روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

گریتا تھنبیری 5 دن تک اسرائیلی حراست میں مار پیٹ، بھوک پیاس اور غلیظ گالیاں سہتی رہیں

گریتا تھنبیری 5 دن تک اسرائیلی حراست میں مار پیٹ، بھوک پیاس اور غلیظ گالیاں سہتی رہیں

سویڈش اخبار ’آفتن بلادت‘ میں گریتا تھنبیری (انگریزی اوراردو میں اکثر ان کا نام ’گریتا تھنبرگ‘ لکھا اور بولا جاتا ہے مگر سویڈش تلفظ کے مطابق ان کا دوسرا نام تھنبیری ہے)اور صمود فلوٹیلا کے کئی دیگر شرکاء کے ساتھ اسرائیلی قید کے دوران کیے گئے سلوک پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔اس فیچر رپورٹ کے لیے گریتا نے اسرائیلی قید میں گزارے 5دنوں کے بارے میں تفصیلات آفتن بلادت کو بتائیں اور یہ بھی بتایا کہ سویڈن کی وزارت خارجہ کے اہلکاروں نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔اخبار نے اپنی تحقیقات کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ وزارت خارجہ نے اپنے پیغامات میں قیدیوں سے کی گئی اسرائیلی حکام کی بد سلوکی کو بھی کم کر کے پیش کیا ہے۔ اس رپورٹ کا ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

گریتا کے گھر کے ہال میں ان کا سرخ رنگ کا سوٹ کیس رکھا ہے، جس پر کسی نے بڑے سیاہ حروف میں ’گریتا رxxی‘ لکھ دیا ہے[یہاں گالی بوجہ حذف کی جا رہی ہے:مترجم]۔

لکھائی کے ارد گرد اسرائیلی جھنڈا اور ایک جنسی خاکہ بنا ہوا ہے۔یہ بیگ اسرائیلی فوج نے کشتی سے ضبط کیا تھا اور اسی حالت میں واپس کیا۔

گریتا ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ ”یہ تو پانچ سال کے بچوں جیسی حرکتیں کرتے ہیں!“

ہم گریتا تھنبیری سے اس کے فلیٹ میں ملے جہاں وہ دوستوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ خزاں کی دھوپ کھڑکیوں سے اندر آرہی ہے، دیواروں پر دنیا بھر کی احتجاجی تحریکوں کے پوسٹر لگے ہیں۔

گریتا رات صرف آدھا گھنٹہ سوئیں اور خواب میں کشتی پر بمباری ہوتے ہوئے بھی دیکھی۔ وہ نہیں چاہتیں کہ ان پر ذاتی سرخیاں لگیں یا انہیں کسی’شہید‘کی طرح پیش کیا جائے۔

سویڈن واپسی کی شام جب وہ فلوٹیلا کے دیگر سویڈش شرکاء کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہی تھیں تو انہوں نے یہی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ”یہ میرے یا فلوٹیلا کے باقی لوگوں کے بارے میں نہیں ہے۔ ہزاروں فلسطینی ہیں، جن میں سینکڑوں بچے ہیں، جو بغیر مقدمے کے قید ہیں، اور ان میں سے بہت سے یقینا تشدد کا شکار ہیں۔“

گریٹا کے مطابق ”یہ کہانی دراصل عالمی یکجہتی کے بارے میں ہے۔ لوگوں کے اس عزم کے بارے میں جو حکومتوں کی بجائے انسانیت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، اور سب سے بڑھ کر یہ اُن لوگوں کے بارے میں ہے جو غزہ میں رہتے ہیں۔“

تاہم وہ مانتی ہیں کہ دنیا کی دلچسپی فطری ہے، کیونکہ ان کے ساتھ جو سلوک ہوا، اس کی وجہ سے وہ خود ایک علامت بن گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ”اگر اسرائیل پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے ایک معروف، گوری رنگت کی، سویڈش شہری کے ساتھ یہ کر سکتا ہے، تو سوچیں وہ فلسطینیوں کے ساتھ بند دروازوں کے پیچھے کیا کرتے ہوں گے۔“

اسی دوران خبر آئی کہ مغربی کنارے سے ایک فلسطینی لڑکا اسرائیلی حراست میں ہلاک ہو گیا، جو گریتا کی عمر کا تھا۔

گریتا کہتی ہیں کہ ”ہم نے جو ہمارے ساتھ ہوا،وہ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے مقابلے پر کچھ بھی نہیں“۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے قید خانے کی دیواروں پر گولیوں کے نشانات اور خون کے دھبے تھے،اور فلسطینی قیدیوں کے کندہ کردہ پیغامات لکھے تھے۔

گریتا اپنے ساتھ پیش آنے والے تمام واقعات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ستمبر کے شروع میں جب ان کی کشتی تیونس کے قریب تھی، اسرائیلی بحریہ نے حملہ کیا۔امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے سی بی ایس کو بتایا کہ یہ حملہ وزیراعظم نیتن یاہو کے حکم پر کیا گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ”اس دن اگر میں پریس کانفرنس میں نہ بلائی جاتی تو میں بھی اس کشتی پر ہوتی جو بمباری میں تباہ ہوئی۔“

وہ یاد کرتی ہیں کہ حملے کے دوران کیمیکل اسپرے کیے گئے، اور اب وہ کبھی ستاروں بھرا آسمان دیکھ کر سکون محسوس نہیں کر سکتیں، کیونکہ انہیں صرف ڈرون یاد آتے ہیں۔

وہ فلوٹیلا کے 500 اراکین کا ذکر بھی کرتی ہیں، جن میں اساتذہ، ڈاکٹر، محقق، طلبہ، سیاست دان، کاروباری لوگ شامل تھے۔ سب انسانیت بچانے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔

گریتا خاص طور پر ان یہودی رضاکاروں کا ذکر کرتی ہیں، جنہوں نے اسرائیلی پالیسی کے خلاف آواز اٹھائی۔ وہ کہتی ہیں کہ ”کئی لوگوں کے اپنے خاندان نے ان سے تعلق توڑ لیا، لیکن ہمارے ساتھ آنے والے یہودیوں نے کہا کہ اسرائیل ان کے نام پر ظلم نہیں کر سکتا۔“

وہ اس رات کی بات کرتی ہیں، جب اسرائیلی فوج نے کشتی پر چڑھائی کی۔”نقاب پوش فوجی خودکار بندوقوں کے ساتھ اندر آئے۔یہ منظر فلوٹیلا کے چینلز پر براہ راست نشر ہو رہا تھا۔سب کو نچلے ڈیک پر بٹھا دیا گیا۔وہاں بہت گرمی تھی، ہم حرکت نہیں کر سکتے تھے۔ باقی فوجی سامان توڑتے پھرتے تھے۔“

انہیں معلوم نہیں کہ وہ خوراک، دوائیں اور بچوں کے دودھ پر مشتمل امدادی سامان کہاں گیا، جو غزہ کے لیے تھا۔

20 گھنٹے بعد کشتی اشدود بندرگاہ پہنچی۔

ایک سپاہی نے گریتا کی طرف اشارہ کیاکہ ”تم پہلے، چلو!“

گریٹا کو’فری فلسطین‘کی ٹی شرٹ اتارنے کا حکم ملا۔انہوں نے ایک اور نارنجی قمیض پہنی جس پر ’ڈی کالونائز‘لکھا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ”میں نے اپنی فراگ کیپ پہن لی۔جیسے ہی میں نیچے اتری، پولیس والے لپک آئے، مجھے زمین پر گرا دیا، اور ایک اسرائیلی جھنڈا میرے اوپر ڈال دیا۔“

یہ وہ لمحہ تھا جہاں سے تشدد بڑھ گیا۔گریتا کو ایک فولادی باڑ والے علاقے میں گھسیٹا گیا۔گریتا بتاتی ہیں کہ”میں نے دیکھا، تقریباً 50 لوگ گھٹنوں کے بل بیٹھے تھے، ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں، اور ان کے ماتھے زمین پر ٹکے تھے۔“

وہ دکھاتی ہیں کہ انہیں کس طرح گھسیٹا گیا، کیسے جھنڈا ان کے گرد لپیٹ دیا گیا۔وہ کہتی ہیں کہ ”انہوں نے مارا، لاتیں ماریں۔ میری ٹوپی اتار کر زمین پر پھینکی، اسے پاؤں سے روندا، اور چلانے لگے۔پھر مجھے ایک کونے میں لے گئے اور کہا کہ یہ ’ایک خاص عورت کے لیے خاص جگہ‘ ہے۔ انہوں نے سویڈش میں گالیاں سیکھ رکھی تھیں،’چھوٹی رxxی‘اور’رxxی گریتا‘ جیسی گالیاں بار بار دہرارہے تھے۔“

جب جھنڈا ہوا سے ہلتا اور اس کے چہرے کو چھوتا تو وہ چیختے کہ”جھنڈے کو ہاتھ مت لگاؤ!“،اور پھر انہیں لات مارتے۔پھر ان کے ہاتھوں کو پلاسٹک کی پٹیوں سے سخت باندھ دیا اورپہرے دار اس حالت میں ان کے ساتھ سیلفیاں لیتے رہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ”انہوں نے میرا بیگ کھولا اور ہر وہ چیز کاٹ دی جس پر فلسطین لکھا تھا۔ہر شے کوچاقو سے کاٹتے۔اسی دوران دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر اندر داخل ہوئے۔وہ چیخے’تم دہشت گرد ہو! تم یہودی بچوں کو مارنا چاہتے ہو!‘، جو بھی جواب دیتا، اسے الگ لے جا کر مارا جاتا۔جب بھی میں سر اٹھاتی، مجھے لات ماری جاتی۔“

وہ بتاتی ہیں کہ ”ایک لمحہ بہت دردناک تھا۔جب میں نے باتھ روم جانے کی اجازت مانگی، اورجب مجھے لے جایا جا رہا تھاتو ایک سویڈش قیدی عورت نے کہاکہ’گریتا،ہم تمہارے ساتھ ہیں۔‘اس عورت کو فوراً الگ لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔“

جب گریتا باتھ روم سے ہو کر واپس گزریں تو قیدیوں نے”سلے!‘کہنا شروع کیا (یہ انٹرنیٹ سلینگ میں تعریف کا لفظ ہے)۔

گریتا بتاتی ہیں کہ’’پہلے ایک نے،اور پھر سب نے مل کر’سلے‘ کہا، تاکہ وہ سب کو نہ مار سکیں۔“

اس کے بعد گریتا کو ایک عمارت میں لے جا کر برہنہ کر کے تلاشی لی گئی۔

پھر اسے ایک عمارت میں لے جا کر برہنہ تلاشی دی گئی۔

وہ بتاتی ہیں کہ ”گارڈز میں کوئی رحم اور ہمدردی نہیں تھی۔ وہ ہنستے رہے، اور میرے ساتھ سیلفیاں لیتے رہے۔ بہت تھوڑے وقت میں اتنا کچھ ہوا کہ مجھے یاد بھی نہیں۔ آپ صدمے میں ہیں، تکلیف میں ہیں، لیکن آپ ایسی حالت میں چلے جاتے ہیں کہ خود کو سنبھالے رکھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔“

پھر گریتا کو تفتیش کے لئے ایک اور کمرے میں گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا۔

گریتا کہتی ہیں کہ ”تب بن گویر اپنے میڈیا عملے کے ساتھ آئے اور چیختے ہوئے کہا کہ ’میں خود یقینی بناؤں گا کہ تمہیں دہشت گردوں کی طرح رکھا جائے۔ تم حماس ہو۔ میں نے اقوام متحدہ کے کنونشنز دہرائے، اورکہا کہ اسرائیل قانون سے بالاتر نہیں۔میں نے سوچا یہ سب کچھ ریکارڈ ہوا ہو گا اور بعد میں وائرل کیاجائے گا، لیکن ابھی تک میں نے اسے وائرل ہوتے دیکھا نہیں۔“

بعد میں بن گویر نے میڈیا میں فخر سے کہا کہ انہوں نے فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا۔انہوں نے بتایا کہ یہ وہ پالیسی ہے جو انہوں نے خود بنائی ہے۔

گریٹا بتاتی ہیں کہ اس کے بعد ان سے سرکاری اہلکاروں نے دستاویزات پر دستخط کروانے کی کوشش کی کہ وہ غیرقانونی طور پر اسرائیل میں داخل ہوئیں، لیکن انہوں نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔جس کے بعد ان کے ہاتھ دوبارہ باندھ دیے گئے، آنکھوں پر پٹی باندھی گئی، اور انہیں گاڑی کے اندر ایک چھوٹی سی کوٹھری میں بند کر دیا گیا۔انکا کہنا تھا کہ ”رات بہت سرد تھی، ہم صرف ٹی شرٹس میں تھے۔“

جیل پہنچنے پر انہیں دوبارہ کپڑے اتارنے پر مجبور کیا گیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ”یہ سب ایک بے ہودہ مذاق تھا، وہ بہت پرتشدد اور بے رحم تھے اور یہ سب کچھ فلمایا جا رہا تھا۔ لوگوں کی ادویات ہمارے سامنے کوڑا دان میں پھینک دی گئیں، ان ادویات میں انسولین، دل اور کینسر جیسے امراض کی وہ ادویات تھیں جو فلوٹیلا کے شرکاء کے روزمرہ استعمال میں تھیں۔قید خانے کی ایک دیوار پر بمباری شدہ غزہ کی تصویر لگی تھی جس پر عربی زبان میں ’نیو غزہ‘لکھا تھااور ساتھ ہی اسرائیلی پرچم لگا ہوا تھا۔

قید خانے میں گریتا کو مختلف سیلز میں رکھا گیا۔ کچھ مرتبہ انہیں 15 مربع میٹر کی کوٹھری میں 13 دوسرے قیدیوں کے ساتھ قید کیا گیا۔وہ بتاتی ہیں کہ ’گھڑیاں نہ ہونے کی وجہ سے وقت کا پتہ نہیں چلتا تھا، لیکن شاید چار دن ایسے تھے کہ ہمیں کھانا نہ ہونے کے برابر دیا جاتا تھا، پینے کا صاف پانی میسر نہیں تھا، بلکہ ٹوائلٹ کے نل سے پانی پینے پر مجبور کیا جاتا تھا، جو پانی نہیں تھا، بلکہ کچھ بھورے رنگ کا مادہ تھا جو نل سے بہتا تھا۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگ بیمار ہو گئے۔“

وہ کہتی ہیں کہ”ایک وقت میں ایسا لگتا تھا کہ ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے شور مچانے کے متحمل بھی نہیں ہو سکتے۔ 40ڈگری سینٹی گریڈ تک گرمی تھی۔ ہم سارا وقت پانی کے لیے بھیک مانگتے رہے۔ آخر کار ہم رونے لگے۔ گارڈز سلاخوں کے سامنے گھومتے ہوئے اور اپنے ہاتھوں میں موجود پانی کی بوتلیں دکھاتے ہوئے ہم پر ہنستے تھے۔“

فلوٹیلا کے متعدد شرکاء کے مطابق ایک بار تقریباً 60 قیدیوں کو دن کے وقت شدید دھوپ میں ایک لوہے کے پنجرے میں بند کیا گیا۔ان میں سے زیادہ تر لوگوں کے پاس اتنی جگہ بھی نہیں تھی کہ وہ ٹھیک سے بیٹھ سکیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ”جب لوگ بے ہوش ہوئے تو ہم نے شور مچایا اور کہا کہ ڈاکٹر کو بلائیں۔ تب گارڈز آئے اور گیس سلنڈر دکھا کر ہمیں دھمکی دی کہ وہ گیس چھوڑ دیں گے۔رات کے اوقات میں گارڈز مسلسل چکر لگاتے اور سلاخیں ہلاتے، لائٹیں مارتے اور لوگوں کو کھڑا رہنے پر مجبور کرتے۔“

گریتا بتاتی ہیں کہ ایک بار انہیں کیڑوں سے بھری اکیلی کوٹھری میں تقریباً آدھے گھنٹے کے لیے بند کر دیا گیا۔وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو سنبھالنے کے لیے گانے گانا شروع کر دیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ”میں خود کو پرسکون رکھنے کے لیے گیت گاتی رہی۔“

گریتا کو مختلف سرکاری حکام سے ملاقاتوں کے لیے لے جایا گیا۔ ان ملاقاتیوں میں اسرائیلی حکام، ڈپلومیٹس، سیاستدان اور دیگر سرکاری حکام شامل تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ ”انہوں نے کہاکہ ’ہم نے حماس کو پیشکش کی تھی کہ تمہارے بدلے (اسرائیلی)یرغمالیوں کو رہا کر دیں‘۔یہ کہتے ہوئے مجھے گھورنے لگے۔ جب میں نے کچھ دیر بعد پوچھا کہ یہ سب کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ’ہم مذاق کر رہے تھے۔‘باقیوں نے بار بار دہرایا کہ ’یہ نسل کشی نہیں ہے۔ہمارا یقین کرو کہ اگر ہم نسل کشی کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے۔‘

بندرگاہ پر انہیں صرف پانچ منٹ کے لیے وکیل سے ملنے دیا گیا۔پھر جمعے کو تل ابیب میں واقع سویڈش سفارتخانے کے تین سفارتی اہلکار سویڈش قیدیوں سے ملنے کے لیے آئے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ”ہم نے انہیں بتایا کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا۔ مار پیٹ، بھوک، پیاس، تشدد۔ اپنے زخم دکھائے۔ہم نے انہیں تمام رابطوں کی تفصیلات بھی فراہم کیں۔ میں نے اپنے والد کا نمبر بھی اور تنظیم کا نمبر بھی انہیں دیا۔ہمیں یقین تھا کہ یہ سب کچھ میڈیا تک پہنچایا جائے گا۔“

تاہم گریتا کہ مطابق انکا جواب بس یہی تھا کہ وہ محض انہیں سننے کے لیے آئے ہیں۔

گریتا کہتی ہیں کہ ”انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ انہوں نے بس کہا کہ ’ہم سننے آئے ہیں۔ آپ کو کونسلر مدد کا حق حاصل ہے، اس لیے ہم یہاں ہیں۔‘ہم نے بار بار کہا کہ ہمیں پانی چاہیے۔ انہوں نے دیکھا بھی کہ گارڈز کے پاس پانی کی بوتلیں ہیں۔ سفارتخانے کے عملے نے کہا کہ ’ہم نے یہ سب کچھ نوٹ کر لیا ہے۔‘ عملی طور پر انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ ونسنٹ نے انہیں کہا کہ جب آپ دوبارہ آئے تو پانی اپنے ساتھ لے آنا۔“

گریتا کے مطابق ”دو دن بعد سفارتخانے کے عملے کے لوگ دوبارہ آئے۔ انہوں نے پانی نہیں لایا، سوائے اس آدھی بوتل کے جو ان کے اپنے استعمال کی تھی۔ ونسنٹ کی حالت بہت زیادہ خراب تھی، انہوں نے وہ پانی پیا۔ ہم مسلسل گارڈز سے پانی مانگتے رہے۔ وہ اپنے ہاتھوں میں پانی کی بوتلیں اٹھائے بس ادھر ادھر چلتے رہے، لیکن ہمیں انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔“

آخرکارسویڈش قیدیوں نے سفارتخانے کے عملے کی موجودگی میں ہی یہ فیصلہ کیا کہ جب تک پانی نہیں ملتا، وہ واپس سیل میں نہیں جائیں گے۔تاہم سفارتی عملے نے ان کے اس مطالبے پر توجہ دینے کی بجائے انہوں نے جیل سے جلد باہر نکلنے کی کوشش شروع کر دی۔

گریتا بتاتی ہیں کہ ’میں نے انہیں کہاکہ اگر آپ اب چلے گئے تو وہ ہمیں ماریں گے، مگر وہ میری بات سنے بغیر ہی چل دیے۔“

مختلف شرکاء کے مطابق ایک خاتون کارکن نے غصے میں کوڑے دان کو لات ماری، جس میں پھینکی گئی پانی کی بوتلیں فرش پر بکھر گئیں۔ گریتا اور دیگر قیدیوں نے ان بوتلوں میں موجود پانی پیا۔ یہ بوتلیں گارڈز نے پانی پی کر کوڑے دان میں پھینکی ہوئی تھیں۔

سفارتی عملے نے یہ سارا منظر دیکھا، لیکن اس کے باوجود وہاں سے واپس چل پڑے۔

پانچ روز گزرنے کے بعد اسی روز فلوٹیلا کے سویڈش شرکاء کو رہا کر دیا گیا۔ سویڈش وزیراعظم نے اسی روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”وارننگز کے باوجود غزہ جانا بہت بڑی بے وقوفی تھی۔“

’آفتن بلادت‘ نے وزارت خارجہ کی ای میلز کا جائزہ لیا، جو فلوٹیلا کے شرکاء کے رشتے داروں کو بھیجی گئی ہیں۔ اس جائزے میں یہ واضح ہوتا تھا کہ اس معاملے کو بہت غیر سنجیدگی سے لیا گیا۔

وزارت خارجہ نے بندرگاہ پر گریتا کو گھنٹوں تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے کو ایسے بیان کیا کہ ’انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ سخت سلوک ہوا اور وہ طویل وقت تک سخت فرش پر بیٹھی رہیں۔‘

ہفتے کے روز مختلف میڈیا اداروں نے گریتا پر ہونے والے تشدد کو رپورٹ کیا۔

گریتا کے والد کو بھیجی گئی وزارت خارجہ کی ایک ای میل کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ”انہوں نے جو کچھ مجھے بھیجا وہ گریتا کے بیان سے میل نہیں کھاتاتھا۔مجھے محسوس ہوا کہ یہ سارا ردعمل اور رابطہ ایک دھوکہ ہے۔مجھے محسوس ہوا جیسے ہم کسی ثقافتی جنگ کے مہرے ہیں، جبکہ اسی وقت میں نے دیکھا کہ اسرائیلی وزیر خود کھلے عام یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ قیدیوں پر تشدد کرتے رہے ہیں۔“

فلوٹیلا کے تین دیگر شرکاء نے بھی ان واقعات کی تصدیق کی جن کی تفصیلات گریتا نے بتائیں۔ انہوں نے بھی بتایا کہ انہیں بھی یہ بدسلوکی اور تضحیک سہنا پڑی۔

’آفتن بلادت‘ نے قیدیوں کے رشتے داروں سے بھی بات کی۔ سب کو ہی سویڈش سفارتخانے کے عمل کے رویہ پر شدید تشویش تھی۔

ماریتا روڈریگیز کہتی ہیں کہ ”ہم نے کہا سب کچھ آگے پہنچاؤ،اور ہمارے رشتے داروں کو بتاء۔ انہوں نے کیسے یہ ساری اہم چیزیں اپنے پاس روک لیں، جو ہم نے انہیں بتائی تھیں۔“

ماریتاکے پاس چلی اور سویڈن کی شہریت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”چلی کے قونصل نے تو محافظوں سے ٹکر لے کر ہم سے بات کرنے کی کوشش کی، مگر سویڈش نمائندے خاموش رہے۔وزارت خارجہ کا عملہ بھی احتجاج کرتا دکھائی نہیں دیا۔ دوسری طرف ایسے بھی لوگ تھے جو گارڈز کے ساتھ لڑائی کر رہے تھے اور چلاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ’ہائے، میں آپ چلی سے آپ کا قونصل ہوں۔ میں صرف یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کیسے ہیں؟“

ایک اور قیدی ونسنٹ نے تضحیک و تذلیل کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ”انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ میں بہت مایوس ہوں۔ ہم نے دیکھا کہ دیگر ملکوں سے بھی وفود آئے، جیسے فرانس کے سفیر آئے اور وہ ملاقاتوں کے دوران پانی اور بسکٹ ساتھ لے کر آئے تھے،اور ہمارے سفارت خانے نے کچھ نہیں کیا۔“

وزارت خارجہ نے ونسنٹ کی پارٹنر ربیکا کارلسن کو لکھے گئے ای میل میں بتایا کہ’’ملاقات کے دوران ونسنٹ نے پانی پیا، جو سفارتی عملے کے لوگ اپنے ساتھ لے کر گئے ہوئے تھے۔“

ربیکا کارلسن کہتی ہیں کہ ”انہوں نے حقیقت چھپائی اور یہ نہیں بتایا کہ ونسنٹ کوسفارتی عملے کی استعمال کی گئی آدھی پانی کی بوتل دی گئی، اور ان کے علاوہ کسی اور قیدی کو پانی نہیں فراہم کیا گیا۔“

سبھی قیدیوں اور ان کے اہل خانہ نے بتایا کہ وزارت نے ان کے بیانات نرم کر کے پیش کیے۔کئی کو تو اپنے پیاروں کا پیغام تک نہیں پہنچایا گیا۔

ربیکا کارلسن نے کہاکہ ”ہم پارلیمانی محتسب کو شکایت کریں گے کہ وزارت نے اپنے شہریوں کے حق میں کچھ نہیں کیا۔“

وزیراعظم نے ان باتوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، جبکہ وزارت خارجہ کی جانب سے ای میل کے جواب میں کہا گیا ہے کہ ”یہ شہری خود خطرے میں پڑے۔گلوبل صمود فلوٹیلا کا نتیجہ پہلے جیسا ہی نکلا۔ کوئی امداد غزہ نہیں پہنچ سکی۔“

ماہرین قانون نے حکومت کے طرزعمل پر تنقید کی۔وکیل لینس گارڈیل کے مطابق امدادی جہازوں پر حملہ بین الاقوامی اور سویڈش قانون دونوں کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہاکہ ”حکومت کی خاموشی حیران کن ہے۔“

جبکہ پروفیسر سعید محمودی نے کہاکہ ”یہ سب کچھ سمجھ سے باہر ہے۔“

 

(بشکریہ:’آفتن بلادت‘، ترجمہ و تدوین: حارث قدیر)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں