روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

نیویارک میں اسرائیلی بستیوں کی فروخت کے خلاف احتجاج، رئیل اسٹیٹ نمائش کا گھیراؤ

نیویارک میں اسرائیلی بستیوں کی فروخت کے خلاف احتجاج، رئیل اسٹیٹ نمائش کا گھیراؤ

لاہور(جدوجہد رپورٹ) امریکہ کے شہر نیویارک میں سینکڑوں مظاہرین نے مین ہٹن کے ہلٹن مڈ ٹاؤن ہوٹل کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ایک اسرائیل نواز رئیل اسٹیٹ نمائش کو نشانہ بنایا، جس میں مقبوضہ مشرقی یروشلم میں قائم اسرائیلی بستیوں میں جائیدادوں کی فروخت کی تشہیر کی جا رہی تھی۔

’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ نمائش امریکی شہریوں کو فلسطینیوں کی قبضہ شدہ زمینوں پر آباد ہونے کی ترغیب دینے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ایسی سرگرمیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جانے والی اسرائیلی بستیوں کو فروغ دینے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یروشلم کے میئر موشے لائن نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔

احتجاج میں شریک کارکنوں میں روزا مارٹینیز بھی شامل تھیں، جو عالمی یکجہتی مہم گلوبل صمود فلوٹیلا سے وابستہ ہیں اور حال ہی میں غزہ جانے والے بحری قافلے میں شرکت کے بعد نیویارک واپس لوٹی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں گزشتہ ہفتے بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی فورسز نے حراست میں لیا تھا۔

روزا مارٹینیز نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ فلوٹیلا سے واپسی کے بعد اس احتجاج میں شرکت نے انہیں یہ احساس دلایا کہ فلسطین کے لیے عالمی سطح پر جاری جدوجہد ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ”ہمیں گزشتہ ہفتے اسرائیلی قابض افواج نے حراست میں لیا تھا۔ یہی وہ فوج ہے جو نیویارک پولیس کو تربیت دیتی ہے۔ نیویارک پولیس کا ایک دفتر تل ابیب میں بھی موجود ہے، اور اسرائیلی حکام جو طریقے ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں، وہی طریقے زیادہ شدت کے ساتھ نیویارک میں سیاہ فام، براؤن اور تارکین وطن برادریوں کے خلاف بھی استعمال ہوتے ہیں۔“

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ امریکہ میں ایسی تقریبات کے انعقاد کو روکا جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فروخت کو فروغ دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی زمینوں پر قائم بستیوں کی خرید و فروخت بین الاقوامی قوانین اور فلسطینی عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں