روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

وینزویلا پر امریکی یلغار: کچھ بنیادی نکات

وینزویلا پر امریکی یلغار: کچھ بنیادی نکات

ماریا سوشلسٹا

تلخیص و ترجمہ: عمران کامیانہ

(پہلی بار انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ کی ویب سائٹ پر 8 جنوری کو شائع ہوا۔)

اگرچہ نکولس مادورو کو اغوا کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے فوجی مداخلت کی گئی ہے (جس میں اب تک 100 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے) لیکن سامراج نے (تاحال) ملک میں اپنے فوجی دستے تعینات کرنے سے گریز کیا ہے۔ اگرچہ طاقتور بحری و فضائی محاصرہ بدستور جاری ہے۔ جو کچھ وقوع پذیر ہوا وہ سامراج کی جانب سے کیا گیا ایک بیرونی فوجی کُو تھا۔ جس میں بلا شبہ اندرونی سازباز شامل تھی یا جو پردے کے پیچھے ہونے والے مذاکرات اور سمجھوتوں سے ہی ممکن ہوا۔ یہی عوامل وضاحت کرتے ہیں کہ امریکی حملے کو روکنے کے لیے طیارہ شکن دفاع اور دیگر ذرائع یا تو ناکام کیوں رہے یا فعال ہی کیوں نہ کیے گئے۔ تاہم وینزویلا کی مسلح افواج (FANB) نے تاحال اس حوالے سے کوئی وضاحت پیش نہیں کی اور اس وقت صرف ٹرمپ کا بیانیہ ہی سامنے ہے۔ بہرحال غداری یا کسی خفیہ سودے بازی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

مادورو کے اغوا اور انہیں ملک سے باہر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر اہداف پر بھی حملے کیے گئے۔ جن میں فوجی تنصیبات، سرکاری دفاتر‘ حتیٰ کہ وینزویلا کا ایک سائنسی تحقیقی ادارہ بھی شامل تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ کم از کم دو عام شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ تاہم ہلاکتوں کی بڑی تعداد مادورو کے فوجی حفاظتی دستے کے ارکان کے قتل پر مشتمل تھی۔ جن میں کیوبا کے اہلکار بھی شامل تھے۔

وینزویلا پر جارحیت کے بعد وزیر دفاع لوپیز کی جانب سے ایک پیغام سامنے آیا جس میں واقعات کی رپورٹ دی گئی اور وینزویلا کی مسلح افواج پر اعتماد رکھنے کی اپیل کی گئی۔ حالانکہ یہ افواج اپنے فرائض کی انجام دہی میں موثر ثابت نہیں ہوئیں۔ بنیادی طور پر لوپیز نے امن و سکون اور تحمل کی تلقین کی۔ بعد ازاں وزیر داخلہ دیوسدادو کا پیغام بھی اسی نوعیت کا تھا۔ وینزویلا کی مسلح افواج کی جانب سے کسی موثر دفاعی یا طیارہ شکن جوابی کارروائی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ سوائے ایک دشمن ہیلی کاپٹر کو نقصان پہنچانے کے۔

ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان کیے جانے کے بعد کہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو ’’گرفتار‘‘ کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے، نائب صدر ڈیلسے رودریگز ایک آڈیو پیغام میں نمودار ہوئیں۔ جس میں انہوں نے مادورو کے اغوا کی مذمت کی، صدارتی جوڑے کے ٹھکانے سے متعلق معلومات کا مطالبہ کیا اور دونوں کے زندہ ہونے کا ثبوت طلب کیا۔ بعد ازاں ان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ حکومت نے اعلان کیا کہ طاقت کے خلا سے بچنے کے لیے نائب صدر کو قائم مقام یا عبوری صدر مقرر کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

سامراجی کشیدگی اور 3 جنوری کی مداخلت کے تناظر میں ماریا (Marea) اور ایل آئی ایس کے ابتدائی بیانات

ماریا سوشلسٹا، جو مادورو کی آمرانہ حکومت کی مخالف لیکن سامراج دشمن، سرمایہ داری مخالف اور محنت کش طبقے و وینزویلا کے عوام کے جمہوری و سماجی حقوق کا دفاع کرنے والی ایک بائیں بازو کی تنظیم ہے، کی جانب سے ہم ابتدا ہی سے ٹرمپ کی سامراجی بمباریوں اور جارحانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے آ رہے ہیں۔ ہم صدر نکولس مادورو اور سیلیا فلورس کے اغوا کو بھی مسترد کرتے ہیں اور ملک کے اندرونی سیاسی مقدر کے تعین میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو رد کرتے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وینزویلا کو ہراساں کرنے اور نشانہ بنانے والی بحری و فضائی افواج اور فوجی دستوں کو فوری طور پر واپس بلایا جائے۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ لاطینی امریکہ اور دنیا بھر کی حکومتیں اور تنظیمیں امریکی حکومت کی قزاقانہ اور مداخلت پسندانہ کارروائیوں کے خلاف سخت مذمت اور احتجاج پر مبنی مؤقف اختیار کریں۔

دوسری جانب ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ وینزویلا کے بیوروکریٹک آمرانہ نظام، جس کی قیادت 3 جنوری 2026ء تک مادورو کے پاس تھی، کے ساتھ گہرے اوربنیادی اختلافات کے باوجود ہم ملک کی خودمختاری کے دفاع، جمہوری حقوق کے مطالبے، جبر کے خلاف مؤقف اور محنت کش طبقے و مصیبت زدہ عوام کے سماجی مطالبات کے حق میں کھڑے ہیں۔ ہم امریکی سامراج کے خلاف اور وینزویلا کے عوام کے دفاع میں قومی و بین الاقوامی سطح پر وسیع ترین متحدہ عملی جدوجہد اور تحریک کی اپیل کرتے ہیں۔ (3 جنوری 2026ء)

اس پوزیشن کا ایک حصہ پہلے ہی اس قرارداد میں شامل تھا جسے ہم نے ایل آئی ایس کی تیسری کانگریس (6 تا 12 دسمبر 2025ء) میں منظور کیا تھا۔

موجودہ عالمی تناظر میں وینزویلا کے خلاف سامراجی جارحیت کا مطلب اور مطلوبہ ردِعمل

ماریا سوشلسٹا نے امریکی سامراج کی ان نہایت سنگین جارحانہ کارروائیوں کی بھرپور اور دوٹوک مذمت جاری رکھی ہے۔ امریکہ کو کسی دوسرے ملک کے صدر کو بزورِ طاقت اغوا کرنے یا قید کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

ہم نے خبردار کیا تھا کہ ٹرمپ کی یہ جارحانہ یلغار صرف وینزویلا تک محدود نہیں بلکہ تمام لاطینی امریکی اور کیریبین ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔ یہ ان تمام حکومتوں کے خلاف ممکنہ مداخلت پسندانہ اقدامات کی راہ ہموار کرتی ہے جو سامراج کے احکامات کے سامنے سر جھکانے سے انکار کریں۔ جیسا کہ کولمبیا، کیوبا اور میکسیکو کو دی جانے والی دھمکیوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔

ٹرمپ پاناما کو بھی دھمکا رہا ہے کہ اگر اس نے پاناما کینال کے انتظام میں اسے مکمل طور پر مطمئن نہ کیا یا تجارتی جنگ کے تناظر میں چین کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ اس نے گرین لینڈ کو ضم کرنے کی اپنی خواہش کا اعادہ کیا ہے۔ حتیٰ کہ سادہ سکیورٹی خدشات یا امریکی مفادات کے لیے وسائل کے حصول کے نام پر ہمسایہ ملک کینیڈا کو بھی ہڑپ کرنے کی بات کی ہے۔ وہ غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نیتن یاہو حکومت کی جانب سے جاری نسل کشی کی معاونت بھی کر رہا ہے اور اس خطے کو اپنے کاروباری مفادات کے لیے قبضے میں لینے کے عزائم رکھتا ہے۔

امریکی صدر یہ سمجھتا ہے کہ اسے دنیا کے کسی بھی حصے میں مداخلت کرنے، وسائل پر تصرف حاصل کرنے یا یہ طے کرنے کا حق حاصل ہے کہ کون حکومت کرے اور کون نہ کرے۔ اسی مقصد کے لیے اس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین، معاہدوں یا کثیر جہتی اداروں کی کوئی پروا نہیں کرے گا۔

چنانچہ یہ بالکل واضح ہے کہ ہم امریکی سامراج کی ایک عالمی جارحانہ یلغار کا سامنا کر رہے ہیں۔ جو خود کو دوبارہ غالب عالمی طاقت اور جغرافیائی سیاسی بالادست قوت کے طور پر قائم یا بحال کرنے کی اس کی کوشش کا حصہ ہے۔ ابھرتی ہوئی دیگر سامراجی طاقتوں کے ساتھ مقابلے میں امریکہ کرہ ارض پر خصوصی علاقائی حلقہ ہائے اثر (Spheres of Influence) متعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ روس اور چین کے ساتھ طاقت کی تقسیم میں بھی اپنا حصہ بڑھانا چاہتا ہے۔ لیکن کھیل کے تمام ضابطے توڑ کر وہ دیگر طاقتوں کو بھی یہی موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ اپنی ہوس کو انہی طریقوں سے پورا کریں۔ بے لگام من مانی اور عسکری طاقت کے استعمال کے ذریعے اور کسی قسم کے ابہام کے بغیر!

لہٰذا ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی عالمی مداخلت پسندی کو دنیا بھر کے عوام اور ان کی تحریکوں کی جانب سے فوری، بھرپور اور فیصلہ کن طور پر مسترد کرنا اور اس کا مقابلہ کرنا نہایت اہم ہے۔ یہ جدوجہد بین الاقوامی سطح پر تمام ممکنہ قوت اور صلاحیت کے ساتھ کی جانی چاہیے۔ جس کا آغاز متحد اور مربوط مہمات اور اقدامات سے ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر حکومتوں اور تنظیموں کو بھی اس جارحیت کی مذمت پر مجبور کیا جائے اور اس کی روک تھام کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات اختیار کرنے کا دباؤ ڈالا جائے۔
ٹرمپ کی جارحیت کو روکنے کے لیے مجوزہ بین الاقوامی اقدامات

اس تناظر میں ہم درج ذیل بین الاقوامی اقدامات کو ناگزیر سمجھتے ہیں:

  • وینزویلا میں سامراجی مداخلت کے خلاف ایک عالمی سطح کی متحرک عوامی مہم اور اسی مقصد کے تحت تمام حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں پر فعال دباؤ۔
  • ٹرمپ کی جانب سے نکولس مادورو اور سیلیا فلورس کے اغوا کی مذمت۔ کیونکہ ان سے حساب کتاب چکتا کرنے کا حق امریکہ کو نہیں بلکہ وینزویلا کے عوام کو حاصل ہے۔
  • حکومتوں سے یہ مطالبہ کہ وہ ہر جگہ امریکی سامراجی‘ نوآبادیاتی طاقت سے تعلقات منقطع کریں۔ بالخصوص لاطینی امریکہ میں۔
  • تمام لاطینی امریکہ اور دیگر ممالک سے جارح سامراجی طاقت کے فوجی اڈوں کے انخلا کا مطالبہ۔ دنیا بھر سے ٹرمپ کی قزاقانہ سلطنت کے فوجی اڈے ختم کیے جائیں!
  • تمام ممالک کے امریکہ کے ساتھ موجود تمام فوجی معاہدوں کے خاتمے اور لاطینی امریکہ اور دنیا بھر میں ٹرمپ کی سامراجی جارحیت کے خلاف مشترکہ پابندیوں کے نفاذ کا مطالبہ۔
  • وینزویلا کے ساحلوں پر امریکی فوجی محاصرے، کشتیوں پر حملوں اور مال بردار جہازوں کی ضبطیوں، فضائی نقل و حمل پر پابندیوں اور وینزویلا کی سرزمین کی بے حرمتی کی ہر شکل کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات۔ وینزویلا کے خلاف سامراجی دھمکیوں، جارحیت اور جابرانہ احکامات کا خاتمہ کیا جائے۔
  • عوام پر حملہ آور اور نسل کشی کے حامی ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا دینے اور اس پر پابندیاں عائد کرنے کے اقدامات کو فروغ دینا۔ امریکہ کے اندر ان عوامی تحریکوں کی حمایت جو ٹرمپ کو روکنے اور بہت دیر ہو جانے سے پہلے اس کے مواخذے (Impeachment) کے لیے سرگرم ہیں۔
  • اس تجویز کو آگے بڑھانا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت پسندی اور جنگی جارحیت کے خلاف ایک براعظمی ہڑتال منظم کی جائے۔
    وینزویلا کے لیے عبوری حکومت اور نوآبادیاتی سرپرستی کا منصوبہ
    مادورو کو اغوا کر کے امریکہ لے جانے کے بعد ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر درج ذیل اعلانات کیے ہیں:
  • اس نے اعلان کیا کہ وہ ملک پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے ڈیلسے رودریگز (نائب صدر) کو حکومت میں برقرار رکھے گا اور انہیں امریکی سرپرستی میں وینزویلا کے نام نہاد عبوری مرحلے (Transition) کے لیے ایک نمائشی چہرے کے طور پر استعمال کرے گا۔
  • کہا گیا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اس عمل کی قیادت کرے گا۔ جب تک انتخابات کے انعقاد کی ’’ضمانت‘‘ نہ دی جا سکے۔ تاہم کسی حتمی تاریخ یا مدت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔
  • ٹرمپ نے ماریا کورینا ماچادو (اور اس کے نمائندے ایڈمنڈو گونزالیز، جسے 28 جولائی 2024ء کے انتخابات کا حقیقی فاتح سمجھا جاتا ہے۔ وہ انتخابات جنہیں مادورو نے غصب کیا تھا) کو مسترد کر دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ یہ انتہائی دائیں بازو کی اپوزیشن فی الحال کوئی متبادل نہیں۔ کیونکہ اس کے بقول اس کے پاس نہ تو کافی بیرونی حمایت ہے اور نہ ہی ملک کے اندر فوج پر کنٹرول اور مناسب ہم آہنگی۔
  • اس نے پہلی ترجیح کے طور پر وینزویلا کے تمام تیل تک اپنی مرضی کی شرائط پر رسائی کا مطالبہ کیا ہے اور دوسرے مرحلے میں’’ملک کی تعمیر نو‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ وہ بھی اپنی شرائط پر۔ جبکہ انتخابات کو اس وقت تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے جب تک یہ سب مکمل نہ ہو جائے اور ’’استحکام‘‘ قائم نہ ہو جائے۔
  • اس نے حکومت اور ڈیلسے کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے تعاون نہ کیا اور اطاعت نہ کی تو انہیں مادورو سے بھی بدتر سزا دی جائے گی یا حملوں کی ایک نئی لہر آئے گی۔ چنانچہ وینزویلا کو وہ سب کچھ دینا پڑے گا جو ٹرمپ مانگ رہا ہے۔ اس کے علاوہ مبینہ قرضوں اور مداخلت کے اخراجات کی ادائیگی بھی کرنا ہو گی۔
  • اس کے بعد اس نے دیگر لاطینی امریکی ممالک اور ان کے صدور کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ امریکی مفادات کے خلاف گئے یا اس کے چین جیسے حریفوں کا ساتھ دیا تو انہیں بھی اسی انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
  • بعد ازاں اس نے یہ بھی کہا کہ وہ وینزویلا میں امریکی سفارت خانہ دوبارہ کھولنے پر غور کر رہا ہے (تاکہ ملک پر اپنے کنٹرول کو بہتر طور پر منظم کر سکے)۔
    دوسری جانب نئی قائم مقام صدر ڈیلسے رودریگز نے اگرچہ چاویزم (شاویز سے جڑی تحریک یا نظریات) سے وابستہ کچھ علامتی بیانیہ برقرار رکھا لیکن ٹرمپ کے منصوبے کو نہ تو مسترد کیا اور نہ ہی اس کا مقابلہ کیا۔ بلکہ تمام تر مضمرات کے باوجود امریکہ کے ساتھ ایک ’’تعاون کے ایجنڈا‘‘ پر رضامندی ظاہر کی۔ قومی دفاعی کونسل کے اجلاس میں مادورو کی رہائی کے مطالبے کے سوا مسلط کی گئی نئی صورتِ حال پر کوئی بنیادی اعتراض سامنے نہیں آیا۔ مادورو کی روانگی سے قبل نافذ کی گئی ’’بیرونی ہنگامی صورتحال‘‘ برقرار رکھی گئی ہے۔ لیکن سامراج کا مقابلہ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ غیر جمہوری پابندیوں کو برقرار رکھنے، جبر کو منظم کرنے اور حکومت کو خصوصی اختیارات دینے کے لیے۔ جن کے تحت وہ ایسے اقدامات نافذ کر سکتی ہے جنہیں ٹرمپ مسلط کرنا چاہتا ہے۔ اگر یہ شرائط اور احکامات نافذ کیے گئے تو یہ بولیوار کی قیادت میں حاصل کی گئی وینزویلا کی آزادی کے بعد کی بدترین نوآبادیاتی محکومی کی صورت ہو گی۔
    نہ ٹرمپ، نہ مادورو!
    ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحیت کے خلاف مؤقف اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ ماریا سوشلسٹا نے واضح کیا ہے کہ انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ (ISL) کے ساتھ مل کر اختیار کی گئی سامراج دشمن پوزیشن کسی صورت مادورو یا اس کے حالیہ نظام کا دفاع نہیں ہے۔ اسی طرح ہم اس عبوری حکومت کی بھی مخالفت کرتے ہیں جو اب اس کی جگہ آئی ہے اور جو ٹرمپ کی جبری سرپرستی میں قائم ہے۔ ایسی سرپرستی جس سے ڈیلسے رودریگز نے خود کو الگ نہیں کیا بلکہ ایک ’’تعاون کے ایجنڈا‘‘ کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ ایجنڈا پہلے ہی معاشی اور سیاسی میدان میں نافذ ہو رہا ہے۔ جس کا آغاز امریکی مطالبے کے مطابق وینزویلا کے تمام تیل کی حوالگی سے ہوا ہے۔ ٹرمپ خود دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا انتظام سنبھالے گا اور وینزویلا پر اپنے اختیار کو مطلق قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی مدت ’’غیر معینہ‘‘ ہو سکتی ہے۔ اس کے بقول یہ سلسلہ ’’کئی سال‘‘ تک جاری رہ سکتا ہے۔
    ہم بائیں بازو سے کے نقطہ نظر سے اس بعد از مادورو نظام کے دوٹوک مخالف ہیں۔ کیونکہ اب معاملہ ڈیلسے رودریگز کو واشنگٹن کی ہدایات پر چلنے والے ایک قسم کے تحفظاتی نظام (Protectorate) کی ’’پروکونسل‘‘ کے طور پر استعمال کرنے کا ہے۔
    وینزویلا کی خودمختاری کے دفاع کے ساتھ ساتھ ہمارا مقصد جدوجہد کے ذریعے ان حقوق کی بحالی ہے جو بیوروکریٹک اور کرپٹ نظام نے عوام سے چھین لیے ہیں۔ وہی نظام جس نے مادورو اور اس کے ٹولے کے ساتھ مل کر بولیوارین انقلاب کی ابتدائی فتوحات کو شدید زوال اور تباہی سے دوچار کیا ہے۔ یہ وہ حاصلات ہیں جو شاویز کے دور میں حاصل کی گئی تھیں۔
    خود مادوروازم کی پالیسیوں اور طرزِ عمل نے ہی ماریا کورینا کی سامراج نواز انتہائی دائیں بازو کی قوت کو تقویت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے اور وہ کمزوریاں پیدا کیں جن سے سامراج نے فائدہ اٹھایا اور آج بھی اپنی مداخلت پسندانہ یلغار اور نوآبادیاتی غلبے کے لیے اٹھا رہا ہے۔
    مادورو پہلے ہی 2024ء کے انتخابات میں شکست کے بعد کمزور ہو چکا تھا۔ جس کے بعد اس نے انتخابی دھاندلی کے ذریعے خود کو عملاً اقتدار میں برقرار رکھا۔ اس سے نہ صرف عوامی ناپسندیدگی میں اضافہ ہوا بلکہ اس کے اپنے حلقے کے اندر اقتدار کی کشمکش بھی شدت اختیار کر گئی۔ اس حلقے میں ایک طرف دیوسدادو کابیلو (برسراقتدار سوشلسٹ پارٹی ’PSUV‘ اور پولیس و نیم فوجی سکیورٹی ڈھانچہ) ہے۔ دوسری طرف روڈریگز برادران (قومی اسمبلی، نائب صدارت اور ’PDVSA‘ یعنی تیل کی قومی کمپنی) ہیں۔ اور پھر پیڈرینو لوپیز (بولیوارین نیشنل آرمڈ فورسز) جیسے لوگ ہیں۔
    وینزویلا میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے مذکورہ قومی اور بین الاقوامی تناظر میں ہی سمجھنا ہو گا۔ تاہم ٹرمپ کی جسارت، شیخی اور جارحانہ بیان بازی کا یہ مطلب نہیں کہ وہ عملاً جو چاہے کر سکتا ہے۔ اسی لیے وہ ایک ایسے ’’عبوری عمل‘‘ کا انتخاب کر رہا ہے جو واشنگٹن کی نگرانی میں ہو، مادورو کے بغیر، مگر چاویستا بیوروکریٹک‘ فوجی ڈھانچے کے باقی حصوں کے ساتھ مل کے۔ جسے وہ دباؤ، دھمکیوں، نئے حملوں اور مثالی سزاؤں کے خطرے کے تحت اپنے احکامات ماننے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ اس کے جنگی جہاز، فضائیہ اور فوجی دستے وینزویلا کے ساحلوں پر موجود ہیں۔
    وینزویلا میں محنت کش عوام کی جدوجہد کے حالات
    اب تک (اور ٹرمپ کے احکامات کی پیروی کرنے والی موجودہ حکومت کے تحت تو اور بھی زیادہ) وہی جابرانہ، غیر جمہوری، آمرانہ، بدعنوان اور محنت کش دشمن ریاست برقرار ہے جو مادورو کے دور میں موجود تھی۔ ٹرمپ خود کو وینزویلا کے اندر اور باہر‘ پورے براعظم کے مطلق العنان حاکم کے طور پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ حتیٰ کہ وینزویلا کے تیل سے لدے دیگر ممالک کے جہازوں کو بھی روک رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہم ناقابلِ پیش گوئی تصادموں کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ سامراجی عزائم بدستور نہایت حرص اور ڈھٹائی کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔
    وینزویلا کے اندر حکومت، ’PSUV‘ اور خود قومی فوج بھی حالات کے مطابق کوئی دفاعی یا متحرک عوامی ردِعمل دینے سے قاصر ہیں۔ دائیں بازو کی اپوزیشن بھی ٹرمپ کے اس منصوبے کی توثیق اور تعمیل کر رہی ہے جس کے تحت (فی الحال) ماریا کورینا کو قومی سیاست سے باہر رکھا گیا ہے۔
    عوام ششدر ہو کر تماشائی بنے سڑکوں پر کسی نمایاں ردِعمل کے بغیر یہ سب کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ حکومت اس خوف اور عدم تحرک کو فروغ دے رہی ہے۔ جبکہ عملی طور پر ٹرمپ کے احکامات کی تعمیل کر رہی ہے۔
    اس پیچیدہ، دشوار اور خطرناک جنگی صورتِ حال میں یہ نہایت ضرورت ہے کہ وہ تمام سامراج دشمن سماجی اور سیاسی قوتیں جو نہ صرف وینزویلا بلکہ پورے لاطینی امریکہ کی قومی خودمختاری اور آزادی کے دفاع کے حق میں ہیں اور جو کسی بیرونی سرپرستی کے بغیر عوام کے تمام حقوق کی بحالی کی حامی ہیں‘ ایسے مشترکہ نکات تلاش کریں جن پر بحث ہو سکے، مشترکہ مؤقف اختیار کیا جا سکے اور محنت کش طبقات کے ساتھ مل کر مشترکہ عملی اقدامات کیے جا سکیں۔
    چنانچہ ہمیں نوآبادیاتی غلامی کے خلاف، آمریت اور جبر کے خلاف، جمہوری ضمانتوں اور تیل سمیت تمام وسائل پر کنٹرول اور معاشی خودمختاری کے لیے ایک مزاحمتی منصوبہ تشکیل دینے اور عوامی تحرک کے جوابی اقدامات شروع کرنے چاہئیں۔
    قومی سطح پر ہماری سیاست اور عمل کی رہنمائی کے لیے چند پروگراماتی تجاویز اور نعرے
  • ٹرمپ کے نوآبادیاتی منصوبے اور وینزویلا میں سرپرستانہ/کٹھ پتلی حکومت نامنظور!
  • وینزویلا کی عبوری حکومت اور جارح، نوآبادیاتی اغواکار ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ’’تعاون کا ایجنڈا‘‘ نامنظور!
  • کاراکاس میں امریکی سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کی اجازت نہ دی جائے!
  • دائیں بازو کی اپوزیشن اور ماریا کورینا کی سامراج نواز شکست خوردگی کی بھرپور مذمت اور مخالفت۔ سامراجی مداخلت کے داعیوں کے لیے وینزویلا میں کوئی جگہ نہیں!
  • تیل وینزویلا کے لیے! نہ ٹرمپ کے لیے، نہ لٹیری بیوروکریسی کے لیے! محنت کشوں کے کنٹرول کے تحت تیل کی صنعت کی خودمختار بحالی۔ امریکی ملٹی نیشنل شیورون کا انخلا اور اس کے اثاثوں کو وینزویلا کے کنٹرول میں لیا جائے۔ وینزویلا میں موجود تمام سامراجی کمپنیوں کے اثاثوں پر محنت کشوں کاکنٹرول۔ انہیں قومی بحالی اور عوامی ضروریات کے منصوبے کے لیے استعمال کیا جائے۔
  • عوام کے خلاف جبر اور ایمرجنسی کا خاتمہ کرو! محنت کشوں کی جدوجہد کی پاداش میں قید کیے گئے مزدوروں اور سیاسی بنیادوں پر قید تمام افراد کی فوری رہائی!
  • فوج وضاحت کرے کہ امریکی دراندازی کے خلاف دفاعی منصوبے کیوں ناکام ہوئے۔
  • محنت کش طبقے اور عوام کے بدترین حالاتِ زندگی پر فوری توجہ دی جائے۔ آئینِ بولیوارین جمہوریہ وینزویلا (CRBV) کے آرٹیکل 91 کے مطابق اجرتوں میں فوری اضافہ (بنیادی خوراک کی لاگت کے برابر اور اشاریہ بندی کے ساتھ)۔ تاکہ معیارِ زندگی بحال ہو اور ہنگامی صورتحال کا سامنا کیا جا سکے۔
  • سیاسی آزادیوں کی بحالی تاکہ عوام ٹرمپ کی نوآبادیاتی دراندازی کے خلاف دوبارہ اپنی قائدانہ حیثیت، تحرک اور فیصلہ سازی کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔ آئین کی شقوں کے مطابق انتخابات کا اعلان کیا جائے تاکہ عوام آزادانہ انتخاب کر سکیں۔ وینزویلا کی حکومت منتخب کرنے کا حق عوام کا ہے۔ نہ کہ ٹرمپ کا یا دھاندلی زدہ اور آئین سے ماورا بیوروکریسی کا۔
  • ٹرمپ کے ’’تحفظاتی نظام‘‘ اور سرپرستانہ حکومت کے خلاف نچلی سطح سے سامراج دشمن‘ طبقاتی اتحاد کی تشکیل۔
  • وینزویلا کی آزادی بحال کرو اور لاطینی امریکہ کے عوام کی آزادی کا دفاع کرو!
  • حقیقی عوامی فوج اور محنت کش ملیشیاؤں کی تشکیل۔ جو محلوں اور کام کی جگہوں پر جمہوری طور پر منظم ہوں اور اس بیوروکریسی اور بدعنوان فوجی اشرافیہ کے تابع نہ ہوں جس نے ملک کا دفاع نہیں کیا۔ محنت کش طبقے اور عوام کو حقیقی طور پر مسلح کیا جائے تاکہ سرزمین، قومی دولت، محنت کشوں کے حقوق اور طبقاتی مفادات اور مظلوم عوام کا دفاع کیا جا سکے۔
  • عوام کی فوری مشکلات کے ازالے کے لیے ضروری اقدامات کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے ٹریڈ یونین، سماجی اور سیاسی میدان میں سرگرم تنظیموں کے درمیان ہم آہنگی اور متحدہ عمل ناگزیر ہے۔
  • ہم ایک حقیقی انقلابی، سرمایہ داری مخالف، سامراج دشمن، بیوروکریسی مخالف، جمہوری اور بین الاقوامی پارٹی کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ جو محنت کشوں اور وسیع تر عوام کی حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد کو منظم کرے۔
  • ایک نئے انقلابی بین الاقوامی نصب العین کے تحت سرگرم قوتوں کی ازسرِنو صف بندی۔ سامراج کی حتمی شکست کسی ایک ملک کے عوام کا کام نہیں۔ بلکہ دنیا بھر کے عوام کی متحدہ جدوجہد اور اجتماعی انقلابی قیادت ہی اسے ممکن بنا سکتی ہے۔
ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں