بدرالاسلام
عشروں سے بنگلہ دیش میں بایاں بازو منتشر رہا ہے، یا تو زیر زمین چلا گیا تھایا غیر متعلق ہو گیاتھا۔ کمیونسٹ پارٹی آف بنگلہ دیش(سی پی بی)، سوشلسٹ پارٹی(باساد) اور انقلابی مزدور پارٹی کی صورت میں پارلیمانی بایاں بازو انتخابی شکستوں، قیادت کے جمود، اور سرکاری نظام میں ضم ہونے جیسے مسائل کا شکار رہا۔ ان سے نئی نسلیں بڑی حد تک لاتعلق ہو چکی تھیں، اور مزدوروں اور کسانوں میں ان کی بنیاد نیو لبرل اصلاحات اور این جی اوز کی مداخلت کے نتیجے میں کمزور پڑ گئی تھی۔
دوسری طرف مارکسسٹ لینن اسٹ اور ماؤسٹ رجحانات پر مبنی کمیونسٹ پارٹی آف بنگلہ دیش (ایم ایل)، پوربو بنگلار کمیونسٹ پارٹی(پی بی سی پی)، سربوہارا پارٹی بنگلہ دیش، کمیونسٹ پارٹی آف بنگلہ دیش(ریڈ فلیگ)، اور نیو کمیونسٹ پارٹی جیسے زیر زمین یا نیم زیرزمین بائیں بازو کے رجحانات ریاستی سکیورٹی فورسز کے نشانے پر رہے، آپسی لڑائیوں سے کمزور ہوئے، اور ابھرتی ہوئی سماجی تحریکوں سے کٹ کر رہ گئے۔
اگست کی بغاوت نے اس رجحان کوتبدیل کرنا شروع کیا۔ ڈیجیٹل سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتاریوں اور طلبہ پر تشدد کی طرز پر ریاست کی جانب سے سفاکانہ کریک ڈاؤن نے نئی نسل کی نظروں میں حکمران نظام کی ساکھ کو مجروح کیا۔ قانونی حیثیت رکھنے والی بائیں بازو کی جماعتیں، اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود سب سے پہلے واضح سیاسی موقف کے ساتھ سامنے آئیں۔ انہوں نے قانونی امداد فراہم کی، احتجاجی کمیٹیاں بنائیں، اور قومی سطح پر طلبہ و مزدور اتحاد کی اپیل کی۔ انہیں دوسروں سے ممتاز بنانے والی بات صرف ان کی تاریخ نہیں تھی، بلکہ ان کا نظریاتی اندازِ گفتگو تھا۔ جب باقی لوگ صرف ’اصلاحات‘کی بات کر رہے تھے، یہ پارٹیاں سرمایہ داری، آمریت، اور سامراجیت جیسے نظام کے مسائل کی نشان دہی کر رہی تھیں۔ بہت سے طلبہ کے لیے یہ منظم مارکسی سوچ سے پہلا تعارف تھا۔
اسی دوران زیر زمین بائیں بازو نے محسوس کیا کہ متحرک ہونے کے حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ کئی گروہ خاموشی سے دیہی علاقوں اور سرحدی اضلاع، خاص طور پر مہرپور، چوآڈانگا، جھینا ئدہ، اور میمن سنگھ میں تیاری کر رہے تھے۔ ماؤ نواز اور نکسلائیٹ تحریکوں سے متاثر یہ گروہ اس بغاوت کو کیڈرز بھرتی کرنے اور ناراض نوجوانوں سے دوبارہ رابطے کے لیے ایک اشارہ سمجھ رہے تھے۔ ان کی سرگرمیاں محتاط مگر ٹھوس تھیں، جن میں رات کے وقت پمفلٹ بانٹنا، نئے کارکنوں کو نظریاتی مواد پڑھانا، اور بے زمین کسانوں کو زمین سے بے دخلی کے خلاف تعاون دیناشامل تھا۔
اگلے چند مہینوں میں جو منظرنامہ ابھرا وہ کوئی واحد متحد تحریک نہ تھی، بلکہ علمی، سیاسی اور کبھی کبھار مادی طور پر اور کئی سطحوں پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی بغاوتیں تھیں۔ ڈھاکہ، چٹاگونگ، اور راج شاہی میں مارکسی طلبہ گروہوں نے نئے ریڈنگ سرکلزاور اشاعتی اقدامات شروع کیے۔ چھوٹے مارکسی پبلشنگ ہاؤسز نے لینن، روزا لکسمبرگ، اور چارو مازمدار کے بنگالی تراجم شائع کرنا شروع کیے۔ غازی پور اور نرائن گنج میں زیر زمین نیٹ ورکس کی مدد سے انقلابی مزدوروں نے اچانک ہڑتالیں کیں اور فیکٹری بندشوں کی مزاحمت کی۔ دیہی علاقوں میں زیر زمین ماؤ نواز تنظیموں سے وابستہ کارکنوں نے کارپوریٹ زرعی کمپنیوں اور فوج کی جانب سے زمینوں پر قبضے کے خلاف کسانوں کی مزاحمت کو سہارا دیا۔
اسی دوران قانونی طور پر کام کرنے والے بائیں بازو میں ایک بحث شدت اختیار کر گئی کہ کیا انہیں اسی غیر جمہوری اور کھوکھلے انتخابی نظام میں نمائندگی کے لیے کوشش جاری رکھنی چاہیے؟ یا انہیں انتخابی سیاست سے ہٹ کر مزدوروں اور نوجوانوں کی مزاحمتی قوتوں کے ساتھ مل کرانقلابی محاذ بنانے پر زور دینا چاہیے؟ یہ تناؤ دسمبر 2024 میں اس وقت اپنے عروج پر پہنچا جب ایک نیا اتحاد ’گانوتنترک بام جوت‘(ڈیموکریٹک لیفٹ الائنس) تشکیل دیا گیا۔ اس میں سی پی بی، باساد، انقلابی مزدور پارٹی اور دیگر جماعتیں شامل تھیں، مگر بہت سے انقلابی نوجوانوں نے اسے موجودہ سیاسی لمحے کو دوبارہ پارلیمانی فریم ورک میں جذب کرنے کی کوشش سمجھ کر شک کی نظر سے دیکھا۔
پھر بھی اس اتحاد نے اہم احتجاج منظم کیے، خاص طور پر یومِ مزدور 2025 اور بغاوت کی سالگرہ پرمنظم کیے گئے احتجاج اہم تھے۔ اس اتحاد نے ایسے منشور جاری کیے جن میں صرف معاشی شکایات نہیں، بلکہ نظام کی مکمل تبدیلی کی بات کی گئی۔ زمین اور فیکٹریوں پر عوامی کنٹرول، اختیارات کی مرکزیت کے خلاف اقدامات، جابرانہ ریاستی اداروں کا خاتمہ، اور غیر ملکی قرضوں پر انحصار ختم کرنے جیسے مطالبات پیش کیے گئے۔ تاہم ایک واضح انقلابی حکمت عملی کی عدم موجودگی انہیں پیچھے کھینچتی رہی۔ وہ تنقید تو کر سکتے تھے، مگر اقتدار پر قبضہ کرنے یا متبادل سیاسی ڈھانچے بنانے کا کوئی واضح راستہ فراہم نہ کر سکے۔
یہی خلا زیر زمین بائیں بازو نے پر کرنے کی کوشش کی۔ پی بی سی پی اورسی پی بی(ایم ایل) جیسے گروہوں نے دیہی اور شہری علاقوں میں ’عوامی کمیٹیوں‘کے قیام کی وکالت شروع کی۔ کچھ علاقوں، خاص طور پر جنوب مغرب میں ان کمیٹیوں نے غیر رسمی طور پر کام کرنا شروع کر دیا، جیسا کہ زمین کے تنازعات کو حل کرنا، سیلف ڈیفنس پٹرولز بنانا، اور بنیادی خدمات فراہم کرنا۔ ان کا نظریہ اگرچہ اب بھی حاشیے پر تھا، مگر ان بستیوں میں مقبول ہونے لگا جو ریاست کی جانب سے ترک کر دی گئی تھیں۔
ایک اہم تبدیلی یہ بھی آئی کہ زیر زمین گروہوں نے ٹیکنالوجی کا استعمال زیادہ ہوشیاری سے شروع کر دیا۔ ان جماعتوں کے نوجوان کارکنوں نے سیکیور میسجنگ پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل اینکرپشن کا استعمال سیکھا تاکہ نگرانی سے بچا جا سکے۔ وہ اپنے اعلامیے اور نظریاتی مضامین خفیہ طور پر انٹرنیٹ پر جاری کرتے، جنہیں بعض اوقات ٹیلیگرام یا دیگر نامعلوم سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کیا جاتا۔ ان ذرائع سے انہوں نے شہری کارکنوں، ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والے طلبہ، اور حتیٰ کہ بیرون ملک مقیم کچھ حمایتیوں سے بھی رابطے بحال کیے۔
تاہم چیلنجز اب بھی بہت بڑے ہیں۔ ریاستی جبر میں اضافہ ہوا ہے،درجنوں کارکنوں کو گرفتار، تشدد کا نشانہ، یا غائب کر دیا گیا ہے۔ این جی اوز اور بیرونی فنڈڈ ادارے بائیں بازو کے ایجنڈے کو کمزور کرتے ہوئے مقامی قیادت کو سروس بیسڈ پروگرامنگ میں ضم کرتے جا رہے ہیں۔ فرقہ واریت اب بھی قانونی اور زیر زمین دونوں بائیں بازو کے گروہوں کو کمزور کرتی ہے۔ اگرچہ اگست 2024 کے بعد کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، عام لوگ اب بھی محتاط ہیں، وہ تشدد سے خوفزدہ، انقلابی متبادلات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار، اور اکثر اپنی بقا کی جدوجہد میں الجھے ہوئے ہیں۔
اس کے باوجود سیاسی زمین بدل چکی ہے۔ مارکسی سیاست کی واپسی، زیر زمین پارٹیوں کی تنظیم نو، اور طلبہ و مزدور جدوجہد کا اتحاد،جو کبھی ناممکن لگتا تھا،لیکن اب ایک زندہ حقیقت بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش کا بایاں بازو خواہ وہ نظر آئے یا نہ آئے، اب خاموش نہیں ہے ۔ وہ سوچ رہا ہے، منظم ہو رہا ہے، تیاری کر رہا ہے۔ آیا یہ نیا جوش کسی مکمل انقلابی منصوبے میں بدل سکے گا یا نہیں، اس کا انحصار صرف نظریاتی وابستگی پر نہیں، بلکہ حکمت عملی کی وسعت، متنوع اتحادوں، اور روزمرہ زندگی میں سیاست کی بنیادیں رکھنے کی صلاحیت پر ہوگا۔ بغاوت 2024 میں ختم نہیں ہوئی تھی۔ اس نے ایک گہرا عمل شروع کیا تھا۔ایک تاریخی دھارا، جو اب بھی سطح کے نیچے رواں ہے، اور شاید کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو۔
(بشکریہ: ’انٹرنیشنل ویوپوائنٹ‘، ترجمہ: حارث قدیر)