لاہور(جدوجہد رپورٹ) نیویارک سٹی کے بڑے اسپتالوں اور ریاستی نرسز یونین کے درمیان مذاکرات جمعے کے روز دوبارہ شروع ہونے جا رہے ہیں، جبکہ شہر کی تاریخ کی سب سے بڑی نرسز ہڑتال اپنے پانچویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔
’سی بی ایس نیوز‘ کے مطابق مونٹی فیور اور ماؤنٹ سینائی ہیلتھ سسٹم آج پہلی بار ہڑتال کے آغاز کے بعد نرسوں کی نمائندہ تنظیم نیو یارک اسٹیٹ نرسز ایسوسی ایشن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے، تاہم نیو یارک پریسبیٹیرین کی آج ملاقات متوقع نہیں۔
گزشتہ رات نرسز ایسوسی ایشن اور نیو یارک پریسبیٹیرین کے درمیان ایک ثالث کی موجودگی میں کئی گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، جو ہڑتال شروع ہونے کے بعد پہلا باضابطہ رابطہ تھا۔ تاہم دونوں فریق کسی سمجھوتے تک نہ پہنچ سکے۔
ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بات چیت بنیادی طور پر اسٹاف کی کمی کے مسئلے پر مرکوز رہی، لیکن یونین کے مطالبات کو ’’غیر معقول‘‘قرار دیا گیا۔ ہسپتال نے مزید کہا کہ مستقبل کے اجلاس اب ثالث کے ذریعے طے ہوں گے۔
ہڑتالی نرسوں کو شہر کی دیگر یونینوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ جمعرات کے روز یونیفارمڈ فائر فائٹرز ایسوسی ایشن کے ارکان بھی ہڑتالی نرسوں کے ساتھ احتجاجی لائنوں میں شامل ہوئے۔
یونین تین بڑے اسپتال سسٹمز پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ اسٹاف میں بہتری، ہیلتھ کیئر فوائد اور کام کی جگہ کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات سے انکار کر رہے ہیں۔
مونٹی فیور انتظامیہ کے مطابق اسپتال نے نرسوں کی حفاظت کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں ہتھیاروں کی نشاندہی کے لیے ٹیکنالوجی، 24 گھنٹے مسلح پولیس اہلکاروں کی موجودگی اور نرسوں کے لیے پینک بٹن کی فراہمی شامل ہے۔نیو یارک پریسبیٹیرین کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال پہلے ہی شہر میں بہترین اسٹافنگ ریشوز رکھتا ہے۔
ماؤنٹ سینائی ہیلتھ سسٹم نے ایک بیان میں کہا کہ یونین کے مطالبات صرف ماؤنٹ سینائی ہسپتال کے لیے اگلے تین سالوں میں 1.6 ارب ڈالر کا اضافی خرچ ہوں گے، جس سے ایک نرس کی اوسط سالانہ تنخواہ تقریباً 2لاکھ50ہزار ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
ماؤنٹ سینائی ویسٹ کی نرس مشل اینگ نے کہاکہ ’’اس ہسپتال کو اپنے مریضوں سے اچھا خاصا منافع ہوتا ہے۔ اسے ان لوگوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے جو ان مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔‘‘
دوسری جانب ماؤنٹ سینائی ہیلتھ کے سی ای او ڈاکٹر برینڈن کار نے یونین پر الزام لگایا کہ وہ ہڑتال میں شریک نہ ہونے والی نرسوں کوہراساں اور خوفزدہ کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ ’’بدمعاشی، ڈرانا دھمکانا اور دھمکیاں دینا نرسوں کی توہین ہیں، یہ ہمارے ادارے کی اقدار کے خلاف ہے۔ آپ اس سے بہتر سلوک کی مستحق ہیں۔‘‘
ہڑتال پر موجود نرسوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اپنے ساتھیوں کو ہڑتال کے فوائد اور نقصانات سے آگاہ کر رہی ہیں۔