روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

مشرقِ وسطیٰ آگ و خون کی لپیٹ میں: کیا ایران میں رجیم چینج ممکن ہے؟

مشرقِ وسطیٰ آگ و خون کی لپیٹ میں: کیا ایران میں رجیم چینج ممکن ہے؟

حارث قدیر

13جون کو اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ برسوں کے پراکسی حملوں، جوہری دھمکیوں اور خفیہ کارروائیوں کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اسرائیل نے اسرائیل پر براہ راست اور کھلے حملے کیے اور جواب میں ایران کی جانب سے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ایران پر اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران میں رجیم چینج کی باتیں بھی چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اس حوالے سے تبصرے کیے اور بیانات دیئے ہیں۔

ایران پر 13جون2025کو ’آپریشن رائزنگ لائن‘ کے نام سے اسرائیل نے اس حملے کا ااگاز کیا۔ اس حملے میں ایران کی متعدد جوہری اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں ایران کو اپنی اعلیٰ سطحی قیادت کا نقصان اٹھانا پڑا۔ جوہری سائنسدان، فوج اور پاسداران انقلاب کے سربراہان سمیت متعدد کمانڈرز کی ہلاکتیں ہوئیں۔ اس بڑے نقصان کے بعد خیال کیا جا رہا تھا کہ ایران کا دفاعی چین آف کمانڈ بری طرح سے متاثرہو جائے گا اور شاید جلد ایران جوابی حملہ نہ کر پائے۔ تاہم ایران نے اسرائیل پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے سپر سانک اور ہائپر سانک بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے اور اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کو نْسان پہنچانے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے مختلف شہروں کو بھی نقصان پہنچایا۔ مختلف خبروں کے مطابق ایران نے 400سے زائد میزائل اور 2000سے زائد ڈرونز اسرائیل پر داغے ہیں۔
6روزہ جنگ میں ابھی تک ایران میں 639سے زائد افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں، جن میں 260سے زائد عام شہری ، خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اس دوران متعدد جوہری و عسکری ماہرین، سائنسدان اور فوجی افسران بھی مارے گئے۔ دوسری جانب اسرائیل میں 26ہلاکتوں اور 100سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم ہلاکتوں اور نقصانات کے اس سے زیادہ ہونے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

عالمی رد عمل

امریکہ نے کھل کر اسرائیل کی حمایت کی ہے اور صدر ٹرمپ نے ایران کو جوہری دہشت گرد ریاست قرار دیا ہے، جبکہ روس نے اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت کی ، ایران کی خودمختاری کے حق میں بیان دیا اور ثالثی کی پیشکش بھی کی۔ چین نے دونوں فریقین سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ یورپی یونین نے بھی اسرائیل کا دفاع کیا۔ ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے نگرانی کرنے والی تنظیم آئی اے ای اے نے جوہری تنصیبات پر حملے کو عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

یوں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ، روس، چین ، یورپی یونین اور دیگر ملکوں کے حکمران طبقات بظاہر الگ سمتوں میں کھڑے ہیں، مگر سب کی نظریں مشرق وسطیٰ کی دولت ،اسلحہ کی تجارت ور جغرافیائی کنٹرول پر ہیں۔

دوسری جانب ایران پر اس حملے کا جواز مبینہ جوہری پروگرام یا یورینیم کی افزودگی کو قرار دیا گیا ہے۔ تاہم ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے عمل سے پوری دنیا کو تابکاری کے خطرات سے دوچار کرنے پر عالمی سطح پر خاموشی ہے۔ یہی جوہری ہتھیار اسرائیل کے رکھنے پر پابندی نہیں ہے اور دنیا کے دیگر سامراجی ملکوں کے پاس بھی انسانیت کو تباہ کرنے والے یہ ہتھیار وافر مقدار میں موجود ہیں۔ درحقیقت جوہری ہتھیاروں کا اس دنیا سے مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ تاہم سامراجی حکمرانوں کے کردار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ محض جوہری ہتھیاروں کا نہیں ہے، بلکہ خطے پر سامراجی بالادستی کے بلاروک ٹوک جاری رکھنے کا ہے۔

رجیم چینج کی کوشش؟

اسرائیل کے اس حملے کو ایران میں ’رجیم چینج‘ (حکومت کی تبدیلی) کے لیے کی جانے والی ایک سنجیدہ کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی وزیراعظم نے بھی واضح اشارے دیے ہیں۔ ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ ’رجیم چینج نتیجہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایرانی رجیم بہت کمزور ہے۔‘

انہوں نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک چراغ روشن ہو چکا ہے، اسے آزادی تک لے جاؤ۔۔۔آپ کی آزادی کی گھڑی قریب ہے،اوریہ ابھی ہو رہا ہے۔‘

اسرائیل کی جانب سے نیوکلیئر و میزائل اہداف پر حملے، ریاستی میڈیا اور پولیس ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنانا اور اعلیٰ عسکری حکام کو نشانہ بنانا بھی طاقت کے مراکز کو کمزور کرنے کا واضح اشارہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیتن یاہو نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ’ماڈرن ہٹلر‘ قرار دے کر ایرانی عوام سے رجیم کے خلاف اکٹھے ہونے کی اپیل بھی کی۔ یہ سارے اقدامات یہ واضح کر رہے ہیں کہ اس حملے کا مقصد ایران میں رجیم چینج کرنا ہے۔

نیتن یاہو کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل کی پہلی ترجیح رجیم چینج نہیں تھی، لیکن یہ ’نچوڑا ہوا نتیجہ‘ ہو سکتا ہے۔

ادھرامریکی انتظامیہ نے باضابطہ طور پر رجیم چینج کو اسرائیل کا سرکاری مقصد قرار نہیں دیا، بلکہ نیوکلیئر و میزائل پروگرام کی تباہی پر زور دیا۔امریکی حکام نے یہ واضح بھی کیا ہے کہ امریکہ سرکاری طور پر رجیم چینج کے مشن کی حمایت نہیں کرتا،البتہ نیوکلیئر صلاحیتوں کے خاتمے کا حامی ہے۔

فراسیسی صدر میکران نے بھی رجیم چینج کی اس کوشش کو بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران میں نظام کی تبدیلی کو فوجی ذرائع سے حاصل کرنے کی کوشش کا نتیجہ انتشار کی صورت میں نکلے گا۔‘جرمن چانسلر نے البتہ یہ کہاکہ ’یہ ایک دہشت گرد رجیم ہے، جسے ختم ہونا چاہیے۔‘

یوں یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ایران کی پراکسیوں کے خاتمے کے بعد نیوکلیئر ہتھیاروں کو بہانہ بنا کر کیا جانے والا یہ حملہ ایران میں رجیم چینج کی سنجیدہ کوشش کا حصہ ہو سکتاہے۔ تاہم یہ کس حد تک ممکن ہے اور متبادل کے طور پر کیا آپشن موجود ہیں، یہ معاملہ بحث طلب ہے۔

ایران کی اپوزیشن

ایران میں اپوزیشن بکھری ہوئی، متنوع اور کمزور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔ سابق شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کو سیاسی منظر نامے کے معروف نام کے طورپر پیش کیا جات اہے، جو بحیثیت عبوری رہنما سیکولر اور جمہوری ریاست کی بات کرتے ہیں ، اور آج کل سوشل میڈیا پر کافی سرگرم ہیں۔

ان کی شہرت بیرون ملک موجود ایرانیوں میں موجود ہے، اس کے علاوہ ملک کے اندر بھی نوجوانوں اور مڈل کلاس میں ان کی کچھ محدود حمایت موجود ہے۔ تاہم زیادہ تر یہ شہرت میڈیا کی حد تک ہی ہے۔ کوئی مضبوط تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں ہے اور عوامی احتجاجوں میں شمولیت نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ اسی طرح شاہی دور کے تجربے کے طور پر ایرانی عوام کی اکثریت انہیں ناپسند کرتی ہے۔ نسلی اقلیتوں میں بھی ان کی مقبولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔

بائیں بازو کے گروہوں میں بھی تودہ پارٹی موجود ضرور ہے لیکن سماجی اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔ ماضی کے فدائی اور دیگر مسلح بائیں بازو کے گروپ بھی بکھرے ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر بائیں بازو کے ایران کے اندر عوامی رابطے تقریباً ختم ہیں۔ نظریاتی ، سیاسی اور تنظیمی مسائل بھی ایک بڑی وجہ کے طور پر موجود ہیں۔

مذہبی اعتدال پسند کہلانے والی اپوزشین بھی موجود ہے، تاہم وہ بھی انتخابات میں شرکت سے محروم ہے۔ کرد، بلوچ، عرب علوی تحریکیں علیحدگی، خودمختاری یا وفاقی نظام کی حمایت کرتی ہیں۔

رجیم چینج کے امکانات

شاہی، بائیں بازو کی،مذہبی اعتدال پسندوں، یا مظلوم قوموں کی جانب سے بغاوت اور حکومت کی تبدیلی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ رجیم چینج کے لیے پاسداران انقلاب یا فوج کی بغاوت ضروری ہو گی۔ اسرائیلی حملے میں اعلیٰ فوجی قیادت کو نشانہ بنانے کے پیچھے شاید یہی مقصد رہا ہو، لیکن فی الوقت کامیابی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔

ایسی صورت میں رجیم چینج کے لیے اسرائیلی یا امریکی فوجوں کا ایران میں داخل ہونا ناگزیر ہے، جس کے امکانات بھی ناہونے کے برابر ہیں۔ تاہم آنے والے دنوں میں اگر امریکہ براہ راست اس جنگ میں داخل ہوتا ہے، تو ایران کا مقدر عراق یا شام جیسا ہونے کے امکانات بہرحال موجود ہیں۔

اسرائیل کا داخلی بحران

نیتن یاہو کا ایران پر حملہ صرف ایک خارجی جارحیت نہیں، بلکہ ایک گہرے داخلی سیاسی بحران سے جڑا ہوا عمل ہے۔ یہ حملہ اسرائیل کے اندرونی تضادات، ذاتی بقا، اور سیاسی حکمت عملی کا عکس ہے۔

نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت نے گزشتہ سال عدالتی نظام میں جو وسیع تبدیلیاں لانے کی کوششیں کیں، ان پر نہ صرف عوام بلکہ سپریم کورٹ، سابق فوجی جرنیلوں اور کاروباری حلقوں کی جانب سے شدید رد عمل آیا۔ لاکھوں افراد نے مہینوں مظاہرے کیے، جسے اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج کہا گیا۔نیتن یاہو کو آمرانہ رویے کا الزام دیا گیا اور کہا گیا کہ وہ سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کر کے اپنے خلاف کرپشن کیسز سے بچنا چاہتے ہیں۔

نیتن یاہو پر تین بڑے مقدمات زیر سماعت ہیں، جن میں رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد توڑنا شامل ہیں۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے میڈیا مالکان کو رعایتیں دے کر مثبت کوریج حاصل کی۔ان مقدمات کی کارروائی بار بار مؤخر ہوئی، جسے عدلیہ کو سیاسی دباؤ میں لانے کی کوشش سمجھا گیا۔

غزہ پر جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے ذریعے بیرونی محاذ کھول کر بھی اپنی دفاعی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ حماس کے حملے کو نیتن یاہو کی حکومت اور انٹیلیجنس کی ناکامی قرار دیا گیا تھا اور اس وقت مختلف تجزیہ کار اس سکیورٹی ناکامی کا ذمہ دار نیتن یاہو کو قرار دے رہے تھے۔

نیتن یاہو اور ان کے اتحادی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں کے اقدامات نے اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہائی کی جانب گامزن کر دیا تھا۔ حکومت پر اقلیتوں اور عدالتوں کے خلاف اقدامات کے الزامات بڑھ رہے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ داخلی مسائل یعنی عدالتی اصلاحات، کرپشن اور سکیورٹی ناکامی جیسے مسائل سے توجہ ہٹانے اور قومی شاؤنزم اور اتحاد کو قائم کرنے کے لیے عوام کی توجہ جنگ کی طرف موڑ دی گئی ۔ اب جنگی حالات میں اسرائیلی اپوزیشن، میڈیا اور عوام کی بڑی اکثریت نیتن یاہو کے گرد جمع ہو گئی ہے۔

بظاہر اس جنگی کیفیت میں یہ بات مقبول عام ہے کہ اسرائیلی عوام کا سب سے بڑا دشمن ایران ہے، جس کا ایٹم بم بنانا اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا موجب بن سکتا ہے۔ تاہم اسرائیلی عوام کا اصل دشمن یہ نظام ہے جو ان کے سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق کو پامال کر رہا ہے اور انہیں مسلسل ایک جنگی صورتحال کا شکار بنا رہا ہے۔

ایرانی ملا اشرافیہ کے چیلنجز

ایران میں 1979کے رد انقلاب سے پیدا ہونے والی مذہبی رجعت پسند آمریت بھی برسوں سے متعدد داخلی تضادات،عوامی بے چینی، معاشی بحران اور نسلی و طبقاتی عدم مساوات کا شکار ہے۔ اسرائیلی حملہ وقتی طور پر قومی شاؤنزم اور ملا اشرافیہ کی سماجی حمایت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے،وقت کے ساتھ ساتھ یہ حملہ ملا رجیم کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی بن سکتا ہے۔ تاہم ایرانی عوام کی زندگیاں ملا اشرافیہ کے تحت پہلے ہی انتہائی تلخ تھیں، جنہیں اسرائیل کے حملے نے مزید تلخ اور خونریز کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

ایران2018کے بعد سے شدید امریکی پابندیوں کی زد میں ہے، جس کی وجہ سے معیشت تباہ کن حد تک مزور ہو چکی ہے۔ مہنگائی کی شرح مسلسل40فیصدسے اوپر ہے، بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلام کے نام پر چلنے والی اس ریاست کا معاشی نظام سرمایہ داری، کرپشن اور ریاستی اجارہ داری پر کھڑا ہے۔ دو سال قبل پورے ملک میں نوجوانوں نے بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے۔ اخلاقی پولیس اور جبری پردے سمیت آزادی اظہار پر پابندیوں کے خلاف نوجوانوں میں شدید بے چینی موجود ہے۔ دوسری جانب کرد، بلوچ، ارب اور ترک اقلیتیں ریاستی امتیاز اور سکیورٹی ریاست کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں۔

ایران کی مذہبی اشرافیہ اور عسکری قیادت کے مابین مفادات کا ٹکراؤ بھی موجود ہے۔ پاسداران انقلاب اب محض فوجی ادارے سے کہیں بڑھ کر معاشی، تعمیراتی اور خارجہ پالیسی پر قابض نظر آتی ہے۔

وقتی طور پر اسرائیلی حملوں نے ایران میں قومی اتحاد کو قائم کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ تاہم یہ سلسلہ زیادہ دیر تک چلتا ہوا نظر نہیں آتا ہے۔ اگر جنگ آگے بڑھتی ہے تو ایران کے بری طرح سے ٹوٹ کر بکھرنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ براہ راست سامراجی حملے کے نتیجے میں رجیم چینج کے امکانات تو بہت محدود ہیں، لیکن جنگ کے خاتمے کے کچھ عرصے بعد ہی عوامی بغاوتوں کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دراصل ایک مذہبی رنگ میں لپٹا ہوا سرمایہ دارانہ آمریت کا ماڈل ہے، جو عوام کی محنت، قومی وسائل اور ثقافت پر قابض ہے۔ اسرائیلی جارحیت اس آمریت کو وقتی آکسیجن تو دے سکتی ہے، مگرکوئی بھی غیر عوامی ریاست دشمن کے خلاف جنگ جیت کر بھی عوام کے دل نہیں جیت سکتی۔

مشرق وسطیٰ کا مستقبل

ایران میں رجیم چینج کے امکانات جہاں بہت کم ہیں، تاہم سامراجی بنیادوں پر حکومت کی ہر تبدیلی ایرانی عوام کے خلاف اور سامراجی مفادات کی ضامن ہوگی۔ اسرائیل کے ایران پر حملوں کی جس قدر مذمت کی جائے اتنی کم ہے، ایران کو اپنے دفاع کا حق بھی حاصل ہے۔ تاہم صرف اس بنیاد پر ایران کی ملا اشرافیہ کی حمایت کسی صورت نہیں کی جا سکتی۔ سامراجی سرمایہ دارانہ نظا م کے زیر سایہ مشرق وسطیٰ میں سامراج کی پولیس چوکی کا کردار ادا کرنے والی اسرائیلی ریاست نہ تو اسرائیلی عوام کی محافظ ہے، نہ ہی مشرق وسطیٰ میں امن کی ضامن ۔ یہ ریاست سامراجی مفادات کے تحفظ کے لیے اس خطے میں آگ اور خون کی ہولی کھیلنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ ایسے ہی ایران کی ملا اشرافیہ نہ تو مذہب کی خدمت کر رہی ہے اور نہ ہی سامراج مخالف ہے، بلکہ وہ اس آڑ میں ایرانی محنت کشوں، محکوموں، نسلی اقلیتوں اور خواتین کے معاشی و سیاسی قتل عام پر معمور ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امن کا مستقل قیام اسرائیلی ریاست کے خاتمے، فلسطین کی آزادی اور ایران سمیت دیگر آمریتوں اور بادشاہتوں پر مبنی عرب علاقوں کے عوام کی اس نظام کے خلاف فتوحات میں پنہاں ہے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں