روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

تازہ خبر آئی ہے، چین اسرائیل کا بھائی ہے

تازہ خبر آئی ہے، چین اسرائیل کا بھائی ہے

لاہور(جدوجہد رپورٹ)مڈل ایسٹ آئی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ چینی کمپنیاں اور مزدور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے قیام میں براہ راست شریک ہیں، جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور خود چین کی سرکاری پالیسی کے برعکس ہے۔

رپورٹ کے مطابق، نابلُس، رام اللہ اور الخلیل کے اطراف میں موجود بستیوں، جیسے بیت ایل اور یتسہار، میں چینی تعمیراتی مزدور باقاعدگی سے کام کرتے اور مقامی فلسطینی دکانوں سے خریداری کرتے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ چین اور اسرائیل کے درمیان 2015 میں ہونے والے لیبر معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ چینی مزدور مقبوضہ مغربی کنارے میں تعینات نہیں ہوں گے، لیکن زمینی حقائق اس کی نفی کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کی ریاستی ملکیت میں موجود کمپنی اداما ایگریکلچرل سلوشنز (Adama Agricultural Solutions)، جو اب مکمل طور پر چائنا نیشنل کیمیکل کارپوریشن (China National Chemical Corporation) کی ملکیت ہے، نہ صرف اسرائیلی بستیوں میں زرعی سرگرمیوں میں مدد فراہم کر رہی ہے بلکہ 2024 میں اس نے غزہ پٹی کے اطراف کی بستیوں کے رہائشیوں کے لیے تقریباً 10 لاکھ شیکل (275,000 امریکی ڈالر) کا زرعی اسکالرشپ فنڈ بھی قائم کیا ہے۔

اداما کی مصنوعات نہ صرف مقبوضہ علاقوں میں زرعی استعمال کے لیے آزمائی گئی ہیں بلکہ اس کی ایک جڑی بوٹی مار دوا کو اسرائیلی فوج کے ٹھیکیداروں نے فضائی چھڑکاؤ میں استعمال کیا ہے، جس سے غزہ کے قریب فلسطینی زرعی زمینیں تباہ ہوئیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2014 میں چین کی ریاستی ملکیت میں موجود برائٹ فوڈ نامی کمپنی نے اسرائیلی فوڈ کمپنی تنوفا (Tnuva) میں 56 فیصد حصص خریدے، حالانکہ تنوفا غیر قانونی بستیوں میں کام کرتی ہے اور اس کے خلاف عالمی سطح پر بائیکاٹ کی مہم جاری ہے۔

2021 میں تنوفا کو ایک سرکاری ٹینڈر ملا جس کے تحت اسے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کی 16 بستیوں میں پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دی گئی، جو صریحاً فلسطینی زمین پر صیہونی قبضے کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔

اسی طرح 2016 میں چینی پرائیویٹ گروپ فوسن (Fosun Group) نے اسرائیلی کاسمیٹکس کمپنی اہوا (Ahava) کو خریدا، جس کی پیداوار مقبوضہ علاقے متسپی شالیم میں ہو رہی ہے۔ اہوا کا نام اقوامِ متحدہ نے ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے جو غیر قانونی بستیوں کے قیام میں معاونت کرتی ہیں۔

یہ تمام اقتصادی سرگرمیاں اس وقت ہو رہی ہیں جب چین اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر فلسطینی ریاست کی حمایت اور اسرائیلی بستیوں کی مخالفت میں بیانات دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سابق چینی سفیر ژانگ جن اور موجودہ سفیر فو کانگ بارہا اسرائیل سے مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر روکنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

تاہم مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق چین کی ان بیانات کے برعکس عملی پالیسیاں اور سرمایہ کاری اسرائیلی نوآبادیاتی منصوبے کو مضبوط کر رہی ہیں، جو نہ صرف فلسطینیوں کے انسانی حقوق بلکہ عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں