روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

ایران میں جنگ بندی کے وقفے کے باوجود معاشی جمود برقرار، کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر

ایران میں جنگ بندی کے وقفے کے باوجود معاشی جمود برقرار، کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر

لاہور(جدوجہد رپورٹ)ایران میں چند روزہ جنگ بندی کے نتیجے میں امریکی اور اسرائیلی بمباری میں عارضی کمی کے بعد معمولات زندگی جزوی طور پر بحال ہوئے ہیں، مگر مجموعی معاشی صورت حال بدستور سنگین ہے۔ تہران کے تاریخی گرینڈ بازار میں اس ہفتے پہلے کے مقابلے میں زیادہ دکانیں کھلی دکھائی دیں، تاہم تاجروں کے مطابق خرید و فروخت تقریباً جمود کا شکار ہے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق بازار کے ایک تاجر نے بتایا کہ ’’کاروبار تقریباً رک چکا ہے‘‘۔ ان کے مطابق تھوک فروشوں نے مصنوعات کی نئی قیمتیں بھیجیں ہیں جو جنوری کے نرخوں سے 20 سے 30 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ مستقبل میں درآمدات ممکن ہونے یا کتنی لاگت پر ہونے کا بھی علم نہیں۔ جنوری کے نرخ خود پہلے سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ملک گیر احتجاج کے بعد بگڑتے معاشی حالات کی علامت تھے۔

28 فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد ایران میں ایک بار پھر تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش نافذ ہے، جس نے لاکھوں افراد کی آمدنی کے ذرائع ختم کر دیے ہیں۔ تہران کی ایک آن لائن انگریزی ٹیچر نے شکایت کی کہ عالمی انٹرنیٹ معطل ہونے کے باعث انہیں غیرمحفوظ سرکاری پلیٹ فارمز استعمال کرنا پڑ رہے ہیں، جن سے غیر ملکی طلبہ جڑ ہی نہیں سکتے۔

گرینڈ بازار کے ایک اور تاجر نے بتایا کہ آن لائن فروخت تقریباً ختم ہو چکی ہے کیونکہ صارفین ان کی ویب سائٹ تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔ صدر مسعود پزشکیان کی حکومت جو انٹرنیٹ پر عائد سخت پابندیاں اٹھانے کا وعدہ کر چکی تھی، اب ’’سیکورٹی وجوہات‘‘ کے نام پر انہیں برقرار رکھنے پر مجبور ہے۔ اس دوران وزارت آئی سی ٹی نے چند کاروباروں کو مخصوص سہولتیں دینے کی بات کی ہے، مگر عام عوام تک رسائی کا کوئی واضح طریقہ نظر نہیں آتا۔

ملک کی معیشت جنگ، پابندیوں، بدانتظامی اور دو ماہ سے زائد انٹرنیٹ بندش کے باعث مزید دباؤ میں ہے۔ اسٹیل، پیٹروکیمیکل، ایلومینیم، ایئرپورٹس، ریلوے اور تیل کی تنصیبات پر امریکی و اسرائیلی حملوں نے ایران کی صنعتی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بڑے کار ساز اداروں نے ہزاروں ملازمین نکال دیے ہیں جبکہ میڈیا ادارے بھی عملہ کم کر رہے ہیں۔ایک آن لائن کنٹینٹ کریئیٹر کے بقول ’’جنگ ہو یا نہ ہو، ایسا لگتا ہے ہم بہت پہلے مر چکے ہیں۔ آواز دب چکی ہے اور زندگی کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا بھی جدوجہد بن گیا ہے۔‘‘

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں