لاہور(جدوجہد رپورٹ)چلی میں انتہائی دائیں بازو کے امیدوار ہوزے انتونیو کاسٹ صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کے 38ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ اس فتح کے ساتھ ہی انہوں نے برسر اقتدار سینٹر لیفٹ کی حکومت کو شکست دے دی ہے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق اتوار کے روز جب تقریباً تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہو ئی تو کاسٹ نے 58 فیصد ووٹ حاصل کر کے سابق وزیر محنت خانیئت جارا کو شکست دی، جو کمیونسٹ پارٹی سے تعلق رکھتی تھیں اور حکمران سینٹر لیفٹ کے اتحاد کی نمائندہ تھیں۔ جارا اور ان کے اتحاد ’یونٹی فار چلی‘ نے پولنگ اسٹیشن بند ہونے کے فوراً بعد شکست تسلیم کر لی۔
خانیئت جارا نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھاکہ ”جمہوریت نے واضح طور پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ میں نے نومنتخب صدر سے بات کی ہے اور چلی کی بہتری کے لیے انہیں کامیابی کی دعا دی ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”جن لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا اور ہم سے امیدیں وابستہ کیں، وہ یقین رکھیں کہ ہم اپنے ملک میں بہتر زندگی کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم ہمیشہ کی طرح متحد اور مضبوط رہیں گے۔“
دوسری جانب ہوزے انتونیو کاسٹ نے اپنی فتح کو”وسیع عوامی مینڈیٹ“قرار دیتے ہوئے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ ”یہ نہ میری ذاتی کامیابی ہے اور نہ کسی ایک پارٹی کی۔ یہاں چلی جیتا ہے،ایک ایسا چلی جو خوف میں جینے کی بجائے کام کرتا ہوا نظر آئے۔“
یہ نتیجہ لاطینی امریکا میں دائیں بازو کی سیاست کی تازہ ترین کامیابی ہے، جہاں حالیہ برسوں میں ارجنٹینا اور ایکواڈور جیسے ممالک میں بھی ایسے رہنما اقتدار میں آئے ہیں جو کبھی سیاسی منظرنامے سے باہر سمجھے جاتے تھے۔
یہ کامیابی 59 سالہ ہوزے انتونیو کاسٹ کے لیے ایک بڑی سیاسی واپسی بھی ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ کاسٹ کے لیے یہ تیسری صدارتی کوشش تھی اور پہلی بار وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ 2021 کے انتخابات میں انہیں موجودہ صدر گیبریل بورِچ کے ہاتھوں تقریباً 10 فیصد کے فرق سے شکست ہوئی تھی۔
گیبریل بورچ ایک سابق طالب علم رہنما اور چلی کے کم عمر ترین صدر تھے۔ وہ اپنی چار سالہ مدت کے اختتام تک عوامی حمایت کھو چکے تھے، جو تقریباً 30 فیصد رہ گئی تھی۔ آئینی پابندی کے باعث وہ دوبارہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔
رائے عامہ کے جائزوں میں ووٹرز نے جرائم میں اضافے، امیگریشن اور معیشت کی سست روی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ کاسٹ نے انہی خدشات کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بنایا۔انہوں نے جرائم اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن، حتیٰ کہ بڑے پیمانے پر ملک بدری کا وعدہ کیا، جسے مبصرین نے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے مشابہ قرار دیا ہے۔
کاسٹ نے اپنے سکیورٹی پروگرام کو نے ”امپلیکبل پلان“(بے رحم منصوبہ) کا نام دیا ہے۔ اس پروگرام میں سخت لازمی سزائیں، زیادہ افراد کو ہائی سکیورٹی جیلوں میں قید کرنا، اور منشیات کے کارٹل رہنماؤں کو مکمل تنہائی میں رکھنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اپنے قدامت پسند کیتھولک پس منظر کے باعث، کاسٹ سماجی و صحت کے معاملات میں بھی انتہائی دائیں بازو کا موقف رکھتے ہیں، جن میں اسقاط حمل کی مکمل مخالفت شامل ہے، حتیٰ کہ زیادتی کے کیسز میں بھی۔
پنوشے کے بعد سب سے قدامت پسند حکومت
کاسٹ کی سخت گیر پالیسیوں پر انہیں انتخابی مہم کے دوران شدید تنقید کا سامنا بھی رہا۔ ناقدین نے سابق فوجی آمر آگستو پنوشے کے بارے میں کاسٹ کے ہمدردانہ بیانات کو بھی نشانہ بنایا۔
1973 میں پنوشے نے ایک فوجی بغاوت کے ذریعے جمہوری طور پر منتخب صدر سلواڈور آیاندے کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور 1990 تک حکومت کی۔ اس دور کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، ہزاروں ہلاکتوں اور دسیوں ہزار افراد پر تشدد کے لیے جانا جاتا ہے۔
اگرچہ کاسٹ خود کو”انتہائی دائیں بازو“کا لیبل دینے سے انکار کرتے ہیں، مگر وہ متعدد بار پنوشے کے دور کا دفاع کر چکے ہیں۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا تھاکہ ”اگر پنوشے آج زندہ ہوتے تو مجھے ووٹ دیتے۔“
ان کے خاندان پر بھی تنقید ہوئی، کیونکہ ان کے والد مائیکل مارٹن کاسٹ جرمنی میں نازی پارٹی کے رکن رہ چکے تھے اور 1950 میں چلی منتقل ہوئے تھے۔