روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

ایرانی اور افغان عوام پر مسلط جنگیں بند کی جائیں، سامراجی ممالک کو رژیم چینج کا حق نہیں: جدوجہد ویبینار

ایرانی اور افغان عوام پر مسلط جنگیں بند کی جائیں، سامراجی ممالک کو رژیم چینج کا حق نہیں: جدوجہد ویبینار

لاہور(جدوجہد رپورٹ) ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے اور پاکستان افغانستان تنازعے پر ’جدوجہد‘ کے زیر اہتمام گزشتہ روز اتوار کو ایک ویبینار کا انعقاد کیا گیا۔

’’Iran-Pakistan-Afghanistan: Wars and Resistance‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس ویبینار میں پاکستان سے فیمین اسٹ محقق صبا گل خٹک، افغانستان سے محقق اور اکیڈیمک ارزالا نعمت، ایران سے مصنف اور اکیڈیمک نازنین اور ایران ایکو سوشلسٹ کے مدیر ہوشنگ سپہرنے گفتگو کی اور شرکاء کے سوالوں کے جواب دیے، جبکہ ماڈریٹر کے فرائض مدیر جدوجہد فاروق سلہریا سرانجام دیں گے۔

مہمان مقررین نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے ساتھ ساتھ امریکی اور اسرائیلی عزائم پر بھی تفصیلی بات کی۔ مقررین نے ایران میں سامراجی جنگ مسلط کر کے رژیم چینج آپریشن کو ناممکن قرار دیتے ہوئے یہ واضح کیا کہ ایران میں رژیم چینج کا امریکہ اور اسرائیل کو کوئی حق اور اختیار نہیں ہے۔ یہ ایرانی عوام کا حق ہے کہ وہ ان پر مسلط ملا رژیم کے خلاف مزاحمت کریں اور اپنی مرضی کی حکومت قائم کریں۔ مقررین نے ایران کے حق دفاع کی حمایت کی اور دنیا بھر کے محنت کشوں اور بائیں بازو کی تحریکوں سے اپیل کی کہ وہ جنگ کے خلاف احتجاج کا حصہ بنیں اور ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔

مقررین نے افغانستان پر پاکستان کے حملوں کی بھی مذمت کی اور افغان عوام کے قتل عام سمیت رژیم چینج آپریشن کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ سے افغانستان میں تذویراتی گہرائی کی پالیسی کو جاری رکھا ہے۔ ایرانی عوام کی طرح افغان عوام کی بھی اپنے اوپر مسلط حکمرانوں کے ساتھ کوئی حمایت موجود نہیں ہے۔ تاہم پاکستانی ریاست نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے موقع پر جشن ضرور منایا تھا۔ آج بھی افغان عوام اور بالخصوص افغان خواتین طالبان رژیم کے خلاف ہیں، لیکن بیرونی حملے کے ذریعے رژیم چینج آپریشن کی حمایت نہ تو ایران میں کوئی کر رہا ہے اور نہ ہی افغانستان میں ایسا کیا جا سکتا ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ ایران، افغانستان سمیت دیگر جنگوں کے خاتمے کے لیے عوامی مزاحمت اور محنت کشوں کا عالمگیر احتجاج ہی حکمرانوں کو مجبور کر سکتا ہے۔ یہ جنگیں نہ صرف ایران، افغانستان اور دیگر خطوں میں انسانوں کے قتل عام کا باعث بن رہی ہیں، بلکہ عالمی سطح پر معاشی بحران کو مزید گہرا کرنے کا موجب بھی بن رہی ہیں، جس کے باعث دنیا بھر میں محنت کشوں کے حالات زندگی مزید تلخ ہوتے جا رہے ہیں۔

ویبینار کے اختتام پر مدیر جدوجہد فاروق سلہریا نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ ویبینار میں 12مختلف ملکوں سے ساتھیوں نے شرکت کی۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں