روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

ترک صحافی فاتیح الطائیلی صدر اردگان سے متعلق تبصرے پر گرفتار

ترک صحافی فاتیح الطائیلی صدر اردگان سے متعلق تبصرے پر گرفتار

لاہور(جدوجہد رپورٹ) ایک ترک عدالت نے معروف آزاد صحافی اور یوٹیوب پر 15 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز رکھنے والے فاتیح الطائیلی کو صدر رجب طیب اردگان کے خلاف مبینہ طور پر’دھمکی آمیز تبصرے‘کرنے پر گرفتار کر لیا ہے۔ ترک نشریاتی ادارے این ٹی وی اور دیگر ذرائع نے اتوار کے روز اس کی تصدیق کی۔

الطائیلی کو ہفتے کے روز اس ویڈیو کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا جو انہوں نے جمعے کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔ ویڈیو میں وہ ایک حالیہ رائے شماری پر تبصرہ کر رہے تھے جس میں اکثریتی ترک شہریوں نے اردگان کی تاحیات حکمرانی کی مخالفت کی تھی۔

ویڈیو میں الطائیلی نے سلطنت عثمانیہ کے حکمرانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ترک عوام نے ماضی میں ان رہنماؤں کو ’ڈبو‘دیا جنہیں وہ مزید اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔

استنبول کے پراسیکیوٹرز نے بعد ازاں بیان میں کہا کہ ان تبصروں میں صدر اردگان کے خلاف ’دھمکیاں‘شامل ہیں اور اس پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران الطائیلی نے صدر اردگان کو دھمکانے کے الزامات کو مسترد کیا۔ این ٹی وی کے مطابق انہوں نے موقف اپنایا کہ ان کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور انہیں دانستہ طور پر دھمکی کے طور پر ظاہر کیا گیا، حالانکہ وہ صرف تاریخی و لسانی حوالوں میں بات کر رہے تھے۔

یہ پیش رفت ان حالیہ گرفتاریوں کی کڑی ہے جو حکومت مخالف سیاسی شخصیات اور ناقدین کے خلاف عمل میں آئی ہیں۔ مارچ میں استنبول کے میئر اور اردگان کے اہم سیاسی حریف، اکرم امام اوغلو کی گرفتاری بھی اسی سلسلے کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔

ترکی کی مرکزی اپوزیشن جماعت سی ایچ پی اور بعض مغربی ممالک نے ان کارروائیوں کو ’سیاسی انتقام‘اور اردگان کے مخالفین کو انتخابی عمل سے دور رکھنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ تاہم حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور موقف اختیار کرتی ہے کہ ترک عدلیہ اور عدالتیں آزاد اور خودمختار ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں