لاہور(جدوجہد رپورٹ)کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں سیکڑوں خواتین نے منگل کے روز امریکہ کی جانب سے عائد تیل کی موثر ناکہ بندی اور دباؤ کی پالیسی کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ سابق انقلابی رہنما ولما ایسپین کی 96ویں سالگرہ کے روز ہوا، جو کیوبا انقلاب کی اہم شخصیت، سابق خاتون اول اور راول کاسترو کی اہلیہ تھیں۔ کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کے اعلیٰ حکام مارچ کی قیادت کر رہے تھے، جن میں نائب وزیر اعظم اینیس ماریا چیپ مین اور نائب وزیر خارجہ جوسیفینا وڈال شامل تھیں۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق رواں برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا پر غیرملکی تیل کی سپلائی روکنے کے اقدامات سخت کر دیے ہیں۔ 11 جنوری کو ٹرمپ نے وینزویلا سے کیوبا کو آئل اور مالی مدد کی ترسیل بند کرنے کا اعلان کیا، جبکہ 29 جنوری کو ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے کسی بھی ملک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی جو کیوبا کو تیل فراہم کرے۔ اس کے بعد سے کیوبا کی 59.4 فیصد بیرونی تیل سپلائی تقریباً منقطع ہو چکی ہے، جب کہ ملک اپنی ضرورت کا صرف 40.6 فیصد تیل خود پیدا کرتا ہے۔
تیل کی کمی کے سبب گزشتہ ماہ دو بڑے ملک گیر بلیک آؤٹ ہو چکے ہیں جن کے باعث ہسپتالوں اور اہم تنصیبات میں شدید بحران پیدا ہوا۔ اگرچہ 30 مارچ کو ایک روسی آئل ٹینکر کی آمد سے وقتی ریلیف ملا، روس نے ایک اور ٹینکر بھیجنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
سیاسی ماحول میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب ٹرمپ نے بارہا دھمکی دی کہ’کیوبا اگلا ہدف‘ہے۔ کیوبا اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات جاری ہیں، مگر کیوبا کے حکام کے مطابق یہ ابتدائی اور غیر رسمی مرحلے میں ہیں۔ مظاہرے سے ایک روز قبل امریکی کانگریس کے دو ارکان پرمیلا جیہ پال اور جوناتھن جیکسن کیوبا حکومت سے ملاقات کے لیے ہوانا پہنچے۔ انہوں نے پیغام دیا کہ امریکی عوام اس بے رحمی کو اپنے نام پر جاری دیکھنا نہیں چاہتے اور ٹرمپ انتظامیہ سے پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔