روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

یوکرین متھ سیریز…متھ نمبر 3: ’کریمیا کا ریفرنڈم اور روس سے الحاق‘

یوکرین متھ سیریز…متھ نمبر 3: ’کریمیا کا ریفرنڈم اور روس سے الحاق‘

مائیکل کراجیس

یہ یوکرین کی صورتحال سے متعلق ان معروف دعوؤں سے متعلق ایک جاری سلسلے کی تیسری قسط ہے جو 2014 سے مسلسل گردش میں ہیں، اور مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ یقینا یہ ان افسانوں کو جھٹلانے والا واحد ذریعہ نہیں ہے، لیکن چونکہ یہ اس قدر پھیلے ہوئے ہیں کہ جتنی بار ان کی تردید کی جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ مجھے ان کے خلاف اپنی ایک فہرست تیار کرنی چاہیے تاکہ جب بھی یہ بکواس سوشل میڈیا پر دہرائی جائے تو میں فوراً اس کا جواب دے سکوں۔

روس کی جانب سے 2014 میں یوکرین کے خودمختار علاقے کریمیا کا کھلا اور جارحانہ الحاق یورپ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا واقعہ تھا۔ اس سے پہلے صرف ترکی کی شمالی قبرص پر (جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ نہیں) جزوی قبضے کی مثال موجود ہے۔ دنیا بھر میں بھی ایسے براہ راست الحاقوں کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں، جیسے: اسرائیل کا فلسطینی یروشلم اور شامی گولان پر قبضہ، مراکش کا مغربی صحارا پر قبضہ، انڈونیشیا کا ایرئین جا یااور بعد ازاں مشرقی تیمور پر (1999 تک)۔ پھر بھی پیوٹن کے حامیوں نے روسی سامراجی توسیع پسندی کے اس عمل کو کریمیا میں روسی نسل کی اکثریتی آبادی کے ”حق خود ارادیت“ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جو کہ صاف طور پر ہٹلر کے سوڈیٹن لینڈ پر دعوے کی یاد دلاتی ہے۔

27 فروری 2014 کو یوکرینی پارلیمنٹ کی جانب سے وکٹر یانوکووچ کو معزول کرنے کے صرف پانچ دن بعد ماسک پہنے ہوئے روسی فوجی یوکرین کی خودمختار سرزمین کریمیا میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے حکومتی عمارتوں پر حملہ کیا، ان پر روسی پرچم لہرایا، جمہوری طور پر منتخب شدہ کریمیائی خودمختار حکومت کو زبردستی برطرف کر دیا، اور اس کی جگہ ’رشین یونٹی‘ نامی انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے کٹھ پتلیوں کو بٹھا دیا۔ اسے پچھلے انتخابات میں صرف 4 فیصد ووٹ ملے تھے۔ کیا یہ سب کچھ بغاوت نہیں؟ یہ تو بغاوت اور بیرونی فوجی جارحیت کی نصابی مثال ہے۔

اس کے بعد اس غیر ملکی حمایت یافتہ جنتا نے روسی فوجی قبضے کے تحت یوکرین سے علیحدگی اور روس سے الحاق کے لیے صرف10دن کے نوٹس پرایک غیر قانونی ”ریفرنڈم“ کروایا۔ اس جعلی ”ریفرنڈم“ میں صرف دو آپشنز دیے گئے، جن میں سے کوئی بھی موجودہ صورتِ حال (status quo) کو برقرار رکھنے کا نہیں تھا۔ یوکرینی میڈیا کو بند کر دیا گیاتھا۔

یقیناً اس جنتا نے اعلان کر دیا کہ 97 فیصد ووٹرز نے روس سے الحاق کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ وہی مخصوص نمبر ہے جو آمروں کی طرف سے منعقد کیے جانے والے ”انتخابات“ میں فضا سے کھینچ کر پیش کیا جاتا ہے۔تاہم پیوٹن کی اپنی ہی انسانی حقوق کی کونسل نے رپورٹ دی کہ اصل ووٹر ٹرن آؤٹ صرف 30 سے 50 فیصد کے درمیان تھا، اور ان میں سے بھی صرف 50 سے 60 فیصد نے روس سے الحاق کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یوکرین بھر میں 8 تا 18 فروری 2014 کے دوران کیے گئے ایک سروے کے مطابق کریمیا کے صرف 41 فیصد باشندے روس سے الحاق کے حق میں تھے، اور یہ شرح پورے یوکرین میں سب سے زیادہ تھی۔ ہمیں یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ یہ شرح صرف ایک مہینے میں 41 فیصد سے 97 فیصد تک پہنچ گئی!

توقع کے عین مطابق روس کی جانب سے قائم کردہ جنتا نے اس نمائشی ریفرنڈم کے لیے بین الاقوامی مبصرین کے نام پر یورپ کی مختلف انتہائی دائیں بازوکی /فاشسٹ جماعتوں کو مدعو کیا۔ مہمانوں کی فہرست میں فرانسیسی نیشنل فرنٹ، ہنگری کی یووبِک (Jobbik)، بلغاریہ کی اتاکا (Ataka)، آسٹریا کی فریڈم پارٹی، بیلجیم کی فلامس بلانگ (Vlaams Belang)، اٹلی کی فورزا اٹالیا اور لیگا نورڈ، اور پولینڈ کی سیلف ڈیفنس پارٹی شامل ہیں۔ یہ فہرست یورپی دائیں بازو کے فاشسٹ حلقوں کا ایک مکمل تعارف معلوم ہوتی ہے۔ یورپ بھر کی فاشسٹ جماعتوں نے کریمیا کے روس میں دوبارہ ’شامل‘ ہونے کی بھرپور حمایت کی، کیونکہ ان کے نزدیک یہ کریمیا کی ’صحیح جگہ‘ تھی۔ آخرکار وہ پرانی سلطنتوں کی بحالی کے قائل ہیں۔

اس کے برعکس کریمیائی تاتار قوم کی مجلس (پارلیمان) نے اس ریفرنڈم کو غیرقانونی قرار دیا اور اس کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔ اسے بین الاقوامی سطح پر کریمیا کے مقامی و اصل باشندوں کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے (اور یوکرین میں بھی انہیں یہی حیثیت حاصل ہے)، اور جو’بے نمائندہ اقوام و اقلیتوں کی تنظیم‘ (UNPO) کی رکن ہے۔یہ اس لیے بھی اہم ہے تاکہ خود کو’نوآبادیاتی مخالف‘بائیں بازو سے منسوب کرنے والے لوگوں کو یاد دلایا جا سکے کہ شاید مقامی اقوام کے خیالات کو کچھ اہمیت دی جانی چاہیے۔

ریفرنڈم کے بعد روسی قابض حکومت نے کریمیائی تاتاروں کی نمائندہ مجلس پر پابندی لگا دی، وہی مجلس جسے کریمیا کے تاتاروں نے روسی انقلاب کے بعد قائم کیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق (OHCHR) نے کریمیا میں تاتار آبادی کے خلاف جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کی دستاویزات مرتب کی ہیں، جن میں حراست، اذیت، اور ظلم شامل ہیں۔

آج، جلاوطنی میں موجود مجلس کا یہ مطالبہ ہے کہ کریمیا کو یوکرین کو واپس لوٹایا جائے، اور یہ مطالبہ روس کے ساتھ کسی بھی امن مذاکرات کی ایک لازمی شرط کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کریمیائی تاتار11ویں صدی سے کریمیا کی اکثریتی آبادی رہے ہیں، اور 1783میں کیتھرین دی گریٹ کی فتح کے ساتھ روسی نوآبادیاتی قبضے کے آغاز کے بعد بھی طویل عرصے تک اکثریت میں رہے۔ تقریباً 1900 تک روسی آبادکاروں کی تعداد مقامی تاتار آبادی سے زیادہ نہیں ہوئی تھی، اگرچہ اس دوران بھی لاکھوں تاتار روسی جبر سے تنگ آ کر ہجرت کر گئے۔ 1944 تک تاتار کریمیا کی آبادی کا تقریباً 40 فیصد تھے، جب اسٹالن نے ہر مرد، عورت اور بچے کو کریمیا سے جلاوطن کر کے وسطی ایشیا بھیج دیا۔ لاکھوں لوگوں کو جبری طور پر منتقل کیا گیا، اور اس اذیت ناک سفر کے دوران ہر تین میں سے ایک شخص ہلاک ہوا۔ اگرچہ گزشتہ دہائیوں میں انہیں واپس آنے کی اجازت ملی، مگر اس طرح کی جبری نقل مکانی کا اثر نیم مستقل نوعیت کا ہوتا ہے۔ کریمیا میں ان کی آبادی سست روی سے، لیکن بتدریج دوبارہ بڑھ رہی تھی۔اس عمل کو 2014 کے جبری الحاق نے روک دیا۔ دوسرے لفظوں میں بائیں بازو (اور انتہائی دائیں بازو) کا یہ دعویٰ کہ چونکہ کریمیا کی 58 فیصد آبادی نسلی طور پر روسی ہے، اس لیے روس کے ساتھ الحاق ’خود ارادیت‘کا عمل ہے، دراصل صدیوں پر محیط زارشاہی نوآبادیاتی قبضے اور اسٹالنسٹ نسل کشی کے نتائج کو تسلیم کرنا اور ان کی توثیق کرنا ہے۔

ایک دلچسپ موازنہ آسٹریلیا کے حالیہ مباحثے سے کیا جا سکتا ہے، جہاں مقامی اقوام کو پارلیمان میں ایک علامتی ’آواز‘دینے کی تجویز پر اس سال ریفرنڈم ہونے والا ہے۔ اگرچہ یہ مجوزہ آواز انتہائی محدود اور بے اختیار ہے، اور کئی مقامی رہنما اس کی بجائے ’فرسٹ ٹریٹی‘ کی حکمت عملی کو ترجیح دیتے ہیں، جس میں ان کی خودمختاری کو تسلیم کر کے انہیں کچھ حقیقی اختیارات دیے جائیں۔ تاہم اصل مخالفت دائیں بازو کی جانب سے آ رہی ہے، جو مقامی اقوام کو نمائندگی دینے کی کسی علامتی کوشش کے بھی شدید خلاف ہیں۔ کبھی پورے آسٹریلوی براعظم کے خودمختار مالک ہونے والے مقامی آسٹریلوی باشندے آج نوآبادیاتی قبضے اور نسل کشی کے نتیجے میں کل آبادی کا صرف چند فیصد رہ گئے ہیں۔

اب اگر ہم وہی’اکثریتی اصول‘استعمال کریں، جو آجکل کریمیا میں ہونے والے ریفرنڈم کی حمایت میں پیوٹن کے حامی پیش کرتے ہیں، یعنی اگر 58 فیصد کریمیا کے باشندے نسلی روسی ہیں اور وہ روس کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں، تو بس ویسا ہی ہونا چاہیے (چاہے ہم یہ فرض بھی کر لیں کہ وہ ریفرنڈم حقیقی اور آزاد تھا، حالانکہ وہ روسی فوجی قبضے میں ہوا تھا) تو ذرا تصور کیجیے کہ اگر ایک دن آسٹریلیا میں اینگلو آسٹریلوی اکثریت ’گریٹ بریٹن‘ سے دوبارہ الحاق کے حق میں ووٹ دے دے، اور صرف 3 فیصد مقامی باشندے اس کی مخالفت کریں، تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ چونکہ اکثریت یہی چاہتی ہے، لہٰذا یہی ہونا چاہیے۔ جیسے کریمیا میں سابق روسی نوآبادیاتی باشندے یہی چاہتے تھے؟ یا پھر ہم یہ کہیں گے کہ مقامی آسٹریلوی اقوام کو کوئی خصوصی آئینی حق حاصل ہونا چاہیے کہ ان کی سرزمین کسی بیرونی نوآبادیاتی طاقت کو واپس نہ دی جائے؟ میری تجویز ہے کہ آسٹریلوی بائیں بازو کی اکثریت جس قسم کی معاہدے کے حق میں خودمختار آواز کی حامی ہے، وہ مقامی اقلیت کو ایسے کسی اقدام کو مسترد کرنے کا آئینی اختیار دے گی، اور درست طور پر دے گی۔

مزید عمومی طور پر جب کسی مخلوط خطے میں ایک سے زیادہ’قومیں‘ موجود ہوں، جیسا کہ کریمیا میں روسی، یوکرینی اور کریمیائی تاتار ہیں، تو کیا ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘والا طریقہ ہی جمہوری حل ہے؟ مثال کے طور پر قبرص کو لیجیے (ایک ایسا علاقہ جس کے بارے میں مجھے کچھ علم ہے۔۔۔)، جہاں 80 فیصد آبادی یونانی قبرصیوں کی ہے اور 20 فیصد ترک قبرصیوں کی۔ اگر یونانی قبرصی اکثریت یونان کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ دے، تو کیا یہ کافی ہوگا؟ مگر ٹھہریے انہوں نے یہی کیا تھا۔ برطانوی نوآبادیات کے خلاف ایک دائیں بازو کی تحریک اور آرتھوڈوکس چرچ کی حمایت سے ’اینوسس‘ (یونان سے الحاق) کا مطالبہ کیا گیا، بجائے اس کے کہ ایک دو قومی آزاد وفاقی ریاست قائم کی جاتی۔ اس نے ترک قبرصی اقلیت کو بدظن کر کے ترکی کے فوجی آمروں کے کیمپ میں دھکیل دیا، جنہوں نے 1974 میں حملہ کیا، اور باقی تاریخ ہے۔ 50سال گزرنے کے بعد بھی یہ جزیرہ منقسم ہے اور مسئلہ حل نہیں ہوا۔

بوسنیا کی مثال بھی لی جا سکتی ہے، جہاں 44 فیصد بوسنیائی (مسلمان)، 30 فیصد سرب، 18 فیصد کروئیشین اور 8 فیصد یوگوسلاو (یعنی مخلوط شناخت والے) افراد تھے، کوئی واضح اکثریت نہیں تھی۔ تو اگر سرب اور کروئیشین اکٹھے ہو کر بوسنیا کو سربیا اور کروئیشیا میں تقسیم کرنے کے لیے ووٹ دیں اور معمولی اکثریت حاصل کر لیں، تو کیا باقی قوموں کی رائے کو نظر انداز کر کے ویسا ہونا چاہیے؟ کیا چونکہ 1992-95میں سرب اور کروئیشین فاشسٹ رہنماؤں نے یہی کچھ فوجی طاقت سے کرنے کی کوشش کی، اس لیے وہ درست تھے؟ نہیں! اس لحاظ سے کریمیا والا ’حل‘ سب سے زیادہ رجعتی اور جابرانہ حل ہے۔

ایک چھوٹی مگر اہم بات کہ پیوٹن کے حمایتیوں کی ایک عام دلیل یہ بھی ہے کہ روس کو کریمیا اس لیے قبضے میں لینا پڑا کیونکہ وہاں اس کا بحری اڈہ سیواستوپول میں ہے (اور جیسے کہ بعض مغربی ’بائیں بازو‘کے لوگ کہتے ہیں کہ ایک سامراجی طاقت کا کسی اور ملک میں اپنا فوجی اڈہ کھونا بہت بڑا جرم ہے)۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ روسی فوج کا سیواستوپول کا لیز 2042 تک کا تھا، یعنی اسے کوئی خطرہ نہیں تھا۔

(بشکریہ:’theirantiimperialismandours.com‘، ترجمہ: حارث قدیر)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں