جلبیراشقر
وائٹ ہاؤس کا دورہ کم از کم مغربی نقطہ نظر سے ہمیشہ ہی سیاسی وائٹ واشنگ کی انتہا سمجھا جاتا ہے ۔ اسی صدارتی دفتر میں گزشتہ پیر کے دن احمد الشرع موجود تھے، جو ایک ہی رات میں ابو محمد الجولانی سے احمد الشرع بن گئے، یعنی القاعدہ کے ایک منحرف گروہ ہیت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس، سابقہ جبھۃ النصرہ) کے امیر، اب عرب جمہوریہ شام کے صدر بن چکے تھے۔ انہوں نے اپنا خاکی جہادی لباس اتار کر مغربی طرز کا سوٹ اور ٹائی پہن لی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں اپنے میز کے پیچھے بٹھا کر اس طرح گفتگو کی جیسے کوئی امیدوار منظوری کے لیے انٹرویو دے رہا ہو۔ صرف تین دن قبل ہی الشرع/الجولانی کا نام امریکی حکومت کی ’مطلوب دہشت گردوں‘کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا ۔ یہ وہی فہرست ہے جس میں شمولیت پر ان کی گرفتاری یا ہلاکت پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا، جیسے کسی ہالی ووڈ مغربی فلم کا ولن ہو۔
احمد الشرع کا وائٹ ہاؤس کا یہ دورہ ان کی کریملن میں ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کے فوراً بعد ہوا ،جو شاید اس سے بھی زیادہ حیران کن تھا ، اگرچہ مغربی میڈیا نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ اس بات پر حیرت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ الشرع کئی برسوں تک امریکہ کے برخلاف روسی افواج سے برسرپیکار رہے۔ دوسری طرف امریکہ سے انہوں نے داعش کے خلاف تعاون کیا تھا، خاص طور پر نیٹو کے رکن ملک ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کے ذریعے۔
پھر بھی الشرع نے بغیر ہچکچاہٹ کے اس شخص سے ہاتھ ملایا جس نے شامی عوام کی تباہی میں اور بشارالاسد کے دفاع میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ یہ وہی بشار الاسد ہیں،جن کے خلاف الشرع نے دشمنی کی قسم کھائی ہوئی ہے، اور جن کے لیے ماسکو ایک محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔
یہ حیران کن واقعات اس وقت مزید دلچسپ ہو گئے جب مختلف علاقائی طاقتوں ،مثلاً ترکی، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر نے بھی الشرع کی خوشامد میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش شروع کر دی۔ البتہ ایران اس صف میں شامل نہیں ہوا، کیونکہ اس کی پالیسیوں اور ہیت تحریر الشام کی نظریاتی سمت کے درمیان فرق اور فرقہ وارانہ کشیدگی موجود ہے۔دوسری جانب اسرائیل نے نئی دمشق رژیم کے ساتھ وہی طرزعمل اختیار کیا ہے جو وہ لبنان کے ساتھ کرتا آیاہے، یعنی عسکری دباؤ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا۔
اسرائیل کا مقصد شام اور لبنان دونوں کو عرب نارملائزیشن کے دائرے میں لانا ہے، یعنی صیہونی ریاست کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا ، مگر دو شرائط کے ساتھ:لبنان میں حزب اللہ کا سامنا کر کے اسے غیر مسلح کرنا، اوردمشق کی جانب سے جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنا، جنہیں اسرائیل نے 1967 میں قبضے میں لیا اور 1981 میں ضم کر لیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت صدارت میں اس الحاق کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ان تمام جغرافیائی و سیاسی چالوں کے درمیان شام کی صورتحال اب بھی نہایت نازک ہے۔ نئی حکومت کے پاس نہ تو ملک پر حقیقی کنٹرول کی طاقت ہے، اور نہ ہی وہ ان مسلح گروہوں کو قابو میں رکھ سکتی ہے جن پر وہ برسوں سے انحصار کرتی آئی ہے۔ فرقہ وارانہ قتل و غارت نے شام کی مذہبی اقلیتوں میں خوف مزید گہرا کر دیا ہے، جو اب یہ سمجھنے لگی ہیں کہ نئی حکومت کے زیرسایہ سلامتی صرف طاقت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اس سلسلے میں شمال مشرقی شام کے کردوں نے سیلف پروٹیکشن کے لیے ایک خودمختار علاقہ قائم کر کے مثال قائم کی ہے۔ دراصل دمشق میں نئی حکومت اس چیز کی ضد ہے جس کی شام کو واقعی ضرورت ہے ، یعنی ہر قسم کے فرقہ واریت سے فاصلہ، جمہوریت، اور دیانت داری۔ اس کے برعکس یہ ایک فرقہ وارانہ حکومت ہے، ایک آمرانہ منصوبہ، اور ایک بدعنوان نظام جو اسی خاندانی اقرباپروری کو آگے بڑھا رہا ہے جو اسد خاندان کے دورِ اقتدار کی پہچان تھی۔
رئیل اسٹیٹ
آخر وہ کون سے تضادات ہیں جو اس وقت سے ابھرے جب احمد الشرع نے اسد کے والد کے تعمیر کردہ صدارتی محل میں ان کی جگہ سنبھالی؟اس کا جواب ہر اس فریق کے رویے میں چھپا ہے جو اپنی اپنی خواہشات کو نئی رژیم پر عکسی طور پر مسلط کر رہا ہے، اور اس کے ساتھ الشرع کا لامحدود موقع پرستی پر مبنی رویہ بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عرب تیل کی بادشاہتوں نے اپنی پوری قوت صرف کر دی تھی تاکہ شامی انقلاب کو ایک عوامی جمہوری تحریک کی بجائے ایک فرقہ وارانہ جہادی جنگ میں تبدیل کر دیا جائے، جو خود ان کی آمرانہ اور غیر جمہوری فطرت کے عین مطابق تھا۔ آج یہی بادشاہتیں اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ بشارالاسد کے بعد کا شام اس خانہ جنگی کے دور سے بھی بدتر ثابت نہ ہو ، کہ کہیں وہی جہادی دہشت گردی، جو ایک دہائی سے شام سے برآمد کی جا رہی ہے، دوبارہ شدت اختیار نہ کر لے۔
مغربی ممالک بھی انہی خدشات کا شکار ہیں، جیسے روس اور حتیٰ کہ چین بھی، جو اب بھی نئی شامی حکومت کے بارے میں محتاط ہے۔ بیجنگ کو خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ احمد الشرع کی افواج میں ایسے جہادی جنگجو شامل ہیں جو خود چین کی مسلم آبادیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
معاشی مفادات بھی یقینااس ساری صورتحال میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ شام کی تعمیر نو کا بازار انتہائی وسیع ہے ۔ یہ غزہ کی تعمیر نو کے اس منصوبے سے کہیں زیادہ ہے، جس نے ٹرمپ کے غیر حقیقی ’ریویرا‘جیسے خوابوں کو جنم دیا تھا۔عالمی بینک کے مطابق شام کی تعمیر نو پر لاگت کا اندازہ 140 ارب سے 340 ارب ڈالر کے درمیان ہے، اور غالب امکان یہ ہے کہ یہ لاگت تقریباً 215 ارب ڈالر تک پہنچے گی۔ خلیجی بادشاہتوں نے پہلے ہی مصر میں رئیل اسٹیٹ اور سیاحت کے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، اور وہ 2011 کی بغاوت سے پہلے اسد کے دور میں شام میں بھی سرمایہ کاری کا آغاز کر چکی تھیں۔
’رئیل اسٹیٹ‘ کا ذکر آتے ہی ذہن فوراً ٹرمپ، ان کے خاندان اور ان کے قریبی حلقوں کی طرف جاتا ہے ۔ ان سب کے لیے رئیل اسٹیٹ میں قیاس آرائی (speculation) ہمیشہ سے سیاست اور طاقت کے کھیل میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ احمد الشرع اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ اسی لیے جب مئی میں ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے دوران دونوں کی ملاقات کی کوششیں جاری تھیں، تو الشرع نے دمشق میں ’ٹرمپ ٹاور‘ تعمیر کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ شام کی تعمیر نو کے بازار سے ممکنہ طور پر فائدہ اٹھانے کا تصور غالباً امریکی صدر کے رویے پر اثر انداز ہو رہا ہے، اگرچہ یہ ابھی محض مفروضہ ہے ۔
یہی منطق یورپی ممالک، مثلاً فرانس، پر بھی صادق آتی ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون اپنے پیش روؤں کی تقلید کرتے ہوئے عرب دنیا کے معاشی ’کیک‘ میں اپنا حصہ محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، یعنی تیل و گیس کی دولت کو متوجہ کرنا، تعمیراتی معاہدے حاصل کرنا، اسلحہ فروخت کرنا وغیرہ ، اور اس کے لیے انہوں نے اپنی خارجہ پالیسی کو واشنگٹن کی بجائے سرکاری عرب اتفاق رائے کے قریب تر کر دیا ہے۔ چنانچہ میکرون نے الشرع سے ملاقات کے لیے ایلیزے محل کے دروازے فوراً کھول دیے۔ حتیٰ کہ اس ملاقات نے ٹرمپ سے ریاض میں ہونے والی الشرع کی ملاقات سے بھی پہلے جگہ لے لی۔
آخر میں یورپی رہنما اپنے ممالک میں موجود فار رائٹ کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے شامی پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں۔ دمشق کی نئی حکومت پر اعتماد کا اعلان دراصل ان شامی پناہ گزینوں کی جبری واپسی کا پہلا بہانہ ہے ، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اب شام ’’محفوظ‘‘ ہے، اگرچہ یہ بات حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔
گزشتہ ہفتے جرمن چانسلر فریڈرخ مرز نے اعلان کیا کہ انہوں نے الشرع کو برلن مدعو کیا ہے تاکہ شامی پناہ گزینوں کی واپسی کے حالات پر بات چیت کی جا سکے۔ یاد رہے یہی مرز وہ شخص ہیں جو 10 برس پہلے اس وقت کی چانسلر اینجلا مرکل کے اس فیصلے کے سخت ناقد تھے، جب انہوں نے پناہ گزینوں کے لیے جرمنی کے دروازے کھول دیے تھے۔
معاشی مفادات سے لے کر سیاسی چالبازیوں تک یہ تمام عوامل اس عجیب تضاد کی وضاحت کرتے ہیں جس میں مختلف ممالک ایک ایسے شخص اور نظام کو صاف اورقابل قبول ظاہر کرنے میں مصروف ہیں جسے محض چند ماہ پہلے تک دہشت گرد قرار دیا جاتا تھا۔یہ سب منظرنامہ ٹرمپ کے دور کی عالمی سیاست کی ایک مناسب علامت ہے ۔
(بشکریہ:’جیکوبن‘، ترجمہ: حارث قدیر)
