لاہور(جدوجہد رپورٹ)ایک وقت میں لاطینی امریکہ میں سوشلسٹ امید کی علامت سمجھا جانے والا ملک وینزویلاآج شدید معاشی تباہی، سیاسی جبر اور سماجی انحطاط کا شکار ہے۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر کئی بائیں بازو کے حلقے آج بھی اس حکومت کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں ، حالانکہ اس دفاع کی بنیاد اب زمینی حقائق سے زیادہ نظریاتی وابستگی پر کھڑی ہے۔
‘لنکس’ پر شائع ہونے والے امیلیانو تیران مانتووانی کے مضمون میں ان بائیں بازو کے دانشوروں پر کڑی تنقید کی گئی ہے، جو وینزویلا کی حکومت کو تمام تر تباہی کے باوجود سامراج مخالف مزاحمت کے طورپر پیش کرتے ہیں۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ وینزویلا میں معاشی بحران کی بنیاد صرف امریکی پابندیوں پر ڈالنا سادہ لوحی ہے۔ جب 2017 میں امریکہ نے وینزویلا پر مالی پابندیاں لگائیں، تب تک معیشت پہلے ہی زمین بوس ہو چکی تھی ۔جی ڈی پی میں 30 فیصد سے زائد کمی، درآمدات میں 80 فیصد کمی ہو چکی تھی، اور افراط زر بدترین سطح پر تھا۔یہ اعداد و شمار اس بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں جس میں تمام بحران کا ذمہ دار صرف بیرونی طاقتوں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔
صدر نکولس مادورو کی معاشی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جو ان کے مطابق نیولبرل ایجنڈے سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ان پالیسیوں میں اجرتوں کا عملی طور پر خاتمہ،کرنسی کی قدر میں زبردست کمی،بڑے سرمایہ کاروں کو مراعات ،اورعوامی اداروں کی نجکاری جیسی پالیسیاں شامل ہیں۔
اگر یہی پالیسیاں کسی دائیں بازو کی حکومت نے کی ہوتیں، تو بایاں بازو چیخ اٹھتا ، مگر جب یہی کام سامراج مخالف حکومتیں کرتی ہیں، تو اسے ‘مزاحمت’کہا جاتا ہے۔
مضمون میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ مادورو حکومت نے سیاسی اختلاف کو کچلنے کے لیے ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کیا، اپوزیشن کو غیر موثر بنایا،انتخابات کو محدود یا متنازع بنا دیا اورآزاد میڈیا کو مکمل خاموش کروادیاگیا۔تاہم کچھ بین الاقوامی بائیں بازو کے دانشور ان سب اقدامات کو ‘انقلابی نظم و ضبط’یا ‘سازشی خطرات کا ردعمل’کہہ کر جواز دیتے ہیں۔
مانتوانی نے لکھا کہ بائیں بازو کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ جب بایاں بازو محض امریکہ مخالفت کی بنیاد پر کسی حکومت کی ہر پالیسی کا دفاع کرتا ہے، تو وہ اپنی اخلاقی اتھارٹی کھو دیتا ہے۔
وینزویلا کی حکومت کو صرف اس لیے ‘سوشلسٹ’قرار دینا کہ وہ امریکہ کے خلاف بیانات دیتی ہے، نہ صرف خطرناک سادگی ہے بلکہ یہ خود فریبی بھی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ وینزویلا میں آج بھی نیچے سے عوامی تنظیمیں، کمیونٹی کونسلز، اور آزاد تحریکیں سرگرم ہیں ،لیکن ان کی مزاحمت کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے کیونکہ وہ ریاستی بیانیے سے ہم آہنگ نہیں۔یہ تنظیمیں اور تحریکیں مستقبل کی امید ہیں اور بائیں بازو کو ریاست کی بجائے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صرف وینزویلا کی حکومت پر تنقید کرنا مقصد نہیں ، بلکہ بین الاقوامی بائیں بازو کو خود احتسابی کی طرف توجہ مبذول کروانا بھی ہے۔ سامراجی پالیسیوں کی مخالفت بجا، لیکن اس کے سائے میں کسی آمرانہ حکومت کی اندھی حمایت کرنا کسی بھی ترقی پسند سیاست کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے لکھا کہ اگر بایاں بازو اپنی نظریاتی دیانت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے سچ کا سامنا کرنا ہوگا، چاہے وہ سچ کسی ‘انقلابی حکومت’ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔