روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

برطانیہ: فلسطین ایکشن سے وابستہ قیدیوں کی بھوک ہڑتال، ڈاکٹروں نے موت کے خطرے سے خبردار کر دیا

برطانیہ: فلسطین ایکشن سے وابستہ قیدیوں کی بھوک ہڑتال، ڈاکٹروں نے موت کے خطرے سے خبردار کر دیا

لاہور(جدوجہد رپورٹ)برطانیہ میں فلسطین کے حق میں سرگرم احتجاجی گروپ ’فلسطین ایکشن‘سے وابستہ 6زیر حراست قیدیوں کی جاری بھوک ہڑتال نے سنگین انسانی بحران کی صورت اختیار کر لی ہے۔ 800 سے زائد برطانوی ڈاکٹرز، نرسز اور طبی ماہرین نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری مداخلت نہ کی گئی تو یہ نوجوان قیدی جیل میں ہی جان سے جا سکتے ہیں، حالانکہ انہیں تاحال کسی جرم میں سزا نہیں سنائی گئی۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق یہ قیدی، جن کی عمریں 20 سے 31 سال کے درمیان ہیں، مختلف جیلوں میں قید ہیں اور ان پر اسرائیلی دفاعی کمپنی ایل بٹ سسٹمز کے برطانوی دفاتر اور ایک آر اے ایف بیس میں توڑ پھوڑ کے الزامات ہیں، جنہیں وہ مسترد کرتے ہیں۔ حکومت نے جولائی میں فلسطین ایکشن کو کالعدم قرار دیا تھا۔

طبی ماہرین کے مطابق دو قیدی تقریباً 7ہفتوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور اب جسمانی چربی ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد دل، گردوں اور سانس کے عضلات متاثر ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹرز نے مطالبہ کیا ہے کہ قیدیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے کیونکہ جیل میں مناسب طبی سہولت دستیاب نہیں۔

قیدیوں کے مطالبات میں فوری ضمانت، منصفانہ ٹرائل اور فلسطین ایکشن پر عائد پابندی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ایل بٹ سسٹمز کے تمام مراکز بند کرنا شامل ہے۔
قیدیوں کے اہل خانہ نے بتایا کہ بعض قیدی بار بار بے ہوش ہو رہے ہیں، شدید کمزوری اور سینے میں درد کا سامنا ہے، جبکہ ایک قیدی نے ہسپتال سے خود کو ڈسچارج کروا کر اہل خانہ کو اپنی حالت سے آگاہ کیا۔

اب تک 20 ہزار سے زائد افراد نے حکومت سے مداخلت کے لیے درخواست پر دستخط کیے ہیں اور 50 سے زائد ارکان پارلیمان نے وزیر انصاف ڈیوڈ لیمی سے قیدیوں کے وکلا سے ملاقات کا مطالبہ کیا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے تاحال کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔

طبی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ مرحلہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور تاخیر کی صورت میں نتائج ناقابل تلافی ہوں گے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں