روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

جموں کشمیر: آزادی کا نعرہ لگانے پر نوجوانوں کے خلاف سنگین مقدمے

جموں کشمیر: آزادی کا نعرہ لگانے پر نوجوانوں کے خلاف سنگین مقدمے

حارث قدیر

پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر میں چند روز قبل 13 اگست کو الحاق پاکستان کے خلاف نعرے لگانے، پاکستان کے جھنڈے کی مبینہ بے حرمتی اور دہشت گردی کے الزام میں 200 سے زائد نوجوانوں اور طالبعلموں کے خلاف دو مقدمے درج کیے گئے۔ 35 سے زائد نوجوان گرفتار ہیں اور کچھ نوجوانوں کے 90 روز کے ریمانڈ لیے گئے ہیں۔

ان مقدموں اور گرفتاریوں کے خلاف آزادی پسند اور ترقی پسند تنظیموں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کو مقدمے ختم کرنے اور گرفتار نوجوانوں کو غیر مشروط رہا کرنے کے لیے منگل19اگست تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ منگل کے روز دن ایک بجے راولاکوٹ میں ایک احتجاجی ریلی اور جلسے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

جموں کشمیر میں آزادی اور خودمختاری کے نعرے لگانے پر بغاوت اور غداری جیسی دفعات کے تحت مقدمے درج کرنے کا ہر فورم پر دفاع کیا جا رہا ہے، تاہم جموں کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے، جو آئینی طو رپر پاکستان، بھارت یا کسی بھی اور ملک کا حصہ نہیں ہے۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں خطے کے پاکستان کے ساتھ پر الحاق پر یقین نہ رکھنے، پاکستان اور اس کی مسلح افواج کے خلاف بات کرنے کو جرم قرار دینے کا سلسلہ ابتدا سے ہی نہیں ہے، نہ ہی جموں کشمیر کے اس حصے میں قائم ہونے والی حکومت کے لیے جدوجہد کرنے والوں نے ابتدائی طور پر اس خطے کا اس طرح کا کوئی خاکہ بنایاتھا۔

اس مقصد کے لیے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں 24اکتوبر 1947کو قائم ہونے والی حکومت کی تاسیسی دستاویز کا جائزہ لینا از حد ضروری ہے۔ یہاں اس تاسیسی دستاویز کے متن کو سامنے رکھ کر یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا یہ مقدمہ بازی، گرفتاریاں اور غداری کے فتوے اس تاسیسی دستاویز کی روح کے عین مطابق ہیں یا نہیں، اور اگر نہیں ہیں تو پھر کیا بنیادی وجہ بنی کہ یہ سلسلہ گزشتہ 78 سال سے جاری ہے۔

یہاں یہ یاد رہے کہ کسی بھی حکومت یا ریاست کی تاسیسی دستاویز ہی وہ بنیادی عمارت ہوتی ہے جو کسی مخصوص علاقے کے عوام کے اجتماعی جذبات اور احساسات کی ترجمان ہوتی ہے۔ اسی تاسیسی دستاویز کو سامنے رکھتے ہوئے ہی آئین سازی اور قانون سازی کی جاتی ہے۔ کوئی بھی عمل اس تاسیسی دستاویز کے مغائر کرنا، بنیادی طور پر اس حکومت یا ریاست کی اس حالت کے حصول کے لیے قربانیاں دینے والوں کے خون سے غداری کہلائی جاتی ہے۔

اس تاسیسی دستاویز کے مطابق یہ نئی حکومت ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کی مستند آواز کی ترجمان ہے کہ عوام کو ظالم اور غاصب ڈوگرہ خاندان سے نجات دلائی جا سکے۔ تاسیسی دستاویز میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ نئی حکومت عارضی حکومت ہے، جو ریاست کا نظام اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے۔ حکومت کا مقصد سردست ریاست میں نظم و نسق کی بحالی ہے تاکہ عوام اپنی رائے سے ایک جمہوری، آئین ساز اور نمائندہ حکومت چن لیں۔یعنی تاسیسی دستاویز کے مطابق اس نئی حکومت نے ایک آئین ساز اور جمہوری حکومت کے عوامی بالغ رائے دہی سے انتخاب کو اپنا بنیادی مقصد قرار دیا۔

دستاویز میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ حکومت فرقہ وارانہ حکومت نہیں ہے، اس میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم بھی شریک ہونگے۔ اس کا مطلب ہے لوگوں نے قربانیاں دے کر جو حکومت قائم کی اس کی بنیادی دستاویز میں یہ بھی واضح کردیا کہ جموں کشمیر میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، اس لیے حکومت سیکولر اور تمام عوام کی نمائندہ ہوگی۔

تاسیسی دستاویز میں مزید یہ لکھا ہے کہ یہ حکومت ہمسایہ ممالک ہندوستان اور پاکستان کے لیے بہترین جذبات، دوستی و خیر سگالی رکھتی ہے۔ یہ امید بھی رکھتی ہے کہ ہر دو مملکتیں کشمیریوں کی فطری آرزو آزادی کے ساتھ پوری پوری ہمدردی رکھیں گی۔

ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ عارضی حکومت ریاست کی جغرافیائی سالمیت اور سیاسی انفرادیت برقرار رکھنے کی متمنی ہے۔ یعنی یہ حکومت کسی بھی ملک کے زیرنگیں نہیں ہوگی، بلکہ جموں کشمیر کی الگ آزاد شناخت کو برقرار رکھے گی۔

اس دستاویز میں پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کے حوالے سے بھی لکھا ہے کہ پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ ریاست کے الحاق کا سوال یہاں کے عوام کی آزادانہ رائے شماری سے کیا جائے گا، غیر ملکی مبصرین کو دعوت دی جائے گی کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ عوام کی آزادانہ رائے سے یہ مسئلہ بخیر و خوبی طے ہو گیا ہے۔

دوسرے لفظوں میں جب تک آئین ساز، جمہوری اور نمائندہ حکومت نہیں بنتی، وہ باقی ماندہ حصوں کو آزاد نہیں کروا لیتی، تب تک یہ حکومت خودمختاری اور سیاسی انفرادیت کو برقرار رکھے گی۔

ایسے میں کسی بھی ملک کے ساتھ الحاق کرنے، یا نہ کرنے کے حق میں نعرہ لگانے کو بغاوت، یا غداری قرار دینا اس تاسیسی دستاویز کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ کسی کے پروگرام کو خراب کرنے کے حوالے سے قانون سازی کی جا سکتی ہے اور جمہوری حقوق پر عمل کرنے سے روکنے کے جرم میں کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہاں ایک اور مسئلہ یہ درپیش ہے کہ عوام کے دیے گئے ٹیکسوں سے چلنے والی انتظامیہ کا بنیادی تاسیسی دستاویز کے متضاد سرگرمی کا انعقاد ہی اس خطے کے لوگوں کی قربانیوں کے ساتھ مذاق ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اعلان آزادی یا تاسیسی دستاویز کے متضاد یہ مقدمے، قوانین اور پالیسیاں کیسے، کیوں اور کس کی ایماء پر بنائی جا رہی ہیں؟

اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ 1947 کی حکومت کے اس تاسیسی دستاویز پر شب خون اس وقت کی پاکستانی ریاست نے مارا اور اپنے بھیجے گئے قبائلی حملہ آوروں کے فتح کیے گئے علاقے یعنی مظفرآباد میں یہ حکومت منتقل کر دی گئی، تاکہ پاکستان کا کنٹرول قائم ہوسکے۔

اس کے بعد معاہدہ کراچی مسلط کر کے اس دستاویز کو پس پشت ڈال دیا گیا اور عوامی خواہشات اور جذبات کا خون کر دیا گیا۔ معاہدہ کراچی کے مطابق گلگت بلتستان کا انتظام، تحریک آزادی کا بوجھ، مہاجرین کی بحالی، مالی و انتظامی اختیارات کے ساتھ ساتھ وسائل پر اختیار حکومت پاکستان نے اپنے پاس رکھ لیا۔ اس حکومت کو اپنا مطیع اور علاقے کو نوآبادی میں تبدیل کر دیا گیا اور کنٹرول کرنے کے لیے لینٹ افسروں کو بہتر جانا گیا۔

اس کے بعد مختلف تجربات کے بعد ایکٹ 1974 کے نام سے عبوری آئین یہاں نافذ کیا گیا۔ اس ایکٹ کو ایک پاکستانی حکومتی ذمہ دار نے تیار کیا، اور مظفرآباد کے ممبران اسمبلی کو بغیر پڑھے دستخط کرنے پر مجبور کیا۔ ممبران اسمبلی کہلانے والے رہبروں نے سامراجی کاسہ لیسی کا ثبوت دیتے ہوئے یہ نوآبادیاتی غلامی کا طوق اس خطے کے لوگوں پر مسلط کرنے کے لیے آنکھیں بند کر کے دستخط کر لیے۔

اسی ایکٹ کے تحت نظریہ پاکستان، الحاق پاکستان اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف کوئی بھی سرگرمی جرم قرار دی گئی ہے۔ اسی ایکٹ کے تحت یہاں چپڑاسی سے وزیراعظم تک وہی لگ سکتا ہے جو جموں کشمیر کے پاکستان سے الحاق پر یقین رکھنے کا حلف نامہ جمع کروائے گا۔

اسی ایکٹ کے تحت جموں کشمیر کی آزادی کی بات کرنا جرم ہے، خودمختاری کی بات کرنا جرم ہے اور ایسی خواہش رکھنے والا کوئی آدمی سیاسی جماعت نہیں بنا سکتا، تنظیم یا ایسوسی ایشن نہیں بنا سکتا، کوئی اجتماع نہیں کر سکتا اور کچھ لکھ اور بول بھی نہیں سکتا۔

یوں اس خطے کے لوگوں کی قربانیوں کے بعد حاصل کی گئی حکومت کو اس کی بنیادی اساس چھین کر ایک نوآبادی بنا دیا گیا ہے۔ تاریخ اور تحریک کی وراثت کے نام پر عوامی خواہشات کا قتل کرنے والے سامراجی اقدامات کی چاپلوسی اور سامراجی ریاست کی حاشیہ برداری کی جا رہی ہے۔

اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کے وہ سب دعویدار جھوٹے ہیں اور دھوکے باز ہیں جو عوام سے یہ سچ نہیں بولتے کہ اسلاف نے جو حکومت قائم کی تھی اس کی اساس کیا تھی۔آج بھی آگے بڑھنے کا راستہ اسی تاسیسی دستاویز میں ہی ہے، کہ اس پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔ لوگوں کو آئین ساز، جمہوری اور نمائندہ حکومت چننے کا موقع دیا جائے۔ سامراجی نمائندوں کی صورت بیٹھے لینٹ افسران کو واپس بلایا جائے، تاکہ اس خطے کے وسائل اور پاکستان سے تعلق کی وضاحت اس خطے کے لوگ جمہوری طریقے سے کر سکیں اور عوام دوست آئین و قانون سازی کر سکیں۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں