روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

فلسطین کو ریاست تسلیم نہ کرنے پر اٹلی میں عام ہڑتال

فلسطین کو ریاست تسلیم نہ کرنے پر اٹلی میں عام ہڑتال

لاہور(جدوجہد رپورٹ)اٹلی میں روم، میلان، بولونیا، فلورنس، نیپلز اور دیگر بڑے شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جن میں مزدور یونینوں کے کارکنان، طلبہ، اساتذہ اور عام شہری شامل تھے۔ یہ احتجاج بنیادی طور پر غزہ میں جاری قتل عام اور انسانی بحران کے خلاف کیا گیا، لیکن ساتھ ہی اٹلی کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے بھی تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے اور اسرائیل کے ساتھ فوجی و اقتصادی تعلقات کا ازسرنو جائزہ لے۔

مظاہروں کا آغاز مختلف مزدور یونینوں کی طرف سے دی گئی 24 گھنٹے کی ہڑتال کی کال سے ہوا۔ ہڑتال میں یو ایس بی اور دیگر چھوٹی مگر سرگرم مزدور تنظیموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس ہڑتال کے نتیجے میں بندرگاہوں پر کام رک گیا، ریل گاڑیاں تاخیر کا شکار ہوئیں اور ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہوا۔ جنوا اور لیورنو کی بندرگاہوں پر مزدوروں نے کام روک کر نعرے لگائے کہ اسرائیل کو کسی قسم کے ہتھیار یا فوجی سازوسامان کی ترسیل فوری طور پر بند کی جائے۔ طلبہ اور نوجوانوں نے بھی بڑے پیمانے پر احتجاج میں شمولیت کی، روم کے مرکزی اسٹیشن ترمینی کے باہر سینکڑوں نوجوان فلسطینی پرچموں کے ساتھ جمع ہوئے اور اسرائیل مخالف نعرے لگائے۔

میلان اور بولونیا میں صورتحال زیادہ کشیدہ رہی۔ میلان کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر مظاہرین نے زبردستی اندر گھسنے کی کوشش کی جس پر پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، دکانوں کے شیشے ٹوٹے اور پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا۔ بولونیا میں مظاہرین نے مرکزی شاہراہ بند کر دی جس سے ٹریفک کئی گھنٹوں تک معطل رہا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپوں کا استعمال کیا۔ ان جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہوئے اور متعدد کو حراست میں لیا گیا، جب کہ اطلاعات کے مطابق ساٹھ کے قریب پولیس اہلکار بھی متاثر ہوئے۔

مظاہرین مطالبہ کر رہے تھے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے، اسرائیل کے ساتھ ہتھیاروں کی تجارت ختم کی جائے، غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور اٹلی کی حکومت اس مسئلے پر اپنی خاموشی توڑ کر واضح موقف اپنائے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میلونی انتظامیہ فلسطینی عوام کی حالت زار پر چشم پوشی کر رہی ہے اور یورپ میں بڑھتے عوامی دباؤ کے باوجود کوئی قدم نہیں اٹھا رہی۔

اٹلی کی حکومت نے فی الحال ان احتجاجوں کو تشدد قرار دے کر مسترد کیا ہے لیکن عوامی سطح پر یہ دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ اٹلی کی داخلی سیاست اور یورپی یونین کی سطح پر بھی گہری بحث کا مرکز بن جائے گا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں