائے:اول، یہ ایک سفاک منصوبہ ہے جس کا مقصد جھوٹے بہانوں کے تحت شہری زندگیوں، جسموں، بنیادی ڈھانچوں، اور سرزمینوں کی تباہی ہے ، اور یہ عمل غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں جاری نسل کشی کے تسلسل میں ہے۔دوم، یہ اسلامی جمہوریہ کو اپنی ازسرنو تعمیر کے لیے نئے وسائل فراہم کرتا ہے۔
کیمپ ازم کیا ہے؟
اسرائیلی و امریکی جارحیت ایران کی عسکریت، ریاستی جبر، اور نچلے طبقے کی بغاوتوں کو کچلنے کے عمل کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ایک مہلک سیاسی قطبیت کو بھی گہرا کر رہی ہے۔ ایک طرف اپوزیشن کا ایک حصہ، خاص طور پر شاہ پرست، محض تھیوکریٹک ریاست سے اپنی دشمنی کے نام پر سامراجی بمباریوں کو خوش آمدید کہہ رہا ہے۔ دوسری طرف دیگر سیاسی قوتیں جنگ کی مخالفت اور اینٹی امپیریل ازم کے نام پر اسلامی جمہوریہ کے مدار میں دوبارہ کھنچ گئی ہیں۔اسرائیل، امریکہ اور نسل کشے کے حامی پہلے رجحان کی رجعتی نوعیت کو بائیں بازو اور ترقی پسند قوتوں کے درمیان ایک وسیع تر اتفاقِ رائے کی بنیاد پر فوراً رد کر دیا جاتا ہے، لیکن دوسرا رجحان بدقسمتی سے بائیں بازو کے کچھ حصوں پر اثرانداز ہو چکا ہے اور اسی قدر اہمیت رکھتا ہے۔
یہی وہ بند گلی ہے جس میں کیمپ ازم کا سوال خوف ناک ہنگامی صورت میں دوبارہ سامنے آتا ہے۔کیمپ ازم سے میری مراد وہ مختلف سیاسی رجحانات ہیں جو کسی بھی قوت یا ریاست کی حمایت صرف اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ وہ مغربی سامراج کی مخالفت کرتی ہے ، خواہ وہ قوت رجعتی ہو یا ترقی پسند۔
کیمپ ازم دراصل سرد جنگ کی میراث ہے۔ خود کو اینٹی امپیریل اسٹ کہنے والے اور نام نہادمزاحمتی کیمپ کے حمایتی اس نظریے کو یوں پیش کرتے ہیں کہ دنیا صرف دو’’کیمپوں‘‘میں بٹی ہے:امپیریل ازم( امریکہ، نیٹو، اسرائیل اور ان کے اتحادی) بمقابلہ ’’مزاحمت ‘‘( ایران، روس، چین، بشارالاسد کا شام، وغیرہ)۔ان ریاستوں کے خلاف اٹھنے والی جمہوری اور انقلابی تحریکیں ( جیسے روجاوا) فوراً مشکوک قرار دے دی جاتی ہیں یا دشمن کی’’ٹروجن ہارس‘‘کہہ کر مسترد کر دی جاتی ہیں۔آمروں کے خلاف ہر تنقید کو فوراً’’امپیریل ازم کی سازش‘‘قرار دے کر غیر معتبر بنا دیا جاتا ہے۔
عوامی تحریکیں یاتو صرف’’مغربی ایجنڈا‘‘کہہ کر رد کر دی جاتی ہیں، یا پھر صرف اس وقت استعمال کی جاتی ہیں جب وہ کسی مخصوص کیمپ کے فائدے میں ہوں۔’’دشمن کا دشمن دوست‘‘کی منطق ایک بہانہ بن جاتی ہے۔ اندرونی جبر اور اس کے خلاف اٹھنے والے احتجاج کو محض ایک بڑے جیو پولیٹیکل کھیل کا حصہ قرار دے کر نظرانداز کیا جاتا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بین الاقوامی، باہمی یکجہتی مفلوج ہو جاتی ہے، جو مظلوم طبقات کے مشترکہ تجربات اور مقدروں پر قائم ہونی چاہیے ۔ بیک وقت اینٹی اتھاریٹیرین اور اینٹی امپیریل اسٹ رہنا ناممکن بنا دیا جاتا ہے۔’’سامراجی استحصال‘‘سے بچانے کے نام پرکیمپ اسٹ سوچ ایک ایسے’’محتاط‘‘بائیں بازو کو فوقیت دیتی ہے جو ساختی طور پر حاشیے پر دھکیل دی جاتی ہے اور اکثر دائمی شکست کے بھنور میں پھنسی رہتی ہے۔
یہ’’شناخت پر مبنی اینٹی امپیریل ازم‘‘مغرب مخالف ریاستوں سے وفاداری کو عالمی سرمایہ داری کے تجزیے سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔یوں ریاستی جبر، پدرشاہی، ہوموفوبیا، اور داخلی نوآبادیات کو’’مزاحمت‘‘کے نام پر جائز قرار دے دیا جاتا ہے۔مغربی سامراج کے خلاف جدوجہد کو مطلق اولیت دے دی جاتی ہے، اور ان’’اینٹی امپیریل اسٹ‘‘ریاستوں کے اندر مارے جانے والے لوگ’’ضمنی نقصان‘‘(collateral damage) بن جاتے ہیں۔
آئرش مضمون نگار فریڈ ہالیڈے نے اس طرزفکر کو’’احمقوں کا اینٹی امپیریل ازم‘‘کہا تھا۔امریکہ دشمنی کے نام پر یہ طرز فکر عملی طور پر ایک ایسی تھیوکریٹک ریاست کو مضبوط کرتا ہے جو بائیں بازو، قومی اقلیتوں، خواتین، اور عوامی کونسلوں کو کچلتی ہے۔اس تصور کو شامی کارکن لیلیٰ الشامی نے اپنی کتاب ’برننگ کنٹری‘(Burning Country)میں عرب انقلابات کے دوران 2010میں بشار الاسد کے حمایتیوں پر تنقید کے لیے استعمال کیا۔1956 میں ہنگری کی بغاوت کو سوویت یونین کے ہاتھوں کچلے جانے سے لے کر آج تک، یہ’’احمقوں کا اینٹی امپیریل ازم‘‘ہمیشہ ریاستی تشدد اور عوامی بغاوتوں کی شکست کو چھپاتا آیا ہے۔
یہ رجحان مغربی سفید فام بائیں بازو کے کچھ حصوں میں بھی ملتا ہے، اور ساتھ ہی بعض ڈی کلونیل فکری رجحانات میں بھی ملتا ہے۔یہ اسی کا حصہ ہے جسے آج کل’’اینٹی امپیریل ازم واشنگ‘‘کہا جا سکتا ہے، یعنی ایسا اینٹی امپیریل اسٹ بیانیہ جو ریاستی آمرانہ تشدد، فاشسٹ رویوں، اور اندرونی نوآبادیات کو چھپانے یا جواز دینے کے لیے استعمال ہو۔یہ حلقے مغربی طاقتوں کے کلونیل ازم کی تو مذمت کرتے ہیں، لیکن اپنی ریاستوں کے اندر ہونے والی’’انٹرنل کلونیل ازم‘‘کو نظر انداز کرتے ہیں، بلکہ اکثر اس میں شریک بھی ہو جاتے ہیں، جیسے ایران میں کردوں اور بلوچوں کے ساتھ ریاستی سلوک کی صورت میں کیا جاتا ہے۔
اس عمل کے ساتھ اکثر’’نسلی گیس لائٹنگ‘‘بھی شامل ہوتا ہے۔’’گیس لائٹنگ‘‘اصل میں اس عمل کو کہا گیا جس میں عورتوں کو ان کے اپنے ہی احساسات، یادداشت اور ذہنی حالت پر شک میں مبتلا کر کے قابو کیا جاتا تھا۔ بعد میں یہ اصطلاح نفسیات اور پھر فیمن اسٹ تنقید میں ایک بنیادی تصور بن گئی، اور آج یہ ہر اس دھوکے، انکار، یا ذہنی الجھن پیدا کرنے کی حکمت عملی کے لیے استعمال ہوتی ہے جس سے کسی مظلوم گروہ کو اس کی اپنی حقیقت پر شک ہو جائے۔وہ برادریاں جنہیں تاریخی طور پر ایک طرف سامراجی تسلط اور دوسری طرف داخلی جبر دونوں کا سامنا رہا ہے، انہیں نسبتاً مراعات یافتہ پوزیشنوں سے یہ’’سکھایا‘‘جاتا ہے کہ سامراجیت اور مزاحمت کی’’درست‘‘تعبیر کیا ہے۔ یہ متکبرانہ رویہ صرف نوآبادیاتی علمی درجہ بندیوں کو دوبارہ پیدا نہیں کرتا، بلکہ ان لوگوں کے خیالات، زندہ تجربات اور سیاسی ایجنسی کو بھی غیر موثر اور غیر معتبر بنا دیتا ہے جو پیچیدہ اور باہم جڑے ہوئے جبر کے نظاموں کا شکار رہے ہیں۔
اس کے نتائج انتہائی حقیقی اور ٹھوس ہیں۔ ایران کی اسلامی جمہوریہ اس ڈی کولونیل بیانیے کو استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو’’دہشت گرد‘‘قرار دیتی ہے اور اپنے جابرانہ ریاستی ڈھانچے کو مزید سخت کرتی ہے۔ یہی منطق ایران میں افغان مہاجرین کے خلاف امتیازی پالیسیوں کو بھی جواز فراہم کرتی ہے۔ انہیں ایک اندرونی خطرے کے طور پر پیش کر کے ریاست ان پر ان مسائل کی ذمہ داری ڈال دیتی ہے جو دراصل اس کے اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی نظام سے پیدا ہوتے ہیں۔
کیمپ ازم کی رد انقلابی منطق
غزہ میں نسل کشی اور جون 2025 میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف برپا کی گئی جنگ کے بعد کیمپ ازم نے ایک بار پھر مغربی دنیا، لاطینی امریکہ، افریقہ اور عرب دنیا کے ریڈیکل بائیں بازو کے ایک حصے پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔یہ نقطہ نظر ایرانی سیاست کو صرف ایک دوئی تک محدود کر دیتا ہے، یعنی ’’ایران‘‘بمقابلہ’’امریکہ اسرائیل محور‘‘۔2017 سے خون ریز انداز میں کچلی جانے والی عوامی بغاوتوں پر یا تو خاموشی طاری کر دی جاتی ہے یا انہیں ریاستی پروپیگنڈے کے ذریعے ’’موساد کی دراندازی، ’’کلر ریولوشن‘‘ اور ’’مغربی سازش‘‘ وغیرہ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔یہ فریم ورک سماجی تحریکوں کو ایک سکیورٹی خطرہ بنا دیتا ہے اور’’ہنگامی حالت‘‘یا’’غیر مناسب وقت‘‘کے نام پر جبر کو جائز قرار دیتا ہے، یہ جبر پھر سڑکوں پر تشدد سے لے کر سرکاری سزائے موت تک جاتا ہے۔بغاوت کرنے والے عوام کواصل دشمن قرار دے کرکیمپ ازم دراصل ایک گہری ردانقلابی پالیسی اختیار کر لیتا ہے۔
مستقل جنگی صورتحال کے پھیلتے ہوئے دور میں، جدوجہد کرنے والے لوگوں کو بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں، زیادہ اہم ہنگامی ضرورت کے پیش نظراپنی مزاحمت موخر کریں ۔یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جو ریاستی جبر کو تسلیم کرتے ہیں، اکثرحکمت عملی کے نام پر آزادی کی جدوجہد کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔مرتضیٰ سمن پور اور امیر کیان پور نے اسے’’تذویراتی کیمپ ازم‘‘کہا ہے۔فیمن اسٹ جدوجہد بہت پہلے سے اسی منطق کا شکار رہی ہے۔ انہیں ہمیشہ کہا گیاکہ پہلے طبقاتی جدوجہد ہو جائے، بعد میں عورتوں کے حقوق دیکھیں گے،اور اب کہا جاتا ہے کہ پہلے اینٹی امپیریل ازم، پھر خواتین کے حقوق۔تاہم فیمن اسٹ سیاست نے اس موخر کردہ وعدے کے سچ کو واضح کر دیا ہے۔یہ ’’بعد میں‘‘اکثر کبھی نہیں آتا۔کوئی بھی جدوجہد’’تاریخ کی انتظار گاہ‘‘میں نہیں پھینکی جانی چاہیے، نہ ہی آزادی کو ایک سیدھا سفر سمجھ کر اس پر کسی اورزیادہ اہم جدوجہد کو فوقیت دی جانی چاہیے۔
حالیہ جیوپولیٹیکل تبدیلیوں نے کیمپ ازم کو مزید جگہ دے دی ہے۔جون 2025 کی جنگ، جسے اکثر’’12روزہ جنگ‘‘کہا جاتا ہے، کے دوران اسرائیلی حملوں کے تجربے نے ایران کے اندر جنگ مخالف رجحانات کو مضبوط کیا۔تاہم، جنوری 2026 میں ریاست کے ہاتھوں کیے گئے قتل عام کے بعد معاشرے کا ایک حصہ تھکن اور بند گلی کا شکار ہو کر بیرونی مداخلت کو حکومت کے خاتمے کا واحد راستہ سمجھنے لگاہے،کیونکہ اندرونی راستے آزمائے جا چکے تھے مگر ریاست کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکی۔
ایک معروف ڈاکٹر نے بتایا کہ’’کم از کم ایک ہزار‘‘ شدید زخمی مظاہرین،جن کی آنکھیں نشانہ بنائی گئی تھیں،جنوری کے احتجاج کے بعد صرف تہران کے ایک ہی ہسپتال میں پہنچے، جنہیں فوری علاج کی ضرورت تھی تاکہ ان کی بینائی بچائی جا سکے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں کیمپ ازم کی منطق بکھر جاتی ہے۔بیرونی جنگ کی مذمت کرتے ہوئے اندرونی ریاستی تشدد پر خاموش رہنا کوئی اصولی جنگ مخالف موقف نہیں ،بلکہ نسبیت پسندی ہے جو مختلف ریاستی نظاموں اور تشدد کی نوعیت کے اہم فرق کو مٹا دیتی ہے۔یہ ایرانی استثنائیت کا دعویٰ نہیں ہے ،جیسا کہ ٹرمپ نواز یا شاہ پرست حلقے فوجی حملوں کو جواز دینے کے لیے کرتے ہیں۔
یہ دراصل اس بات پر اصرار ہے کہ ایک مذہبی آمریت ، جس میں ایک غیر منتخب رہنما 9 کروڑ لوگوں پر سماجی دہشت، سزائے موت، تشدد، سیاسی قید، ڈیجیٹل تنہائی، عورت دشمن مذہبی قوانین، اور قومی اقلیتوں اور افغان مہاجرین کے خلاف نسلی نوآبادیاتی پالیسیوں کے ذریعے ماورائے قانون طاقت استعمال کرتا ہے۔ اسے ان ریاستوں کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا جہاں شہری اور قانونی آزادیوں کی، خواہ وہ محدود ہی کیوں نہ ہوں، پھر بھی کچھ نہ کچھ موجودگی ہوتی ہے، اور جہاں تشدد ایک ساختی طور پر مختلف پیمانے اور شکل میں کام کرتا ہے۔
بیرونی جنگ یا سامراجی مداخلت کی مذمت کرنا لیکن بیک وقت ایران میں ہونے والے ان داخلی مظالم، یعنی اپنی ہی آبادی کے قتل عام، کی واضح مذمت نہ کرنا،جیسا کہ کیمپ اسٹ کرتے ہیں،ایران کی اندرونی سیاسی و سماجی حرکیات کی ایک مکمل غلط تفہیم ہے، اور اس کا مطلب درحقیقت اس ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہے جو اپنی ہی عوام کو قتل کر رہی ہے۔ریاستیں لوگوں کو تقسیم کر کے اور بغاوتوں کو کچل کر حکومت کرتی ہیں۔ کیمپ اسٹ اس منطق کی مزاحمت نہیں کرتے، وہ اسی کی پیروی کرتے ہیں۔ ریاستوں اور ان کی جیوپولیٹکل صف بندیوں کو اپنی بنیادی حوالہ جاتی بنیاد بنا کر وہ اوپر سے مسلط کردہ تقسیموں کو ہی دوبارہ پیدا کرتے اور جائز قرار دیتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں وہ ان یکجہتیوں کی جگہ ریاستی کیمپوں سے وفاداری کو دے دیتے ہیں جو نیچے سے ابھرنے والی عوامی جدوجہد میں تشکیل پاتی ہیں۔
عالمی جنوب کی یادداشتوں سے غداری
1979 کے حقیقی انقلاب کے خلاف اسلامی ردانقلاب کے بعد قومی اور بین الاقوامی بائیں بازو کے ایک حصے نے طبقاتی اور صنفی تجزیے کو اپنے یک طرفہ اینٹی امپیریل ازم کی تعبیر کے تابع کر دیا۔ مثال کے طور پر جبری حجاب کے خلاف خواتین کے احتجاجوں کو حاشیے پر دھکیل دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مذہبی و پدرشاہی نظام مضبوط ہوا بلکہ ان احتجاجوں کو ’’ثقافتی صداقت‘‘ کی علامت، مغرب سے امتیازکا نشان، اور قومی خودمختاری کا پیمانہ بنا کر پیش کیا گیا۔یوں ایک غالب بیانیہ تشکیل پایا جس میں ایرانی انقلاب کو محض اینٹی ویسٹرنزم کے چشمے سے دیکھا گیا، اور اس عمل میں سیکولر، فیمن اسٹ، کوئیر، کرد، سوشلسٹ اور دیگر ترقی پسند قوتوں کو عملاً مٹا دیا گیا۔
یہ نظریہ ساختی طور پر اس قابل ہی نہیں کہ اینٹی ویسٹرن ریاستوں کے اندر ابھرنے والی حقیقی عوامی جدوجہد کی جوازیت کو تسلیم کر سکے۔ غیر مغربی عوام کو صرف مغربی سامراجیت کے مظلوم کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔ ان کے زندہ تجربات، اجتماعی یادداشتیں اور سیاسی خودمختاری، خصوصاً خواتین/کوئیر برادریوں، نسلی اقلیتوں اور زیریں طبقات کی،مسلسل غیر اہم یا مغربی ایجادات قرار دے کر مسترد کر دی جاتی ہیں۔
1991 میں سوویت یونین کے زوال کے بعد یہی رجحان سٹیٹ اسٹ تھرڈ ورلڈ ازم(statist Third Worldism) کی شکل میں جاری رہا۔عوام کی وفاداریاں ’’اینٹی امریکن‘‘ ریاستوں کی طرف منتقل ہو گئیں، اور خواتین، کوئیر افراد، اور اقلیتوں کے حقوق کو ’’اینٹی امپیریل اسٹ اتحاد‘‘ کے نام پر قربان کر دیا گیا۔یہ نقطہ نظر ایک ہی وقت میں یورو سینٹرک بھی ہے اور اورینٹل اسٹ بھی، کیونکہ یہ غیر مغربی لوگوں کی سیاسی حیثیت اور ان کے اصل مطالبات کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔تشدد صرف اس وقت اصل تشدد سمجھا جاتا ہے جب وہ امریکی بلاک سے آئے۔یہ امکان ہی مسترد کر دیا جاتا ہے کہ عالمی جنوب کی آبادی خود بھی جمہوری حقوق اور آزادیوں کے لیے جدوجہد کر سکتی ہے۔
یوں ’’اینٹی کلونیل اتحاد‘‘ کو قوم پرستانہ اتھاریٹیرین ازم میں بدل دیا جاتا ہے۔ یوں ہر چیز کو مستقل ’’ہنگامی حالت‘‘ کی منطق کے تحت جواز مل جاتا ہے، جہاں ریاستی طاقت، سلامتی اور جیوپولیٹیکل مفاد کو اولین حیثیت حاصل ہو جاتی ہے ۔(مثال کے طور پر:’’ہم شام میں لڑتے ہیں تاکہ ہمیں تہران میں نہ لڑنا پڑے‘‘)۔
کیمپ ازم سامراج مخالف یادداشت کو ایک ایسے آلے میں بدل دیتا ہے جو آمرانہ پوسٹ کلونیل ریاستوں کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ریاست کو مزاحمت کے مرکزی کردار کے طور پر پیش کرتا ہے اور عوام سے ان کی نہ صرف قانونی و اخلاقی حیثیت بلکہ ان کی سیاسی خودمختاری بھی چھین لیتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے یہ ان محکوم یادوں کے ساتھ غداری کرتا ہے جو اکثر خود ریاست کے خلاف جدوجہد کے اندر سے تشکیل پاتی ہیں۔
ایک متضاد صورت حال میں ایران جیسی ریاستوں کو’’عالمی سرمایہ داری سے آزادریاستوں‘‘کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ وہ درحقیقت اندرونی استحصال اور ملٹری ازم کے ایسے نظام ہیں جو عالمی سرمایہ داری کے میدان میں خود کو دوسرے ریاستی ڈھانچوں کے ساتھ جوڑنے اور ان سے مقابلہ کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔
اسی منطق کا سب سے واضح تشدد اس وقت سامنے آتا ہے جب اس کا تعلق ایران کے نوآبادیاتی حاشیوں سے جوڑا جاتا ہے۔ کیمپ ازم نہ صرف ایرانی اپوزیشن کی کثرت کو مٹا دیتا ہے، بلکہ خودمختاری اور سرحدوں کے ایک نیم نوآبادیاتی اور سکیورٹیائزڈ تصور پر مبنی ہونے کی وجہ سے یہ اندرونی درجہ بندیوں کو بھی دوبارہ پیدا کرتا ہے۔ کردوں اور دیگر غیر فارسی نسلی جدوجہدوں کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے، یا بعض اوقات انہیں غیر معتبر قرار دے دیتا ہے۔اس حوالے سے 1980 کی دہائی میں کردستان کے خلاف جہادسے لے کر حالیہ جنگ کے دوران عراقی کردستان میں جلاوطن ایرانی کرد جماعتوں پر 100 سے زائد حملوں تک، کیمپ اسٹ اکثر کردوں کے بارے میں ایرانی حکومت سے بھی زیادہ مخالفانہ رویہ رکھتے ہیں، اور ان کی مزاحمت کی قانونی حیثیت کو کمزور یا نظرانداز کرتے ہیں۔
یہ تشدد ایک طویل تاریخی سلسلے کا حصہ ہے، جسے بعض عرب دنیا کے عناصر اور خود کو بائیں بازو سے منسوب کرنے والے کچھ حلقوں کی خاموشی یا فعال حمایت نے مزید شدید بنایا ہے۔ صدام حسین کی ایران عراق جنگ کے دوران کی گئی الانفال نسل کشی اس کی واضح مثال ہے، جس میں تقریباً 1لاکھ80ہزار کرد صرف اپنی شناخت کی بنیاد پر قتل کیے گئے۔ اس قتل عام کے صدمے کو عرب دنیا کے ایک حصے کی حمایت اور بعض دانشوروں کی طرف سے اس نسل کشی کے انکار نے مزید گہرا کر دیا۔
زیادہ حالیہ دور میں اگر دیکھا جائے تو 2018 میں ترک فوج کی جانب سے روجاواکے علاقے عفرین پر قبضے نے منظم تشدد، جبری نقل مکانی اور تباہی کو جنم دیا۔ اس کے ردعمل میں حماس کے رہنما خالد مشعل نے کہا کہ ’’عفرین میں فتح ترکی کے ارادے کی علامت ہے۔ اگر خدا نے چاہا تو ہم اپنی قوم کی مدد کے لیے عظیم داستانیں رقم کریں گے‘‘، اور اس کے ساتھ انہوں نے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور ان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی قیادت کی تعریف بھی کی، جو گزشتہ 20سال سے زائد عرصے سے اقتدار میں ہے۔
ان واقعات نے بدقسمتی سے کرد جدوجہد اور عرب یا فارسی دنیا کی جدوجہدوں کے درمیان ایک دیرپا دراڑ پیدا کر دی ہے، اور اسی طرح خود کو سامراج مخالف کہنے والے بائیں بازو کے بعض حصوں کے ساتھ بھی تعلقات کو متاثر کیا ہے، جو اکثر کرد جدوجہد کو تسلیم کرنے اور اس کی حمایت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
مغربی پابندیوں کا ریاستی استعمال
ایران کے خلاف حالیہ جنگ اچانک وجود میں نہیں آئی۔ یہ ایک ایسی پابندیوں کی طویل المدت پالیسی کے ذریعے تیار ہوئی جو سماجی کمزوری پیدا کرنے کی سامراجی ٹیکنالوجی کے طور پر کام کرتی ہے،جیسا کہ عراق کی مثال پہلے ہی واضح کر چکی ہے۔پابندیوں نے نہ صرف آبادی کو غربت میں دھکیل دیا، مہنگائی کو بھڑکایا، صحت اور روزگار کے ڈھانچوں کو کھوکھلا کیا، اور اجتماعی مزاحمت کی صلاحیتوں کو کمزور کیا؛ بلکہ انہوں نے عسکری تصادم کے لیے ضروری حالات بھی پیدا کیے۔ملک کو ایک طویل محاصرے کی معیشت میں قید کر کے، پابندیوں نے ہنگامی حالت کو معمول بنا دیا، ریاستی کرایہ خوراور سکیورٹی ڈھانچوں کو مضبوط کیا، اور بحران کا بوجھ نچلے طبقات پر منتقل کر دیا۔یوں پابندیوں نے جنگ کے مادی اور نظریاتی دونوں میدان تیار کیے۔ ایک ایسی تھکی ہوئی، منقسم، اور بقا کی جنگ میں جکڑی ہوئی معاشرت تعمیر ہوئی جو بیرونی عسکری منصوبوں کے سامنے زیادہ کمزور ہو جاتی ہے۔یوں پابندیاں وہی دکھائی دینے لگتی ہیں جو وہ اصل میں ہیں، یعنی جنگ کا متبادل نہیں، بلکہ جنگ کی تیاری کا ایک حصہ۔
اگرچہ پابندیاں حقیقی ہیں اور تباہ کن بھی، لیکن وہ کسی ایسے ملک میں جو وسائل سے مالامال ہو، غیر معیاری اور غیر باوقار زندگی کی تمام وجوہات کی واحد ذمہ دار نہیں۔کیمپ ازم کی وہ تشریحات جو ایران کی تمام سماجی ناہمواریوں کو مغربی پابندیوں کا نتیجہ قرار دیتی ہیں، ایران کی اپنی سیاسی معیشت کو نظرانداز کرتی ہیں۔ ایک سرمایہ دارانہ نظام جو سخت نجکاری، وسیع پیمانے پر غیر محفوظ مزدوری (جہاں 90 فیصد سے زیادہ کنٹریکٹ مبینہ طور پر عارضی ہیں)، اور اندرونی طور پر منظم جبر و محرومی پر قائم ہے۔یہ نظام نسلی اور غیر دستاویزی محنت کشوں،خصوصاً افغان اور بلوچ مزدوروں کے شدید استحصال اور بے دخلی کے ذریعے مضبوط رکھا جاتا ہے۔
کیمپ اسٹوں کے مطابق ایران کے عوامی احتجاج محض معاشی شکایات ہیں جو مکمل طور پر پابندیوں کی پیداوار ہیں،اور یوں ریاستی پالیسیوں کے بنیادی کردار کو چھپا دیا جاتا ہے۔اس منطق کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ ایران کے اندر اسلامی جمہوریہ کے خلاف اصل عوامی و سیاسی مزاحمت کو کم کر کے پیش کیا جاتا ہے، اور اسے غلط طور پر پہلوی کے رژیم چینج پراجیکٹ کی پالیسیوں کے مساوی دکھایا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ امپیریل اسٹ رژیم چینج کی مخالفت کا مطلب یہ نہیں کہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف داخلی بغاوت کو رد یا بلاجواز قرار دیا جائے۔
ایران میں وسیع غربت کی وجہ صرف پابندیاں نہیں، بلکہ یہ ایک کرایہ خورسیاسی معیشت اور درآمدات کے اجارہ دار نظام میں بھی پیوست ہے، جنہیں اسلامی جمہوریہ نے دانستہ طور پر استعمال کیا ہے۔ریاست کی سکیورٹی اور علاقائی پالیسیاں محض بیرونی دباؤ کا ردعمل نہیں ہیں،بلکہ یہ پالیسیاں ریاست کی بقا کی منطق کا حصہ ہیں، یعنی وسائل کو جبر، سکیورٹی ، اور نظریاتی عسکری منصوبوں کی طرف موڑنا، جبکہ عوام کو تھکاوٹ اور غربت کے حال میں چھوڑ دینا۔کیہان ولادبیگی کے مطابق پابندیاں دولت کو اولیگارکی کے اندر مرتکز کرتی ہیں اور طاقت کے ڈھانچوں کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔یہ بوجھ کو سب سے نازک طبقات پر منتقل کرتی ہیں، جبر کو جواز فراہم کرتی ہیں، اور اولیگارکی کو مزید مالا مال کرتی ہیں۔ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ، اور ترجیحی زر مبادلہ ریٹ کے خاتمے جیسے اقتصادی جھٹکے، ایک کمزور معیشت میں ’’بقاء‘‘ کے حساب شدہ اقدامات کے طور پر ظاہر کیے جاتے ہیں۔
کیمپ اسٹ اسلامی جمہوریہ کے عوام کے خلاف تشدد کو بھی مٹا دیتے ہیں۔قتل، تشدد، پھانسیاں، ہسپتالوں میں زخمیوں پر گولیاں چلانا، اور سوگ کی مجالس پر حملوں کو یا تو نظرانداز کیا جاتا ہے یا انکار کیا جاتا ہے، اور یوں پردہ پوشی کے ذریعے انہیں جائز بنا دیا جاتا ہے۔ایک آمرانہ اور ’’اینٹی امپیریل اسٹ‘‘ تھیوکریسی کی ایسی حمایت آزادی کے بیانیے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے، اوراسے معنی اور حقیقت دونوں سے خالی کر دیتی ہے۔
کسی مقصد کو اس کے طریقہ کار کی بنیاد پر پرکھنا
آمرانہ کیمپ ازم کا پھیلاؤ بڑی حد تک سوشل میڈیا کے ذریعے ہوتا ہے۔ وہاں آمرانہ ریاستوں کو جائز قرار دینے کا عمل ایک سطحی اور محدود اینٹی ویسٹرن سوچ کے ساتھ جڑ جاتا ہے، اور بعض صورتوں میں یہ یہود دشمنی اور سازشی طرز فکر سے بھی آلودہ ہو جاتا ہے۔
اگرچہ اسرائیل (جو مغرب کا حمایت یافتہ ہے) اور اسلامی جمہوریہ (جو مغربی پابندیوں کا شکار ہے) کے درمیان واضح اور حقیقی عدم مساوات موجود ہے، لیکن بعض سیاسی اور علامتی طریقہ کار دونوں طرف ایک جیسے ہیں۔مثلاً کچھ’’ایران نواز‘‘اجتماعات میں امریکی اور اسرائیلی پرچموں کا نظر آنا، اور بعض پروفلسطین مظاہروں میں ایرانی ریاستی پرچم (یا اسلامی جمہوریہ کے جھنڈے) اور علی خامنہ ای کی تصاویر کا استعمال۔یہ سب ایسے اشارے ہیں جو جائز جدوجہد کو تشدد کے جواز میں بدل سکتے ہیں، اور ساتھ ہی ایرانی اور فلسطینی مزاحمت دونوں کو بدنام بھی کرتے ہیں۔اسی طرح معروف نعرہ’’زن، زندگی، آزادی‘‘بھی اسی منطق کا شکار ہوا ہے۔اسے مغربی انتہائی دائیں بازو، ایرانی جلا وطن دائیں بازو، اور نسل کشی کے حامی حلقوں نے اپنی عسکریت پسند پالیسیوں کے حق میں استعمال کیا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایران تک محدود نہیں ہے۔جیسے ڈیوڈ بروفی نے سنکیانگ کے حوالے سے لکھا ہے کہ بین الاقوامی بائیں بازو کے کچھ حصوں نے وہیگر اور دیگر مسلم اقوام کے خلاف جبر کو انسانی حقوق اور ریاستی تشدد کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کی بجائے اسے مغربی پروپیگنڈے، فنڈنگ، یا جیوپولیٹیکل سازش کے مسئلے میں بدل دیا ہے۔وجے پرشاد اور ٹنگز چک کے کیس میں یہ رویہ یہاں تک پہنچا کہ انہوں نے ایسے ذرائع کا سہارا لیا جو بظاہر جعلی یامصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تھے۔تاہم مغربی ریاستوں کی طرف سے انسانی حقوق کے بیانیے کا موقع پرستانہ استعمال اس بات کو ختم نہیں کرتا کہ جس تکلیف کی طرف یہ بیانیہ اشارہ کرتا ہے وہ خود حقیقت ہے اور واقعی موجود ہے۔
ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ عالمی جنوب کی ترقی پسند اور انقلابی تحریکیں اکثر مغرب میں پہنچ کر دائیں بازو کے ہاتھوں ہائی جیک ہو جاتی ہیں۔تاہم یہ عمل ہمیں یکجہتی کے فرض سے دستبردار نہیں کر سکتا۔مثال کے طور پر کوئیر تحریک کو دیکھا جا سکتا ہے۔اسرائیل جیسے ممالک کی جانب سے’’پنک واشنگ‘‘اس حقیقت کو ختم نہیں کرتی کہ کوئیر سیاست ایک آزاد کرنے والی (emancipatory) قوت ہے، اور جہاں بھی کوئیر افراد جبر کا سامنا کرتے ہیں، وہاں ان کے ساتھ یکجہتی ضروری ہے۔کسی مزاحمت کی جوازیت اس کے آزادی بخش مواد اور مظلوم طبقات میں اس کی جڑوں پر منحصر ہوتی ہے،نہ کہ اس بات پر کہ اسے بعد میں کون ہائی جیک کرتا ہے۔
کیمپ ازم تاریخ کی موجودہ اور ماضی کی ناانصافیوں کو برقرار رکھنے میں عملی کردار ادا کرتا ہے۔یہ سیاست میں ایک خلا پیدا کرتا ہے،ایسا خلا جو انتشار اور تقسیم کے ذریعے بنتا ہے،اور پھر یہ خلا آہستہ آہستہ دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کے ہاتھوں بھر جاتا ہے، خطے میں بھی اور عالمی سطح پر بھی۔ایرانی جلا وطن دایاں بازو اس خلا کو استعمال کرتے ہوئے انقلاب کو سادہ بنا کر پیش کرتا ہے اور’’اینٹی امپیریل ازم‘‘کو شیطانی بنا دیتا ہے، تاکہ وہ خود کو تبدیلی کی واحد قوت کے طور پر پیش کر سکے۔کیمپ ازم ایک خطرناک سادگی پیدا کرتا ہے جب وہ پوری آبادیوں کو ایک جیسے لیبل دے دیتا ہے۔ جیسے ’’تمام یوکرینی نازی ہیں‘‘، ’’تمام شامی انقلابی جہادی ہیں‘‘، ’’تمام ایرانی احتجاج کرنے والے یا تو اسرائیل کے حامی ہیں یا شاہ پرست‘‘۔ اس طرح کیمپ ازم دانستہ یا غیر دانستہ طور پر سامراجی اور رجعتی قوتوں کے ابھرنے میں مددگار بن جاتا ہے۔
انتہائی دایاں بازو ہر جگہ ایک سا ہے
یورپ میں کوئی بھی مستقل اور اصولی بایاں بازو اس بات کو قبول نہیں کرے گا کہ کسی حملہ آور طاقت کے خلاف ملک پر ہونے والی جارحیت کے جواز میں وہ خود کو تحلیل کر دے اور دائیں بازو کے جھنڈوں تلے جمع ہو جائے۔ تاہم جب بات ایران کی آتی ہے تو بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایرانیوں سے یہ مطالبہ کرنا قابل قبول ہے کہ وہ اپنی شناخت مٹا دیں اور رجعت پسند، قوم پرست، شدت پسند بلکہ فاشسٹ قوتوں کے پیچھے صف آرا ہو جائیں۔ اس طرح کی عدم مساوات دراصل یہ معنی رکھتی ہے کہ عالمی جنوب کے عوام کو یا تو سامراجی تسلط قبول کرنا ہوگا یا پھر اندرونی بربریت کے ساتھ سمجھوتہ کرنا ہوگا۔ حالانکہ اسلامی جمہوریہ خود ایک ایسی ریاست ہے جسے اس کی اصل حقیقت کے ساتھ نام دینا ضروری ہے۔ یہ ایک فاشسٹ تشکیل، ایک غیر مغربی دائیں بازو کی قوت ہے، خاص طور پر جب بات نسلی و قومی اقلیتوں اور افغان تارکین وطن کے ساتھ اس کے برتاؤ کی ہو۔
ایران پر حالیہ’’جنگ مخالف‘‘بیان کیمپ ازم کے سیاسی تعطل کو بے نقاب کرتا ہے۔یہ ایک ایسا جنگ مخالف بیانیہ ہے جو بائیں بازو کے بعض حصوں کو فاشسٹ، یہود دشمن، نیو نازی اور سازشی حلقوں کے ساتھ ہم آہنگ کر دیتا ہے۔ اس بیان پر ایسے دستخط کرنے والوں کا مجموعہ تھا جو بظاہر ایک دوسرے سے متضاد سیاسی حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک طرف ڈی کالونیل اور کیمپ ازم پر مبنی جنگ مخالف شخصیات ،جیسے وجے پرشاد، سنڈیو ہرا، رامون گروس فوگیل، بواونتورا دے سوسا سانتوس، مونیارادزی موشونگا، اجامو باراکا، نوردین سعیدی اور پولینا آروچ فوگیلی؛ اور دوسری طرف مختلف شخصیات جن میں دیودونے، آلن دے بونوست، تھامس ویرلے، ژاں میشیل ورنوچے، کرسچین بوچے، ماریون سگو، جیکوب کوہن، پیئرانتوان پلاکونو، اور آرنو دیولے شامل ہیں۔اس کے علاوہ ایسی تنظیمیں جیسے ، RN، Egalite & Reconciliation، LCEuvre francaiseاور Mouvement France Resistance، جو قدامت پسند، دائیں بازو، قوم پرست یا فاشسٹ رجحانات سے وابستہ ہیں۔ یہ امتزاج یہ ظاہر کرتا ہے کہ خالص جغرافیائی سیاسی بنیادوں پر قائم’’اینٹی امپیریل ازم‘‘ کی سیاست کس طرح دائیں بازو کی سیاست کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔ اس فریم ورک کے اندر ایرانی حکومت اور اس کے مجرم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو’’تکبر اور دہشت گردی کے خلاف آواز‘‘کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ پوسٹ کلونیل ریاستوں کی جانب سے اپنی ہی آبادیوں پر ہونے والے تشدد کے بارے میں ایک گہری تشویشناک رواداری’’جنگ مخالف‘‘سیاست کے نام پر معمول بنائی جا رہی ہے۔
سیاسی ہم آہنگی کا تقاضا یہ ہے کہ ایرانیوں سمیت ہر قوم کے لیے اس بات سے انکار کیا جائے کہ انہیں’’کم تر برائی‘‘کے نام پر فاشزم کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کا حکم دیا جائے۔ ہمیں ایرانیوں سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ کسی ایسے سیاسی حقائق کو قبول کریں جنہیں بایاں بازو دنیا کے کسی اور حصے میں اپنے لیے قبول کرنے سے انکار کرے۔ ہم نہ تو فاشسٹوں کے ساتھ مارچ کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے جھنڈوں تلے۔ ہم ان کے خلاف لڑتے ہیں، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب وہ آزادی کی اصطلاحات کو اپنے مطلب کے مطابق الٹ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
بالکل اسٹالن ازم کی طرح، جس نے سوشلزم کو بدنام کرنے میں بڑا کردار ادا کیا، ایران میں کیمپ ازم بھی بائیں بازو کو کمزور کرتا ہے اور دائیں بازو کو مضبوط بناتا ہے۔ اسی وقت یہ شمال اورجنوب کی تقسیم کو مزید گہرا کرتا ہے اور جنوب میں ظلم کے خلاف ابھرنے والی تحریکوں پر جبر کو جواز فراہم کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نجات کی خواہش رکھنے والی قوتیں تنہا ہو جاتی ہیں، جلاوطن افراد میں شمال کے بائیں بازو کے لیے (بشمول ڈی کالونیل رجحانات کے) بداعتمادی پیدا ہوتی ہے، اور بین الاقوامی یکجہتی کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔
جب ایوین جیل میں سزائے موت کی منتظر کرد فیمن اسٹ قیدی فلسطینی مزاحمت کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں،حتیٰ کہ اس کے بدلے ایران میں اپنی حمایت کا ایک حصہ کھونے کا خطرہ بھی موجود ہے، تو دوسری طرف آمرانہ اور شناختی بنیادوں پر قائم’’اینٹی امپیریل اسٹ‘‘حلقے، جو مغرب یا کہیں اور آرام دہ حالات میں بیٹھے ہیں، ایران میں جاری عوامی جدوجہد کے ساتھ اسی طرح کی یکجہتی دکھانے سے قاصر ثابت ہوتے ہیں۔ بعض اوقات، اور زیادہ سنگین طور پر، ان تکالیف کی مکمل شدت کو ہی رد کر دیا جاتا ہے یا مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ کیمپ ازم سے آگے بڑھا جائے۔ ورنہ ہم ایک حقیقی طور پر نجات دہندہ بائیں بازو کی تعمیر یا ایک حقیقی عوامی بین الاقوامی یکجہتی کو دوبارہ زندہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے، جس کی کوشش’’Peoples Want‘‘جیسے نیٹ ورکس کر رہے ہیں۔ سامراج مخالف سیاست صرف اسی وقت حقیقی ہے جب وہ ہر شکل کے تسلط کے خلاف ہو، ہر جگہ اور ہر ایک کے لیے۔
(بشکریہ:’ ٹمپسٹ میگزین‘، ترجمہ: حارث قدیر)