روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

پاک بھارت ریاستوں کی جنگ بندی، لیکن حکمرانوں کی عوام کے خلاف جنگ جاری

پاک بھارت ریاستوں کی جنگ بندی، لیکن حکمرانوں کی عوام کے خلاف جنگ جاری

آتش خان

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مرتبہ پھر امریکی مداخلت کی بنیاد پر جنگ بندی ہو گئی ہے ،لیکن دونوں ریاستوں نے اپنے ہم وطن محنت کشوں، محکوم قوموں اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف جنگ میں شدت اختیار کر دی ہے۔یہ ریاستیں دہشت گردی کے واقعات اور جنگی جنون کو داخلی جبر کے لیے سنہری موقع تصور کرتی ہیں۔پہلگام حملے کے بعد سب سے پہلے کشمیری عوام کو جبر کا نشانہ بنایا گیا۔ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے بھارت کے مختلف شہروں میں موجود کشمیری طلبہ اور محنت کشوں کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں اور شہر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ ریاستی کریک ڈاؤن میں کشمیری عوام کے گھروں کو مسمار اور ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔کئی دنوں تک ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد امریکی مداخلت کے نتیجے میں جنگ بندی تو ہوگئی، لیکن دونوں ممالک میں ریاستی جبر کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔7 مئی سے پہلے جاری تحریکوں اور مخالف آوازوں کو جبر کے ذریعے کچلا جا رہا ہے۔پاکستان میں فوجی اشرافیہ اور بھارت میں مودی سرکار اس واقعہ کو اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کو بحال کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

دونوں ممالک میں جب بھی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان دونوں ممالک میں بسنے والے محنت کشوں،مذہبی اقلیتوں اور قومی تحریکوں کو ہوتا ہے۔ بھارت میں کشمیری عوام اور مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر تعصب اور جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح پاکستان میں ہندوؤں کے خلاف نفرت کو فروغ دیا جاتا ہے ،اور بلوچ اور دیگر قومی تحریکوں کی قیادت کو بھارتی ایجنٹ اور غدار قرار دے کر جبر میں اضافہ کیا جاتا ہے۔حالیہ کشیدگی کے بعد بھارت میں مسلم مخالف تعصب اور جذبات کو مودی سرکار خطرناک حد تک بھڑکا رہی ہے۔ملک بھر میں ہندوتوا گروہ مسلمانوں کی زندگی مشکل بنا رہے ہیں۔ راجستھان میں سیکڑوں مسلمانوں کو اس بہانے گرفتار کیا گیا کہ وہ بنگلہ دیشی ہیں۔تلنگانہ میں کراچی بیکری کی دو شاخوں میں توڑ پھوڑ کی گئی صرف اس لیے کہ اس کا نام کراچی ہے۔دونوں اطراف کا درمیانی طبقہ اس کشیدگی کے دوران میڈیا کے زہریلے پروپیگنڈے کا شکار ہو کر سوشل میڈیا پر نفرت اور تعصب پیدا کرنے والے غنڈوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔

پاکستان میں جنگ بندی کے بعد حکمران اشرافیہ کو بھی داخلی تضادات پر قابو پانے اور مختلف تحریکوں کو دبانے کا موقع ملا ہے۔ریاست کے اندر عمران خان کے حمایتی دھڑے کو کنٹرول کرنے سمیت اس جنگی جنون کے نتیجے میں جنم لینے والے حب الوطنی کے جذبات کو استعمال کر کے بلوچستان سے لے کر گلگت بلتستان تک جمہوری حقوق کے لیے جاری پرامن تحریکوں کو کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ریاست نے جمہوری تحریکوں کے خلاف غیر اعلانیہ آپریشن کا آغاز کیا ہے۔گلگت بلتستان ایکشن کمیٹی کے چیئر مین سمیت دیگر قائدین کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کی رہائی کے لیے احتجاج کرنے والوں پر بھی جبر اور گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت میں لاپتہ افراد کی بازیابی اور دیگر جمہوری مطالبات کے گرد چلنے والی تحریک پر حالیہ کشیدگی سے قبل ہی کریک ڈاؤن جاری تھا جس میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔فوج کے ترجمان کا کہنا ہے تمام لاپتہ افراد بی ایل اے کے جنگجو اور بھارت کے ایجنٹ ہیں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی بی ایل اے کی پراکسی ہے۔شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے میں چار بچوں کی ہلاکت کے خلاف ہزاروں مظاہرین نے بچوں کی لاشیں مرکزی شاہراہ پر رکھ کر انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔سوشل میڈیا پر بھی مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے پیکا ایکٹ جیسے کالے قانون کا استعمال کیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ حالیہ تنازعہ معاشی طور پر بھی پاکستانی محنت کشوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔اس کے فوری اثرات دفاعی اخراجات میں اضافہ اور ترقیاتی بجٹ میں کمی کے علاوہ آئی ایم ایف کے پروگرام ،نجکاری سمیت دیگر مطالبات پر جارحانہ انداز میں عمل درآمد کی صورت میں ہو گا۔

اس جنگی جنون نے دونوں اطراف کی ترقی پسند اور جمہوری قوتوں کو وقتی طور پر نقصان پہنچایا ہے اور مذہبی فسطائی طاقتوں کو تقویت ملی ہے۔برطانوی سامراج کی تخلیق کردہ دونوں ریاستوں کو اپنے وجود کے نظریاتی جواز کے لیے اور داخلی تضادات کو دبانے کے لیے مذہبی دشمنی اور جنگی جنون درکار ہے۔ہندو بنیاد پرستی اور اسلامی بنیاد پرستی کا وجود ایک دوسرے پر انحصار کرتا ہے۔یہ کوئی پہلا تصادم نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی برطانوی سامراج کی 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد سے اب تک پاکستان اور بھارت کے حکمران طبقات اس خطے میں بسنے والے اربوں انسانوں پر تین براہ راست جنگیں مسلط کر چکے ہیں۔براہ راست جنگوں کے علاوہ بھی جموں کشمیر میں سیز فائر لائن پر مسلسل تصادم اور جنگی کیفیت جاری رہتی ہے ،جس کے ذریعے جنگی جنون اور مذہبی قوم پرستی کو فروغ دیا جاتا ہے۔اس مصنوعی دشمنی کو مسئلہ جموں کشمیر کے ذریعے برقرار رکھا گیا ہے۔

جموں کشمیر میں جاری کنٹرولڈ تصادم جب شدت اختیار کر کے نوبت بین الااقوامی بارڈر تک پہنچتی ہے تو عالمی سامراجی قوتیں صلح صفائی کے لیے پہنچ جاتی ہیں، یا ان کو بلالیا جاتا ہے۔اس کے بعد امن مذاکرات اور پھر کچھ عرصے بعد وہی سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔اس جنگ و امن کے کھیل میں حقیقی جنگ کے امکان کو مکمل خارج نہیں قراردیا جا سکتا ہے۔دونوں ریاستوں کے درمیان ہونے والے یہ تصادم مکمل جنگ میں بدل سکتے ہیں جس کا انجام کروڑوں محکوم انسانوں کی مکمل بربادی اور ماحولیات کے ناقابل تلافی نقصان کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکمران طبقہ اپنی حاکمیت برقرار رکھنے کے لیے جن رجعتی نظریات کا سہارا لیتا ہے اکثر خود بھی اپنے ہی تعصبات اور پروپیگنڈے کا شکار ہو جاتا ہے۔حالیہ تصادم میں دونوں ممالک کے حکمرانوں کے جنگی نعرے، آپریشن کے نام اور میڈیا کا مذہبی قوم پرستی اور نفرتوں کا پرچار،ایٹم بم استعمال کرنے کی دھمکیاں ،یہ دونوں اطراف کے حکمرانوں کی ذہنی کیفیت کا اظہار ہے۔چین اور مغرب کے جدید ہتھیاروں کے ذریعے غزوہ ہند اور اکھنڈ بھارت جیسے پسماندہ تصورات کے ذریعے لڑی جانے والی جنگ پسماندگی اور جدت کا امتزاج ہے، جو ان ریاستوں کی مشترکہ اور ناہموار مادی ترقی کا اظہار ہے۔دونوں ایٹمی طاقتوں کے محنت کشوں کی اکثریت سطح غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے،پینے کے صاف پانی اور بیت الخلاء کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔تعلیم، علاج اور روزگار اکثریت کی پہنچ سے دور ہے۔محنت کشوں کی پیدا کردہ دولت کا بڑا حصہ اسلحہ ساز اجاراہ داریاں لے جاتی ہیں۔بھارت اور پاکستان جنگی آلات پر خرچ کرنے والے 10 ممالک میں شامل ہیں ۔تعلیم اور علاج کے شعبوں میں خرچ کرنے کے حوالے سے یہ دونوں ممالک دنیا کے آخری نمبروں میں آتے ہیں۔

حکمرانوں کے لیے ملک کے دفاع سے مراد ملک کے محنت کشوں کا دفاع نہیں ہے ،بلکہ زمین کا تحفظ ہے۔ محنت کشوں کے خلاف ان حکمرانوں کی بے رحم جنگ جاری ہے۔جموں کشمیر کی آزادی کے نام پر لڑنے والی یہ ریاستیں جموں کشمیر کو ایک آزاد و خود مختار ریاست بنانے کی شدید مخالف ہیں۔کشمیر پر ان ریاستوں کا موقف اور جبر سامراجی عزائم کا اظہار ہے۔ان حکمرانوں کو جموں کشمیر کے دریاؤں اور قدرتی وسائل سے دلچسپی ہے ،نہ کے اس خطے کے کروڑوں باسیوں کی زندگی سے ،جو دونوں ریاستوں کی جنگوں میں سب سے زیادہ برباد ہوتے ہیں۔پاکستان اور بھارت سمیت ساری دنیا میں بڑھتا ہوا جنگی جنون سرمایہ دارانہ نظام کے گہرے ہوتے ہوئے زوال اور متروکیت کا اظہار ہے ،جو سماج کو آگے لے جانے سے قاصر ہے۔پاکستان اور بھارت کے محنت کشوں کو اپنے اپنے حکمرانوں کے تنگ نظر قوم پرستانہ نظریات اور سامراجی عزائم کے خلاف عالمی طبقاتی اتحاد قائم کرنا ہو گا اور جموں کشمیر سمیت تمام محکوم قوموں کے حق خودارادیت کی حمایت کرنی ہو گی۔محنت کشوں کی طبقاتی جنگ ہی برصغیر سمیت ساری دنیا کے انسانوں کو حکمران طبقے کی جنگوں اور بربادیوں سے نجات دلا سکتی ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں