روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

جموں کشمیر تنازع: تیسری ہجرت کے زخم جھیلنے والا نائلہ کا خاندان!

جموں کشمیر تنازع: تیسری ہجرت کے زخم جھیلنے والا نائلہ کا خاندان!

حارث قدیر

بھارتی زیرانتظام جموں کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں سیاحوں کی ہلاکت کے بعد مودی حکومت نے معاشرے پر جنگی جنون مسلط کر رکھا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے فیصلے سمیت دیگر پاکستان مخالف فیصلے بھی کیے گئے ہیں۔ تاہم پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجنے کے کیے گئے فیصلے پر عملدرآمد نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ عصر حاضر کے نیم فسطائی حکمرانوں کی ذہنی کیفیت کا بھی عکاس ہے۔

پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کرنے کے نام پر جموں کشمیر کے بھارتی زیر انتظام حصے میں رہائش پذیر پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کو بھی واپس بھیجا جا رہا ہے، جو یا تو شادی کر کے سیز فائر لائن کی دوسری طرف گئیں، یا پھر انہیں بھارتی حکومت کی گھر واپسی سکیم کے تحت اپنی شوہروں کے ہمراہ وہاں بلایا گیا۔

اس پاگل پن پر مبنی فیصلے پر عملدرآمد کی کوشش میں دو روز قبل راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو بھی ملک بدر کر کے واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان بھیجا گیا۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خاتون کے تین بچوں میں سے جو بچی پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر میں پیدا ہونے کی وجہ سے پاکستانی شہریت رکھتی تھی، اسے ملک بدر نہیں کیا گیا، بلکہ اس خاتون کے ان دو بچوں کو ملک بدر کر دیا گیا، جو بھارتی زیرانتظام جموں کشمیر میں پیدا ہونے کی وجہ سے بھارتی شہری تھے۔

نائلہ بیگم زوجہ بلال اپنے دو بچوں کے ہمراہ آج پیر کے روز 5 مئی کو واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان پہنچ رہی ہیں۔ وہ اب تک جموں کشمیر سے ملک بدر کی گئی 70سے زائد خواتین میں شامل ہیں۔ نائلہبیگم راولاکوٹ شہر کی رہائشی ہیں اور ان کا خاندان دہرے المیے کا شکار ہے۔

1947 میں ان کا خاندان بھارتی زیرانتظام جموں کشمیر کے علاقے پونچھ سے ہجرت کر کے پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں آباد ہوا۔ تاہم ان کی شادی ایک ایسے نوجوان سے ہوئی، جو 90 کی دہائی کی مسلح بغاوت میں بھارتی زیرانتظام جموں کشمیر سے فرار ہوکر آیا تھا۔

ان کی شادی کے کچھ سال بعد ہی 23 نومبر 2010 میں بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ’سرنڈر، ری ہیبیلیٹیشن، اینڈ ری انٹیگریشن سکیم فار یوتھ‘ کا اعلان کیا. اس سکیم کا مقصد ان کشمیری نوجوانوں کو واپس بلانا تھا جو 90 کی دہائی میں پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر یا پاکستان چلے گئے تھے۔

اس اسکیم کے تحت نوجوانوں کو ہتھیار چھوڑ کر معمول کی زندگی میں آنے کا موقع دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ان نوجوانوں کو مالی امداد، فنی تربیت، تعلیم اور روزگار فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ان کے خاندانوں کو بھی واپسی کا حق دیا گیا تھا۔ اس طرح ایسے نوجوان اپنے بیوی بچوں کو بھی ساتھ لے جا سکتے تھے، جنہوں نے پاکستان یا پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر سے شادیاں کر رکھی تھیں۔

اس سکیم کے تحت 400 کے لگ بھگ نوجوان 2016 تک مختلف راستوں سے بھارت پہنچے۔ ان میں سے کئی نوجوان اپنی بیویوں کو بھی ساتھ لے گئے تھے۔

حکومت نے البتہ اپنے وعدے پورے کرنے کی بجائے اکثریتی نوجوانوں کو گرفتار کیا، ان پر مقدمات چلائے اور انہیں جیلوں میں بند کیا۔ اس کے علاوہ ان کے ساتھ جانے والی خواتین کو شہریت یا سفری دستاویزات دینے میں بھی کئی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ مالی امداد، فنی تعلیم اور روزگار کے وعدوں پر بھی عملدرآمد نہ ہو سکا۔ کئی خواتین طویل احتجاج کے بعد واپس اپنے آبائی علاقوں میں آگئی، البتہ کچھ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت واپس آباد ہو ہی گئے۔

نائلہ اور ان کے خاوند بلال بھی 2011 میں اپنی ایک بیٹی اقراء کے ہمراہ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں واپس گئے، جو بلال کا آبائی علاقہ تھا۔ بلال کو واپس پہنچنے پر گرفتار کیا گیا۔ تاہم رہائی کے بعد اس خاندان نے اپنی زندگی بڈگام میں دوبارہ شروع کی اور ان کے دو مزید بچے عائشہ اور فرحان بھی پیدا ہوئے، جن کی عمریں بالترتیب تقریباً 8 اور 10 سال ہیں۔

پہلگام حملے کے بعد مودی حکومت کے پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کرنے کے فیصلے کا نشانہ نائلہ کو بھی بنایا گیا۔ پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر کو بھارتی علاقہ قرار دینے اور ہر لمحہ اس علاقے پر قبضہ کرنے کے دعوے کرنے والی مودی حکومت نے اس علاقے کی خواتین کو غیر ملکی قرار دے کر ملک سے بے دخل کر دیا۔

مودی حکومت کے اس فیصلے پر عملدرآمد کرنے والی انتظامیہ نے مودی حکومت سے بھی زیادہ عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر میں پیدا ہونے والی 15 سالہ اقراء کو والد کے پاس رہنے دیا، جبکہ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں پیدا ہونے والی عائشہ اور اس کے بھائی فرحان کو ماں کے ساتھ پاکستان بھیج دیا۔

اس طرح نہ صرف مودی حکومت کے زیر سایہ چلنے والی انتظامیہ کی اہلیت ظاہر ہوئی ہے، بلکہ یہ بھی واضح ہوا ہے کہ مودی حکومت کو صرف جموں کشمیر کی سر زمین چاہیے، اس میں بسنے والے انسانوں سے اسے کوئی غرض نہیں ہے۔

نائلہ بیگم اپنے دو بچوں کے ساتھ آج پیر کو واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان پہنچیں گی۔ یہ ان کے خاندان کی مجموعی طور پر تیسری ہجرت ہوگی۔ پہلی ہجرت کے وقت ان کی پیدائش نہیں ہوئی تھی اور دوسری ہجرت کے وقت آج ان کے ساتھ ہجرت کرنے والے دو بچوں کی پیدائش نہیں ہوئی تھی۔

جموں کشمیر تنازع میں انسانی المیے کی اس سے ملتی جلتی کئی داستانیں ہیں۔ تنازعات کے اس کھیل میں انسانوں کی زندگیوں پر پڑھنے والے بھیانک اثرات کی کہانیاں کہیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ بڑے کینوس میں تنازعات اہمیت حاصل کرتے ہیں، لیکن نائلہ بیگم جیسے انسانوں کے لیے ان تنازعات کا شکار ان کی زندگیاں کسی ہولناک منظر سے کم نہیں ہوتیں۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں