روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

برطانیہ پر پرو فلسطین کارکنوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے کا الزام

برطانیہ پر پرو فلسطین کارکنوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے کا الزام

لاہور(جدوجہد رپورٹ)برطانیہ میں شہری آزادیوں کی تنظیموں اور فلسطین یکجہتی مہم کاروں نے حکومت اور پولیس پر الزام لگایا ہے کہ وہ پرو فلسطین کارکنوں کو ڈرانے اور خاموش کرانے کے لیے ’انتہائی سخت‘ حربے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ الزام اس وقت سامنے آیا جب ضمانت پر موجود دو نوجوان کارکنوں کو دوبارہ گرفتار کیا گیا۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق 21 سالہ قسر زہرہ کو پیر کی صبح واٹفورڈ میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب انہوں نے سوشل میڈیا پر لوگوں کوڈائریکٹ ایکشن کی دعوت دینے والی پوسٹ شیئر کی۔ صرف چار دن قبل 23 سالہ آڈری کورنو کو ساؤتھ لندن میں سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس نے اس الزام میں گرفتار کیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر اپنی الیکٹرانک ٹیگ میں چھیڑ چھاڑ کی۔ کورنو نے الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔

دونوں کارکن پہلے بھی 2024 میں جنگی سازوسامان بنانے والی کمپنیوں پر چھاپوں کے الزامات میں جیل کاٹ چکے ہیں، جن کارروائیوں کی ذمہ داری فلسطین ایکشن نے قبول کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زہرہ پر تازہ مقدمہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے جرم پر اکسانے سے متعلق ہے، جب کہ انہیں دوبارہ ضمانت دے دی گئی ہے۔

اگرچہ ہائی کورٹ نے فروری میں فلسطین ایکشن پر حکومتی پابندی کو غیرقانونی قرار دیا تھا، مگر حکومت کی اپیل کے باعث اب بھی اس گروہ کی کھلی حمایت غیرقانونی ہے۔ حقوقِ تنظیم انٹرنیشنل کیج کی مہماتی سربراہ نائلہ احمد کے مطابق یہ گرفتاریاں برطانیہ میں پرو فلسطین آوازوں کو دبانے کی منظم مہم کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی قوانین کا مقصد ہی سیاسی اختلاف کو مجرم بنانا ہے۔

دوسری جانب ہفتے کے روز لندن میں بڑے پیمانے پر مظاہرے متوقع ہیں، جہاں ہزاروں افراد فلسطین ایکشن کے حق میں مارچ کریں گے۔ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پولیس نے کچھ عرصہ گرفتاریوں سے گریز کیا تھا، مگر اب پالیسی تبدیل ہونے کے باعث بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا خدشہ دوبارہ پیدا ہوگیا ہے۔

اسی دوران عدالت فلسطین یکجہتی مہم رہنما بین جمال اور سٹاپ دی وار کولیشن کے کرس نائنہم کے مقدمے پر بھی فیصلہ سنانے والی ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں