روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

چین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار، دونوں کے بیچ 24 ارب کی سالانہ تجارت

چین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار، دونوں کے بیچ 24 ارب کی سالانہ تجارت

حارث قدیر

عالمی سطح پر چین کے کردار کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر بائیں بازو کے کیمپ اسٹ حلقوں میں چین کو ایک ابھرتی ہوئی سامراج مخالف طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، یا پھر کم از کم لوگوں کو یہ امید دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ اور مغرب کے مقابلے میں چین جیسی طاقت کا ابھرنا مظلوموں کی حمایت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ تاہم دوسری جانب کیا چین واقعی ایسی طاقت کے طور پر ابھرکر سامنے آرہا ہے، یا نہیں؟ اس بارے میں صورتحال کافی پیچیدہ نظر آتی ہے۔

حالیہ عرصے میں ہونے والے واقعات میں ہی دیکھا جائے تویوکرین کے مسئلے میں چین روس کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے، جبکہ دوسری جانب فلسطینیوں کی بجائے اسرائیل کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات قائم کرتے ہوئے نظر آتاہے۔ فلسطین کی حمایت میں اگرچہ چین نے طویل عرصے سے بیانات دیے ہیں، لیکن عملی طور پر اس کے اسرائیل کے ساتھ فوجی، تجارتی اور تکنیکی تعلقات نہ صرف برقرار ہیں، بلکہ مسلسل وسعت اختیار کر رہے ہیں۔

‘جیکوبن’ کی ایک رپورٹ کے مطابق چین اسرائیل تعلقات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں باہمی معاونت کا رنگ اختیار کر چکے ہیں۔ 2022میں چین اسرائیل کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم 24ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ چین اسرائیل سے ہائی ٹیک آلات، دفاعی ٹیکنالوجی، اور سائبر نگرانی کے سسٹم خریدتا ہے، جبکہ اسرائیل چینی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے بڑے مواقع تلاش کر رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی کمپنیاں اسرائیل میں بندرگاہوں، ریلوے اور ٹیکنالوجی پارکس جیسے اسٹریٹجک منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں، جن میں شینزن، شنگھائی اور بیجنگ کی ریاستی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

ادھر ‘الجزیرہ ’کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی درآمدات کا سب سے زیادہ انحصار چین پر ہے۔ 2024میں مجموعی طور پر چین سے اسرائیل19ارب ڈالر کی درآمدات کی ہیں، جبکہ دوسری طرف اسرائیل کی چین کو برآمدات بھی 2.8ارب ڈالر کے برابر رہی ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق چین اسرائیل کی ہائی ٹیک صنعتوں میں 15ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔

اسرائیل کے تجارتی تعلقات میں اتار چڑھاؤ

اس رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی سال 2024کی عالمی تجارت کا حجم153.2ارب ڈالر رہا، جس میں 91.5ارب ڈالر کی درآمدات اور 61.7ارب ڈالر کی برآمدات شامل ہیں۔ اسرائیلی درآمدات میں اس کا صف اول کا شراکت دار چین ہے، جبکہ برآمدات میں چین کا نمبر تیسرا ہے۔مجموعی طور پر چین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

غزہ میں جاری جنگ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث کئی ملکوں نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔ عالمی سطح پر بائیکاٹ، سرمایہ کاری کی واپسی اور پابندیوں(بی ڈی ایس) کی مہم کے تحت بھی ان کمپنیوں کی فہرست میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو اسرائیل کی مدد کر رہی ہیں۔ اسرائیل کی کچھ کمپنیوں کے خلاف بھی اس مہم کے تحت آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

عالمی بائیکاٹ مہم اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر بننے والے دباؤ کے باعث برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے لیے جاری مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔ یورپی یونین بھی اسرائیل کے ساتھ موجودہ تجارتی معاہدے کا جائزہ لینے کا اعلان کر چکی ہے۔ یہ اقدام غزہ میں انسانی بحران اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ ترکی نے بھی بالآخر غزہ میں جنگ کے خلاف احتجاجاً اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات وقتی طور پرمعطل کر دیئے ہیں۔ ترکی اور اسرائیل کے مابین 2023میں تجارت کا حجم7ارب ڈالر تھا۔ اس سب کے باوجود امریکہ ، چین سمیت دیگر متعدد ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات بحال بھی ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ چین اور امریکہ کے علاوہ مصر، متحدہ عرب امارات، بھارت اور دیگر ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

چین اسرائیل سکیورٹی تعلقات

‘جیکوبن’ کے مطابق چین اور اسرائیل کے فوجی تعلقات1980کی دہائی سے قائم ہیں۔اس وقت اسرائیل نے چین کو پرانے روسی ساختہ ٹینکوں اور طیاروں کو اپ گریڈ کرنے میں مدد دی۔ 1990 کی دہائی میں، یہ تعلقات مزید گہرے ہو گئے جب اسرائیل نے چین کو جدید رڈار، ڈرون، اور انسداد بغاوت کے نظام فراہم کیے۔

رپورٹ کے مطابق، اگرچہ امریکہ نے اسرائیل پر دباؤ ڈالا کہ وہ چین کو حساس ٹیکنالوجی کی برآمدات محدود کرے، لیکن دونوں ممالک کے تعلقات پر اس کا اثر کم رہا۔ کئی معاہدے پس پردہ جاری رہے جن میں مصنوعی ذہانت اورفیشل ریکگنیشن جیسی تکنیکی مہارتوں کا تبادلہ بھی شامل تھا۔

سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ چین نے اسرائیلی نگرانی اور انسداد بغاوت کی حکمت عملی کو اپنایا۔ ایسا خصوصاً سنکیانگ میں کیا گیا ،جہاں اویغور مسلمانوں کے خلاف ریاستی جبر جاری ہے۔چینی پولیس اکیڈمیوں میں اسرائیلی ماڈلز کا باقاعدہ مطالعہ کیا جاتا ہے، جن میں فلسطین میں استعمال ہونے والے نگرانی کے آلات اور شہری کنٹرول کی تکنیکیں شامل ہیں۔ چین نے سنکیانگ میں اویغوروں کی نگرانی کے لیے انہی اسرائیلی ڈھانچوں کا سہارا لیا جنہیں مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔

چین کی اسرائیل میں سرمایہ کاری

مڈل ایسٹ آئی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ چینی کمپنیاں اور مزدور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے قیام میں براہ راست شریک ہیں، جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور خود چین کی سرکاری پالیسی کے برعکس ہے۔

رپورٹ کے مطابق، نابلُس، رام اللہ اور الخلیل کے اطراف میں موجود بستیوں، جیسے بیت ایل اور یتسہار، میں چینی تعمیراتی مزدور باقاعدگی سے کام کرتے اور مقامی فلسطینی دکانوں سے خریداری کرتے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ چین اور اسرائیل کے درمیان 2015 میں ہونے والے لیبر معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ چینی مزدور مقبوضہ مغربی کنارے میں تعینات نہیں ہوں گے، لیکن زمینی حقائق اس کی نفی کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کی ریاستی ملکیت میں موجود کمپنی اداما ایگریکلچرل سلوشنز (Adama Agricultural Solutions)، جو اب مکمل طور پر چائنا نیشنل کیمیکل کارپوریشن (China National Chemical Corporation) کی ملکیت ہے، نہ صرف اسرائیلی بستیوں میں زرعی سرگرمیوں میں مدد فراہم کر رہی ہے بلکہ 2024 میں اس نے غزہ پٹی کے اطراف کی بستیوں کے رہائشیوں کے لیے تقریباً 10 لاکھ شیکل (275,000 امریکی ڈالر) کا زرعی اسکالرشپ فنڈ بھی قائم کیا ہے۔

اداما کی مصنوعات نہ صرف مقبوضہ علاقوں میں زرعی استعمال کے لیے آزمائی گئی ہیں بلکہ اس کی ایک جڑی بوٹی مار دوا کو اسرائیلی فوج کے ٹھیکیداروں نے فضائی چھڑکاؤ میں استعمال کیا ہے، جس سے غزہ کے قریب فلسطینی زرعی زمینیں تباہ ہوئیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2014 میں چین کی ریاستی ملکیت میں موجود برائٹ فوڈ نامی کمپنی نے اسرائیلی فوڈ کمپنی تنوفا (Tnuva) میں 56 فیصد حصص خریدے، حالانکہ تنوفا غیر قانونی بستیوں میں کام کرتی ہے اور اس کے خلاف عالمی سطح پر بائیکاٹ کی مہم جاری ہے۔

2021 میں تنوفا کو ایک سرکاری ٹینڈر ملا جس کے تحت اسے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کی 16 بستیوں میں پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دی گئی، جو صریحاً فلسطینی زمین پر صیہونی قبضے کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔

اسی طرح 2016 میں چینی پرائیویٹ گروپ فوسن (Fosun Group) نے اسرائیلی کاسمیٹکس کمپنی اہوا (Ahava) کو خریدا، جس کی پیداوار مقبوضہ علاقے متسپی شالیم میں ہو رہی ہے۔ اہوا کا نام اقوامِ متحدہ نے ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے جو غیر قانونی بستیوں کے قیام میں معاونت کرتی ہیں۔

یہ تمام اقتصادی سرگرمیاں اس وقت ہو رہی ہیں جب چین اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر فلسطینی ریاست کی حمایت اور اسرائیلی بستیوں کی مخالفت میں بیانات دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سابق چینی سفیر ژانگ جن اور موجودہ سفیر فو کانگ بارہا اسرائیل سے مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر روکنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

تاہم مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق چین کی ان بیانات کے برعکس عملی پالیسیاں اور سرمایہ کاری اسرائیلی نوآبادیاتی منصوبے کو مضبوط کر رہی ہیں، جو نہ صرف فلسطینیوں کے انسانی حقوق بلکہ عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

چین کا فلسطین پر موقف

چین نے اگرچہ عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کی حمایت کی ہے، تاہم اسرائیل کے ساتھ معاشی اور تکنیکی مفادات کے باعث اس کا موقف عملی طورپر غیر موثر ہی رہا ہے۔ 2023 کے غزہ پر اسرائیلی حملے کے دوران چین نے محتاط بیانات دیے اور کسی شدید تنقید سے گریز کیا۔ اقوام متحدہ میں اگرچہ چین نے جنگ بندی کی قراردادوں کی حمایت کی، لیکن اسرائیلی حکومت کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا گیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ طرز عمل چین کے ‘اسٹریٹجک غیر جانبداری’کے دعوے کی نفی کرتا ہے۔

ان تعلقات پر دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور اداروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خاص طور پر بی ڈی ایس مہم نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات رکھنے والی چینی کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے۔مثال کے طور پر ڈرون بنانے والی چینی کمپنی ڈی جے آئی بائیکاٹ مہم کا ہدف بن چکی ہے، جس کے ڈرونز اسرائیلی فوج استعمال کرتی ہے۔ اسی طرح اسرائیلی انسداد بغاوت ماڈل اپنانے والی چینی جامعات اور سکیورٹی کمپنیاں بھی تنقید کی زد میں ہیں۔

یوں چین اور اسرائیل کے درمیان تعلقات صرف دو طرفہ تجارت تک محدود نہیں ، بلکہ وہ ایک دوسری کی ریاستی جبر کی مشینری کے جزو بھی بن چکے ہیں۔ چین سنکیانگ میں اور اسرائیل فلسطین میں ان مشترکہ تجربات اور ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔

چین کے قرضوں کا پھلاؤ

غریب اور پسماندہ ملکوں کے لیے چین کی سرمایہ کاری اور قرضوں کے جال کی پالیسی بھی تنقید کی زد میں رہتی ہے۔ ‘گارڈین’ میں شائع ہونے والی آسٹریلیو تھنک ٹینک لووی انسٹیٹیوٹ کی نئی رپورٹ کے مطابق رواں سال 2025میں دنیا کے 75ملکوں کو چین کے قرضوں کی مدت میں 22ارب ڈالر سے زائد کی رقم ادا کرنی ہے۔ یہ رقم عالمی سطح پر واجب الادا 35 ارب ڈالر کے قرضوں کا بڑا حصہ ہے۔ یہ قرضے بنیادی طور پر صدر شی جن پنگ کے ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو’ (بی آر آئی)کے تحت دیے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق اس دہائی کے باقی حصے میں چین ترقی پذیر دنیا کے لیے بینکر کی بجائے قرض وصول کنندہ کے طور پر زیادہ نمایاں ہوگا۔ قرضوں کی یہ بھاری ادائیگیاں ان ممالک کے صحت، تعلیم اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مختص بجٹ پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ چین کی جانب سے نئے قرضے دینے میں کمی کے باعث، یہ ممالک شدید اقتصادی دباؤ کا شکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جب قرضوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ایسے وقت میں چین کی جانب سے قرضوں کا اجراء رک گیا ہے۔ نتیجے کے طورپر ایسے وقت میں خالص مالیاتی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

چین اس قرض فراہم کرنے کی دوڑ کے نتیجے میں دو طرفہ قرضوں کا سب سے بڑا سپلائر بن گیا ہے۔ 2016 میں یہ رقم 50 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی، جو تمام مغربی قرض دہندگان کی مجموعی رقم سے بھی زیادہ تھی۔

قرضوں کا جال یا امداد؟

بی آر آئی کا زور زیادہ تر ترقی پذیر ملکوں پر ہی رہا ہے۔ اس پالیسی پر چینی اثرورسوخ اور کنٹرول سے متعلق خدشات نے بھی جنم لیا۔ یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ ان ملکوں کو قرضوں کے ایسے جال میں الجھانے کی کوشش کر رہا ہے، جن کی ادائیگی ممکن نہ ہو۔ تاہم چین اس بات کی ہمیشہ سے تردید ہی کرتا آیا ہے۔قرض لینے والے کچھ ملکوں کا بھی کہنا ہے کہ چین ایک زیادہ قابل اعتماد شراکت دار ہے اور اس نے اس وقت قرض دیا، جب باقی سب نے انکار کر دیا تھا۔

لووی انسٹیٹیوٹ کے ایک اور تجزیے میں بتایا گیا کہ لاؤس اس وقت شدید قرض بحران میں پھنس چکا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ مقامی توانائی کے شعبے میں ضرورت سے زیادہ سرمایہ کاری ہے، جو زیادہ تر چین نے کی۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ چین اب اس ریکارڈ سطح کے قرض کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طورپر استعمال کر سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی امداد میں بھاری کٹوتیاں کی ہیں۔ رپورٹ میں نئے قرضوں کا بھی ذکر ہے، جو ہونڈوراس، نکاراگوا، جزائر سلیمان، برکینا فاسو اور ڈومینیکن ریپبلک کو دیئے گئے ہیں۔ یہ سب وہ ملک ہیں جنہوں نے حالیہ عرصے میں تائیوان سے تعلقات تبدیل کر کے سفارتی سطح پر چین کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں۔

چین اب بھی اپنے کچھ اسٹریٹجک شراکت داروں کو قرض دیتا ہے، جن میں پاکستان، قازقستان، لاؤس اور منگولیا شامل ہیں۔ ارجنٹینا، برازیل اور انڈونیشیا جیسے وہ ملک بھی ہیں جہاں سے اہم معدنیات اور دھاتیں حاصل کی جاتی ہیں۔تاہم یہ صورتحال خود چین کو بھی ایک پیچیدہ مقام پر لے آئی ہے۔ ایک طرف اسے غریب ممالک کے ناقابلِ برداشت قرضوں کی تنظیم نو کے لیے سفارتی دباؤ کا سامنا ہے، تو دوسری طرف چین کو اپنے معاشی بحران کے پیش نظر ان قرضوں کی واپسی کی فوری ضرورت ہے۔

چین بی آر آئی منصوبے سے متعلق اعداد و شمار شائع نہیں کرتا۔ اس لیے رپورٹ میں دیئے گئے تخمینے غالباً چین کی اصل قرض فراہم کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ 2021میں ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ چین کی مجموعی طور پر 385ارب ڈالر کے ‘خفیہ قرضوں’ کی رقم واجب الادا ہے۔

یوں چین کے ظالم اور جابر سامراجی طاقتوں کے ساتھ تعلقات ہوں، یا غریب اور پسماندہ ملکوں کو قرضوں کے جال میں پھنسانے کی پالیسی جیسے الزامات، انسانی حقوق کے کارکنوں اور بائیں بازو اور فلسطین کی حمایت کرنے والے گروہوں کے لیے یہ ایک نیا چیلنج ہیں۔ چین کسی صورت بھی کیمپ اسٹ بائیں بازو کی اس امید افزاء تھیوری پر پورا اترتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے، جس میں ملٹی پولر دنیا سے سامراجی طاقتوں کے مظالم کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہونے کی امید لگائی جا رہی ہے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں