لاہور(جدوجہد رپورٹ)کیوبا کو انسانی بحران سے نکالنے کے لیے میکسیکو نے دو بحری جہازوں کے ذریعے فوری امداد روانہ کی ہے، جو جمعرات کے روز کیوبا کے دارالحکومت ہوانا پہنچ گئے۔ امدادی سامان میں خوراک، ادویات، تیل اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں، جنہیں جزیرے میں شدید قلت کے باعث فوری طور پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد نئی پابندیوں، خصوصاً ٹرمپ انتظامیہ کی تیل پر سخت ناکہ بندی کے باعث کیوبا ممکنہ انسانی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔
’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق تیل کی فراہمی میں رکاوٹوں نے ملک کی نقل و حمل، بجلی کی پیداوار اور صحت کے شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق کیوبا میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کا ذمہ دار واشنگٹن کی اقتصادی پابندیوں کو قرار دیا جا رہا ہے، جو گزشتہ 6دہائیوں سے نافذ ہیں لیکن حالیہ برسوں میں مزید سخت کر دی گئی ہیں۔
امریکی پابندیاں کیوبا کی حکومت کو سیاسی طور پر کمزور کرنے اور اسے دباؤ میں لانے کی کوشش کا حصہ ہیں، تاہم ناقدین کے مطابق ان اقدامات کا اصل بوجھ عام آبادی برداشت کر رہی ہے۔
کیوبا کے لیے یہ معاونت ایسے وقت میں پہنچ رہی ہے جب حکومت بین الاقوامی اداروں اور دوست ممالک سے امداد کی اپیلیں کر رہی ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات اقوامِ متحدہ میں کیوبا کے سفیر ارنیستو سوبیرون گزمین کی گفتگو میں سامنے آئیں گی، جن کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ”امریکی معاشی محاصرے کا براہِ راست نتیجہ“ ہے۔