روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

’ظہران ممدانی 100 فیصد کمیونسٹ پاگل ہے‘، ڈونلڈ ٹرمپ

’ظہران ممدانی 100 فیصد کمیونسٹ پاگل ہے‘، ڈونلڈ ٹرمپ

التمش تصدق

نیویارک سٹی میئر کے لیے ڈیموکریٹک پرائمری جیتنے والے 33 سالہ نوجوان ڈیموکرٹیک سوشلسٹ امیدوار ظہران ممدانی کی کامیابی نے امریکہ کے محنت کشوں اور نوجوانوں سمیت ساری دنیا کی ترقی پسند قوتوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی ہے۔پارٹی انتخابات میں جیت نے ثابت کیا ہے کہ سماجی افق پر متبادل کی عدم موجودگی میں اگر کوئی ترقی پسند پروگرام محنت کشوں کے پاس لے جاتا ہے تو ان میں بہتر زندگی کے حصول اور حقیقی انسانی سماج کے قیام کی جدوجہد کی امید جاگتی ہے ،جس کے حصول کیلئے وہ جدوجہد کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ظہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم مہنگائی، بیروزگاری، بے گھری، ٹرانسپورٹ، صحت اور دیگر محنت کشوں کے مسائل کے خلاف چلائی ہے۔ظہران ممدانی کے ہاتھوں مدمقابل ارب پتی سرمایہ دار امیدوار کو ترقی پسند پروگرام کے ذریعے شکست نے امریکی حکمرانوں کو ایک مرتبہ پھر انقلاب، اورسوشلزم و کمیونزم کے انقلابی نظریات سے خوفزدہ کردیا ہے۔امریکی حکمران ظہران ممدانی کے مسلم اور جنوب ایشیائی خاندانی پس منظر کی وجہ سے ان کے خلاف مذہبی و نسلی تعصب پر مبنی مہم چلانے کے ساتھ ساتھ ان کے ڈیموکریٹک سوشلسٹ نظریات کو سخت گیر کمیونسٹ نظریات قرار دے کر پروپیگنڈہ کر رہے ہے۔

ظہران ممدانی کی جیت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں، 100 فیصد کمیونسٹ پاگل کہا اور دھمکی دی اگر ممدانی مئیر بنے اور صحیح کام نہ کیا تو وفاقی فنڈنگ روک دی جائے گی۔اس کے بعد بھی ٹرمپ کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ظہران ممدانی نے مئیر منتخب ہونے کے بعد غیر قانونی مقیم مہاجرین کی گرفتاریاں نہ کرنے کا اعلان کیا تو ٹرمپ نے ممدانی کو گرفتار کروانے کی دھمکی دی اور ان کی شہریت پر بھی سوال اٹھایا۔ٹرمپ کی دھمکیاں ان کے خوف کی غمازی کرتی ہیں۔ٹرمپ کا کمیونسٹوں کو پاگل قرار دینا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔تاریخی طور پر ہر حکمران طبقے نے انقلابات اور انقلابی نظریات کو پاگل پن قرار دیا۔اطاعت گزار اجرتی غلام جب سرکشی پر اترتے ہیں تو وہ عمل حکمرانوں کو پاگل پن ہی محسوس ہوتا ہے۔انقلاب اکثریتی محنت کشوں کا اقلیتی سرمایہ داروں کے خلاف ایک پاگل پن ہی ہوتا ہے، جو ان حکمران طبقات کے پاگل پن کو لگام دیتا ہے جو محنت کشوں کی زندگیوں کو تاراج کر رہے ہوتے ہیں۔ٹرمپ کے بیانات اور دھمکیاں ،حکمران طبقات کا کمیونزم کی ناکامی کا واویلا اور ان نظریات سے نفرت کا اظہار جس شدت سے ظاہر کیا جاتا ہے، یہ لوگ اتنے ہی کمیونزم کے نظریات سے خوفزدہ ہیں۔حکمران طبقات کی نفرت اور خوف بلاوجہ نہیں ہے ۔ کمیونزم کی صورت میں انہیں اپنے اس نظام کی موت نظر آتی ہے ،جس کی بنیاد مٹھی بھر سرمایہ داروں کے ہاتھوں اربوں اجرتی مزدوروں کی محنت کے استحصال پر قائم ہے۔

ٹرمپ نے محض ظہران ممدانی کو ہی نہیں ان ہی حمایت کرنے والوں کو بھی پاگل قرار دیا۔پاگل پن کیا ہے؟ معروضی حالات،مادی حقائق اور خطرات کو ماننے سے انکار کرنا۔اس اعتباد سے ٹرمپ اور اس رحجان کے دیگر رہنماؤں سمیت سرمایہ دار حکمران طبقہ سب سے زیادہ پاگل پن کا شکار ہے۔ٹرمپ ماحولیاتی تبدیلیوں جیسی مادی حقیقت سے انکاری ہیں، جو نسل انسانی سمیت ہر قسم کی زندگی کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ نسل پرستی ہو یا جنگی جنون، فلسطین میں معصوم بچوں کے قتل عام اور سمندر میں ڈوبتے انسانوں کا تماشہ دیکھنا پاگل پن نہیں ہے تو اور کیا ہے؟۔کامریڈ لال خان نے کہا تھا’’ یہ حکمران طبقات پاگل نہیں ہوتے نظام کا بحران انہیں پاگل کر دیتا ہے۔‘‘پہلی اور دوسری عالمی جنگ سے لے کر موجودہ جنگوں اور خانہ جنگیوں کی صورت میں سرمایہ دارانہ نظام اپنے پاگل پن کا اظہار کر رہا ہے۔بحرانی ادوار میں سرمایہ دارانہ نظام کے نمائندوں کی شخصیات کی صورت میں بھی اس پاگل پن کی جھلک نظر آتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی کوئی سنجیدہ انسان نہیں تھے لیکن دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے کے بعد ان کی غیر سنجیدگی، بدتمیزی، مسخرے پن میں پہلے کی نسبت کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت میں ایک زوال پذیر امریکی سامراج ہی نہیں بلکہ زوال پذیر سرمایہ دارانہ نظام اپنا اظہار کر رہا ہے، جس کی نمائندگی ٹرمپ اور اس قبیل کے دیگر سیاست دان کر رہے ہیں۔ٹرمپ کا سرمایہ دارانہ نظام میں دنیا کی سب سے طاقتور سامراجی ریاست کا دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونا امریکی سماج، بالخصوص وہاں کے درمیانی طبقے اور محنت کشوں کی کچھ پرتوں میں پائی جانے والی بے چینی اور اضطراب کا اظہارِ ہے ،جو ٹرمپ کے ذریعے امریکہ کو پھر سے عظیم بنانا چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کے نتیجے میں امریکی عوام کے معیار زندگی میں گراوٹ، صنعت کی بندش اور دیگر ملکوں میں منتقلی کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافے جیسے مسائل کا قوم پرستانہ اور نسل پرستانہ حل پیش کیا۔ٹرمپ نے بیروزگاری کی وجہ سرمایہ داری کی بجائے مہاجرین کو قرار دیا اور ان کی بے دخلی کی مہم چلائی، اور تحفظاتی پالیسوں کے ذریعے صنعت کو واپس امریکہ لانے کے وعدے کیے۔بائیں بازو کی متبادل قوتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ٹرمپ نے خود کو اسٹیبلشمنٹ مخالف متبادل کے طور پر پیش کیا۔سرمایہ دارانہ بحران نے امریکہ سمیت ساری دنیا میں دائیں اور بائیں بازو کے روایتی نمائندوں کی گنجائش ختم کر دی ہے، جس کی جگہ سخت گیر رحجانات لے رہے ہیں۔

امریکہ میں ترقی پسند پروگرام پر برنی سینڈر کی بڑے پیمانے پر مقبولیت اور حمایت کے بعد ظہران ممدانی کی حمایت اس بات کا اظہار ہے کہ اصلاح پسند بائیں بازو کی ناکامی کے نتیجے میں جنم لینے والی یاس و نا امیدی ہی ٹرمپ جیسے نیم فسطائی رحجانات کے ابھار کی وجہ بنتی ہے۔ٹرمپ جیسے رحجانات کو شکست بھی روایتی دائیں بازو کے ذریعے نہیں بلکہ بائیں بازو کے انقلابی رحجانات ہی دے سکتے ہیں۔ 2008 کے بحران کے بعد پہلا ابھار دائیں بازوں کے اصلاح پسند رحجانات ہوا جنہیں انتخابی میدان میں غیر معمولی کامیابی بھی ملی، لیکن یہ رحجان حکومتوں میں آنے کے بعد اپنے وعدوں اور پروگرام پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔بائیں بازوں کے اصلاح پسند رحجانات کی ناکامی نے فسطائی طاقتوں کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔بائیں بازوں کے اصلاح پسند رحجانات کی ناکامی کی وجہ سرمایہ دارانہ نظام میں اصلاحات کی گنجائش کا بھی خاتمہ ہے۔آج کے عہد میں سرمایہ داری کے ڈھانچے میں رہتے ہوئے آپ محنت کشوں کے حق میں بڑے پیمانے پر اصلاحات نہیں کر سکتے ہیں۔یہ ظہران ممدانی کے حوالے سے بھی بہت اہم سوال ہے کہ اگر وہ مئیر کا انتخاب جیتتے ہیں تو کیا وہ اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرپائیں گے جو انہوں نے انتخابی مہم کے دوران محنت کشوں سے کیے ہیں؟کیا وہ سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے محنت کشوں کی زندگی کو قابل برداشت بنا سکتے ہیں ؟ سب کے بڑھ کر اہم سوال یہ ہے کہ وہ انتخابی میدان کے علاوہ امریکی سڑکوں، فیکٹریوں، اور دفتروں میں سرمایہ داروں اور ان کی نمائندہ ریاست کے خلاف محنت کشوں، مہاجرین اور خواتین کی لڑائی میں ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں؟امریکی سرمایہ دار حکمرانوں کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ نہیں 100 فیصد کمیونسٹ شکست دے سکتا ہے ،اوروہ شکست انتخاب کے ذریعے نہیں انقلاب کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں