روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

لندن میں انتہائی دائیں بازو کے ابھار کے خلاف مارچ میں 50 ہزار سے زائد افراد کی شرکت

لندن میں انتہائی دائیں بازو کے ابھار کے خلاف مارچ میں 50 ہزار سے زائد افراد کی شرکت

لاہور(جدوجہد رپورٹ)برطانیہ میں انتہائی دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی سیاست کے خلاف ہفتے کے روز وسطی لندن کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے مارچ کیا۔ مظاہرے کا عنوان”مارچ ٹو اسٹاپ دی فار رائٹ“تھا، جس میں شرکا نے خاص طور پر بریگزٹ مہم کے سرکردہ رہنما نائیجل فراج کی جماعت ریفارم یوکے کی بڑھتی مقبولیت پر تشویش کا اظہار کیا، جو حالیہ عوامی سرویز میں سرفہرست ہے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق ٹریڈ یونینز اور سول سوسائٹی تنظیموں کی حمایت سے منعقدہ اس مارچ کو ٹوگیدر الائنس نے منظم کیا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق پولیس اہلکاروں نے شرکا کی تعداد تقریباً 50 ہزار بتائی۔ مظاہرین نے ریفارم یوکے کی مہاجر مخالف پالیسیوں کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جبکہ مارچ میں ایرانی پرچم، فلسطین کے جھنڈے اور یکجہتی کے بینرز بھی نمایاں طور پر لہرائے گئے۔

حالیہ رائے شماریوں کے مطابق ریفارم یوکے وزیراعظم کیر اسٹارمر کی لیبر پارٹی سمیت دیگر روایتی برطانوی جماعتوں سے آگے ہے۔ برطانیہ کی گرین پارٹی کے سربراہ زیک پولانسکی نے بھی مارچ میں شرکت کی، جو لیبر کے متبادل کے طور پر عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے بتایا کہ مارچ کے دوران اور اسی روز ہونے والے ایک علیحدہ پروفلسطین مظاہرے کے سلسلے میں 25 افراد کو گرفتار کیا گیاہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں