لاہور(جدوجہد رپورٹ)ایران میں شدید اقتصادی گراوٹ کے خلاف جاری حکومت مخالف احتجاجوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق اب تک 2500 سے زائد مظاہرین مارے جا چکے ہیں، جبکہ سی بی ایس نیوز کا کہنا ہے کہ ایران کے اندر موجود ذرائع 12ہزار سے 20ہزار کے درمیان ہلاکتوں کی اطلاع دے رہے ہیں۔یہ تعداد سرکاری بیانات سے کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق 26 سالہ احتجاجی کارکن عرفان سلطانی کو پھانسی دیے جانے کا امکان ہے،انہیں گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔
ایک ماہر امراض چشم نے ’گارڈین‘ کو بتایا کہ صرف تہران کے ایک ہسپتال میں 400 سے زائد افراد کی آنکھوں میں گولی لگنے کے کیسز رجسٹر کیے گئے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دو ہفتے تک جاری بڑے پیمانے کے احتجاجوں کے بعد حالات اب کنٹرول میں ہیں، جبکہ مظاہروں میں مارے گئے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے جنازے سرکاری حمایت کے بڑے مظاہروں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
ایرانی حکومت نے پورے ملک میں انٹرنیٹ بند کر رکھا ہے، جس کے باعث آزادانہ معلومات تک رسائی نہایت محدود ہوگئی ہے اور ہلاکتوں کے درست اعداد و شمار حاصل کرنا مشکل ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے مختلف امکانات پر غور کر رہے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ایرانی کارکنوں کی جانب سے انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ غیر ملکی فوجی مداخلت نہ کی جائے۔روم میں مقیم ایرانی سماجی کارکن شیوا بوروومنڈ نے بیرونی مداخلت کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہاکہ ”ہمیں کسی غیر ملک کی مدد کی ضرورت نہیں، بس ہماری آواز بنیں اور ہماری حکومت کی حمایت نہ کریں۔عوام اپنا حصہ ادا کر رہے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔“
ایرانی کارکنوں کا موقف ہے کہ غیر ملکی مداخلت سے حالات مزید خراب ہوں گے اور احتجاجی تحریک کی مقامی اور خودمختار نوعیت کو نقصان پہنچے گا۔