جلبیر اشقر
سوڈان میں فوجی حکومت کے دو دھڑوں کے درمیان جنگ کا آغاز ہوئے دو سال گزر چکے ہیں۔یہ وہی حکومت ہے جو ملک کو بدنامِ زمانہ عمر البشیر سے ورثے میں ملی۔ اگرچہ سوڈان کی صورتحال کو دنیا بھر کے میڈیا میں اس کے10ویں حصے کے برابر توجہ بھی نہیں دی جاتی،جتنی غزہ میں جاری صہیونی نسل کشی کی جنگ کو مل رہی ہے۔تاہم سوڈان میں انسانی المیے کی شدت بھی اتنی ہی ہولناک ہے۔ فوج در مقابل فوج کی اس جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 1 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جب کہ تقریباً 1.3 کروڑ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، اور قحط کے شدید خطرے سے دوچار افراد کی تعداد 4.4 کروڑ ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران بن چکا ہے۔
یقیناً یہ سمجھنا آسان ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ اور باقی مشرق وسطیٰ میں لڑی جانے والی جنگ یا روس کی یوکرین پر یلغار کو بین الاقوامی توجہ کیوں حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ’خود رو‘عالمی نظریے میں نسلی تعصب کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،جوہمیشہ جنگوں پر میڈیا کی توجہ کو اس بات کے الٹ تناسب میں رکھتا ہے کہ متأثرہ افراد کی جلد کتنی سیاہ ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال 1998 سے 2003 کے دوران ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (کانگو کنشاسا) کی پانچ سالہ جنگ ہے، جس میں 6 ملین کے قریب افراد براہ راست یا بالواسطہ ہلاک ہوئے۔ صحرائے صحارا کے جنوب سے باہر کی دنیا نے اس المیے کو نظر انداز کیا، جبکہ ان واقعات کو کہیں زیادہ توجہ ملی جن میں ہلاکتوں کی تعداد کہیں کم تھی،جیسا کہ کوسوو کی جنگ (1999)، القاعدہ کے نیویارک اور واشنگٹن پر حملے (2001)، اس کے بعد افغانستان میں امریکی مداخلت، اور 2003 میں عراق پر امریکی قبضہ۔
عمومی طور پر وہ جنگیں جن میں گورے سپاہی،چاہے امریکی ہوں یا یورپی، بشمول روسی،براہِ راست شریک نہ ہوں وہ عالمی سطح پر بہت کم توجہ پاتی ہیں۔ یہی معاملہ سوڈان کا ہے، جہاں جنگ مکمل طور پر مقامی فریقین کے درمیان ہے، اگرچہ علاقائی قوتیں، بالخصوص نسل کش ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی پشت پناہی کے ذریعے اس جنگ کو ہوا دے رہی ہیں۔ اس ضمن میں سب سے خطرناک کردار متحدہ عرب امارات نے ادا کیا ہے، جو روس جیسے ایک عالمی کھلاڑی کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ یہی جوڑی لیبیا کی خانہ جنگی میں خلیفہ حفتر کی پشت پناہی میں بھی پیش پیش تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ مغربی ممالک نے سوڈان کی جنگ میں براہِ راست کردار ادا نہیں کیا، لیکن وہ اس المیے کے بنیادی ذمہ دار ہیں۔ 2021 سے ستمبر 2023 میں اپنے استعفے تک سوڈان میں عہدے پر رہنے والے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی، جرمن سفارتکار فولکر پرتھیس، نے اپنی نوآبادیاتی سوچ کے تحت ’سفید فام مرد‘کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے تباہ کن اقدامات کیے، اور وہ ان اصولوں کی بھی خلاف ورزی کرتے رہے جن کی پابندی کا مغرب دعویٰ کرتا ہے،شاید ایسا اس خیال کے تحت کر رہے تھے کہ سوڈانی عوام جمہوریت کے لائق نہیں۔
جب 2021 کے خزاں میں عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں فوجی بغاوت کے ذریعے 2019 کے انقلاب سے ابھرنے والے جمہوری عمل کو سبوتاژ کیا گیا، تو یہ فولکر پرتھیس ہی کی نگرانی میں ہوا۔ بجائے اس کے کہ پرتھیس بغاوت کرنے والوں کے خلاف سخت مؤقف اپناتے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے کہ ان پر بھرپور دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ بیرکوں میں واپس چلے جائیں اور جمہوری عمل بحال ہو، انہوں نے فوجی اور شہری قیادت کے درمیان ’مفاہمت‘کی کوشش کی، جس سے فوج کو پورے ملک پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کی شہ ملی۔ دو سال بعد یہی چشم پوشی دونوں فوجی دھڑوں،یعنی ریگولر فورسز اور آر ایس ایف کے درمیان خونریز جنگ کی بنیاد بن گئی۔
سوڈان کی موجودہ جنگ کے صرف دو ممکنہ نتائج ہیں۔ یا تو اقوام متحدہ بالآخر اپنی ذمہ داری پوری کرے، عالمی افواج کو منظم کر کے دونوں فریقین پر جنگ بندی مسلط کرے، انہیں بیرکوں میں واپس بھیجے، جمہوری عمل کی بحالی اور مکمل حمایت کو یقینی بنائے، RSF کو تحلیل کرنے اور سوڈانی افواج میں بنیادی اصلاحات کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ وہ ایک فوجی آمریت کی بجائے ایک جمہوری ریاست کی ماتحت افواج بنیں۔ یا پھر سوڈان تقسیم کی طرف بڑھ جائے، جس سے اس کے مشرقی حصے میں فوجی آمریت قائم رہے اور آر ایس ایف (جو پہلے جنجاوید ملیشیا تھی) کو دارفور پر مکمل کنٹرول حاصل ہو، جہاں وہ اس نسل کش جنگ کو جاری رکھیں جو انہوں نے عمر البشیر کی قیادت میں رواں صدی کے آغاز میں شروع کی تھی (جس کا صلہ عمر البشیر نے 2013 میں انہیں باقاعدہ مسلح افواج کا حصہ بنا کر دیا)۔
آخر میں سوڈان کے عظیم المیے کے ضمن میں عالمی یکجہتی کی ناکامی کو بھی اجاگر کرنا ضروری ہے۔ ہم اگرچہ غزہ میں صہیونی نسل کشی کے خلاف فلسطینی عوام سے یکجہتی کی تحریک کی زبردست ترقی کا دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس بات پر افسوس ہے کہ عالمی یکجہتی اب بھی میڈیا کی ترجیحات کے تابع ہے،جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔ دنیا کے تمام خطوں، بالخصوص مغربی ممالک اور عرب دنیا میں، سوڈانی عوام سے یکجہتی کی ایک وسیع تحریک کی اشد ضرورت ہے، جو اقوام متحدہ پر اس المیے کو روکنے کے لیے مؤثر مداخلت کا دباؤ ڈالے۔
(نوٹ: یہ مضمون 22 اپریل 2025 کو عربی روزنامہ ’القدس العربی‘میں شائع ہوا، جہاں سے اس کا پہلے انگریزی اور پھر اردو زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔)
