لاہور(جدوجہد رپورٹ)ایران کے سابق وزیر اعظم حسین موسوی اور ان کی اہلیہ زہرا رھنورد کو 17 سالہ نظر بندی کے بعد، گذشتہ روز رہا کر دیا گیا۔
حسین موسوی 1980 کی دہائی میں ایران کے وزیر اعظم رہے۔ان کے دور میں حزب اختلاف،بالخصوص بائیں بازو کے ہزاروں کارکنوں کو پھانسیاں دی گئیں۔ بعد ازاں، وہ ایرانی رژیم کے اصلاح پسند دھڑے سے وابستہ ہو گئے۔ اس دھڑے کی جانب نے انہوں نے 2008 کے صدارتی انتخاب میں محمود احمدی نژاد کے خلاف حصہ لیا۔
ان انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ،ایران میں پہلی بار ایک بہت بڑی عوامیاحتجاجی تحریک نے جنم لیا جسے گرین مومنٹ کا نام دیا گیا۔ اس تحریک کے دوران حسین موسوی کو اہلیہ سمیت نظر بند کر دیا گیا۔
گذشتہ سال ،حسین موسوی نے ایران میں اسلامی ریاست کے خاتمے کی بات کی تھی۔ ان کی رہائی کو مبصرین بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ ایران امریکہ معاہدے سے دو روز قبل، ایران میں موجودہ صدر اور وزیر اعظم کے خلاف ایک مظاہرہ منعقد ہوا ۔کہا جا رہا ہے کہ اس مظاہرے کے پیچھے پاسداران انقلاب تھے۔
ایران کی موجودہ سول قیادت اور فوج کے مابین اختلافات اب ایک کھلا راز سمجھے جاتے ہیں۔ حسین موسوی کی رہائی کو اسی پس منظر میں بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ یاد رہے، حسین موسوی علی خامنائی کے قریبی رشتہ دار تھے۔