لاہور(جدوجہد رپورٹ) بھارت کی مختلف ٹریڈ یونینوں نے بدھ کے روز ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور مارچ کیے، جن میں چار نئے لیبر کوڈز کے خلاف آواز بلند کی گئی۔ حکومت نے انہیں گزشتہ کئی دہائیوں میں لیبر قوانین کی سب سے بڑی اصلاحات قرار دیا ہے، مگر یونینوں کا کہنا ہے کہ یہ قوانین مزدوروں کے حقوق سلب کر دیں گے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق مظاہرے کیرالا، اوڑیسہ، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور نئی دہلی سمیت کئی ریاستوں میں کیے گئے۔ یونینوں کے مطابق سرکاری اداروں، کوئلہ کانوں، ٹرانسپورٹ، اور کچھ آٹو و ٹیکسٹائل مراکز میں احتجاج میں بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی۔
اگرچہ بینکوں اور مالیاتی منڈیوں میں کام معمول کے مطابق جاری رہا اور کوئی ملک گیر ہڑتال نہیں ہوئی، لیکن یونینوں نے اعلان کیا کہ یہ مظاہرے ایک طویل احتجاجی مہم کا آغاز ہیں جس کا مقصد ان قوانین کی راہ روکنا ہے۔
یاد رہے کہ چاروں لیبر کوڈز گزشتہ جمعے کو نافذ ہو گئے۔ انہیں پارلیمنٹ نے 5 سال قبل منظور کیا تھا۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا مکمل نفاذ اس بات پر منحصر ہے کہ مختلف ریاستیں اپنے لیول پر کس رفتار سے قواعد و ضوابط جاری کرتی ہیں۔
10 بڑی ٹریڈ یونینوں، جن میں زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں سے منسلک ہیں،نے ان قوانین کو مزدور دشمن اور کاروبار دوست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے انہیں مناسب مشاورت کے بغیر منظور کیا اور ان سے مزدوروں کے روزگار کا تحفظ، اجتماعی سودے بازی اور کام کی جگہ پر حفاظتی حقوق کمزور ہوں گے۔
لیبر کوڈز میں کیا ہے؟
چار نئے لیبر کوڈز نے 29 وفاقی قوانین کو یکجا کر دیا ہے، جن میں اجرت، صنعتی تعلقات، سوشل سکیورٹی اور ورک پلیس سیفٹی شامل ہیں۔نئے لیبر کوڈز کے مطابق300 تک ملازمین والی کمپنیاں بغیر سرکاری اجازت کے ملازمین کو فارغ کر سکیں گی۔اسی طرح ان لیبر کوڈز میں فکسڈ ٹرم کنٹریکٹس کو قانونی حیثیت، پورے ملک میں قومی کم از کم اجرت متعین کی جائے گی (ابھی طے نہیں)، گیگ ورکرز کو سماجی تحفظ کے دائرے میں لانا،کمپلائنس کو آسان بنانا اور سرمایہ کاری بڑھانابھی شامل ہے۔
کچھ ریاستوں نے نئے لیبر قوانین پر عملدرآمد روک دیا ہے۔کیرالا، کرناٹک اور دیگر اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں نے کہا ہے کہ وہ یونینوں سے مزید مشاورت کے بغیر ان قوانین کو نافذ نہیں کریں گی۔
اوڑیسہ کے دارالحکومت بھونیشور میں کارکن بینرز اٹھائے نعرے لگاتے سڑکوں پر نکلے۔کیرالا کے شہر کوژیکوڈ میں، جوائنٹ ٹریڈ یونین اسٹیٹ کمیٹی کے کنوینر ایلامارم کریم نے کہا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ قوانین واپس نہیں لیے جاتے۔
یونینوں نے صدر دروپدی مرمو کو ایک مشترکہ یادداشت بھی دی، جس میں کہا گیا کہ بدھ کے مظاہرے’مزدورکسان یکجہتی تحریک‘کا حصہ ہیں جو حکومت کی مزدور دشمن اور کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف جاری ہے۔
اگرچہ صدر کا کردار زیادہ تر علامتی ہے، لیکن آئینی طور پر وہ حکومت کو قانون پر نظر ثانی کا مشورہ دے سکتی ہیں۔
وزارتِ محنت نے تازہ احتجاج پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔حکام پہلے کہہ چکے ہیں کہ یہ لیبر کوڈز مزدوروں کے حقوق مضبوط کرتے ہیں، اور قواعد کی تشکیل کے دوران تجاویز کا خیر مقدم کیا جائے گا۔